اردو
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ جس نے اعضائے وضوء کو ایک ایک مرتبہ دھویا تو ایک ایک مرتبہ اعضاء کا دھونا وضوء میں
ضروری ہے، اور جس نے دو دو مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا تو اس کو دو حصہ اجر ملے گا اور جس نے تین
تین مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا یہ میرا اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کا وضوء ہے (اس کی
روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور دار قطنی، بیہقی، ابن حبان، ابن ماجہ، امام احمد اور طبرانی ان سب کی ایک
روایت میں یوں ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ایک ایک مرتبہ اعضائے وضوء کو دھویا اور فرمایا
کہ اس طرح وضوء کے بغیر اللہ تعالیٰ نماز قبول نہیں فرماتے اور آپ نے دو دو مرتبہ اعضائے وضوء کو
دھویا اور فرمایا کہ یہ وضوء اس شخص کا ہے جس کو دوہرا اجر دیا جائے گا اور آپ نے تین تین مرتبہ
اعضائے وضوء کو دھویا اور فرمایا کہ یہ میرا اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء علیہم السلام کا وضوء ہے، ترمذی نے
کہا ہے کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ ایک ایک مرتبہ اعضائے وضوء کا دھونا کافی ہے اور دو دو مرتبہ دھونا
افضل ہے اور اس سے افضل تین تین مرتبہ دھونا ہے اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ (یعنی تین مرتبہ سے
زائد دھونا اسراف اور لغو ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 419 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.