English
He also said: "When the Messenger of Allah ﷺ threw the stones, he slaughtered his sacrifice, then handed over the right side to the creator and shaved it. Then he gave it to Abu Talha, then handed over the left side and shaved it. He said: 'Distribute it among the people.'" [Narrated by Al-Tirmidhi]
The author of Al-Inayah and Ali al-Qari said: "This is evidence for the purity of human hair."
العربية
Typed, pending editorial approval
٦١٢ - وَعَنْهُ ، قَالَ: لَمَّا رَمَى رَسُولُ اللهِ ﷺ الْجَمْرَةَ نَحَرَ نُسُكَهُ، ثُمَّ نَاوَلَ الْخَالِقَ شِقَهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ، فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ شِقَّهُ الْأَيْسَرَ فَحَلَقَهُ، فَقَالَ: «اقْسِمُهُ بَيْنَ النَّاسِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. وَقَالَ صَاحِبُ الْعِنَايَةِ» وَعَلِيُّ الْقَارِي: فِيْهِ دَلِيْلٌ عَلَى طَهَارَةِ شَعْرِ الْآدَمِيِّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 687
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم حج میں جمرات پر کنکریاں پھینکنے سے فارغ ہوئے تو اپنی قربانی کے اونٹ کو ذبح فرمایا
اس کے بعد اپنے سر مونڈھنے والے کو سر کی سیدھی جانب دی اس نے اس کو مونڈھ دیا، حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے سیدھے جانب کے بال ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دئے اس کے بعد بائیں جانب
مونڈھنے کے لئے دئے تو مونڈھنے والے نے مونڈھ دیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان
بالوں کو لوگوں میں تقسیم کردو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 912 (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور صاحب عنایہ اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں آدمی کے بال کے پاک ہونے پر دلیل ہے۔