English
Al-Miqdam ibn Ma'dikarb said: "The Messenger of Allah ﷺ prohibited wearing the skins of wild animals and riding on them."
العربية
Typed, pending editorial approval
٦١٣ - وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيُكَرِبَ (رضي الله عنه) قَالَ: نَهَى رَسُوْلُ اللهِ ﷺ عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السَّبَاعِ1 وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 688
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں کے پہننے اور ان پر سوار ہونے سے ممانعت فرمائی
ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4131 (unverified) 86% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 4253 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.517
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Regarding the statement: "The Messenger of Allah ﷺ prohibited wearing the skins of wild animals..." This prohibition is considered one of the haram (forbidden) acts according to Imam al-Shafi'i. This is because using such skins before tanning is not allowed, as they are impure. After tanning, if the skin still has hair, it is also considered impure because, according to al-Shafi'i, the tanning does not purify the hair since tanning does not alter the state of the hair. Alternatively, some scholars view this prohibition as one of discouragement (tanzih) according to Imam Abu Hanifa. This is because, for him, hair is pure. He also argued that wearing the skins of wild animals and riding on them is a practice of tyrants, non-Arabs, and the wealthy, which is not appropriate for righteous people, hence it is disliked but not prohibited. Imam Abu Hanifa's opinion on wearing the skins of wild animals, including fox fur, is based on the view that such skins, when tanned, are not impure. In his view, the purification of the animal is achieved by its slaughter, and the tanning process can be regarded as a form of ritual purification. He also mentioned that the skins of all wild animals, once properly tanned, may be used to make items like saddles or prayer mats. This is stated in Al-Mabsoot and Al-Muhit by Imam Abu Hanifa.
Note 1
(۱) قوله : نهى رسول الله ﷺ عن لبس جلود السباع إلخ : هذا النهي نهي تحريم عند الشافعي؛ لأن استعمالها إما قبل الدباغ فلا يجوز؛ لأنها نجسة. وإما بعده فإن كان عليه الشعر فهي أيضًا نجسة؛ لأن الشعر لا يطهر بالدباغ عنده؛ لأن الدباغ لا يغير الشعر عن حاله، أو النهي نهي تنزيه. هذا عند أبي حنيفة؛ لأن الشعر طاهر عنده، فإن لبس جلود السباع والركوب عليها من دأب الجبابرة والأعاجم وعمل المترفين، فلا يليق بأهل الصلاح، ويكره، أخذته من المرقاة». ولعدم نجاستها قال في العالمكيرية»: عن أبي حنيفة الله لا بأس بلبس قلنسوة الثعالب، كذا في المبسوط». وعن أبي حنيفة الله أنه قال: لا بأس بالفرو من السباع كلها، وغير ذلك من الميتة المدبوغة والمذكاة، وقال: ذكاتها دباغها، كذا في المحيط». ولا بأس بجلود النمر والسباع كلها إذا دبغت أن يجعل منها مصلّى أو ميسرة السرج، كذا في «الملتقط».
Note 1
ف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں کے پہننے اور ان پر سوار ہونے سے ممانعت فرمائی ہے، اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ یہ بھی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نہی تحریمی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ درندوں کے چمڑوں کا استعمال دباغت کے قبل جائز نہیں، اس لئے کہ وہ نجس ہیں۔ اب رہا یہ کہ دباغت کے بعد کیا کیا جائے؟ اگر درندوں کے چمڑوں پر بال ہوں تو وہ چمڑے بھی نجس ہیں، اس لئے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بالوں کو دباغت دینے سے بال پاک نہیں ہوتے کیونکہ دباغت سے بالوں کی اصلی حالت نہیں بدلتی، اس حدیث میں جو نہی وارد ہے اس سے نہی تنزیہی مراد ہے اور یہ مسلک امام ابوحنیفہؒ کا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بال امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پاک ہیں اور حدیث میں نہی اس لئے آئی ہے کہ درندوں کے چمڑوں کو پہننا اور ان کے چمڑوں پر سوار ہونا سرکش لوگوں اور عجمی کفار اور عیش پرستوں کا دستور ہے لہذا نیک لوگوں کے لئے ان کا استعمال مناسب نہیں، اس لئے کہ وہ تنزیہی ہے۔ (میں نے اس مضمون کو مرقات سے اخذ کیا ہے۔) درندوں کے چمڑوں کے ناپاک نہ ہونے کے متعلق عالمگیر یہ میں وضاحت ہے کہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح منقول ہے کہ لومڑیوں کے چمڑوں کی ٹوپی کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں اور مبسوط میں بھی اسی طرح مذکور ہے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے درندوں کے پوستین اور دیگر مردار جانوروں کے دباغت دئے ہوئے چمڑوں اور اسی طرح ذبح کئے ہوئے جانوروں کے چمڑوں کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں اگرچہ کہ ان کو دباغت نہ دی گئی ہو اس لئے کہ ان کا ذبح کرنا ہی دباغت دینا ہے۔ چنانچہ محیط میں یہی مذکور ہے، نیز تیدوے اور دوسرے درندوں کے چمڑوں کے استعمال میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ ان کو دباغت دی جائے پھر ان سے جانماز یا زین کا چار جامہ بنایا جائے، یہ ملتقط میں مذکور ہے۔ 12