Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Heart-Softening Narrations · Chapter 8

بَابُ الْإِنْذَارِ وَالتَّحْذِيرِ ختم ہوا

7 narrations · In source reading order

Hadith 5150

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6769
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا: آگاہ ہو جاؤ! کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ آج اس نے مجھے جو تعلیم دی ہے اس میں سے میں تم کو وہ باتیں سکھلاؤں جن سے تم ناواقف ہو: ہر وہ مال جو میں نے کسی بندہ کو عطا کیا وہ 1 حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو دین حق پر پیدا کیا ہے اور انکے پاس شیاطین آئے اور انہیں انکے دین سے پھیر دیا اور اُن پر اُس چیز کو حرام کر دیا جسے میں نے اُنکے لئے حلال کیا اور اُنکو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرائیں جسکی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور اللہ نے اہل زمین کو دیکھا اور چند اہل کتاب کے علاوہ 1 انکے عرب وعجم تمام لوگوں سے ناراض ہوا اور فرمایا: میں آپکو اسلئے بھیجا ہوں کہ آپکا امتحان لوں اور آپکے ذریعہ سے ان کا امتحان لوں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی جسکو پانی نہیں 2 دھوسکتا جسکی تلاوت آپ سوتے جاگتے کر 3 ینگے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں قریش کو جلادوں، تو میں نے کہا: اے میرے پروردگار! تب تو وہ میرا سر کچل دینگے اور اسکو روٹی بنا کر چھوڑیں گے، اس نے فرمایا: آپ انہیں شہر سے بالکل نکال دیجئے جیسا انہوں نے آپکو نکالا، اور ان سے جنگ کیجئے ہم سامان جنگ فراہم کرینگے اور خرچ کیجئے ہم آپ پر خرچ کریں گے اور آپ ایک لشکر بھیجئے ہم اس جیسے پانچ گنا بھیجیں گے، اپنے فرمانبرداروں کو ساتھ لیکر آپکے نافرمانوں پر جہاد کیجئے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2865a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (8)

Note 1

Every wealth I have bestowed upon a servant is lawful

(1) His statement: “Every wealth I have bestowed upon a servant is lawful” – it is clarified in Al-Mirqat that Al-Qadi explained: His statement, “Every wealth I have bestowed,” is a report of what Allah taught and revealed to him that day. The meaning is that whatever wealth I have given a servant is lawful for him, and no one may forbid it to him, such as the Bahirah, Sa’ibah, and the like. It is not for anyone to say this implies that the forbidden is not provision, for all provision Allah directs to a servant He has bestowed and given, and all that He has bestowed and given is lawful, so all provision He provides is lawful. This would imply that what is not lawful is not provision. We say: Provision is broader than giving, as it includes ownership. Thus, the jurists said: If a man says to his wife, “If you give me a thousand, you are divorced,” and she gives him a thousand, she is divorced, and the thousand enters his ownership, but this is not so with provision.

Note 2

their Arabs and non-Arabs

(2) His statement: “their Arabs and non-Arabs” – a substitute for the pronoun. Non-Arabs mean those other than Arabs. The meaning is: He despised them for their evil deeds, corrupt beliefs, and their agreement before Muhammad’s (ﷺ) mission on polytheism and immersion in disbelief. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

that water cannot wash away

(3) His statement: “that water cannot wash away” – meaning We did not suffice with placing it in books that water could wash away, but made it a Qur’an preserved in the hearts of believers. Alternatively, washing refers to abrogation, and water is a metaphor, meaning no book will come after it to abrogate it, nor did a book come before it to nullify it, as Allah said: Falsehood cannot approach it from before it or from behind it (Fussilat: 42). (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

you recite while sleeping and awake

(4) His statement: “you recite while sleeping and awake” – with a silent qaf, meaning it becomes so ingrained in you that it is present in your mind and your soul turns to it in most states, so you do not forget it whether sleeping or awake. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: كل مال نحلته عبدا حلال إلخ : قال في المرقاة: وتوضيحه ما حققه القاضي حيث قال: قوله: «كل مال نحلته حكاية ما علمه الله تعالى وأوحي إليه في يومه هذا، والمعنى ما أعطيت عبدا من مال فهو حلال له، ليس لأحد أن يحرم عليه، كالبحيرة والسائبة وغيرهما. وليس لقائل أن يقول: هذا يقتضي أن لا يكون الحرام رزقا؛ لأن كل رزق ساقه الله تعالى إلى عبد نحله وأعطاه، وكل ما نحله وأعطاه فهو حلال، فيكون كل رزق رزقه الله إياه فهو حلال وذلك يستلزم أن يكون كل ما ليس بحلال ليس برزق؛ لأنا نقول: الرزق أعم من الإعطاء؛ فإنه يتضمن التمليك، ولذا قال الفقهاء: لو قال لامرأته: إن أعطيتني ألفًا فأنت طالق، فأعطته ألفا بانت، ودخل الألف في ملكه، ولا كذلك الرزق.

