ایفع بن عبدالکلاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی
نے عرض کیا: یا رسول اللہ قرآن کی کون سی سورت سب سے افضل ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: قل هو الله احد (کا سورہ مضامین توحید کے اعتبار سے) سب سے افضل ہے
انہوں نے دریافت فرمایا کہ قرآن کی کون سی آیت سب میں افضل ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: آیہ الکرسی ’’اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ‘‘ (سے لے کر ’’وَهُوَ الْعَلِيُّ
الْعَظِيمُ‘‘ تک سب آیتوں میں افضل ہے)) ان صاحب نے پھر عرض کیا: یا نبی اللہ آپ اپنے لئے
اور اپنی امت کے لئے کون سی آیت فرماتے ہیں (کہ اس کا ثواب اور اس سے خیر و برکات حاصل
ہوں) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں، اس لئے کہ اللہ
تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں میں سے ہیں جو اس کے عرش کے نیچے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو میری
امت کو عطا کیا ہے اور دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی ایسی نہیں ہے جو اس میں شامل نہ ہو۔ اس کی
روایت دارمی نے کی ہے۔
جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کو جن دو آیتوں پر ختم کیا ہے یہ آیتیں مجھ کو اس خزانہ
سے عطا کی گئی ہیں جو عرش کے نیچے ہے۔ پس تم خود ان (آیتوں کو) سیکھو اور اپنی عورتوں کو سکھاؤ اس
لئے کہ یہ (دو آیتیں) رحمت ہیں اور قرب (الٰہی کا ذریعہ ہیں اور) دعا ہیں۔ اس کی روایت دارمی
نے مرسلاً کی ہے۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار
سال قبل (اپنے فرشتوں کو حکم دے کر) قرآن کریم کو لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا اور اسی قرآن کریم کی
دو آیتیں آمن الرسول (تا ختم سورہ) ہیں۔ جن پر سورہ بقرہ کو ختم فرمایا۔ جس گھر میں یہ دو آیتیں تین
رات تک مسلسل پڑھی جائیں تو شیطان اس گھر کے قریب نہ آ سکے گا۔
اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان کو رات میں پڑھے
تو وہ اس کے لئے کافی ہو جاتی ہیں (یعنی ہر آفت و بلا سے اس کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتی ہیں) اس
کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
مکحول رضی اللہ عنہ (جو مشہور تابعی ہیں) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو
جمعہ کے روز سورہ آل عمران پڑھے تو فرشتے رات تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے
ہیں کہ جو سورہ آل عمران کی آخری آیتیں رات میں یعنی ان في خلق السموت والارض سے
لے کر آخر سورہ تک پڑھے تو رات بھر عبادت کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اس کی روایت دارمی نے
کی ہے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھتے رہا کرو (یعنی قرآن کی تلاوت کو غنیمت جانو اور اس پر مداومت
رکھو) اس لئے کہ قرآن اپنے پڑھنے والوں کے لئے جو اس کے حقوق اور آداب ادا کرتے ہوں)
قیامت کے دن شفیع بن کر آئے گا خصوصاً دو چمکدار اور روشن سورتوں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کو
زیادہ پڑھا کرو اس لئے کہ یہ سورتیں قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے سروں پر اس طرح سایہ
فگن ہوں گی اور ایسے آئیں گی کہ گویا وہ ابر کے دو ٹکڑے ہیں (تو یہ اس شخص کے لئے ہوگا جو معنی
سمجھے بغیر ان کو پڑھے) یا اس طرح آئیں گی جیسے کہ کوئی دو سایہ کرنے والی چیزیں جس میں سایہ بھی
ہوا اور روشنی بھی آتی ہو (یہ اس شخص کے لئے ہوگا۔ جو معنی کے ساتھ ان کی تلاوت کرے) یا اس طرح
آئیں گی جیسے پرندوں کی دو ٹکڑیاں ہیں (جو پڑھنے والوں پر) صف بستہ سایہ فگن ہیں۔ (یہ اس شخص
کے لئے ہوگا جو ان کو خود پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے) اور یہ دونوں سورتیں اپنے پڑھنے والے کی
حمایت اور شفاعت کے لئے اللہ تعالیٰ سے جھگڑیں گی اور سورۂ بقرہ کو کثرت سے پڑھا کرو (اس لئے
