عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے دریافت کیا: یا رسول اللہ
کونسا گناہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا ہے؟ فرمایا:(1) اللہ کے لئے تو شریک بنائے، حالانکہ اللہ نے تجھ
کو پیدا کیا ہے، اس نے کہا: اس کے بعد کونسا؟ ارشاد ہوا: تُو (2) اپنی اولاد کو اس اندیشہ سے قتل کرے
کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گا، اس نے کہا: پھر کونسا؟ ارشاد ہوا:(3) اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا،
حضور کے اس فرمان کی تصدیق میں یہ آیت نازل ہوئی: ۞ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللّٰهِ إِلٰهًا
فرقان، پ:19، ع:6، آیت نمبر:68، میں) جو لوگ خدا کے ساتھ کسی اور کو نہیں پکارتے اور اس جان کو
جس کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ (یعنی قصاص وغیرہ میں) اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔
(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے۔)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے گناہ (1) خدا کے ساتھ شرک، (2) والدین کی نافرمانی، (3) کسی کا قتل
کرنا اور (4) جھوٹی قسم ہیں (بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
اور انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں جھوٹی قسم کی جگہ جھوٹی گواہی ہے۔
(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے بچو، لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کونسی ہیں؟ فرمایا:
(1) اللہ کے ساتھ شریک کرنا، (2) جادو کرنا، (3) جس شخص کا قتل اللہ نے حرام کیا ہے اس کو ناحق مار
ڈالنا، (4) سود کھانا، (5) اور یتیم کا مال کھانا، (6) جہاد کے دن پیٹھ پھیرنا، (7) اور غافل، پاک دامن
بھولی بھالی ایماندار عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ کوئی زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو زنا کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ہے، اور اسی
طرح چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو چوری کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا ہے،
اور جب شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو شراب پیتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، اور لوٹ
کھسوٹ کرنے والا جب لوٹ کھسوٹ کرتا ہے ایسی حالت میں کہ لوگ خوف و دہشت کے مارے
مایوسی کے عالم میں اس کی طرف دیکھ رہے ہوں تو اس کا ایمان باقی نہیں رہتا اور تم میں جب کوئی
خیانت کرتا ہے تو خیانت کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، پس بچو تم (ان مذکورہ گناہوں سے)
پھر کہتا ہوں کہ بچو تم۔
(بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ قتل کرنے والا جب قتل کرتا ہے تو قتل
کرتے وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے
دریافت کیا کہ اس سے ایمان کس طرح علیحدہ کر لیا جاتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس
طرح اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں ملا کر باہر نکال لیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے
فرمایا: اگر وہ توبہ کرے تو ایمان اسی طرح واپس آ جاتا ہے اور آپ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں
انگلیاں ملا دیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں۔ (مسلم نے) اتنا اضافہ کیا: اگرچہ وہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور
دعویٰ کرے کہ وہ مسلمان ہے، (پھر بخاری اور مسلم دونوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ) (1) جب وہ
بات کرے جھوٹ کہے اور (2) جب وعدہ کرے تو خلاف (وعدہ) کرے اور (3) امانت رکھی جائے
تو خیانت کرے۔ یہ تین علامتیں منافق کی ہیں۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے)۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: چار باتیں جس شخص میں ہوں وہ پکا منافق ہے، اور جس میں ان میں سے کوئی ایک بات پائی
جائے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی، تاوقتیکہ اس کو چھوڑ نہ دے: (1) جب امانت رکھی جائے تو
خیانت کرے، (2) جب بات کہے تو جھوٹ کہے، (3) جب قول و قرار کرے تو اس کے خلاف
کرے، اور (4) جب جھگڑے تو گالیاں دے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے)۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق
کی مثال اس بکری کی سی ہے جو کہ دو ریوڑ کے درمیان پھرتی ہے، کبھی اس کی جانب مائل ہوتی ہے اور
کبھی اُس کی جانب۔ (مسلم نے اس کی روایت کی ہے)۔
صفوان بن عسال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے
اپنے ساتھی سے کہا: ہم کو ان نبی کے پاس لے چلو۔ اس کے ساتھی نے کہا: نبی مت کہو، اگر وہ تجھ سے
سن لیں گے تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی (یعنی نہایت خوش ہوں گے) تو دونوں آپ کی خدمت
میں حاضر ہوئے اور آپ سے تسع آیات بینات (نو واضح احکام) کے متعلق دریافت کیا۔ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور (2) چوری نہ کرو، اور (3) زنا نہ
کرو، اور (4) ناحق کسی ایسے نفس کو قتل نہ کرو جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، اور (5) کسی بے
گناہ کو حاکم کے پاس قتل کے لئے پیش نہ کرو، اور (6) جادو نہ کرو، اور (7) سود مت کھاؤ، اور (8)
کسی پاک دامن عورت کو تہمت نہ لگاؤ، اور (9) جنگ کے دن بھاگنے کی خاطر پیٹھ نہ پھیرو، اور خاص کر
تم کو اے یہود! واجب ہے کہ شنبہ کے روز حدود اللہ سے تجاوز نہ کرو۔ صفوان راوی کہتے ہیں کہ دونوں نے
آپ کے ہاتھوں اور قدموں کو چوم لیا، اور دونوں نے کہا کہ ہم آپ کے نبی ہونے کی شہادت دیتے ہیں،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کونسا امر تم کو میری اتباع سے مانع ہے؟ دونوں نے کہا: بے
شک حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ ان کی ذریت میں ہمیشہ نبی ہوا کرے، اور
ہم کو اندیشہ ہے کہ اگر ہم آپ کی اتباع کریں تو ہم کو یہود قتل کر دیں گے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد
اور نسائی نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
They kissed his hands and feet, etc.