Note 2

قوله

(۲) قوله : عربهم وعجمهم بدل من الضمير، والمراد بالعجم غير العرب والمعنى: أبغضهم بسوء صنيعهم وخبث عقيدتهم واتفاقهم قبل بعثة محمد الله على الشرك وانغماسهم في الكفر. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : لا يغسله الماء: أي لم نكتف بإيداعه الكتب فيغسله الماء، بل جعلناه قرآنا محفوظا في صدور المؤمنين، أو المراد بالغسل النسخ والماء مثل، أي لا ينزل بعده كتاب ينسخه، ولا نزل قبله كتاب يبطله ، كما قال تعالى: ﴿لَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ) (فصلت: ٤٢). كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله: تقرأه نائما ويقظان: بسكون القاف، والمعنى: يصير لك ملكة بحيث يحضر في ذهنك وتلتفت إليه نفسك في أغلب الأحوال، فلا تغفل عنه نائما ويقظان. كذا في «المرقاة».

Hadith 5151

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6770Noor 6771
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے جب آیت ’’وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ‘‘ (26، سورۃ الشعراء، آیت نمبر:214)(اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو آگاہ کیجئے) نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ صفا پر چڑھے اور قریش کے قبیلوں کو اے بنی فہر! اے بنی عدی! کہہ کر آواز دینے لگے حتیٰ کہ وہ سب جمع ہوگئے اور فرمایا: مجھے بتلاؤ تمہاری کیا رائے ہے اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس وادی میں گھوڑ سواروں کا ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ آور ہونا چاہتا ہے، تو کیا تم میری تصدیق کرو گے، انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے جب کبھی آپ کو آزمایا سچ پایا، آپ نے فرمایا: دیکھو میں تمہیں سخت ترین عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں، تو ابولہب نے کہا: سارا دن تمہارے لئے ہلاکت ہو کیا اسی لئے تم نے ہمیں جمع کیا ہے؟ پس ”تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ“ (111- سورۃ اللھب، آیت نمبر: 1) (ترجمہ: ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا) نازل ہوئی۔ (متفق علیہ)۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ندا دی: اے بنی عبدمناف! یقیناً میری اور تمہاری مثال اس شخص کے جیسی ہے جس نے دشمن کو دیکھا اور اپنے گھر والوں کی حفاظت کے لئے تیز تیز چلا، پھر اسے خوف ہوا کہ دشمن اس سے پہلے پہنچ جائے گا، تو وہ چلا کر کہنے لگا ”یا صباحاہ“۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4770 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 208a (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فإني لا أملك لكم من الله شيئًا وهذا التوحيد على وفق التفريد، وهو اله وإن كان قد ينفع المؤمنين بالشفاعة حيث يشفع ويشفع، لكن أطلقه ترهيبا لهم على الاتكال عليه وترغيبا لهم على الاجتهاد، وفي أمر زاد المعاد. كذا في «المرقاة».

Hadith 5152

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6772Noor 6773
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ“ (26- سورۃ الشعراء، آیت نمبر: 214) ترجمہ: اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو آگاہ کیجئے) نازل ہوئی نبی کریم ﷺ نے قریش کو بلایا تو وہ جمع ہو گئے، آپ نے عام و خاص کو بلایا اور فرمایا: اے بنی کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے بنی مرہ بن کعب! اپنے نفسوں کو آگ سے بچاؤ! اے بنی عبدشمس! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے بنی عبدمناف! اپنے آپ کو آگ سے بچالو! اے بنی ہاشم! اپنے نفسوں کو آگ سے بچالو! اے بنی عبدالمطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ! اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچالو؛ کیونکہ میں تمہارے لئے اللہ کے مقابلہ میں کسی چیز کا مالک 1 نہیں ہوں سوائے اس کے کہ تمہارے لئے حق قرابت ہے جسکو میں اسکے تری کے ساتھ تر رکھوں گا۔ (مسلم)۔ اور بخاری و مسلم کی روایت میں ہے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے جماعت قریش! اپنی جانوں کو خرید لو! میں تم سے اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ کام نہیں آؤں گا، اے بنی عبد مناف! میں تم سے اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا اے عباس بن عبد المطلب! میں تم سے اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا، اے رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا اے فاطمہ بنت محمد! تم میرے مال میں سے جو چاہے مانگ لو! میں اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آؤں گا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 206a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

