Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5907

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

Zujajat al-Masabih 5907Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7620
حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا میں بیٹھا ہوا تھا (12) کہ حضرت علی اور حضرت عباس آئے اور دونوں اجازت طلب کر رہے تھے۔ اور حضرت اسامہ سے انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیجئے۔ تو میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی و حضرت عباس اجازت طلب کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو معلوم کیا چیز ان کو لائی ہے؟ تو میں عرض کیا مجھے نہیں معلوم حضور پاک نے فرمایا لیکن میں جانتا ہوں ان کو اجازت دیدو۔ پس وہ دونوں داخل ہوئے اور عرض کئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ سے دریافت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو کون زیادہ محبوب ہیں تو آپ نے فرمایا فاطمہ بنت محمد تو ان دونوں نے عرض کیا ہم آپ کے پاس آپ کے اہل (ازواج و اولاد) کے متعلق پوچھنے نہیں آئے تو آپ نے فرمایا میرے اہل میں مجھے زیادہ محبوب وہ ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا اور جن پر میں نے بھی انعام کیا ہے اسامہ بن زید ہیں پھر ان دونوں نے عرض کیا پھر کون ہیں آپ نے فرمایا علی بن ابی طالب ہیں(13) تو حضرت عباس نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے اپنے چچا کو ان کے آخر میں کر دیا تو آپ نے فرمایا علی ہجرت میں تم سے پہلے ہیں۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3819 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

I was sitting

(1) The statement “I was sitting”: Meaning, at his door. The statement “we didn’t come to ask about your household”: Meaning, about your wives and children, but about your relatives and associates. The statement “whom Allah has favored”: Meaning, with Islam, guidance, and honor, “and I have favored”: Meaning, with emancipation, adoption, and upbringing. Though this was said about Zayd, his son follows him in receiving these favors. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

then Ali ibn Abi Talib

(2) The statement “then Ali ibn Abi Talib”: This is evidence that greater love does not necessitate greater superiority, as Ali is superior to Usamah and Zayd by consensus. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: كنت جالسا: أي عند بابه . وقوله: «ما جئناك نسألك عن أهلك أي عن أزواجك وأولادك، بل نسألك عن أقاربك ومتعلقيك. وقوله: «من قد أنعم الله عليه أي بالإسلام والهداية والإكرام وأنعمت عليه، أي أنا بالعتق والتبني والتربية. وهذا وإن ورد في حق زيد، لكن ابنه تابع له في حصول الإنعامين. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: ثم علي ابن أبي طالب فهذا نص على أنه لا يلزم من الأحبية الأفضلية، فإن عليا أفضل من أسامة وزيد بالإجماع. كذا في «المرقاة».

Note 1

(12) قولہ: کنت جالسا۔ یعنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھا تھا۔ و قولہ: ما جئناک نسألك عن اهلك۔ یعنی آپ کے پاس آپ کے ازواج و اولاد سے متعلق پوچھنے نہیں آئے بلکہ آپ کے اقارب اور متعلقین سے متعلق ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں۔ و قولہ: من قد انعم الله عليه۔ یعنی اسلام و ہدایت اور اکرام کی نعمت سے سرفراز کیا وانعمت عليه یعنی میں ان کو آزاد کیا متبنی بنایا اور ان کی تربیت (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) کر کے ان کو سرفراز کیا اور اگرچہ یہ انعم الله وانعمت عليه. حضرت زید کے بارے میں ہے لیکن بیٹا ان دونوں انعاموں سے سرفرازی میں اپنے باپ کے تابع ہے۔ (مرقات) (13) قوله: ثم علي بن ابي طالب۔ یہ واضح نص ہے اس بات پر کہ احبیت سے افضلیت یعنی کسی سے زیادہ محبوب ہونے سے ان کا افضل ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ حضرت اسامہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہما سے بالاتفاق افضل ہیں۔ (مرقات)