Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5914

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

Zujajat al-Masabih 5914Volume 5

English

Umm Al-Fadl bint Al-Harith (may Allah be pleased with her) narrated: She entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and said: “O Messenger of Allah, I saw a disturbing dream last night.” He said: “What was it?” She said: “It was severe.” He said: “What was it?” She said: “I saw as if a piece of your body was cut off and placed in my lap.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “You have seen good. Fatimah will give birth, if Allah wills, to a boy who will be in your lap.” Fatimah gave birth to Husayn, and he was in my lap as the Messenger of Allah (ﷺ) said. One day, I entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and placed him in his lap. Then I glanced, and the eyes of the Messenger of Allah (ﷺ) were shedding tears. I said: “O Prophet of Allah, by my father and mother, what is wrong?” He said: “Jibril came to me and informed me that my nation will kill this son of mine.” I said: “This one?” He said: “Yes, and he brought me soil from his soil, red in color.”

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٩١٤ - وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ (رضي الله عنها) أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ حُلْمًا مُنْكَرًا اللَّيْلَةَ، قَالَ: «وَمَا هُوَ ؟ قَالَتْ: إِنَّهُ شَدِيدٌ، قَالَ: «وَمَا هُوَ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ كَأَنَّ قِطْعَةً مِنْ جَسَدِكَ قُطِعَتْ وَ وُضِعَتْ فِي حِجْرِي، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: رَأَيْتِ خَيْرًا، تَلِدُ فَاطِمَةُ إِنْ شَاءَ اللهُ غُلَامًا يَكُونُ فِي حِجْرِكِ. فَوَلَدَتْ فَاطِمَةُ الْحُسَيْنَ فَكَانَ فِي حِجْرِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ ، فَدَخَلْتُ يَوْمًا عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ كَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةً، فَإِذَا عَيْنَا رَسُوْلِ اللَّهِ ﷺ وَ تُهْرِيقَانِ الدُّمُوعَ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا لَكَ؟ قَالَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي سَتَقْتُلُ ابْنِي هَذَا». فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَاءُ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7627
حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! میں آج رات ایک بھیانک خواب دیکھی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا خواب ہے؟ تو وہ بولیں وہ خواب شدید ہے، تو آپ نے فرمایا: وہ خواب کیا ہے؟ تو عرض کی، میں دیکھی، گویا آپ کے جسم اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹا گیا اور میرے گود میں رکھ دیا گیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے، بی بی فاطمہ سے انشاء اللہ لڑکا تولد ہوگا اور وہ تمہاری گود میں ہوگا، پس بی بی فاطمہ سے حسین تولد ہوئے، اور جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میری گود میں آئے، پھر میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے ان کو آپ کی گود میں رکھ دیا۔ پھر میں حضور کی طرف دیکھی تو کیا دیکھتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھیں بہہ رہی ہیں۔ تو وہ کہتی ہیں کہ میں عرض کی: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا بات ہوئی؟ تو آپ نے فرمایا میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے بتایا کہ میری امت میرے اس بچہ کو شہید کردے گی۔ تو میں عرض کی: ان کو شہید کردے گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور انہوں نے میرے پاس ان کی سرخ مٹی میں سے کچھ مٹی لاکر بھی دی۔ (بیہقی دلائل النبوۃ)