کہ اس کی پابندی سے تلاوت اور اس کے معنی میں تدبر) برکت ہے اس لئے کہ پابندی کے بعد اس
کو چھوڑ دینا حسرت (اور ندامت) ہے۔ اور اہل باطل یعنی کسلمند ہی اس کی تلاوت سے محروم رہتے
ہیں (اور سورۂ بقرہ کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ اس کے پڑھنے والے پر جادو اثر نہیں کرتا)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن قرآن کو اور قرآن پڑھنے
اور اس پر عمل کرنے والوں کو اس طرح لایا جائے گا کہ قرآن اس کے آگے آگے ہوگا اور سورۂ بقرہ اور
سورۂ آل عمران اس حالت میں ہوں گے جیسے ابر کے دو ٹکڑے ہیں یا کوئی دو سیاہ دار سیاہ چیزیں ہیں
جن میں چمک اور روشنی ہے یا صف بستہ پرندوں کی دو ٹکڑیاں ہیں جو اپنے پڑھنے والوں کی (حمایت
اور شفاعت میں اللہ تعالیٰ سے) جھگڑیں گی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن سورۂ ہود پڑھا کرو۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
رات کو سونے سے پہلے مسبّحات پڑھا کرتے تھے اور یہ فرمایا کرتے کہ ان سورتوں میں ایک ایسی
آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
اور دارمی نے اس کی روایت خالد بن معدان سے مرسلاً کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2921 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 5057 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ مسبحات ان سورتوں کو کہتے ہیں کہ جن کے اوائل میں سبحان یا يُسَبِّحُ یا
سَبَّحَ یا سَبِّحْ کے کلمات آئے ہوں اور یہ سات سورتیں ہیں (1) سبحان الذي یعنی سورۂ بنی اسرائیل
(2) سورۂ حدید (3) سورۂ حشر (4) سورۂ صف (5) سورۂ جمعہ (6) سورۂ تغابن (7) سورۂ اعلیٰ یعنی
”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَىٰ“ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔ اہ
اس حدیث شریف میں جو ارشاد ہے کہ مسبحات میں ایک ایسی آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں
سے افضل ہے اس بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ یہ آیت (سورۂ حشر، آیت نمبر:21) ”لَوْ أَنْزَلْنَا
هٰذَا الْقُرْآنَ“ الی آخرہا ہے اور ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ آیت (سورۂ حدید، آیت نمبر:3) ”هُوَ
الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ، وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ“۔“۔ اہ
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رات کے وقت
سورۂ کہف پڑھ رہے تھے اور ان کے قریب ایک طرف ایک گھوڑا دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا،
یکایک ابر کا ایک ٹکڑا اس پر چھا گیا اور وہ برابر اترتا اور قریب ہوتا گیا۔ اور گھوڑا یہ دیکھ کر بدکنے لگا جب
صبح ہوئی تو وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ بیان کئے تو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سکینہ (یعنی رحمت الٰہی ہے) جو اطمینان قلب کے لئے ابر کی
صورت میں قرآن پڑھتے وقت نازل ہوتی ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیتوں کو زبانی یاد کر لے تو وہ دجال کے فتنے اور
شر سے بچا لیا جائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو سورہ کہف کی ابتدائی تین آیتوں کو تلاوت کرتا رہے تو اس کو دجال کے
فتنے سے بچا لیا جائے گا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2886 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں بظاہر جو تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کی تطبیق کے بارے
میں مرقات میں مذکور ہے کہ دس آیتوں والی حدیث بعد کی ہے اور تین آیتوں والی پہلے کی ہے، لہذا جو
شخص دس آیتوں کو پڑھے گا وہ تین آیتوں کا بھی عامل ہوگا۔
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد
فرمائے ہیں کہ جو شخص جمعہ کے روز سورہ کہف کی تلاوت کرتا ہے تو اس کا قلب آنے والے دوسرے
