مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے موقع پر اپنے ایک ہزار سے کچھ زائد صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے،
پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذو الحلیفہ پہنچے تو قربانی کے جانور کو قلادہ ڈالے اور اشعار کئے1
اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھے اور چلے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ اس وادی ثنیہ میں پہنچے
جہاں سے ان کے پاس پہنچا جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر بیٹھ گئی تو لوگوں نے اس کو
(اٹھانے کے لئے) ”حل حل“ کہا، قصواء اڑ گئی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ قصواء اڑی ہے اور
نہ ہی یہ اس کی شان ہے، لیکن ہاتھی کو روکنے والے نے اس کو روک دیا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، وہ مجھ سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے
جس میں وہ اللہ کے حرمات کی تعظیم کرتے ہوں، مگر یہ کہ میں ان کو وہ عطاء کر دوں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے اس کو ہانکا تو تیزی سے کھڑی ہوگئی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے۔ یہاں تک کہ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے کنارے کم پانی والے ایک ایسے چشمہ کے پاس اترے جس کا پانی لوگ تھوڑا تھوڑا
لے رہے تھے، پھر لوگ ٹھہرے نہیں یہاں تک کہ اس کو خالی کر دیئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں تشنگی کی شکایت کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ترکش سے ایک تیر نکالے پھر ان کو حکم فرمایا کہ
وہ اس کو اس میں ڈال دیں، پس اللہ کی قسم وہ (چشمہ کا پانی) ان کے لئے خوب سیرابی کے ساتھ ابلتا رہا۔
یہاں تک کہ وہ اس سے سیراب ہو کر واپس ہوئے، پس وہ اسی حالت پر تھے کہ اتنے میں بدیل بن ورقاء
خزاعی قبیلہ خزاعہ کی ایک جماعت کے ساتھ آیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عروہ بن مسعود حاضر
ہوئے۔ اور امام بخاری نے طویل حدیث کو بیان کیا، یہاں تک کہ انہوں نے کہا: جس وقت سہیل بن عمرو آیا
تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لکھو ”یہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی“ 2
تو سہیل نے کہا: اللہ کی قسم اگر ہم یہ بات جانتے اور یقین کرتے ہوتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم
نہ آپ کو بیت اللہ سے روکتے اور نہ آپ سے جنگ کرتے، بلکہ آپ محمد بن عبداللہ تحریر فرمائیے، انہوں نے کہا:
(راوی نے کہا) پس نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں بے شک اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم مجھے جھٹلاؤ۔
محمد بن عبداللہ تحریر کرو۔ پس سہیل نے کہا: اور اس شرط پر 3
کہ آپ کے پاس ہم میں سے کوئی مرد نہیں آئے گا 4
اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہوگا ضرور آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے۔ پس جب وہ
لکھنے کے مسئلہ سے فارغ ہوئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اٹھو، پس
قربانی دو پھر حلق کرو 5 پھر چند مومن عورتیں آئیں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی:
اے ایمان والو! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کر کے آئیں (65۔ سورہ
ممتحنہ، آیت نمبر:10) پس اللہ تعالیٰ نے ان مسلمان عورتوں کو کفار کی طرف واپس بھیج دینے سے منع
فرمایا اور یہ حکم دیا کہ وہ مہر (سابقہ شوہروں کو) واپس کر دیں 6
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس ہوئے پس قریش کے ایک آدمی ابوبصیر مسلمان ہو کر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پس وہ کفار ان کی طلب میں دو آدمیوں کو روانہ کئے تو آپ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان دو آدمیوں کے حوالہ کیا چنانچہ وہ دونوں ان کو لے کر نکلے یہاں تک کہ جب
وہ دونوں ذوالحلیفہ پہنچے تو وہ اپنے کھجور کھانے کے لئے اترے تو ابوبصیرؓ نے دو آدمیوں میں سے ایک
سے کہا: اے فلاں! اللہ کی قسم بے شک میں تمہاری اس تلوار کو بہت عمدہ دیکھ رہا ہوں، ذرا مجھے دکھاؤ
کہ میں اس کو دیکھوں، پس اس نے ان کو اس کا موقع دیا تو انہوں نے اس کو ضرب لگایا یہاں تک کہ
وہ ٹھنڈا ہوگیا اور دوسرا ان سے بھاگ گیا یہاں تک کہ وہ مدینہ پہنچا اور مسجد میں دوڑتے ہوئے داخل
ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اس نے کوئی خوفناک معاملہ دیکھا ہے۔ چنانچہ اس نے
کہا: اللہ کی قسم میرا ساتھی قتل کر دیا گیا اور ضرور میں بھی قتل کیا جانے والا ہوں۔ پھر ابوبصیر آئے تو نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت ہی ہوشیار ہے جنگ کو بھڑکا دے گا، اگر کوئی ان کے لئے
ہو جائے پس جب انہوں نے یہ سنا تو سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کے حوالے کر دیں
گے تو وہ نکلے یہاں تک کہ ساحل سمندر پر آ پہنچے، انہوں (یعنی راوی) نے کہا: اور ابوجندل بن سہیلؓ
چھوٹ کر ابوبصیرؓ سے جا ملے اب قریش کا جو کوئی آدمی مسلمان ہو کر نکلتا وہ ابوبصیرؓ سے جا ملتا۔ یہاں
تک کہ ان کی ایک جماعت اکٹھا ہوگئی۔ پس اللہ کی قسم یہ (حضرات) شام کی طرف روانہ ہونے
والے قریش کے جس کسی قافلہ کے بارے میں سنتے اس کے درپے ہو کر ان کو قتل کرتے اور ان کے
اموال لے لیتے۔ پس قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دے
کر اپیل کرتے ہوئے روانہ کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس یہ بات روانہ کریں کہ جو آپ
کی خدمت میں آجائے وہ مامون ہو جائے گا، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس یہ
بات پہنچا دی۔ (بخاری)۔
امام طحاوی رحمہ اللہ نے مسور رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حدیبیہ میں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ 7 حل میں تھا اور آپ کا مصلی حرم میں تھا۔
Allah, the Exalted, says: “And if they incline to peace, then incline to it and rely upon Allah” [Qur’an 8:61].
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2731 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (14)
Note 1
Marked them
(1) The statement: “Marked them”: Shafi‘i permits marking, while Abu Hanifah considers it disliked, though permissible per Abu Yusuf and Muhammad, whose view is preferred. At-Tahawi said: Abu Hanifah disliked excessive marking by commoners and Bedouins that risks death, not marking itself, as chosen in (Ghayat al-Bayan) and confirmed in (Fath al-Qadir). As in (Al-Hidayah) and (Bahr ar-Ra’iq).
Note 2
This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has agreed upon
(2) The statement: “This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has agreed upon”: Meaning a treaty, as (Al-Hidayah) states: If the leader sees benefit for Muslims in making a treaty with the enemy or a group, it is permissible.
Note 3
That no man from us comes to you
(3) The statement: “That no man from us comes to you”: Ibn al-Humam said: If they stipulate returning Muslims, the condition is void, and we do not return them, per Abu Hanifah and Malik. Shafi‘i says men must be returned, not women, as done at Hudaybiyyah. Women are not returned by consensus, per: “If you know them to be believers, do not return them to the disbelievers” [Qur’an 60:10]. This abrogates returning men too, as there is no difference, and returning Muslims is more harmful. As in (Al-Mirqat).
Note 4
From us, a man
(4) The statement: “From us, a man”: The treaty did not include returning women, as it specifies “a man.” As in (Al-Mirqat).
Note 5
Rise, slaughter, then shave
(5) The statement: “Rise, slaughter, then shave”: This shows unblocking requires sacrifice in the sanctuary per Hanafis, as the Prophet (ﷺ) slaughtered at Hudaybiyyah within the sanctuary, per: “If you are prevented, offer what is easy of sacrificial animals, and do not shave your heads until the offering reaches its place” [Qur’an 2:196], and “An offering reaching the Ka‘bah” [Qur’an 5:95], meaning its sanctuary. At-Tahawi’s Hadith confirms his tent was in the non-sacred area, his prayer place in the sanctuary. In (An-Nihayah), Hudaybiyyah is partly in the sanctuary, per Al-Waqidi, aligning with Abu Hanifah. Al-Muhib at-Tabari said Hudaybiyyah is mostly in the sanctuary, nine miles from Makkah, not contradicting Bukhari’s statement that it is outside. As in (Al-Mirqat) and (Sharh Ma‘ani al-Athar). Dowry repayment’s obligation or recommendation is disputed. Some say it is abrogated, per Ata, Mujahid, and Qatadah. Others, including Hanafis, Malik, and Ahmad, say it is not; Shafi‘i has two views. As in (Al-Mirqat) and (Fath al-Qadir).
Note 6
His tent was in the non-sacred area, and his prayer place was in the sanctuary
(6) The statement: “His tent was in the non-sacred area, and his prayer place was in the sanctuary”: At-Tahawi said this proves the Prophet (ﷺ) was not barred from the sanctuary and could access part of it. No scholar permits slaughtering outside the sanctuary if one can enter it. Thus, the Prophet (ﷺ) did not slaughter outside, as slaughtering outside is only allowed when barred, not when access is possible. This is the view of Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad.
Note 1
قوله
(١) قوله: وأشعروا: عليه الشافعي، وهو مكروه عن أبي حنيفة حسن عندهما، والفتوى على قولهما. وقال الطحاوي:إنما كره أبو حنيفة الإشعار المحدَث الذي يفعل عوام زمانه والأعراب على وجه المبالغة، ويخاف منه السراية إلىالموت، لا مطلق الإشعار، واختاره في(غاية البيان) وصححه. وفي (فتح القدير): أنه الأولى، هذا حاصل ما في(الهداية) و(البحر الرائق).
Note 2
قوله
(٢) قوله: هذا ما قاضى عليه محمد رسول اللّٰه إلخ: أي صالح، لذلك قال في (الهداية): وإذا رأى الإمام أن يصالح أهلالحرب أو فريقا منهم، وكان في ذلك مصلحة للمسلمين فلا بأس به.
Note 3
قوله
(٣) قوله: وعلى أن لا يأتيك منا رجل : وإن كان على دينك إلا رددته علينا. قال الشيخ ابن الهمام: ولو شرطوا فيالصلح أن يرد إليهم من جاء مسلما منهم بطل الشرط، فلا يجب الوفاء به، فلا يرد عندنا من جاءنا مسلما منه، وهو قول مالك. وقال الشافعي: يجب الوفاء بالرجال دون النساء؛ لأنه صلي الله عليه واله وسلم فعل ذلك في الحديبية، وأما لو شرط مثله فيالنساء لا يجوز ردهن إجماعا. قلنا: قال تعالى:(فَإِنْ عَلْمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ (الممتحنه١٠). وهذا هو دليل النسخ في حق الرجال أيضًا؛ إذ لا فرق بين الرجال والنساء في ذلك، بل مفسدة ردّ المسلم إليهمأكثر. كذا في (المرقاة).
Note 4
قوله
(٤) قوله: منا رجل: فيه أن الصلح لم يقع على ردّ النساء؛ لقوله: في هذا الحديث لا يأتيك منا رجل. كذا في (المرقاة).
Note 5
قوله
(٥) قوله: قوموا فانخروا ثم احلقوا: فيه أن الإحلال نسك على المحصر وإن له نحر هديه بالحرم عندنا؛ لأن الموضعالذي نحر وافيه بالحديبية من الحرم بدليل قوله تعالى: (فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْيِّ وَلَا تَجْلِقُواْ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰيَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّةُ) (البقرة: ١٩٦). وقد قال تعالى: (هَدْيًا بَلِغَ الْكَعْبَةِ) (المائدة: ٩٥) أي حرمها، ويؤيدهحديث الطحاوي: أن رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم كان بالحديبية خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم. وفي (النهاية): الحديبية قريةإليها ينتهي حد الحرم، ومن ذلك الصوب، وهي من الحل، وبعضها من الحرم على ما ذكره الواقدي، وهو الموافقلمذهب أبي حنيفة. وقد قال المحب الطبري: الحديبية قرية قريبة من مكة أكثرها في الحرم، وهي على تسعة أميال من مكة، وهو لا ينافي ما في (صحيح البخاري) أن الحديبية خارج الحرم. أخذته من (المرقاة) و (شرح معاني الآثار)
وأمرهم أن يروا الصداق، ولا شك في انفساخ نكاحها، اختلف القول في أن ردّ المهر كان واجبًا أو مندوبًا.واختلفوا في أنه هل يجب العمل به اليوم في رد المال إذا شرط في معاقدة الكفار، فقال قوم: لا يجب، وزعموا أن الآيةمنسوخة، وهو قول عطاء ومجاهد وقتادة. وقال قوم: هي غير منسوخة للشافعي فيه قولان في قول لا يعطان، وهوقولنا وقول مالك وأحمد، وفي قول يعطاه. التقطته من (المرقاة) و(فتح القدير).
Note 6
قوله
(٦) قوله: خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم: وقال الطحاوي: فثبنت بما ذكرنا أن النبي صلي الله عليه واله وسلم لم يكن صد عن الحرم، وأنهكان يصل إلى بعضه، ولا يجوز في قول أحد من العلماء لمن قدر على دخول شيء من الحرم أن ينحر هديه دون الحرم، فلماثبت بالحديث الذي ذكرنا: أن النبي صلي الله عليه واله وسلم كان يصل إلى بعض الحرم استحال أن يكون نحر الهدي في غير الحرم؛ لأنالذي يبح نحر الهدى في غير الحرم إنما يبيحه في حال الصد عن الحرم، لا في حال القدرة على دخوله فانتفى بما ذكرنا أنيكون النبي صلي الله عليه واله وسلم نحر الهدي في غير الحرم. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد.
Note 1
2 قولہ: هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله الخ (یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول ﷺ نے مصالحت
کی) صاحب ہدایہ نے کہا اور جب دار الحرب کے باشندوں کے ساتھ یا ان کے کسی گروہ کے ساتھ امام صلح کرنا مناسب
سمجھے اور اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
3 قولہ: و على ان لا ياتيك منا رجل و ان كان على دينك۔ ”اور اس شرط پر کہ ہم میں سے کوئی آدمی
آپ کے پاس نہیں آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو مگر ضرور آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے“، شیخ ابن ہمام
نے کہا: اور اگر وہ لوگ صلح میں یہ شرط لگائیں کہ ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آ جائے اس کو ان کے حوالے کر دیا جائے
تو شرط باطل ہوگی اور اس کو پورا کرنا واجب نہیں ہوگا۔ پس ہم حنفیہ کے نزدیک ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر، ہمارے
پاس آ جائے اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ اور یہی امام مالک کا قول ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: مردوں سے متعلق
شرط کو پورا کرنا واجب ہے، عورتوں سے متعلق پورا کرنا نہیں ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ایسا ہی کیا،
البتہ اگر ایسی شرط عورتوں کے بارے میں لگائی جائے تو ان کو واپس بھیج دینا بالاتفاق جائز نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں: اللہ
تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ“۔ ”تو اگر تم کو معلوم ہو جائے
کہ وہ ایمان والی ہیں تو ان کو کافروں کے پاس واپس نہ لوٹاؤ“۔ (65-سورہ ممتحنہ، آیت نمبر:10)۔
اور یہ مردوں کے حق میں بھی نفی کی دلیل ہے کیونکہ اس سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ
مسلمان مرد کو ان کی طرف واپس بھیجنے کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ (مرقات)۔
4 قوله: منا رجل ”ہم میں سے کوئی مرد“ اس میں یہ دلیل ہے ہے کہ عورتوں کو واپس کرنے پر صلح واقع نہیں
ہوئی، اس لئے کہ اس حدیث میں ”لاياتيك منا رجل“ ”ہم میں سے کوئی مرد آپ کے پاس نہیں آئے گا“ وارد ہوا
ہے۔ (مرقاۃ)۔
5 ”قوله: قوموا فانحروا ثم احلقوا فيه الخ“ ”اٹھو پس قربانی دو پھر حلق کرو“ اس میں یہ مسئلہ ہے کہ احرام
کھولنے کے لئے محصر پر قربانی واجب ہے اور یہ کہ اس کے لئے اپنی قربانی کا جانور حرم میں ذبح کرنا ہے، کیونکہ ہمارے
پاس حدیبیہ کی وہ جگہ جس میں انہوں نے قربانی دی حرم میں داخل ہے، جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”فَإِنْ
أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ“۔ ”پھر اگر تم راستہ
میں] روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کر دو اور جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے اپنے سر نہ منڈاؤ“۔
(2۔ سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:196) و نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول: ”هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ“۔ ”یہ قربانی کعبہ تک پہنچائی
جائے“۔ (5۔ سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:95) یعنی اس کے حرم تک اور اس کی تائید طحاوی کی یہ حدیث کرتی ہے کہ حدیبیہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ حل میں تھا، اور آپ کے نماز پڑھنے کی جگہ حرم میں تھی اور نہایہ میں ہے حدیبیہ وہ بستی
ہے جہاں حرم کی حد اس سمت ختم ہوتی ہے اور یہ ”حل“ کا حصہ ہے اور اس کا بعض حصہ حرم سے ہے جیسا کہ واقدی نے
