English
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) called Fatimah in the year of the conquest, 1 spoke to her privately, and she wept. Then he spoke to her again, and she laughed. When the Messenger of Allah (ﷺ) passed away, I asked her about her weeping and laughing. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) informed me that he would leave this world, so I wept. Then he informed me that I am the leader of the women of the people of Paradise, except for Maryam (Mary)am bint Imran, so I laughed.
العربية
Typed, pending editorial approval
٥٩٤٨ - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ (رضي الله عنهم) أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ دَعَا فَاطِمَةَ عَامَ1 الْفَتْحِ، فَنَاجَاهَا فَبَكَتْ، ثُمَّ حَدَّثَهَا فَضَحِكَتْ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ ﷺ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا، قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ أَنَّهُ يَمُوتُ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، فَضَحِكْتُ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.
وَقَالَ فِي الْمِرْقَاتِ»: إِنَّمَا يُنَاسِبُ هَذَا الْحَدِيْتُ لِهَذَا الْفَصْلِ حَيْثُ ذُكِرَتْ فِيْهِ مَرْيَمُ، وَهِيَ تَكُونُ زَوْجَةُ نَبِيِّنَا ﷺ فِي الْجَنَّةِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7664
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فتح مکہ کے موقعہ پر بی بی فاطمہ کو بلایا(4) اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ روئیں پھر ان سے آپ نے
گفتگو کی تو وہ ہنسیں اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میں ان کے رونے اور ہنسنے کے
بارے میں پوچھی تو وہ فرمائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا آپ کا وصال ہو جائیگا تو میں روئی پھر
آپ نے مجھے بتایا کہ میں بی بی مریم بنت عمران کے سوا جنتی عورتوں کی سردار ہوں، تو میں ہنسی۔ (ترمذی)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3873 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement “in the year of the conquest”: It appears that this is a mistake, as it is not established among the biographers that this incident occurred in the year of the conquest. Rather, it was during the Farewell Pilgrimage or during his illness leading to his departure. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: عام الفتح: الظاهر أن هذا وهم؛ إذ لم يثبت عند أرباب السير وقوع هذه القضية عام الفتح، بل كان هذا في عام حجة الوداع أو حال مرض موته عليه. كذا في «المرقاة».
Note 1
اور صاحب مرقات نے فرمایا: اس حدیث شریف میں چونکہ بی بی مریم کا ذکر کیا گیا ہے اس لئے اس باب سے اس کی مناسبت ہے اور بی بی مریم جنت میں ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہوں گی۔
Note 2
(4) قوله: عام الفتح. ظاہر بات یہ ہے اس میں وہم ہو گیا کیونکہ ارباب سیر کے پاس اس واقعہ کا عام الفتح میں ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ یہ حجۃ الوداع کے سال کا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوصال کے زمانہ کا ہے۔ (مرقات)