Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 607

(یہ باب ہے نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(یہ باب ہے نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں)

Zujajat al-Masabih 607Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 682
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مردار جانور کے چمڑے کے استعمال سے جب اسے دباغت دی جائے تو فائدہ اٹھاؤ خواہ دباغت مٹی سے دی گئی ہو یا راکھ سے یا نمک سے یا ایسی کسی چیز سے دباغت دی گئی ہو کہ جس سے چمڑے میں صلاحیت پیدا ہوجائے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 1

or whatever it is

(1) The phrase "or whatever it is" refers to the tanning process. In "Radd al-Muhtar," it is mentioned that tanning can be done using sunlight or similar methods, referred to as "tanning by judgment." This points to a difference with Imam Shafi'i's opinion, and the indication is that there is no difference between the two types of tanning in their rulings, except for one. According to the "al-Bahr," the only distinction is that if the leather undergoes real tanning, it doesn't return to being impure even if water touches it afterward, which is agreed upon in all narrations. However, for "tanning by judgment," there are two views. The stronger opinion is that it does not return to being impure, as stated in "Qahistani" from the "Mudammirat." The difference in opinion in "Mukharrarat al-Nazil" is limited to cases where the tanning by judgment happens before washing with water; if it happens after washing, then there is no disagreement that the impurity doesn't return.

Note 1

قوله

(۱) قوله : أو ما كان : وقال في رد المحتار: ولو بشمس أي ونحوه من الدباغ الحكمي. وأشار به إلى خلاف الإمام الشافعي، وإلى أنه لا فرق بين نوعي الدباغة في سائر الأحكام. قال في البحر»: إلا في حكم واحد، وهو أنه لو أصابه الماء بعد الدباغ الحقيقي لا يعود نجسا باتفاق الروايات، وبعد الحكمي فيه روايتان. اهـ والأصح عدم العود، قهستاني» عن «المضمرات». وقيد الخلاف في مختارات النازل بما إذا دبغ بالحكمي قبل الغسل بالماء، قال: فلو بعده لا تعود نجاسته اتفاقا.

Note 1

ف: چمڑے سے اس کی بدبو اور ناپاک رطوبتوں کے دور کرنے کو دباغت کہتے ہیں، واضح رہے کہ دباغت کی دو قسمیں ہیں (1) حقیقی (2) حکمی۔ دباغت حقیقی یہ ہے کہ چمڑے کو دواؤں کے ذریعہ مثلاً نمک، انار کے چھلکے، مازو اور کیکر یعنی ببول کے پتوں سے پاک کیا جائے، اور دباغت حکمی یہ ہے کہ چمڑے کو دھوپ میں اس طرح تپایا جائے یا مٹی اور راکھ میں اس طرح روندا جائے کہ اس کی بدبو اور رطوبت دور ہوجائے۔ دباغت حقیقی سے چمڑا ہمیشہ کے لئے پاک ہوجاتا ہے اور اس کی نجاست پھر عود نہیں کرتی البتہ دباغت حکمی میں اختلاف ہے اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دو روایتیں منقول ہیں: ایک یہ کہ نجس رطوبت پانی کی تری کی وجہ سے عود کر جائے گی تو چمڑا پھر نجس ہوجاتا ہے، دوسری روایت یہ ہے کہ دباغت حکمی کے بعد چمڑا دوبارہ پانی میں تر ہوجائے اور رطوبت ظاہر ہوجائے تو یہ رطوبت جو ظاہر ہوئی ہے اصلی پہلے کی رطوبت نہیں ہے کیوں کہ چمڑے کی اصلی رطوبت دھوپ یا مٹی یا راکھ سے جاچکی تھی اس وجہ سے چمڑے کو نجس نہیں قرار دیا جاسکتا اور اسی دوسرے قول پر (جس سے چمڑے کا پاک رہنا ثابت ہوتا ہے) فتویٰ ہے۔ (شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ، غیاث اللغات۔) البتہ ”مختارات النوازل“ میں یہ صراحت ہے کہ دباغت حکمی میں اگر چمڑے کو دباغت سے پہلے پانی سے دھولیا جائے اور پھر دھوپ یا مٹی یا راکھ کے ذریعہ دباغت دی جائے تو چمڑے کی نجاست بالاتفاق عود نہیں کرے گی اور یہ دباغت حکمی دباغت حقیقی کے مثل ہوجائے گی۔ 12