for I possess nothing for you from Allah

(1) His statement: “for I possess nothing for you from Allah” – this monotheism aligns with exclusivity. Though he may benefit believers with intercession where he intercedes and is interceded for, he expressed it absolutely to instill fear against relying on him and to encourage striving. This is further explained in Zayd’s Amr. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فإني لا أملك لكم من الله شيئًا وهذا التوحيد على وفق التفريد، وهو اله وإن كان قد ينفع المؤمنين بالشفاعة حيث يشفع ويشفع، لكن أطلقه ترهيبا لهم على الاتكال عليه وترغيبا لهم على الاجتهاد، وفي أمر زاد المعاد. كذا في «المرقاة».

Note 1

صاحب مدارک نے کہا ہے کہ آپ ﷺ نے نفی تہمت کیلئے اس طور پر ذکر فرمایا؛ کیونکہ انسان اپنے قرابتداروں کے ساتھ نرم برتاؤ کرتا ہے یا اس لئے کہ وہ جان لیں کہ وہ ان سے اللہ کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آئیں گے، کیونکہ نجات انکی اتباع و پیروی میں ہی ہے نہ کہ رشتہ داری میں۔

Hadith 5153

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6774
سیدنا ابو عبیدہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کہ یہ کام نبوت و رحمت کے ساتھ شروع ہوا پھر وہ خلافت و رحمت کا ہوگا، پھر وہ کاٹ کھانے والی بادشاہت کا ہوگا، پھر قہر و سرکشی اور زمین میں فساد والا ہوگا۔ وہ ریشم کو عورتوں کی شرمگاہوں اور شرابوں کو حلال سمجھیں گے اس کے باوجود انہیں رزق دیا جائیگا اور انکی مدد کی جائیگی حتیٰ کہ وہ اللہ سے ملیں۔ (بیہقی شعب الایمان)۔

[Narrated by Al-Bayhaqi in Shu‘ab Al-Iman]

Hadith 5154

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6775
سیدنا نعمان بن بشیر نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نبوت تم میں جب تک اللہ اس کا رہنا چاہیگا رہیگی، پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالیگا، پھر خلافت طریقۂ نبوت پر ہوگی جب تک اللہ تعالیٰ اس کا رہنا چاہیگا رہینگی، پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالیگا، پھر کاٹ کھانے والی بادشاہت ہوگی اور وہ اسوقت تک رہیگی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ رہے پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالیگا، پھر قہر آلود بادشاہت ہوگی اور وہ قائم رہیگی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے کہ وہ رہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالیگا، پھر طریقۂ نبوت پر خلافت ہوگی، پھر آپ نے سکوت فرمایا، حبیب نے فرمایا: جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ ہوئے تو میں نے انہیں یہ حدیث یاد دلاتے ہوئے لکھا اور کہا: مجھے امید ہے کہ آپ کاٹ کھانے والی اور قہر آلود بادشاہت کے بعد والے امیر المومنین ہوئے ہیں آپ اس سے خوش ہوئے اور آپ کو یعنی عمر بن عبدالعزیز کو یہ بات بہت پسند آئی۔ (احمد، بیہقی، دلائل النبوۃ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5378 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 18406 (unverified) 45% confidence

Mishkat (candidate) 5378

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ملا علی قاری رحمہ اللہ الباری نے فرمایا: بطریقہ نبوت پر دوسری مرتبہ جو خلافت ہونے والی ہے اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی رحمہ اللہ تعالیٰ کا زمانہ مراد ہے۔

Hadith 5155

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6776
۞ سیدتنا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلی1 چیز جو اُٹھادی جائے گی زید بن یحییٰ نے کہا: یعنی اسلام کو جیسے برتن کو اُلٹ دیا جاتا ہے۔ اس سے مراد شراب ہے کہا گیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیسے ہوگا؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسکے بارے میں جو کچھ بیان فرمایا وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے تو آپ نے فرمایا: اسکا کوئی دوسرا نام رکھ لیں گے اور اسے حلال سمجھ لیں گے۔ (دارمی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3658 (unverified) 35% confidence