اس کو ذکر کیا ہے اور یہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق ہے اور محب طبری نے کہا: حدیبیہ مکہ کے قریب ایک بستی ہے
جس کا اکثر حصہ حرم میں داخل ہے اور وہ مکہ سے نو میل کی مسافت پر ہے۔ اور یہ اس بات کے خلاف نہیں ہے جو صحیح
بخاری میں ہے کہ حدیبیہ حرم کے باہر ہے۔ (ماخوذ از مرقاۃ، شرح معانی الآثار)۔
6 قولہ: و امرهم ان يردوا الصداق ”اور اس نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ مہر واپس کر دیں“ اور اس عورت
کا نکاح فسخ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا مہر کا واپس کرنا واجب تھا یا مستحب۔ اور اس
بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا آج بھی مال (مہر) کو واپس کرنا واجب العمل ہے، جب کفار کے معاہدہ میں اس کی
شرط لگائی جائے۔ چنانچہ ایک جماعت نے کہا واجب نہیں ہے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ آیت منسوخ ہے اور یہ عطاء اور مجاہد
اور قتادہ کا قول ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا وہ منسوخ نہیں ہے، امام شافعیؒ کے اس میں دو قول ہیں۔ ایک قول میں ہے
کہ وہ اس کو نہیں دیا جائے گا اور یہ ہمارا، امام مالک کا اور امام احمد کا قول ہے اور ایک قول میں ہے کہ وہ اس کو دے دیا
جائے گا۔ (ماخوذ از مرقاۃ و فتح القدیر)۔
7 (1) قوله : خباءه فى الحل و مصلاه فى الحرم الخ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ حل میں اور
آپ کا مصلی حرم میں تھا“ اور امام طحاوی نے فرمایا: پس ہم نے جو ذکر کیا ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم حرم کے باہر روکے نہیں گئے تھے اور آپ حرم کے ایک حصے میں پہنچ گئے تھے اور کسی بھی عالم کے قول میں اس شخص کے
لئے جو حرم کے کسی حصے میں داخل ہونے کی قدرت رکھتا ہے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے قربانی کے جانور کو حرم کے باہر ذبح
کرے۔ پس جب اس حدیث سے جسے ہم نے ذکر کیا یہ ثابت ہوگیا کہ حرم کے ایک حصے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
آمد ہو رہی تھی تو آپ کا قربانی کے جانور کو غیر حرم میں ذبح کرنا محال ہے کیونکہ جو لوگ غیر حرم میں قربانی کے جانور کے
ذبح کو جائز قرار دیتے ہیں وہ صرف حرم سے روک دیئے جانے کی حالت میں اس کو جائز قرار دیتے ہیں اس میں داخل
ہونے کی قدرت کی حالت میں نہیں۔
پس ہم نے جو بیان کیا ہے اس سے اس بات کی نفی ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے باہر قربانی کے جانور
کو ذبح کئے اور امام ابوحنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا قول ہے۔
8 قوله: صالح النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم الحديبية على ثلاثة اشياء الخ ”نبی
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین چیزوں پر مصالحت فرمائی“۔ شیخ ابن ہمامؒ نے کہا: اگر دشمن
مسلمانوں کا محاصرہ کر لیں اور مال پر صلح کرنے کا مطالبہ کریں کہ جس کو مسلمان انہیں ادا کریں تو امام اس طرح کی صلح نہیں
کرے گا، کیونکہ اس میں ایک قسم کی ذلت ہے اور مومن کے لئے اپنے آپ کو ذلیل کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ عزت
ایمان کی خاصیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ“ (63۔ سورۃ
المنافقون، آیت نمبر:8) مگر جب امام اپنے آپ پر اور مسلمانوں پر ہلاکت کا اندیشہ کرے تو ایسی صورت میں کوئی حرج
نہیں ہے۔
Note 2
اور تفسیر مدارک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”وَسْئَلُوا مَا أَنْفَقْتُمْ“۔ (65۔ سورۃ ممتحنہ، آیت
نمبر:10) ”اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے وہ ان سے طلب کرلو“ کے بارے میں ہے کہ وہ منسوخ
ہے، پس مہر کا مطالبہ باقی نہ رہا نہ ہم سے اور نہ ان سے اور ہمارے علماء نے کہا: جہاں تک اس صلح کی
بات ہے جو (حدیبیہ کے) کے قصہ میں مشرکین کے ساتھ اس بات پر واقع ہوئی کہ ان کو وہ شخص
واپس کر دیا جائے گا جو ان کے پاس سے مسلمان ہو کر مسلمانوں کے ملک کو آجائے تو وہ ہمارے پاس
منسوخ ہے اور اس کی ناسخ یہ حدیث ہے:
”انا بريء من كل مسلم بين مشركين“
”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان میں ہے“
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین باتوں پر مصالحت فرمائی 8
(1) آپ کے پاس جو بھی مشرکین کے پاس سے آئے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان کی
طرف لوٹا دیں گے۔
(2) اور جو مسلمان ان کے پاس چلے جائے اس کو وہ واپس نہیں کریں گے۔
(3) اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (مکہ) میں آئندہ سال داخل ہوں گے اور وہاں تین
دن قیام فرمائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل نہیں ہوں گے مگر ہتھیار کو، تلوار کو اور میان
اور اس جیسی چیزوں کو تھیلے میں چھپائے ہوئے داخل ہوں گے۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوجندل اپنی بیڑیوں میں لڑکھڑاتے ہوئے آئے تو آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی طرف واپس کر دیا۔ (بخاری و مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2700 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1783c (unverified) 87% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
The Prophet (ﷺ) made a treaty with the polytheists…
(1) The statement: “The Prophet (ﷺ) made a treaty with the polytheists…”: Ibn al-Humam said: If the enemy besieges Muslims and seeks a treaty with Muslims paying them wealth, the leader must not agree, as it involves humiliation, and a believer must not be humbled, per: “To Allah belongs honor, and to His Messenger and the believers” [Qur’an 63:8]. An exception is if the leader fears destruction for himself and Muslims, then it is permissible.
Note 1
قوله
(١) قوله: صالح النبي وَا ليه المشركين يوم الحديبية على ثلاثة أشياء إلخ: قال الشيخ ابن الهمام: ولو حاصر العدوالمسلمين وطلبوا الموادعة على مال يدفعه المسلمون إليهم لا يفعله الإمام؛ لما فيه من إعطاء الدنية أي النقيصة،وليس للمؤمن أن يذل نفسه فالعزة خاصية الإيمان قال تعالى: (وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ) (المنافقون: ٨) إلاإذا خاف الإمام الهلاك على نفسه والمسلمين، فلا بأس.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے
ساتھ مصالحت کی، پس انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو شخص
ہمارے پاس آ جائے ہم اسے تم کو واپس نہیں کریں گے۔ اور ہم میں سے جو تمہارے پاس آ جائے تو
تم اسے ہم کو واپس کر دیں گے۔ پس صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ لکھیں۔ آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ بے شک ہم میں سے جو شخص ان کی طرف چلے جائے تو اللہ تعالیٰ
اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا اور ان میں سے جو شخص ہمارے پاس آ جائے تو عنقریب اللہ اس کے
لئے کشادگی اور کوئی راہ پیدا کر دے گا۔ (مسلم)۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ذوالقعدہ میں عمرہ کے لئے تشریف لے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں
دیا، یہاں تک کہ آپ نے ان کے ساتھ اس بات پر مصالحت فرمائی کہ آپ داخل ہوں گے یعنی
آئندہ سال، وہاں تین دن قیام فرمائیں گے۔ پس جب انہوں نے صلح نامہ لکھا تو انہوں نے (اس
طرح) تحریر کیا، یہ وہ (صلح) ہے جس پر محمد رسول اللہ نے صلح کی ہے تو انہوں (یعنی کفار) نے کہا: ہم
اس کا اقرار نہیں کرتے کیونکہ اگر ہم یقین کرتے اور جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہم آپ کو
روکتے نہیں تھے، لیکن آپ محمد بن عبداللہ ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رسول اللہ ہوں
اور میں محمد بن عبداللہ ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
(لفظ) رسول اللہ کو میٹ دو، انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں کبھی بھی نہیں میٹوں گا تو اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم نے (قلم) لیا اور آپ خوب نہیں لکھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا یہ وہ
(صلح) ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہتھیار لے کر داخل
نہیں ہوں گے سوائے تلوار کے جو میان میں ہو۔ اور یہ کہ اس شہر مکہ کے باشندوں میں سے اگر کوئی
شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنا چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لے کر نہیں جائیں
گے اور یہ کہ آپ اپنے صحابہ میں سے کسی کو نہیں روکیں گے اگر وہ اس میں رہنا چاہے۔ پس جب آپ
صلی اللہ علیہ وسلم اس میں (مکہ میں) داخل ہوئے اور مدت ختم ہوگئی تو وہ لوگ علی رضی اللہ عنہ کے پاس
آئے اور کہا آپ اپنے صاحب سے کہئے کہ آپ ہمارے پاس سے چلے جائیں۔ پس مدت مقررہ گزر
چکی ہے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس تشریف لے گئے۔ (متفق علیہ)۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عورتوں کی بیعت کے بارے
میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی بنا پر ان کا امتحان لیتے تھے:
”اے پیغمبر! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں اس غرض سے آئیں کہ وہ تم سے بیعت
کریں“۔ (65۔ سورۂ ممتحنہ، آیت نمبر:12)۔
پس ان میں سے جو کوئی اس شرط کا اقرار کرتی تو اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ میں
تم سے بیعت لے لیا، وہ کلام کے ذریعہ ہوتا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے، خدا کی قسم آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک بیعت میں کبھی بھی کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں ہوا۔ (بخاری و
مسلم)۔
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے چند
عورتوں کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا:
ان چیزوں میں میں جن کی تم استطاعت اور طاقت رکھتی ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے
رسول ہم پر ہمارے اپنے جانوں پر مہربان ہونے سے زیادہ مہربان ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ آپ ہم سے بیعت لیجئے، یعنی آپ ہم سے مصافحہ کیجئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری
سو عورتوں کے لئے وہی بات ہے جو ایک عورت کے لئے ہے۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، امام مالک
نے اس کو موطا میں روایت کیا ہے اور ترمذی نے کہا: حدیث حسن صحیح ہے)۔
مسور رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہ اور مروان سے روایت ہے کہ انہوں نے (یعنی کفار
نے) دس سال تک جنگ نہ کرنے کی صلح کی 9 جس میں لوگ امن سے رہیں گے اور اس شرط پر
کہ یہ ہمارے درمیان بند صندوق کی طرح محفوظ معاہدہ ہے اور یہ کہ تلوار بے نیام کی جائے گی اور نہ
زرہ بکتر پہنی جائے گی۔ (ابوداؤد)۔
امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ابواب قصہ الحدیبیہ میں عروہ بن زبیر اور موسیٰ بن
عقبہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور انہوں نے اس قصہ کا ذکر کیا اور اس کے آخر میں ہے کہ صلح رسول
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 2766 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
They agreed to cease war for ten years…
(1) The statement: “They agreed to cease war for ten years…”: Ibn al-Humam said: The treaty’s duration is not limited to ten years, as its permissibility is based on Muslims’ need or benefit. If the treaty or duration is not in Muslims’ interest, it is impermissible, as it abandons jihad in form and meaning. Jihad is only permitted if it benefits Muslims; otherwise, it neglects the command. This refutes some scholars’ prohibition of exceeding ten years if the leader is not dominant, as Shafi‘i said. We say: There is no limit; the duration is at the leader’s discretion and the situation’s need. As in (Al-Mirqat).
Note 1
قوله
(١)قوله: إنهم اصطلحوا على وضع الحرب عشر سنين إلخ: قال الشيخ ابن الهمام: لا يقتصر جواز مدة الموادعة علىالمدة المذكورة، وهي عشر سنين؛ لأن ما علل جوازها به هو حاجة المسلمين أو ثبوت مصلحتهم؛ فإنه قد يكونبأكثر بخلاف ما إذا لم تكن الموادعة أو المدة المسماة خيرا للمسلمين؛ فإنه لا يجوز؛ لأنه ترك للجهاد صورةومعنى، وما أبيح إلا باعتبار أنه جهاد، وذلك إنما يتحقق إذا كان خيرا للمسلمين وإلا فهو ترك للمأمور به، وبهذايندفع ما نقل عن بعض العلماء من منعه أكثر من عشر سنين، وإن كان الإمام غير مستظهر، وهو قول الشافعي،ولذلك قلنا: لا حد لها، وإن تقدير مدتها موكول إلى رأي الإمام واقتضاء الحال. كذا في (المرقاة).
Note 1
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان دو سال کے لئے تھی اور صاحب عنایہ نے کہا بیان کردہ
مدت جو دس سال ہے ان مقررہ چیزوں میں سے ہے جو زیادتی اور نقصان کے لئے مانع نہیں۔ کیونکہ
صلح کی مدت مصلحت کے ساتھ چلتی ہے اور وہ کبھی زیادہ ہوتی ہے اور کبھی کم ہوتی ہے۔
صفوان بن سلیم، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صاحبزادوں سے اور
وہ اپنے آباء سے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: خبردار جو
کسی معاہد (جس سے معاہدہ کیا گیا ہو) پر ظلم کرے یا اس کی بے عزتی کرے یا اس کی طاقت سے
زیادہ اس سے کام لے یا بغیر خوشدلی کے اس سے کوئی چیز لے تو میں قیامت کے دن اس کا دعویدار
ہوں (ابوداؤد)۔
Commentary and footnotes (14)
Note 1
(1) The statement: “Marked them”: Shafi‘i permits marking, while Abu Hanifah considers it disliked, though permissible per Abu Yusuf and Muhammad, whose view is preferred. At-Tahawi said: Abu Hanifah disliked excessive marking by commoners and Bedouins that risks death, not marking itself, as chosen in (Ghayat al-Bayan) and confirmed in (Fath al-Qadir). As in (Al-Hidayah) and (Bahr ar-Ra’iq).
Note 2
(2) The statement: “This is what Muhammad, the Messenger of Allah, has agreed upon”: Meaning a treaty, as (Al-Hidayah) states: If the leader sees benefit for Muslims in making a treaty with the enemy or a group, it is permissible.
Note 3
(3) The statement: “That no man from us comes to you”: Ibn al-Humam said: If they stipulate returning Muslims, the condition is void, and we do not return them, per Abu Hanifah and Malik. Shafi‘i says men must be returned, not women, as done at Hudaybiyyah. Women are not returned by consensus, per: “If you know them to be believers, do not return them to the disbelievers” [Qur’an 60:10]. This abrogates returning men too, as there is no difference, and returning Muslims is more harmful. As in (Al-Mirqat).
Note 4
(4) The statement: “From us, a man”: The treaty did not include returning women, as it specifies “a man.” As in (Al-Mirqat).
Note 5
(5) The statement: “Rise, slaughter, then shave”: This shows unblocking requires sacrifice in the sanctuary per Hanafis, as the Prophet (ﷺ) slaughtered at Hudaybiyyah within the sanctuary, per: “If you are prevented, offer what is easy of sacrificial animals, and do not shave your heads until the offering reaches its place” [Qur’an 2:196], and “An offering reaching the Ka‘bah” [Qur’an 5:95], meaning its sanctuary. At-Tahawi’s Hadith confirms his tent was in the non-sacred area, his prayer place in the sanctuary. In (An-Nihayah), Hudaybiyyah is partly in the sanctuary, per Al-Waqidi, aligning with Abu Hanifah. Al-Muhib at-Tabari said Hudaybiyyah is mostly in the sanctuary, nine miles from Makkah, not contradicting Bukhari’s statement that it is outside. As in (Al-Mirqat) and (Sharh Ma‘ani al-Athar). Dowry repayment’s obligation or recommendation is disputed. Some say it is abrogated, per Ata, Mujahid, and Qatadah. Others, including Hanafis, Malik, and Ahmad, say it is not; Shafi‘i has two views. As in (Al-Mirqat) and (Fath al-Qadir).
Note 6
(6) The statement: “His tent was in the non-sacred area, and his prayer place was in the sanctuary”: At-Tahawi said this proves the Prophet (ﷺ) was not barred from the sanctuary and could access part of it. No scholar permits slaughtering outside the sanctuary if one can enter it. Thus, the Prophet (ﷺ) did not slaughter outside, as slaughtering outside is only allowed when barred, not when access is possible. This is the view of Abu Hanifah, Abu Yusuf, and Muhammad.
Note 1
(١) قوله: وأشعروا: عليه الشافعي، وهو مكروه عن أبي حنيفة حسن عندهما، والفتوى على قولهما. وقال الطحاوي:إنما كره أبو حنيفة الإشعار المحدَث الذي يفعل عوام زمانه والأعراب على وجه المبالغة، ويخاف منه السراية إلىالموت، لا مطلق الإشعار، واختاره في(غاية البيان) وصححه. وفي (فتح القدير): أنه الأولى، هذا حاصل ما في(الهداية) و(البحر الرائق).
Note 2
(٢) قوله: هذا ما قاضى عليه محمد رسول اللّٰه إلخ: أي صالح، لذلك قال في (الهداية): وإذا رأى الإمام أن يصالح أهلالحرب أو فريقا منهم، وكان في ذلك مصلحة للمسلمين فلا بأس به.
Note 3
(٣) قوله: وعلى أن لا يأتيك منا رجل : وإن كان على دينك إلا رددته علينا. قال الشيخ ابن الهمام: ولو شرطوا فيالصلح أن يرد إليهم من جاء مسلما منهم بطل الشرط، فلا يجب الوفاء به، فلا يرد عندنا من جاءنا مسلما منه، وهو قول مالك. وقال الشافعي: يجب الوفاء بالرجال دون النساء؛ لأنه صلي الله عليه واله وسلم فعل ذلك في الحديبية، وأما لو شرط مثله فيالنساء لا يجوز ردهن إجماعا. قلنا: قال تعالى:(فَإِنْ عَلْمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ (الممتحنه١٠). وهذا هو دليل النسخ في حق الرجال أيضًا؛ إذ لا فرق بين الرجال والنساء في ذلك، بل مفسدة ردّ المسلم إليهمأكثر. كذا في (المرقاة).
Note 4
(٤) قوله: منا رجل: فيه أن الصلح لم يقع على ردّ النساء؛ لقوله: في هذا الحديث لا يأتيك منا رجل. كذا في (المرقاة).
Note 5
(٥) قوله: قوموا فانخروا ثم احلقوا: فيه أن الإحلال نسك على المحصر وإن له نحر هديه بالحرم عندنا؛ لأن الموضعالذي نحر وافيه بالحديبية من الحرم بدليل قوله تعالى: (فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْيِّ وَلَا تَجْلِقُواْ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰيَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّةُ) (البقرة: ١٩٦). وقد قال تعالى: (هَدْيًا بَلِغَ الْكَعْبَةِ) (المائدة: ٩٥) أي حرمها، ويؤيدهحديث الطحاوي: أن رسول اللّٰه صلي الله عليه واله وسلم كان بالحديبية خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم. وفي (النهاية): الحديبية قريةإليها ينتهي حد الحرم، ومن ذلك الصوب، وهي من الحل، وبعضها من الحرم على ما ذكره الواقدي، وهو الموافقلمذهب أبي حنيفة. وقد قال المحب الطبري: الحديبية قرية قريبة من مكة أكثرها في الحرم، وهي على تسعة أميال من مكة، وهو لا ينافي ما في (صحيح البخاري) أن الحديبية خارج الحرم. أخذته من (المرقاة) و (شرح معاني الآثار) وأمرهم أن يروا الصداق، ولا شك في انفساخ نكاحها، اختلف القول في أن ردّ المهر كان واجبًا أو مندوبًا.واختلفوا في أنه هل يجب العمل به اليوم في رد المال إذا شرط في معاقدة الكفار، فقال قوم: لا يجب، وزعموا أن الآيةمنسوخة، وهو قول عطاء ومجاهد وقتادة. وقال قوم: هي غير منسوخة للشافعي فيه قولان في قول لا يعطان، وهوقولنا وقول مالك وأحمد، وفي قول يعطاه. التقطته من (المرقاة) و(فتح القدير).
Note 6
(٦) قوله: خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم: وقال الطحاوي: فثبنت بما ذكرنا أن النبي صلي الله عليه واله وسلم لم يكن صد عن الحرم، وأنهكان يصل إلى بعضه، ولا يجوز في قول أحد من العلماء لمن قدر على دخول شيء من الحرم أن ينحر هديه دون الحرم، فلماثبت بالحديث الذي ذكرنا: أن النبي صلي الله عليه واله وسلم كان يصل إلى بعض الحرم استحال أن يكون نحر الهدي في غير الحرم؛ لأنالذي يبح نحر الهدى في غير الحرم إنما يبيحه في حال الصد عن الحرم، لا في حال القدرة على دخوله فانتفى بما ذكرنا أنيكون النبي صلي الله عليه واله وسلم نحر الهدي في غير الحرم. وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد.
Note 1
2 قولہ: هذا ما قاضى عليه محمد رسول الله الخ (یہ وہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول ﷺ نے مصالحت کی) صاحب ہدایہ نے کہا اور جب دار الحرب کے باشندوں کے ساتھ یا ان کے کسی گروہ کے ساتھ امام صلح کرنا مناسب سمجھے اور اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 3 قولہ: و على ان لا ياتيك منا رجل و ان كان على دينك۔ ”اور اس شرط پر کہ ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے پاس نہیں آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو مگر ضرور آپ اس کو ہماری طرف لوٹا دیں گے“، شیخ ابن ہمام نے کہا: اور اگر وہ لوگ صلح میں یہ شرط لگائیں کہ ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر آ جائے اس کو ان کے حوالے کر دیا جائے تو شرط باطل ہوگی اور اس کو پورا کرنا واجب نہیں ہوگا۔ پس ہم حنفیہ کے نزدیک ان میں سے جو شخص مسلمان ہو کر، ہمارے پاس آ جائے اس کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ اور یہی امام مالک کا قول ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: مردوں سے متعلق شرط کو پورا کرنا واجب ہے، عورتوں سے متعلق پورا کرنا نہیں ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں ایسا ہی کیا، البتہ اگر ایسی شرط عورتوں کے بارے میں لگائی جائے تو ان کو واپس بھیج دینا بالاتفاق جائز نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ“۔ ”تو اگر تم کو معلوم ہو جائے کہ وہ ایمان والی ہیں تو ان کو کافروں کے پاس واپس نہ لوٹاؤ“۔ (65-سورہ ممتحنہ، آیت نمبر:10)۔ اور یہ مردوں کے حق میں بھی نفی کی دلیل ہے کیونکہ اس سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ مسلمان مرد کو ان کی طرف واپس بھیجنے کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ (مرقات)۔ 4 قوله: منا رجل ”ہم میں سے کوئی مرد“ اس میں یہ دلیل ہے ہے کہ عورتوں کو واپس کرنے پر صلح واقع نہیں ہوئی، اس لئے کہ اس حدیث میں ”لاياتيك منا رجل“ ”ہم میں سے کوئی مرد آپ کے پاس نہیں آئے گا“ وارد ہوا ہے۔ (مرقاۃ)۔ 5 ”قوله: قوموا فانحروا ثم احلقوا فيه الخ“ ”اٹھو پس قربانی دو پھر حلق کرو“ اس میں یہ مسئلہ ہے کہ احرام کھولنے کے لئے محصر پر قربانی واجب ہے اور یہ کہ اس کے لئے اپنی قربانی کا جانور حرم میں ذبح کرنا ہے، کیونکہ ہمارے پاس حدیبیہ کی وہ جگہ جس میں انہوں نے قربانی دی حرم میں داخل ہے، جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: ”فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ“۔ ”پھر اگر تم راستہ میں] روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کر دو اور جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے اپنے سر نہ منڈاؤ“۔ (2۔ سورۃ البقرۃ، آیت نمبر:196) و نیز اللہ تعالیٰ کا یہ قول: ”هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ“۔ ”یہ قربانی کعبہ تک پہنچائی جائے“۔ (5۔ سورۃ المائدۃ، آیت نمبر:95) یعنی اس کے حرم تک اور اس کی تائید طحاوی کی یہ حدیث کرتی ہے کہ حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ حل میں تھا، اور آپ کے نماز پڑھنے کی جگہ حرم میں تھی اور نہایہ میں ہے حدیبیہ وہ بستی ہے جہاں حرم کی حد اس سمت ختم ہوتی ہے اور یہ ”حل“ کا حصہ ہے اور اس کا بعض حصہ حرم سے ہے جیسا کہ واقدی نے اس کو ذکر کیا ہے اور یہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کے موافق ہے اور محب طبری نے کہا: حدیبیہ مکہ کے قریب ایک بستی ہے جس کا اکثر حصہ حرم میں داخل ہے اور وہ مکہ سے نو میل کی مسافت پر ہے۔ اور یہ اس بات کے خلاف نہیں ہے جو صحیح بخاری میں ہے کہ حدیبیہ حرم کے باہر ہے۔ (ماخوذ از مرقاۃ، شرح معانی الآثار)۔ 6 قولہ: و امرهم ان يردوا الصداق ”اور اس نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ مہر واپس کر دیں“ اور اس عورت کا نکاح فسخ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا مہر کا واپس کرنا واجب تھا یا مستحب۔ اور اس بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا آج بھی مال (مہر) کو واپس کرنا واجب العمل ہے، جب کفار کے معاہدہ میں اس کی شرط لگائی جائے۔ چنانچہ ایک جماعت نے کہا واجب نہیں ہے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ آیت منسوخ ہے اور یہ عطاء اور مجاہد اور قتادہ کا قول ہے۔ اور ایک جماعت نے کہا وہ منسوخ نہیں ہے، امام شافعیؒ کے اس میں دو قول ہیں۔ ایک قول میں ہے کہ وہ اس کو نہیں دیا جائے گا اور یہ ہمارا، امام مالک کا اور امام احمد کا قول ہے اور ایک قول میں ہے کہ وہ اس کو دے دیا جائے گا۔ (ماخوذ از مرقاۃ و فتح القدیر)۔ 7 (1) قوله : خباءه فى الحل و مصلاه فى الحرم الخ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ حل میں اور آپ کا مصلی حرم میں تھا“ اور امام طحاوی نے فرمایا: پس ہم نے جو ذکر کیا ہے اس سے یہ ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے باہر روکے نہیں گئے تھے اور آپ حرم کے ایک حصے میں پہنچ گئے تھے اور کسی بھی عالم کے قول میں اس شخص کے لئے جو حرم کے کسی حصے میں داخل ہونے کی قدرت رکھتا ہے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے قربانی کے جانور کو حرم کے باہر ذبح کرے۔ پس جب اس حدیث سے جسے ہم نے ذکر کیا یہ ثابت ہوگیا کہ حرم کے ایک حصے تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہو رہی تھی تو آپ کا قربانی کے جانور کو غیر حرم میں ذبح کرنا محال ہے کیونکہ جو لوگ غیر حرم میں قربانی کے جانور کے ذبح کو جائز قرار دیتے ہیں وہ صرف حرم سے روک دیئے جانے کی حالت میں اس کو جائز قرار دیتے ہیں اس میں داخل ہونے کی قدرت کی حالت میں نہیں۔ پس ہم نے جو بیان کیا ہے اس سے اس بات کی نفی ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے باہر قربانی کے جانور کو ذبح کئے اور امام ابوحنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کا قول ہے۔ 8 قوله: صالح النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم الحديبية على ثلاثة اشياء الخ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے دن مشرکین سے تین چیزوں پر مصالحت فرمائی“۔ شیخ ابن ہمامؒ نے کہا: اگر دشمن مسلمانوں کا محاصرہ کر لیں اور مال پر صلح کرنے کا مطالبہ کریں کہ جس کو مسلمان انہیں ادا کریں تو امام اس طرح کی صلح نہیں کرے گا، کیونکہ اس میں ایک قسم کی ذلت ہے اور مومن کے لئے اپنے آپ کو ذلیل کرنا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ عزت ایمان کی خاصیت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ”وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ“ (63۔ سورۃ المنافقون، آیت نمبر:8) مگر جب امام اپنے آپ پر اور مسلمانوں پر ہلاکت کا اندیشہ کرے تو ایسی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Note 2
اور تفسیر مدارک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”وَسْئَلُوا مَا أَنْفَقْتُمْ“۔ (65۔ سورۃ ممتحنہ، آیت نمبر:10) ”اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہے وہ ان سے طلب کرلو“ کے بارے میں ہے کہ وہ منسوخ ہے، پس مہر کا مطالبہ باقی نہ رہا نہ ہم سے اور نہ ان سے اور ہمارے علماء نے کہا: جہاں تک اس صلح کی بات ہے جو (حدیبیہ کے) کے قصہ میں مشرکین کے ساتھ اس بات پر واقع ہوئی کہ ان کو وہ شخص واپس کر دیا جائے گا جو ان کے پاس سے مسلمان ہو کر مسلمانوں کے ملک کو آجائے تو وہ ہمارے پاس منسوخ ہے اور اس کی ناسخ یہ حدیث ہے: ”انا بريء من كل مسلم بين مشركين“ ”میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان میں ہے“