English
Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “What I fear for you after me is what will be opened to you of the world’s splendor and adornment.” A man said: “O Messenger of Allah, does good bring evil?” He was silent until we thought revelation was descending upon him. He wiped the sweat from himself and said: “Where is the questioner?” It was as if he praised him. He said: “Good does not bring evil. What the spring brings forth may kill with bloating or nearly so, except for the eater of green, who eats until its flanks are full, faces the sun, chews its cud, and relieves itself, then eats again. This wealth is green and sweet. Whoever takes it rightfully and uses it rightfully, it is an excellent aid. But whoever takes it wrongfully is like one who eats but is never satisfied, and it will be a witness against him on the Day of Resurrection.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٤٩٧٩ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ وَقَالَ: أَيْنَ السَّائِل؟» وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَا يَأْتِيَ الْخَيْرُ بِالشَّرِّ، وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ مَا يَقْتُلُ حَبَطًا، أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضِرِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَنَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَتَلَطَتْ وَبَالَتْ، ثُمَّ عَادَتْ فَأَكَلَتْ، وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرُ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقَّهِ، فَنِعْمَ الْمَعُوْنَةُ هُوَ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَيَكُوْنُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6587
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: میرے بعد میں تم پر جن چیزوں کا خوف کرتا ہوں ان میں سے یہ کہ تم پر دنیا کی
تروتازگی اور اس کی زینت کھول دی جائے گی۔ تو ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا خیر بھی
شر لاتا ہے؟ تو آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے راوی
کہتے ہیں: تو آپ نے پسینہ مبارک کو پونچھا اور فرمایا: سائل کہاں ہے؟ گویا آپ نے ان کی تعریف کی
اور فرمایا: خیر شر کو نہیں لاتا، بیشک بہار کی پیداوار میں بعض وہ ہے جو پیٹ پھلا کر ہلاک کر دیتی ہے یا بیمار
کرتی ہے مگر سبزہ کھانے والا جانور کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کے دونوں کوکھ دراز ہوجاتے ہیں تو وہ
سورج کے سامنے آجاتا ہے اور گوبر کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے پھر واپس جاتا ہے اور کھاتا ہے، اور یقیناً
مال ہرا بھرا میٹھا ہے تو جو شخص اس کے حق سے اس کو اس کے حق میں رکھا تو وہ مال کیا ہی مددگار ہے اور
جو اس کو ناحق لیا وہ ایسے شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور شکم سیر نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کے دن
اس کے خلاف گواہی دینے والا ہوگا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1465 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1052a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.