Mishkat (candidate) 3658

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

The first thing to be overturned

(1) His statement: “The first thing to be overturned” – Al-Qadi said: The meaning is that the first of the prohibitions to be consumed and boldly drunk in Islam, as water is boldly drunk, is wine. They will justify its permissibility by naming it something else, like nabidh or muthallath. This implies that nabidh and muthallath are lawful, and that a thing’s reality does not change by changing its name, as a black person is called camphor. Thus, it is not valid to infer the prohibition of the modern coffee by claiming it is among the names of wine or drunk in the manner of drinkers. We say: There is no specificity to coffee then, as milk, water, and rosewater are similar. The customary drinking in the Two Holy Mosques and elsewhere is not like the drinking of the corrupt, which involves various fermented drinks and communal drinking in a single state. This removes the resemblance and dispels the doubt. Its permissibility is supported by Allah’s statement: It is He who created for you all that is on the earth (Al-Baqarah: 29). The default ruling for things is permissibility unless diverted by evidence from the Book, Sunnah, consensus, or valid analogy. (As stated in Al-Mirqat)

Hadith 5156

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6777
سیدنا ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری یہ امت رحمت والی امت ہے، آخرت میں اس پر عذاب 1؎ نہیں ہے، اسکا عذاب دنیا میں فتنے زلزلے اور قتل ہے۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4278 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5374 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 5374

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

It has no punishment in the Hereafter

(1) His statement: “It has no punishment in the Hereafter” – it is said: The Hadith is specific to a group that does not commit major sins. It may refer to a specific group within the nation, such as the witnessing Companions, or the will is implied, as Allah said: Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills (An-Nisa: 48). Al-Muzhir said: This is a problematic Hadith, as it implies that none of his nation, whether they committed major sins or not, will be punished, yet Hadiths confirm punishment for those who commit major sins. Unless it is interpreted to mean the nation that follows him as they should, emulating what Allah commanded and avoiding what He forbade. Al-Tayyibi said: The Hadith is meant to praise his nation and distinguish them among other nations with Allah’s care and mercy. If they are afflicted with a calamity in this world, even a thorn’s prick, Allah expiates a sin for it in the Hereafter. This trait is not for other nations, supported by its mention and follow-up with “shown mercy,” indicating their distinction with Allah’s care and mercy. Resorting to the implication is inappropriate in this context. This mercy is indicated by: My mercy encompasses all things, so I will decree it for those who fear (Al-A‘raf: 156) to those who follow the Messenger, the unlettered Prophet (Al-A‘raf: 157). In summary, as Al-Sayyid said: It does not mean that none of his nation will be punished in the Hereafter, but that his nation is distinguished with abundant mercy from Allah. They are afflicted in this world with something for which they are rewarded and their sins are expiated, a state not for other nations, indicating the vastness of His mercy, especially for this nation. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ليس عليها عذاب في الآخرة إلخ قيل: الحديث خاص بجماعة لم تأت كبيرة، ويمكن أن تكون الإشارة إلى جماعة خاصة من الأمة، وهم المشاهدون من الصحابة أو المشيئة مقدرة؛ لقوله تعالى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ (النساء : (٤٨) ، وقال المظهر : هذا حديث مشكل؛ لأن مفهومه أن لا يعذب أحد من أمته ، سواء فيه من ارتكب الكبائر وغيره، فقد وردته الأحاديث بتعذيب مرتكب الكبيرة، اللهم إلا أن يؤول بأن المراد بالأمة هنا من اقتدى به كما ينبغي، ويتمثل بما أمر الله وينتهي عما نهاه. وقال الطيبي لله الحديث وارد في مدح أمته الله واختصاصهم من بين سائر الأمم بعناية الله تعالى ورحمته عليهم، وأنهم إن أصيبوا بمصيبة في الدنيا حتى الشوكة يشاكها أن الله يكفر بها في الآخرة ذنبا من ذنوبهم، وليست هذه الخاصية لسائر الأمم، ويؤيده ذكر هذه وتعقيبها بقوله : مرحومة؛ فإنه يدل على مزية تمييزهم بعناية الله تعالى ورحمته والذهاب إلى المفهوم مهجور في مثل هذا المقام، وهذه الرحمة هي المشار إليها بقوله: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ﴾ (الأعراف : ١٥٦) إلى قوله: ﴿الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ﴾ (الأعراف: ١٥٧)، انتهى. كذا في المرقاة». وحاصله ما قال السيد: لم يرد يرد أنه لا يعذب أحد من أمته في الآخرة، بل أراد اختصاص أمته بمزيد رحمة من الله تعالى، وأنهم أصيبوا في الدنيا بشيء يثابوا عليه ويكفر به ذنوبهم، وليست هذه الحالة لسائر الأمم، وبالجملة إشارة إلى سعة رحمته، لا سيما بالنسبة إلى هذه الأمة.