Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5913

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

Zujajat al-Masabih 5913Volume 5

English

Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) narrated: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) on the pulpit with Hasan ibn Ali by his side, turning to the people at times and to him at others, saying: “This son of mine is a leader, 1 and perhaps 2 Allah will use him to reconcile two great factions of Muslims.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٩١٣ - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ أُخْرَى، وَيَقُولُ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدُ1 ، وَلَعَلَّ 1 اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7626
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا اور حضرت حسن بن علی آپ کے بازو تھے آپ ایک مرتبہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے تو دوسری مرتبہ ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے میرا یہ بچہ سید(19) ہے اور قریب ہے کہ(20) اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3746 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2704 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

leader

(1) The statement “leader”: It is said: He is one who is not overcome by his anger. Or, he who excels in goodness. The second is more fitting, as it truly applies to one who combines nobility of lineage, character, knowledge, and action. At-Turbushti said: It is enough honor and virtue for him that the Messenger of Allah (ﷺ) called him a leader. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

perhaps Allah will use him to reconcile two great factions of Muslims

(2) The statement “perhaps Allah will use him to reconcile two great factions of Muslims”: At-Turbushti said: He described the factions as great because the Muslims at that time were divided into two groups, one with Hasan and one with Muawiyah. Hasan was the most entitled to the caliphate then. He remained for six months of the thirty years mentioned in the Prophet’s statement: “The caliphate after me is thirty years.” His piety and concern for his grandfather’s nation led him to relinquish rule and worldly matters for the sake of Allah, not out of weakness or humiliation, as over forty thousand had pledged allegiance to him unto death. It was as the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah will use him to reconcile two great factions of Muslims.” This was difficult for some of his followers, to the point that fanaticism led one to say upon entering: “Peace be upon you, O disgrace of the believers.” Hasan replied: “Disgrace is better than the Fire.” In Sharh As-Sunnah, this Hadith indicates that neither faction left Islam due to their actions or statements in that conflict, as the Prophet (ﷺ) called them all Muslims, with one faction being correct and the other mistaken. This applies to every interpreter acting on a plausible basis, even if mistaken. Hence, they agreed to accept the testimony of rebels and the rulings of their judges. The predecessors chose to avoid discussing the first conflict, saying: “Those were bloods Allah kept our hands clean from, so we do not stain our tongues with them.” Hasan’s reconciliation with Muawiyah and its continuation prove the validity of his leadership. (Derived from Al-Lama’at and Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: سید: قيل: وهو من لا يغلبه غضبه. وقيل : الذي يفوق في الخير والأول أليق بما بعده الآتي، والأظهر الثاني؛ لأنه إنما يطلق حقيقة على من جميع السيادة نسبا وحسبا وعلما وعملا. قال التوربشتي كفى به شرفا وفضل فلا أسود ممن سماه رسول الله ﷺ سيدا. كذا في «المرقاة».

Note 1

(19) قوله: سيد. اس سے متعلق کہا گیا ہے سید وہ ہے جس پر غصہ کا غلبہ نہ ہوا اور ایک قول یہ ہے کہ سید وہ ہے جو خوبیوں میں فائق ہو اور پہلے معنی بعد کی عبارت کے زیادہ لائق و مناسب ہے اور راجح دوسرے معنی ہیں کیونکہ ”سید“ حقیقت میں اسی شخص پر بولا جاتا ہے جو حسب و نسب اور علم و عمل کے اعتبار سے سیادت کے تمام پہلو کا جامع ہو۔ علامہ تورپشتی نے فرمایا یہ ان کے شرف و فضیلت کے لئے کافی ہے ان سے بڑھ کر کون سید ہو سکتا ہے جن کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سید رکھا ہے۔ (مرقات) (20) قوله: لعل الله ان يصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين. علامہ تورپشتی نے فرمایا ان دونوں فرقوں کو ”عظیمتین“ کہا گیا کیونکہ ان دونوں مسلمان دو جماعتوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ایک جماعت حضرت (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اور ایک جماعت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھی۔ اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ان دونوں تمام لوگوں میں خلافت کے حقدار تھے۔ اور خلافت کے ان تیس سال میں سے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الخلافة بعدى ثلثون سنة صرف چھ مہینہ باقی رہ گئے تھے۔ وہ چھ مہینے جب پورے ہوئے تو آپ کی پرہیزگاری اور اپنے نانا کی امت پر آپ کی شفقت اور اللہ تعالیٰ کے پاس کی نعمت کی رغبت آپ کے لئے ترک دنیا و ترک حکومت کا سبب بنی آپ کا خلافت کو چھوڑنا کسی قلت و کمزوری کی بناء پر نہیں تھا آپ کے دست مبارک پر چالیس ہزار مسلمان اسی وقت آخری دم تک کے لئے آپ کی خلافت کے حق میں بیعت کر لئے تھے اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے فرمایا تھا ”ان الله سيصلح به بين فئتين عظيمتين من المسلمين“ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان ان سے صلح کرائے گا۔ آپ کا یہ صلح کرنا بعض شیعہ اصحاب پر شاق گزرا اور وہ عصبیت پر اتر آئے یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں آ کر آپ سے سلام کرتے وقت کہنے لگے السلام عليك يا عار المؤمنين تو آپ نے فرمایا العار خير من النار یہ عار نار سے بہتر ہے اور شرح السنہ میں ہے کہ اس حدیث شریف میں دلیل ہے اس بات کی کہ دونوں جماعتوں میں کوئی اس فتنہ کے دوران اپنے کسی قول یا فعل کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوئی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کو باوجودیکہ ایک حق پر اور دوسرے خطاء پر ہے سب کو مسلمان قرار دیا اور کسی رائے یا مذہب کے اختیار کرنے میں ہر تاویل رکھنے والے کا یہی حکم ہوگا اگرچہ کہ وہ اس میں خطاء پر ہو جبکہ اس نے جس (مذہب) کو اختیار کیا ہو اس میں شبہ کی گنجائش ہو۔ اور اسی سے علماء نے اہل بغاوت کی گواہی کو قبول کرنے اور ان کے قاضی کے فیصلہ کے نفاذ پر اتفاق کیا ہے۔ اور علماء سلف نے اس سب سے پہلے وقوع پذیر فتنہ سے متعلق گفتگو نہ کرنے کو اختیار کیا ہے اور انہوں نے فرمایا یہ وہ خون ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں کو پاک رکھا ہے پس ہم زبانوں کو اس میں ملوث نہیں کریں گے۔ اور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صلح اور اس کو قائم رکھنا اور اس پر مدامت ان کی حکومت کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔ (ماخوذ از مرقات و لمعات)