English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) was asked, “Who is the noblest of people?” He said: “The noblest of them 1 with Allah is the most God-conscious.” They said, “That is not what we are asking about.” He said: “Then the noblest of people is Joseph, the prophet of Allah, son of the prophet of Allah, son of the prophet of Allah, son of the friend of Allah.” They said, “That is not what we are asking about.” He said: “Are you asking about the origins of the Arabs?” They said, “Yes.” He said: “The best of you in the pre-Islamic era are the best of you in Islam, if they attain understanding.” [Agreed Upon]
In a narration by Bukhari from Ibn Umar (may Allah be pleased with them both): The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The noble is the son of the noble, son of the noble, son of the noble: Joseph, son of Jacob, son of Isaac, son of Abraham.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٦٩٦ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَيُّ النَّاسِ أَكْرَمُ؟ قَالَ: «أَكْرَمُهُمْ 1 عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاهُمْ» قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ.
قَالَ: «فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيَّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ» قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الْكَرِيمُ ابْنُ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ».
اردو
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے؟ آپ نے
فرمایا: ان میں زیادہ عزت والا اللہ تعالیٰ کے پاس وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے1، انہوں نے
(صحابہ) نے عرض کیا: ہم اس کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: لوگوں
میں زیادہ عزت والے حضرت یوسف ہیں جو اللہ کے نبی ہیں، اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی
اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں اور یہ حضرت خلیل اللہ کے بیٹے ہیں، انہوں نے کہا: ہم اس کے بارے
میں بھی آپ سے نہیں پوچھتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: کیا تم عرب کے خاندانوں کے بارے میں
مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! تو آپ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں تم میں جو اچھے
تھے وہ اسلام میں بھی تم میں اچھے ہیں، جب وہ (دین کی) سمجھ حاصل کرلیں۔ (متفق علیہ)۔
بخاری کی ایک روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی
ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف
بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3383 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3382 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2378a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “The noblest of them with Allah is the most God-conscious…”: Since they asked generally, and it was appropriate to direct it to the most perfect individual and superior quality, he said: “The noblest of them with Allah is the most God-conscious.” When it became clear they were not asking about absolute nobility, and he thought they meant combining lineage and status, he said: “Then the noblest of people is Joseph, the prophet of Allah…” His statement: “if they attain understanding” means knowledge coupled with action. In Sharh As-Sunnah, it is said: He means that one with merit and honor in pre-Islam, if he embraces Islam and attains understanding, combines that with religious benefit. One who does not embrace Islam destroys his honor and wastes his lineage. [Extracted from Al-Mirqat]
Note 1
(۱) قوله : أكرمهم عند الله أتقاهم إلخ: لما أطلقوا السؤال، وكان المناسب صرفه ال إلى الفرد الأكمل والوصف الأفضل، قال: «أكرمهم عند الله أتقاهم. فلما تبين له أنهم لم يسألوه عن الكرم المطلق، وظن أن مرادهم الجمع بين النسب والحسب، قال: فأكرم الناس يوسف نبي الله وقوله : «إذا فقهوا» المراد بالفقه هو العلم المقرون بالعمل. وفي شرح السنة: يريد أن من كانت له مأثرة وشرف إذا أسلم وفقه فقد حاز إلى ذلك ما استفاده بحق الدين، ومن لم يسلم فقد هدم شرفه وضيع نسبه. التقطته من «المرقاة».
Note 1
1 قوله: أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاهُمْ الخ (اللہ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ مکرم ان میں کا سب سے زیادہ متقی ہے) جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال مطلق رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے جواب کو فرد کامل اور خوب سے خوب تر وصف کی طرف جو پھیر دیا، یہی مناسب تھا چنانچہ فرمایا: ”اللہ کے نزدیک اُن میں سب سے زیادہ شریف اُن میں کا سب سے زیادہ متقی ہے“، پھر جب آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ بات آئی کہ وہ لوگ آپ ﷺ سے مطلق بزرگی و شرافت کے بارے میں دریافت نہیں کرتے ہیں تو آپ نے اس خیال سے کہ ان کی مراد حسب و نسب کی بزرگی کو جمع کرنا ہے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ با کرامت یوسف علیہ السلام ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ اور آپ کا ارشاد ”بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں“ اس میں فقہ (دین کی سمجھ) سے مراد وہ علم ہے جو عمل سے ملا ہوا ہو۔ اور ”شرح السنہ“ میں ہے: آپ ﷺ کا منشا یہ ہے کہ جس کے پاس کوئی خوبی یا شرافت و منزلت ہو، اگر وہ مشرف بہ اسلام ہوجائے اور علم حاصل کرے تو یقیناً وہ جس قدر دین کے حق سے استفادہ کیا ہے اس کے ساتھ اس شرافت کا بھی حامل رہے گا۔ اور جو شخص مشرف بہ اسلام نہ ہوگا تو یقیناً وہ اپنی شرافت کو برباد کردیا اور اپنے نسب کو ضائع کردیا۔ (مرقات)۔ 1 قوله: انسابكم هذه ليست بمسبة الخ (تمہارے یہ نسب کسی کو برا کہنے کا سبب نہیں ہیں) یعنی باہمی فضیلت نسب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله: الحسب المال الخ (حسب مال ہے) حسب کی شرح کرنے والے نے کہا: ”حسب“ وہ ہے کہ جس کو کوئی شخص اپنے باپ دادا کے قابل فخر کارنامے شمار کرتا ہے اور ”کرم“ (شرافت و بزرگی) ملامت کی ضد ہے۔ چنانچہ کہا گیا: اس کے معنی یہ ہیں کہ جس چیز کے ذریعہ آدمی لوگوں کے نزدیک بڑے رتبہ والا بنتا ہے، وہ مال ہے۔ اور جس چیز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے رتبہ والا بنتا ہے، وہ تقویٰ ہے۔ اور باپ دادا پر ناز کرنا ان دونوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: انا ابن عبدالمطلب (میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں) علامہ کرمانی فرماتے ہیں: اگر تم یہ کہو کہ آں حضرت ﷺ نے ایسی بات کیسے فرمائی جبکہ آپ نے آباء و اجداد پر فخر کرنے سے منع فرمایا ہے؟ تو میں کہوں گا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اشارہ ہے اس خواب کی طرف جس کو حضرت عبدالمطلب نے دیکھا اور قریش سے بیان کیا تھا، اور اس کی تعبیر یہ دی گئی تھی کہ ”جبلوں کو ایک لڑکا توڑے گا“ جو لوگوں کا سردار ہوگا، اور جس کے دشمن اس کے ہاتھوں سے ہلاک ہوں گے، اور یہ بات ان میں مشہور تھی، پس رسول اللہ ﷺ نے اس (ارشاد) سے اس خواب کے واقع کی یاد دہانی فرمائی تاکہ اس سے آپ کے ان صحابہ کی قوت تازہ دم ہو جائے جو پست ہمت ہوگئے تھے پھر وہ اس بھروسے کے ساتھ واپس آ جائیں کہ آخرکار فتح آپ کے لئے ہونے والی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ فخر کرنے سے منع کیا گیا ہے وہ کفار سے جہاد کے علاوہ دوسرے مواقع میں ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے موقع پر بڑائی جتانے کی اجازت عطا فرمائی ہے، جبکہ اس جنگ کے علاوہ دوسرے موقع پر اس سے آپ ﷺ کا منع کرنا ثابت ہے۔ اھ اور ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے مرقات میں کہا: اور جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مفاخرت (آپس میں فخر کرنا) کی دو قسمیں ہیں: