اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 971
عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے متعلق فکر لاحق ہوئی یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال کیا چند
لوگوں کو مامور کر دیں کہ وہ اٹھیں اور ٹیلوں پر چڑھ جائیں اور لوگوں کو نماز کیلئے اشارہ کر کے بلائیں
(عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا ایک شخص دو سبز
کپڑے پہنا ہوا مسجد کے حصار کی دیوار پر کھڑا ہوا کہہ رہا ہے:
(کچھ دیر کے بعد وہ شخص) پھر کھڑا ہوا اور کہا (نماز کیلئے تکبیر میں بھی ”قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ۔
قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوةُ“ کے اضافے کے ساتھ) وہ الفاظ کہو (جو اذان میں کہے گئے ہیں، یہ کہہ کر تکبیر اس
کہ) میں نے اپنا خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
جاؤ اور اس کو بلال (رضی اللہ عنہ) کو سکھا دو، میں ایسا ہی کیا، (چونکہ یہ نئی چیز بھی اس لئے) لوگ (یہ سن
کر دوڑتے ہوئے آئے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ (یہ کیا ہے) یہاں تک کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان
سے فارغ ہو گئے۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے اور کہا کہ اگر اس خواب کے بیان کرنے
میں عبداللہ بن زید (رضی اللہ عنہ) سبقت نہ کرتے تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دیتا کہ مجھے
بھی ایسا ہی خواب دکھائی دیا جو عبداللہ ابن زید رضی اللہ عنہ کو دکھائی دیا۔
(اس کی روایت ابوالشیخ نے کی ہے اور ابن ماجہ ابو داؤد اور امام احمد نے بھی اسی طرح روایت
کی ہے اور ترمذی اور ابن خزیمہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور ترمذی نے بخاری سے اس کو علل
میں نقل کیا ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Ibn Majah 706 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 499 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 189 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.