English
Abu Umamah bin Sahl bin Hunayf (may Allah be pleased with him) narrated: Amir bin Rabi’ah saw Sahl bin Hunayf bathing and said: By Allah, I have never seen skin like today’s, not even a hidden maiden’s. Sahl collapsed. The Messenger of Allah (ﷺ) was told: O Messenger of Allah, can you help Sahl bin Hunayf? By Allah, he cannot lift his head. He said: Do you suspect anyone? They said: We suspect Amir bin Rabi’ah. The Prophet (ﷺ) called Amir, rebuked him, and said: Why would one of you kill his brother? Why didn’t you bless him? Wash for him. Amir washed 1 his face, hands, elbows, knees, feet, and the inside of his waistband in a vessel, then it was poured over Sahl, who recovered and left with the people unharmed [Narrated in Sharh As-Sunnah].
In Malik’s narration: He said: The evil eye is real; perform ablution for him. So he did.
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٤١٣ - وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ رضي الله عنه ابْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: رَأَى عَامِرُ بْنُ رَبِيْعَةَ سَهْلَابْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخْبَأَةٍ، قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلُ فَأْتِيَرَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ،فَقَالَ:(هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهُ أَحَدًا؟) قَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صلي الله عليه واله وسلم عَامِرًا فَتَغَلَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ:(عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَلَّا بَرَّكْتَ؟ اغْتَسِلْ لَهُ) فَغَسَلَ 1 لَهُ عَامِرٌ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِه فِي قَدَحٍ، ثُمَّ صُبَّعَلَيْهِ، فَرَاحَ مَعَ النَّاس لَيْسَ لَهُ بَأْسُ. رَوَاهُ فِي (شَرْحِ السُّنَّةِ).
وَرَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَ:(إِنَّ الْعَيْنَ حَقُّ تَوَضَّأْ لَهُ) فَتَوَضَّاً لَهُ.
اردو
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عامر
بن ربیعہ نے سہل ابن حنیف کو غسل کرتے ہوئے دیکھا تو کہا خدا کی قسم میں نے نہ آج کے دن کی
طرح دیکھا اور نہ ایسی خوبصورت جلد کو دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ سہل گر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ کیا آپ
سہل بن حنیف کا علاج فرمائیں گے۔ خدا کی قسم وہ سر نہیں اٹھا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا
ان کے واسطے تم کسی پر شبہ کرتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم عامر بن ربیعہ پر شبہ کرتے ہیں، تو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر کو طلب فرمایا اور ان کے ساتھ سخت گفتگو کی اور فرمایا: کس بناء پر تم میں کا کوئی
اپنے بھائی کا قتل کرتا ہے تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں دی، تم غسل کرو۔ تو عامر نے ان کے خاطر
اپنے چہرہ کو اور اپنے دونوں ہاتھوں اور اپنی دونوں کہنیوں اور اپنے دونوں گھٹنوں اور اپنے دونوں
پاؤں کے کناروں کو اور اپنی تہبند کے اندرونی حصہ کو ایک پیالہ میں 1 دھویا اور ان پر ڈال دیا گیا۔ پس
وہ لوگوں کے ساتھ اس طرح گئے کہ ان کو کوئی تکلیف ہی نہیں تھی۔ (شرح السنہ مالک)
اور امام مالک کی روایت میں ہے، آپ نے فرمایا نظر حق ہے تم اس کے لئے
وضو کرو تو وہ ان کے خاطر وضو کئے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 4562 (unverified) 55% confidence
- Candidate: Muwatta Malik 1686 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 4562
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Amir washed": Also mentioned in Radd al-Muhtar.
Note 1
(١) قوله: فغسل له عامر إلخ: ذكره في (رد المحتار) أيضا.