English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: A man came and sat before the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, I have slaves who lie to me, betray me, and disobey me, and I curse them and strike them. How am I with them?” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “On the Day of Resurrection, their betrayal, disobedience, and lying to you will be reckoned, along with your punishment of them. If your punishment of them matches their sins, it will be 1 balanced, neither for you nor against you. If your punishment is less than their sins, it will be a surplus for you. If your punishment exceeds their sins, the excess will be taken from you for them.” The man withdrew, crying and wailing. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Do you not read Allah’s statement: ‘And We place the scales of justice for the Day of Resurrection, so no soul will be treated unjustly at all. And if there is [even] the weight of a mustard seed, We will bring it forth. And sufficient are We as accountant’ [Al-Anbiya: 47]?” The man said: “O Messenger of Allah, I find nothing better for me and them than to part from them. I bear witness that they are all free.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٣٤٩ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ فقعد بَيْنَ يَدِي رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ، يُكَذِّبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي وَأَشْتَمُهُمْ وَأَضْرِبُهُمْ، فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: إِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَكَذَّبُوكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ، فَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ1 كَفَافًا، لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ، وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ». فَتَنَقَّى الرَّجُلُ وَجَعَلَ يَهْتِفُ وَيَبْكِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «أَمَا تَقْرَأُ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مَنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَٰسِبِينَ} ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا أَجِدُ لِي وَلِهَؤُلَاءِ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ مُفَارَقَتِهِمْ، أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ كُلُّهُمْ أَحْرَارٌ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 6979
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک
شخص آیا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا: یارسول اللہ! میرے کچھ
غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے ہیں اور میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں اور
میں انکو گالیاں دیتا ہوں اور مارتا ہوں پس میں ان سے متعلق کیسا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو حساب لگایا جائے گا اس کا جو انہوں نے تیرے ساتھ خیانت کی
اور جو انہوں نے تیری نافرمانی کی اور جو انہوں نے تجھے جھٹلایا اور تیرے انکو سزا دینے کا، پس اگر
تیرا انکو سزا دینا انکے جرائم کی بقدر ہے تو وہ تیرے لئے ”کفاف“ برابر برابر ہو جائے گا نہ تیرے
لئے کچھ فائدہ ہوگا اور نہ تیرے خلاف نقصان، اور اگر تیرا انکو سزا دینا انکے جرائم سے کم ہو تو یہ
تیرے لئے فضل کی چیز ہے2 اور اگر تیرا انکو سزا دینا انکے جرائم سے زیادہ ہو تو انکے لئے تجھ سے
بدلہ لیا جائے گا، تو وہ شخص ہٹ گیا اور آہ و بکا کرنے اور رونے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس
سے ارشاد فرمایا: کیا تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھتا اور ہم بروز قیامت انصاف کی ترازو رکھیں گے
پس کسی نفس پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ رائی کے دانے کے برابر بھی ہو تو ہم اسکو لائیں گے
اور ہم حساب لینے کے لئے کافی ہیں؟ تو اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے لئے اور ان کے لئے
ان کو چھوڑ دینے سے بہتر کوئی چیز نہیں پاتا، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں یہ سب آزاد ہیں۔-(ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3165 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) His statement: “It will be a surplus for you”: The apparent meaning is that it will be taken from them for you, as stated in the last case: “The excess will be taken from you for them.” It seems it was not mentioned here because the context of the hadith implies it. (As stated in Al-Lama’at)
Note 1
(۱) قوله : كان فضلا لك : الظاهر أنه يقتص له منهم، كما قال في القسم الأخير: اقتص لهم منك الفضل، وكأنه إنما لم يذكر ههنا الاقتصاص له منهم؛ لما يشعر به سياق الحديث. كذا في «اللمعات».