اردو
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا:
”وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ“ (26- سورۃ الشعراء، آیت نمبر: 214) ترجمہ: اور آپ اپنے
قریبی رشتہ داروں کو آگاہ کیجئے) نازل ہوئی نبی کریم ﷺ نے قریش کو بلایا تو وہ جمع ہو گئے، آپ نے عام
و خاص کو بلایا اور فرمایا: اے بنی کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے بنی مرہ بن کعب! اپنے نفسوں کو
آگ سے بچاؤ! اے بنی عبدشمس! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے بنی عبدمناف! اپنے آپ کو آگ سے بچالو!
اے بنی ہاشم! اپنے نفسوں کو آگ سے بچالو! اے بنی عبدالمطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے فاطمہ! اپنے
آپ کو آگ سے بچالو؛ کیونکہ میں تمہارے لئے اللہ کے مقابلہ میں کسی چیز کا مالک 1 نہیں ہوں سوائے
اس کے کہ تمہارے لئے حق قرابت ہے جسکو میں اسکے تری کے ساتھ تر رکھوں گا۔ (مسلم)۔
اور بخاری و مسلم کی روایت میں ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے
جماعت قریش! اپنی جانوں کو خرید لو! میں تم سے اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا، اے
بنی عبد مناف! میں تم سے اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا اے عباس بن
عبد المطلب! میں تم سے اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا، اے رسول اللہ کی پھوپھی
صفیہ! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا اے فاطمہ بنت محمد! تم میرے مال میں
سے جو چاہے مانگ لو! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 206a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “for I possess nothing for you from Allah” – this monotheism aligns with exclusivity. Though he may benefit believers with intercession where he intercedes and is interceded for, he expressed it absolutely to instill fear against relying on him and to encourage striving. This is further explained in Zayd’s Amr. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: فإني لا أملك لكم من الله شيئًا وهذا التوحيد على وفق التفريد، وهو اله وإن كان قد ينفع المؤمنين بالشفاعة حيث يشفع ويشفع، لكن أطلقه ترهيبا لهم على الاتكال عليه وترغيبا لهم على الاجتهاد، وفي أمر زاد المعاد. كذا في «المرقاة».
Note 1
صاحب مدارک نے کہا ہے کہ آپ ﷺ نے نفی تہمت کیلئے اس طور پر ذکر فرمایا؛ کیونکہ انسان اپنے قرابتداروں کے ساتھ نرم برتاؤ کرتا ہے یا اس لئے کہ وہ جان لیں کہ وہ ان سے اللہ کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آئیں گے، کیونکہ نجات انکی اتباع و پیروی میں ہی ہے نہ کہ رشتہ داری میں۔