(1) The statement: "They kissed his hands and feet, etc." indicates that in Al-Durr Al-Mukhtar, it is mentioned: If someone asks a scholar or a pious person to extend his foot and allow him to kiss it, he should respond positively. However, some say he should not allow it.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقبلا يديه ورجليه إلخ : ولذلك قال في الدر المختار: طلب من عالم أو زاهد أن يدفع إليه قدمه ويمكنه من قدمه، ليقبله أجابه، وقيل: لا.
Note 1
ف۔ در مختار میں لکھا ہے کہ کسی عالم یا زاہد سے اگر مطالبہ کیا جائے کہ وہ قدم کو بڑھائیں اور قدم
چومنے کے لئے موقع دیں تو اس عرض کو قبول کر لے، اور ایک روایت یہ ہے کہ قبول نہ کریں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: تین باتیں اصل ایمان ہیں (1) لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کے قائل سے ہاتھ روک لینا، اور تم اس کو کسی گناہ
کے ارتکاب کی وجہ سے کافر نہ قرار دو، اور کسی عمل کی وجہ سے اس کو اسلام سے خارج نہ کرو، اور
(2) جہاد جاری ہے اُس وقت سے جب سے کہ اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے اس وقت تک جاری
رہنے والا ہے کہ اس امت کا اخیر شخص دجال کو قتل کرے گا، جہاد کو نہ کسی ظالم کا ظلم اور نہ کسی عادل کا
عدل باطل کر سکے گا، اور (3) تقدیر پر ایمان لانا۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے سر پر سایہ کی طرح آ جاتا ہے اور
پھر جب وہ اس عمل سے فارغ ہو جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔
(اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس
(10) باتیں بطور وصیت فرمائیں۔ فرمایا: (1) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اگرچہ تمہیں قتل کر دیا
جائے اور جلا دیا جائے، اور (2) ہرگز ماں باپ کی نافرمانی نہ کرو، اگرچہ کہ وہ تجھے اپنے اہل اور مال کو
چھوڑ دینے کا حکم دیں، اور (3) ہرگز فرض نماز کو ترک نہ کرو، اس لئے کہ جو شخص عمداً فرض نماز کو ترک
کرتا ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ الگ ہو جاتا ہے، نہ دنیا میں امن کا مستحق ہے اور نہ آخرت میں
نجات کا، اور (4) ہرگز شراب (ہر نشہ لانے والی چیز) نہ پیو کہ وہ تمام برائیوں کی جڑ ہے، کیونکہ اس
سے دنیا میں حد (یعنی سزائے خداوند) کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت میں عذاب کا۔ اور (5) ہر قسم کے
گناہوں سے بچو؛ کیونکہ گناہوں سے اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے اور (6) جہاد میں بھاگنے سے
بچتے رہو، اگرچہ کہ (تمہارے ساتھ کے) تمام لوگ ہلاک ہو جائیں اور (7) جب لوگوں میں موت
عام ہو جائے اور تم ان میں ہو تو تم ثابت قدم رہو، اور (8) اپنے کنبہ پر حسب حیثیت مال خرچ کرو،
اور(9)ادب آموزی کے لئے ان کو سزا دینے سے پہلو تہی نہ کرو، اور(10)ان کو خدا کا خوف دلاتے
رہو۔(امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا کہ نفاق تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانہ میں تھا لیکن آج کفر ہے یا ایمان (البتہ وہ اعمال جن کو منافقین کی علامت بتایا گیا ہے، وہ باقی
ہیں)۔(بخاری نے اس کی روایت کی ہے)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ابوعبداللہ (یعنی امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ایسا شخص مومن کامل نہیں رہتا، اور اس میں ایمان کا نور نہیں پایا جاتا۔ (یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔)