ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طہارت اور وضوء نصف ایمان ہے اور الحمدللہ کا ثواب میزان عمل کو بھر دیتا ہے
اور دونوں کلمے ”سُبْحَانَ اللّٰهِ“ اور ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کا ثواب یا فرمایا ان میں سے ہر ایک کلمہ کا ثواب
آسمان اور زمین کی درمیانی وسعت کو بھر دیتا ہے اور نماز نور ہے اور خیرات (ایمان کی صداقت پر)
دلیل ہے اور صبر روشنی ہے (یعنی گناہوں سے باز رہنا، طاعتوں پر مستعد رہنا اور مصیبتوں پر جزع و
فزع نہ کرنا، یہ سب قبر میں روشنی کا سبب ہیں) اور قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے یا تمہارے خلاف
حجت ہے (یعنی اگر قرآن پر عمل کیا ہے تو وہ نفع دے گا اور عمل نہیں کیا ہے تو وہ نقصان پہنچائے گا اور
جھگڑے گا) اور ہر شخص صبح کرتا ہے تو اپنے نفس کو بیچ ڈالتا ہے، اب اس کو آزاد کرا دے گا یا اس کو تباہ اور
برباد کر دے گا (یعنی جب صبح ہوتی ہے تو عمل کے اعتبار سے انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں، اگر اس
نے اچھے عمل کئے تو اپنے کو عذاب سے محفوظ کر لیا ورنہ برے اعمال کر کے اپنے کو ہلاک کر ڈالا)۔
(مسلم نے اس کی روایت کی ہے۔)
اور ایک اور روایت میں ہے کہ ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ اور ”اللّٰهُ اَكْبَرُ“ ان دونوں
کلموں کا ثواب آسمان اور زمین کی درمیانی وسعت کو بھر دیتا ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Purification is half of faith
(2) His statement: "Purification is half of faith" — the most apparent explanation is that it is considered half because faith removes both major and minor sins, whereas ablution specifically pertains to the removal of minor sins. Additionally, according to our school of thought, this ablution must also be accompanied by intention for it to become an act of worship that expiates sins. This is as mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
قوله
(۲) قوله: الطهور شطر الإيمان الأظهر أن يقال: إنما كان شطرا له؛ لأن الإيمان يحط الكبائر والصغائر، والوضوء يختص بالصغائر، ولا بد من تقييد هذا الوضوء عندنا أيضًا بالنية؛ ليصير عبادة مكفرا للسيئة. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: طہارت اور وضوء، نصف ایمان ہے، ایمان کا نصف اس لئے ہے کہ ایمان سے کبیرہ اور
صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں اور وضوء سے صرف صغیرہ گناہ دور ہوتے ہیں اور اس وضوء کو احناف کے
نزدیک بھی نیت سے مشروط کرنا ضروری ہے تاکہ وضوء ایسی عبادت قرار پائے جس سے گناہ دور ہوتے
ہوں اور یہ بغیر نیت کے ایسی عبادت نہیں؛ کیونکہ بغیر نیت کا وضوء، عبادت کے لئے صرف وسیلے اور
ذریعہ کا کام دیتا ہے جس سے نماز تو صحیح ہو جاتی ہے مگر ایسے وضوء پر اجر و ثواب نہیں ملتا۔ (از
مرقات)12۔
قبیلہ بنی سلیم کے ایک شخص سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
میرے ہاتھ یا اپنے دست مبارک (کی پانچوں انگلیوں پر ذیل کی ان پانچ باتوں کو) شمار فرمایا اور ارشاد
فرمایا کہ (1) سبحان اللہ کہنے کا ثواب نصف میزان کو اور (2) الحمد للہ پڑھنے کا ثواب پورے میزان کو
بھر دیتا ہے اور (3) اللہ اکبر کہنے کا ثواب آسمان اور زمین کی درمیانی وسعت کو بھر دیتا ہے۔ (4) روزہ
رکھنا نصف صبر ہے (پورا صبر یہ ہے کہ نفس کو طاعتوں پر لگانے اور گناہوں سے بچانے پر روک رکھے
چونکہ روزہ نفس کو طاعتوں پر لگائے رکھتا ہے اس لئے یہ آدھا صبر ہے اور (5) طہارت اور وضوء نصف
ایمان ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل نہ بتاؤں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے اور جس کے
ذریعہ سے درجات بلند فرمائے، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتلائیے، ارشاد
فرمایا: مشقت (یعنی شدت سردی یا تکلیف کے اوقات) میں کامل طور پر وضوء کرنا اور مسجدوں کی
طرف (باوجود دور ہونے کے) بار بار جانا (اور مسجد میں بیٹھے ہوئے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا
انتظار کرنا اور یہی رباط ہے۔)
اور حضرت مالک بن انس کی روایت میں اس طرح ہے اور یہی رباط ہے اس کو دو
مرتبہ فرمایا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور ترمذی کی دوسری روایت میں تین دفعہ کا ذکر ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: سرحد اسلام پر دشمنان دین کے مقابلہ میں نگہبانی کرنے کو رباط کہتے ہیں تا کہ وہ سرحد کو پار
نہ کرلیں اور اس کا بڑا ثواب آیا ہے۔ اسی طرح سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مسجد میں
نماز کے انتظار میں بیٹھنے کو بھی رباط قرار دیا کہ جیسے وہاں کفار کے مقابلہ میں بیٹھتے ہیں یہاں شیطان کے
مقابلہ میں بیٹھنا ہے کہ وہ دین کا کھلا دشمن ہے۔12
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے وضوء کیا، اور اچھی طرح وضوء کیا تو اس کے (صغیرہ) گناہ جسم سے
نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے ناخن کے نیچے سے بھی خارج ہوجاتے ہیں۔ (مسلم نے اس کی
روایت کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ مسلم یا مؤمن وضوء کرتا ہے، اور اپنا چہرہ دھو لیتا ہے تو اس نے اپنی
آنکھوں سے جن گناہوں کی طرف دیکھا تھا وہ تمام گناہ اس کے چہرے سے پانی کے ساتھ یا پانی کے
آخری قطرہ کے ساتھ (بہہ کر) نکل جاتے ہیں اور جب ہاتھ دھوتا ہے تو جن گناہوں کو ہاتھ سے پکڑا
تھا وہ سب گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ (بہہ کر) نکل جاتے ہیں اور جب پاؤں
کو دھوتا ہے تو جن گناہوں کی طرف پاؤں سے چلا تھا وہ تمام گناہ پانی کے ساتھ یا آخری قطرۂ وضوء
کے ساتھ (بہہ کر) نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ بندہ گناہوں سے پاک وصاف ہو جاتا ہے۔ (اس
کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: فرض نماز کا وقت آنے پر جو کوئی مسلمان نماز کے لئے اچھی طرح وضوء کرے اور نماز کو خشوع
کے ساتھ ادا کرے اور رکوع عمدہ طریقے سے کرے تو گناہ کبیرہ کے سوا جس قدر گناہ اس سے قبل اس
سے ہوئے ہیں وہ تمام مٹا دیئے جاتے ہیں اور ایسا ہمیشہ ہوتا رہتا ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی
ہے۔)
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے وضوء کیا تو دونوں ہاتھوں پر
تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر کلی کی اور ناک صاف کیا، پھر چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر سیدھا ہاتھ کہنیوں
سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر بایاں ہاتھ کہنیوں سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح کیا، پھر سیدھا پیر اس
کے بعد بایاں پیر تین تین مرتبہ دھویا، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ
نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء فرمایا تھا (اس کے بعد عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس وضوء کی طرح وضوء کرے اور دو رکعت نماز ادا
کرے اور ان دونوں رکعتوں میں اپنے دل میں وسوسہ نہ لائے (اگر خود بخود وسوسہ آئے تو کچھ مضر
نہیں) تو اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت
کی ہے اور الفاظ حدیث بخاری کے ہیں۔)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اچھی طرح وضوء کر کے دو رکعت نماز دلی توجہ اور خشوع کے ساتھ ادا
کرے گا تو اس کے لئے جنت واجب ہوگی۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی وضوء میں پانی کو اعضاء کی اس مقدار تک پہنچا دے جہاں
تک پہنچانا ضروری ہے، یا یوں فرمایا کہ وضوء میں پورے سنتوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرے، پھر
کہے ”أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهٗ“ تو اس کے لئے جنت
کے آٹھ دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ جس سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔ (مسلم نے
اس کی روایت کی ہے اور ترمذی نے یہ زیادہ کیا ہے: ”اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ
الْمُتَطَهِّرِينَ“۔ (خدایا تو مجھے توبہ کرنے والوں اور خوب پاک و صاف رہنے والوں میں بنا دے۔)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضوء کرے اور وضوء سے فارغ ہونے کے بعد کہے ”سُبْحَانَكَ
کاغذ میں لکھ لیا جاتا ہے، پھر مہر کر دی جاتی ہے اور قیامت تک مہر نہیں توڑی جاتی۔ (اس کی روایت
نسائی اور حاکم نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He said after completing it...
(1) His statement: "He said after completing it..." It is mentioned in Sharh al-Munya al-Kabir (Commentary on "al-Munya"): One of the etiquettes of ablution is to say after completing it:
"Glory and praise be to You, O Allah. I bear witness that there is no deity except You, alone without any partner. I seek Your forgiveness and repent to You. And I bear witness that Muhammad is Your servant and Messenger," while looking towards the sky.
Additionally, it is recommended to say upon completing or during the ablution:
"O Allah, make me among those who repent often, and make me among those who purify themselves, and make me among Your righteous servants upon whom there shall be no fear, nor shall they grieve."
However, it is stated in al-Hilah that what has been authentically transmitted from the Sunnah is the recitation of the aforementioned supplication (of the two testimonies of faith) immediately after ablution.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقال بعد فراغه إلخ وقال في شرح المنية الكبيري: من آداب الوضوء أن يقول بعد فراغه: «سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك، أستغفرك وأتوب إليك، وأشهد أن محمدا عبدك ورسولك ناظرا إلى السماء، وأن يقال عند تمامه أو في خلاله: «اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين واجعلني من عبادك الصالحين، الذين لا خوف عليهم ولا هم يحزنون». لكن قال في «الحيلة»: إن الوارد في السنة بعده متصلا بما تقدم من ذكر الشهادتين.
Note 1
ف: ”منية المصلى“ کی شرح کبیر میں لکھا ہے کہ مستحبات وضوء سے یہ ہے کہ وضوء کرنے
والا وضوء سے فارغ ہونے کے بعد ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ
وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَ أَتُوْبُ إِلَيْكَ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ
وَرَسُوْلُهٗ“ ترجمہ: اے اللہ! آپ پاک ہیں، سب تعریف آپ ہی کے لئے ہے، میں گواہی دیتا ہوں
کہ آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، آپ یکتا ہیں اور آپ کا کوئی شریک نہیں، میں آپ سے
گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور سب گناہوں سے توبہ کرتا ہوں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں۔
(یہ دعاء) آسمان کی جانب نگاہ اٹھا کر پڑھے اور اس دعاء کے ختم پر یا درمیان میں ”اللّٰهُمَّ
اجْعَلْنِيْ مِنَ التَّوَّابِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنَ الْمُتَطَهِّرِيْنَ وَاجْعَلْنِيْ مِنْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ الَّذِيْنَ
لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ“ پڑھے (جس کا ترجمہ یہ ہے) اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں
میں سے بنائیے اور خوب پاک و صاف رہنے والوں میں سے بنائیے اور مجھے آپ کے ان صالح بندوں
میں سے بنائے جن کو مرنے کے بعد پیش آنے والی چیزوں سے خوف نہ ہوگا اور نہ دنیا کے چھوٹ جانے
پر غم لیکن حلیہ میں لکھا ہے کہ وضوء کے ختم پر یہی ذکر اصل دو شہادتین ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ
وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ کے بعد ”اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي“ سے لے کر ”وَلَا هُمْ
يَحْزَنُونَ“ والی دعاء بھی پڑھے۔12
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جس نے وضوء کیا اور اچھی طرح وضوء کیا اور پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور کہا ”أَشْهَدُ أَنْ لَا
إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ“ تو اس کے لئے
جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ جس میں سے چاہے وہ داخل ہو جائے۔ (اس کی
روایت نسائی نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کو قیامت کے دن اعضائے وضوء کے منور ہونے کی وجہ سے، ”غُرًّا
مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ“ اے روشن پیشانی والو! اے روشن ہاتھ پیر والو! کہہ کر پکارا جائے گا،
پس تم میں سے جو شخص اپنے اس وضوء کے نور کو بڑھا سکتا ہے تو بڑھائے۔ (بخاری اور مسلم نے
بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 136 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 246b (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
to prolong the radiance of the face and limbs,
(1) Regarding the statement: "to prolong the radiance of the face and limbs," in the commentary of "Radd al-Muhtar," it is mentioned that it is an etiquette of ablution to prolong the radiance (ghurra) and brightness (tahjil). In "al-Bahr," it is explained that prolonging the radiance refers to increasing beyond the defined limit. In "al-Hilya," it is noted that tahjil applies to the hands and feet. There is no fixed limit mentioned by our scholars. Al-Nawawi reported a difference of opinion among the Shafi'iyyah on this matter, with three views:
It is recommended to extend beyond the elbows and ankles without specific time constraints.
To extend up to the middle of the forearm and shin.
To extend up to the shoulders and knees.
Al-Nawawi concluded that the hadiths support all of these views. The second opinion was also mentioned by al-Tahawi in "Sharh al-Shar'iah," who restricted it to this view.
Note 1
قوله
(۱) قوله : أن يطيل غرته وقال في رد المحتار: من آداب الوضوء إطالة غرته وتحجيله. وفي «البحر»: إطالة الغرة تكون بالزيادة على الحد المحدود. وفي الحلية»: والتحجيل يكون في اليدين والرجلين، وهل له حد؟ لم أقف فيه على شيء لأصحابنا، ونقل النووي اختلاف الشافعية فيه على ثلاثة أقوال الأول: أنه يستحب الزيادة فوق المرفقين والكعبين بلا توقيت الثاني: إلى نصف العضد والساق الثالث: إلى المنكب والركبتين. قال: والأحاديث تقتضني ذلك كله. اهـ ونقل الطحاوي الثاني عن شرح الشرعة مقتصرا عليه.
Note 1
ف: رَدُّالْمُحْتَار میں لکھا ہے کہ آداب وضوء سے یہ ہے کہ اپنی پیشانی اور ہاتھ اور پیر کے نور کو
بڑھایا جائے اور البحر میں لکھا ہے کہ اس نور کے بڑھانے کی صورت یہ ہے کہ وضوء میں ہاتھ اور پیر کے
دھونے کی جو حد (یعنی مقدار) مقرر ہے اس سے اضافہ کیا جائے اور حلیہ میں لکھا ہے کہ تحجیل (یعنی ہاتھ اور
پیر کے نور کی حد کے متعلق ہمارے احناف سے کوئی صراحت منقول نہیں ہے، البتہ امام نووی نے لکھا ہے
کہ اس مسئلہ میں شوافع کے تین قول ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ کہنی اور ٹخنوں سے بڑھا کر دھونا مستحب ہے لیکن
اس کی حد مقرر نہیں، دوسرا قول یہ ہے کہ کہنی سے بڑھا کر نصف مونڈھے تک اور پاؤں میں نصف پنڈلی تک
دھوئے، تیسرا قول یہ ہے کہ ہاتھ کندھے تک اور پیر گھٹنوں تک دھوئے، آخر میں امام نووی نے کہا ہے کہ
احادیث سے یہ تمام احکام نکلتے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا زیور (بروز قیامت) وہاں تک ہوگا جہاں تک اس کے وضوء کا پانی پہنچا
ہوگا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اعمال خیر کے ہمیشہ پابند رہو (اور راہ راست سے مت ہٹو) اور تم ہرگز ایسا نہ کرسکو گے (کیوں
کہ اعمال خیر کی پابندی اور راہ راست پر استقامت بہت مشکل ہے) اور یقین رکھو کہ تمہارے سب
اعمال میں سب سے بہترین عمل نماز ہے اور وضوء کی محافظت صرف مومن ہی کرسکتا ہے۔ (اس کی
روایت امام مالک، امام احمد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضوء کے ہوتے ہوئے دوبارہ وضوء کیا تو اس کے لئے دس نیکیاں لکھی
جائیں گی۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 59 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Whoever performs ablution while in a state of purity
(2) The statement "Whoever performs ablution while in a state of purity" refers to the practice of performing wudu while already being in a state of wudu. It is considered an act of virtue to renew one's ablution while still in a state of wudu. This is mentioned in Al-Maniya. In Rad al-Muhtar, it is explained that the recommended act of renewing wudu applies after performing a prayer or engaging in any other action that necessitates purity, such as performing the prostration of recitation or touching the Qur'an. This is also noted in Al-Shar'ah and Al-Quniyah.
Note 2
قوله
(۲) قوله: من توضأ على طهر إلخ ومن الآداب أن يتوضأ على الوضوء. قاله في المنية». وقال في رد المحتار»: وإنما يستحب الوضوء، إذا صلى بالوضوء الأول صلاة، أو عمل عملا مما هو المقصود من شرعيته، كسجدة التلاوة ومس المصحف. كذا في «الشرعة» و«القنية».
Note 1
ف: مستحبات وضو سے یہ ہے کہ باوضو ہونے کے باوجود دوبارہ وضو کر لے، یہ منیۃ المصلی
میں مذکور ہے اور ردالمحتار میں لکھا ہے کہ دوبارہ وضو کرنا اس وقت مستحب ہے کہ پہلے وضو سے نماز پڑھی
ہو یا کوئی ایسا عمل کیا ہو جس کا شارع عبادت مقصودہ میں ہے جیسے سجدۂ تلاوت اور مسِ مصحف وغیرہ، یہ
مضمون شرعۃ اور قنیہ سے ماخوذ ہے تو اس قسم کا عمل کئے بغیر وضو پر وضو کرنا مستحب نہیں ہوگا۔12
عبداللہ ضنابجی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندۂ مومن وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ کے گناہ منہ سے نکل
جاتے ہیں اور جب ناک چھینکتا ہے تو اس کی ناک سے ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، اور جب اپنا چہرہ
دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے چہرے کے گناہ نکل جاتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی دونوں آنکھوں کی
پلکوں کے نیچے سے گناہ جھڑ جاتے اور جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں سے ہاتھوں
کے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کے ہاتھوں کے ناخن کے نیچے سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور جب
سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتی کہ اس کے دونوں کانوں کے گناہ جھڑ جاتے
ہیں اور جب اپنے دونوں پیروں کو دھوتا ہے تو اس کے پیروں سے دونوں پیروں کے گناہ نکل جاتے
ہیں حتی کہ اس کے پیروں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ جھڑنے لگتے ہیں، پھر اس کے مسجد کی طرف
چلنے اور نماز پڑھنے کا ثواب اس کے علاوہ رہا۔(امام مالک نے اس کی روایت بطور ارسال کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے اور فرمایا:(السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ
سلام ہو تم پر اے مسلمانوں کی جماعت! یقیناً ہم تم سے ملنے والے ہیں ان شاء اللہ۔ (اس کے بعد پھر
فرمایا) مجھے آرزو تھی کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھتے، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہم آپ
کے بھائی نہیں ہیں؟ ارشاد ہوا: تم میرے صحابہ ہو، اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں پیدا ہوئے ہیں،
صحابہ نے عرض کیا کہ آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے ہیں:
ارشاد ہوا کہ تم بتلاؤ کہ کسی شخص کے ایسے گھوڑے ہوں جن کی پیشانیاں اور ہاتھ پیر سفید ہوں اور وہ سیاہ گھوڑوں
میں مل جائیں تو کیا وہ شخص اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچان لے گا، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!
