English
Amr ibn Shu‘ayb narrated from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), that the Prophet (ﷺ) said: “Which of creation has the most astonishing faith?” They said: “The angels.” He said: “Why would they not believe when they are with their Lord?” They said: “The prophets.” He said: “Why would they not believe when revelation descends upon them?” They said: “Then us.” He said: “Why would you not believe when I am among you?” The Prophet (ﷺ) said: “The most astonishing faith to me is that of a people who will come after me, finding scrolls 1 with a book and believing in what is in them.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٠٤٧ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيْمَانًا؟» قَالُوْا : الْمَلَائِكَةُ، قَالَ: «وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ»، قَالُوا: فَالنَّبِيُّوْنَ، قَالَ: «وَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَالْوَحْيُ يُنْزَلُ عَلَيْهِمْ»، قَالُوا: فَنَحْنُ، قَالَ: «وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ». قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيْمَانًا لَقَوْمٌ يَكُوْنُوْنَ مِنْ بَعْدِي، يَجِدُوْنَ صُحُفًا 1 فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُوْنَ بِمَا فِيهَا. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7772
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے والد سے وہ
اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارے
پاس کونسی مخلوق کا ایمان تعجب خیز ہے تو صحابہ عرض کئے فرشتے تو آپ نے فرمایا وہ کیوں ایمان نہ لائیں
وہ تو اپنے رب کے پاس ہیں تو عرض کئے پھر تو انبیاء آپ نے فرمایا وہ کیوں ایمان نہ لائیں ان پر تو وحی
نازل ہوتی ہے عرض کئے تو ہم تو آپ نے فرمایا تم کیوں ایمان نہیں لاؤ گے جب کہ میں تمہارے
درمیان ہوں راوی نے کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مخلوق میں میرے پاس سب سے
زیادہ پسندیدہ ایمان والے جو میرے بعد ہوں گے اور وہ صحیفوں(7) کو پائیں گے جس میں اللہ کی کتاب
ہوگی جو کچھ اس میں ہے اس پر وہ ایمان لائیں گے۔ (بیہقی، دلائل النبوۃ)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: “scrolls” means manuscripts and parts containing a book from Allah, i.e., the Qur’an, and they believe in what is in those scrolls. It may include the Qur’an and Sunnah. Since the discussion is about astonishing and remarkable faith, the hadith does not prove superiority in any aspect of merit. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: صحفا بضمتين جمع صحيفة، أي مصاحف وأجزاءًا فيها كتاب، أي مكتوب من عند الله، وهو القرآن يؤمنون بما في تلك الصحف ولا يبعد أن يفسر الصحف بما يشمل الكتاب والسنة وحيث ورد الكلام في الأعجبية والأغربية، فلا استدلال بالحديث في الأفضلية بوجه من وجوه المزية، هذا. كذا في «المرقاة».
Note 1
(7) قولہ: صحفا: صاد اور حاء دونوں کو ضمہ کے ساتھ صحیفہ کی جمع ہے یعنی قرآن مجید اور اس کے پارے کتاب سے مراد اللہ کی طرف سے لکھا ہوا یعنی قرآن مجید ان صحیفوں میں جو کچھ بھی ہے اس پر وہ ایمان لائیں گے یہ بات بعید نہیں صحف کی تفسیر کتاب وسنت کے مضامین سے ہو سکتی ہے حدیث شریف سے اس میں فضیلت کے وجوہ میں سے کسی بھی وجہ سے افضلیت پر دلیل نہیں ہے کیونکہ یہ کلام اس کے عجیب وغریب ہونے سے متعلق وارد ہے اس کو یاد رکھو۔ (مرقات)