Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5652

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5652Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7324
اور انہی سے روایت ہے، فرمایا: ہم حضرت عمر کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان میں تھے ہم پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کے میں تیز نظر کا تھا میں اس کو دیکھ لیا اور میرے سوا کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرتا تھا کہ اس نے چاند کو دیکھا ہے، میں حضرت عمر سے کہنے لگا کیا آپ اس کو نہیں دیکھتے تو آپ اس کو نہیں دیکھ پا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عمر فرما رہے تھے میں اپنے بستر پر لیٹے ہوئے (31) اس کو دیکھ لوں گا پھر وہ ہم کو اہل بدر کے بارے میں بیان کرنے لگے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اہل بدر کے قتل ہونے کے مقامات بتاتے تھے۔ فرما رہے تھے ان شاء اللہ یہ مقام قتل فلاں کے قتل کا ہے اور یہ مقام قتل ان شاء اللہ فلاں کے قتل ہونے کا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ روانہ فرمایا وہ ان مقامات سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا نہیں ہٹے اور ان کو کنویں میں ایک کے اوپر ایک ڈال دیئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے یہاں تک کہ ان کے پاس آئے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کیا تم نے اللہ اور اس کے رسول کے وعدے کو حق پایا پس بے شک اللہ نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا تھا یقیناً میں نے تو اسے حق پایا۔ تو حضرت عمر عرض کئے یا رسول اللہ آپ کیسے گفتگو فرما رہے ہیں ان جسموں سے جن میں روح نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کو تم ان سے زیادہ نہیں سنتے سوائے اس کے کہ وہ مجھ کو کچھ جواب نہیں دے سکتے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2873 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

see it,

(1) His statement: I will see it while lying: A circumstantial clause for “see it,” meaning I have no need to see it now with effort, and I will see it later without trouble. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: سأراه وأنا مستلق حال من ضمير «أراه أي لا حاجة لي الآن إلى رؤيته بتعب، وسأراه بعد ذلك بزمان أو بيوم من غير تعب. كذا في «المرقاة».

Note 1

عمدۃ الرعایہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ما انتم باسمع لما اقول منهم سے معلوم ہوتا ہے کہ مردہ سنتا ہے اور مردے کے نہ سننے پر کوئی قوی دلیل نہیں ہے نہ کتاب اللہ سے ہے نہ سنت سے بلکہ صحیح و صریح احادیث مردہ کے سننے پر دلالت کرتی ہیں (اگر تم اس بحث کی تفصیل چاہتے ہو تو کتاب الجہاد، منہیات اور باب حکم الاسراء کو دیکھو)۔

Note 2

(31) قوله : سأراه وانا مستلق۔ یہ ’اراہ‘ کی ضمیر سے حال ہے یعنی مجھے اس وقت مشقت اٹھا کر اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں میں اس کو کچھ وقفہ یا ایک دن کے بعد بھی بغیر مشقت کے دیکھ لوں گا۔ (لمعات)۔