وہ ضرور پہچان لے گا۔
ارشاد ہوا: میری امت (قیامت میں) وضوء کے نور کی وجہ سے روشن چہرے اور چمکدار ہاتھ پیر
کے ساتھ آئے گی (اس علامت سے میں ان کو پہچان لوں گا) اور میں حوضِ کوثر پر ان سے پہلے پہنچ
جاؤں گا اور ان کے راحت اور آرام کا سامان مہیا کرتا رہوں گا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت ہوگی اور سب سے پہلے
سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت بھی مجھے ہوگی، پس میں اپنے روبرو دیکھوں گا اور اپنی امت کو تمام
امتوں میں پہچان لوں گا، میں اپنے پیچھے دائیں اور بائیں بھی اسی طرح اپنی امت کو پہچان لوں گا۔
ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر آپ
کے زمانہ تک کی درمیانی امتوں میں اپنی امت کو کیسے پہچان سکیں گے؟ ارشاد فرمایا: میری امت وضوء
کے نور کی وجہ سے روشن ہاتھ پیر والی ہوگی اور یہ بات کسی اور میں نہ ہوگی اور ان کو اس وجہ سے بھی
پہچان لوں گا کہ ان کو نامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس
امت کی خصوصیت ہے کہ ان کو سب سے پہلے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا، یا ان کو اعمال
نامہ دینے کی کوئی خاص صفت ہوگی اور اس وجہ سے بھی پہچان لوں گا کہ ان کے چھوٹے بچے (جو چھوٹی
عمر میں انتقال کر گئے ہیں ان کی مغفرت کی کوشش میں) ان کے آگے دوڑتے ہوں گے۔ (اس کی
روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) His statement: "Purification is half of faith" — the most apparent explanation is that it is considered half because faith removes both major and minor sins, whereas ablution specifically pertains to the removal of minor sins. Additionally, according to our school of thought, this ablution must also be accompanied by intention for it to become an act of worship that expiates sins. This is as mentioned in Al-Mirqat.
Note 2
(۲) قوله: الطهور شطر الإيمان الأظهر أن يقال: إنما كان شطرا له؛ لأن الإيمان يحط الكبائر والصغائر، والوضوء يختص بالصغائر، ولا بد من تقييد هذا الوضوء عندنا أيضًا بالنية؛ ليصير عبادة مكفرا للسيئة. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: طہارت اور وضوء، نصف ایمان ہے، ایمان کا نصف اس لئے ہے کہ ایمان سے کبیرہ اور صغیرہ گناہ مٹ جاتے ہیں اور وضوء سے صرف صغیرہ گناہ دور ہوتے ہیں اور اس وضوء کو احناف کے نزدیک بھی نیت سے مشروط کرنا ضروری ہے تاکہ وضوء ایسی عبادت قرار پائے جس سے گناہ دور ہوتے ہوں اور یہ بغیر نیت کے ایسی عبادت نہیں؛ کیونکہ بغیر نیت کا وضوء، عبادت کے لئے صرف وسیلے اور ذریعہ کا کام دیتا ہے جس سے نماز تو صحیح ہو جاتی ہے مگر ایسے وضوء پر اجر و ثواب نہیں ملتا۔ (از مرقات)12۔