English
Al-Bara ibn Azib (may Allah be pleased with him) narrated: We were with the Messenger of Allah (ﷺ), fourteen hundred, on the day of Hudaybiyyah. Hudaybiyyah had a well, and we drained it, leaving not a drop. This reached the Prophet (ﷺ), and he came to it, sat at its edge, and called for a vessel of water. He performed ablution, rinsed his mouth, prayed, and poured it into the well. Then he said, “Leave it for a while.” They quenched 1 themselves and their mounts until they departed.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٦٧٥ - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالْحُدَيْبِيَةُ بِثْرُ فَنَزَحْنَاهَا، فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ فَأَتَاهَا، فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّاً، ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا، ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا، ثُمَّ قَالَ: «دَعُوهَا سَاعَةً». فَأَرْوَوْا 1 أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7352
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا حدیبیہ
کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو کی تعداد میں تھے، حدیبیہ ایک کنواں ہے، ہم
اس کا پانی نکالے اور اس میں ایک قطرہ بھی نہیں چھوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی
تو آپ اس کے پاس تشریف لائے اور اس کے کنارے بیٹھ گئے پھر پانی کا ایک برتن منگوائے اور وضوء
کئے پھر کلی کئے اور دعا فرمائے پھر اس پانی کو کنویں میں انڈیل دیئے پھر فرمائے کچھ دیر کے لئے اس کو
چھوڑ دو پھر وہ سب سیراب ہوئے(80) اور اپنی سواریوں کو بھی پلائے یہاں تک کہ روانہ ہوگئے۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3577 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: they quenched themselves, etc.: It appears Jabir’s incident preceded this one, and the miracle at Hudaybiyyah was repeated. It is surprising that people, especially, did not preserve this well or build over it for abundant good, though it is near Makkah at the edge of Hudaybiyyah on the Jeddah road. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : فأرووا أنفسهم إلخ الظاهر أن قضية جابر متقدمة على هذه القضية، وأن المعجزة في الحديبية متكررة والعجب من الناس عموما وخصوصًا أنهم ما ضبطوا هذه البئر، ولا جعلوا عليه من البناء الكبير؛ رجاء للخير الكثير، مع أنها قريبة من مكة على طرف حدة في طريق جدة. كذا في «المرقاة».
Note 1
(80) وقوله: فَارَوَّوْا انفسهم الخ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت جابر کا واقعہ اس واقعہ سے پہلے کا ہے، اور حدیبیہ میں ایک سے زائد معجزے ہوئے ہیں۔ اور لوگوں پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس کو یوں کو نہ محفوظ رکھا اور نہ برکت و خیر کثیر کے لئے اس پر بڑی عمارت بنائے حالانکہ یہ کنواں مکہ کے قریب جدہ کے کنارہ پر جدہ کے ایک راستہ پر واقع ہے۔(مرقات)۔