جمعہ تک (ہدایت اور نور سے) منور کر دیا جاتا ہے۔ اس کی روایت بیہقی نے دعواتِ کبیر میں کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے کے ایک ہزار برس پہلے
(ملائکہ کو) سورہ طٰہٰ اور سورہ یٰسین پڑھ کر سنایا (اس لئے کہ یہ دونوں سورتیں یعنی سورہ طٰہٰ اور سورہ
یٰسین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک سے شروع ہوتی ہیں اور سنانے کا مقصود حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کی فضیلت کو ملائکہ پر ظاہر کرنا تھا)۔ جب ملائکہ نے قرآن کی ان دونوں سورتوں کو سنا تو بے
ساختہ کہہ اٹھے: مبارک ہے وہ امت جس پر یہ سورتیں اتاری جائیں گی اور مبارک ہیں وہ قلوب جو
ان سورتوں کے حامل ہوں گے۔ اور مبارک ہیں وہ زبانیں جو ان کی تلاوت کریں گی۔
اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
خالد بن معدان رحمۃ اللہ علیہ سے (جو شام کے مشہور تابعی ہیں) روایت ہے
وہ فرماتے ہیں کہ رات کے ابتدائی حصہ میں اٰلٓمٓ تَنْزِيل سجدہ کو پڑھا کرو جو عذاب قبر اور حشر سے
نجات دلانے والی سورت ہے اس لئے کہ مجھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ
ایک شخص اس سورہ کو بطور وظیفہ پڑھا کرتا تھا اور اس سورت کے سوا (کسی اور سورۃ کو بطور ورد کے)
نہیں پڑھا کرتا تھا اور وہ بہت گناہ گار تھا (جب اس شخص کا انتقال ہوا تو) یہ سورت اور اس کا ثواب
ایک پرندہ کی شکل اختیار کر کے اپنے بازوؤں کو اس شخص پر پھیلا دیا اور اس کو بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ
سے اس طرح عرض کیا: اے پروردگار اس شخص کو بخش دے کہ یہ مجھے بکثرت پڑھا کرتا تھا اللہ تعالیٰ
نے اس سورت کی شفاعت کو اس شخص کے حق میں قبول فرما لیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے ہر ایک
گناہ کے بدلہ ایک ایک نیکی لکھ دو اور اس کے درجہ کو بلند کر دو۔ اور راوی نے یہ بھی کہا کہ یہ سورت
اپنے تلاوت کرنے والے کے لئے قبر میں عذاب کی تخفیف کے لئے اللہ تعالیٰ سے جھگڑتی ہے اور
کہتی ہے کہ اے اللہ اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو میری شفاعت کو اس شخص کے حق میں قبول
فرمایا اور اگر میں تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو مجھے اس کتاب سے مٹا دے۔ اور راوی نے یہ بھی
کہا کہ یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی قبر میں پرندے کی شکل میں اپنے پڑھنے والے پر اپنے پروں کو
پھیلا دے گی اور اس کی شفاعت کر کے اس کو عذاب قبر سے بچائے گی۔ اور راوی نے سورۃ
تَبَارَكَ الَّذِي کے بارے میں بھی ایسا ہی کہا ہے کہ یہ سورۃ بھی الٓمٓ تنزیل کی طرح اپنے پڑھنے
والے کو عذاب قبر سے بچا لے گی اور خالد یعنی اس حدیث کے راوی ان دونوں سورتوں کو پڑھے بغیر
نہیں سوتے تھے اور طاؤس (جو مشہور تابعی ہیں اور راوی حدیث ہیں) بیان کرتے ہیں یہ دو سورتیں
یعنی سورۃ الٓمٓ تنزیل سجدہ اور سورۃ تبارک الذی قرآن کی ہر سورت پر ثواب میں ساٹھ ہزار نیکیوں
کی تعداد سے زیادہ اجر رکھتی ہیں۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں سورۃ
الٓمٓ تنزیل اور سورۃ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ پڑھے بغیر سویا نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت
امام احمد، ترمذی اور دارمی نے کی ہے اور شرح السنہ میں بھی اسی طرح مذکور ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل یٰسین ہے اور جو سورۃ یٰسین پڑھے
تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو دس مرتبہ قرآن کی تلاوت کرنے کا ثواب عنایت فرماتے ہیں۔ اس کی روایت
ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں سورۃ یٰسین کو قرآن کا دل کہا گیا ہے۔ اس بارے میں بھی امام نسفی
رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سورۃ یٰسین میں اصول ثلاثہ یعنی وحدانیت باری تعالیٰ، رسالت اور حشر کا
بیان ہے اور ان تینوں چیزوں کا تعلق قلب سے ہے۔ اسی وجہ سے سورہ یٰسین کو قرآن کا قلب قرار دیا گیا۔
اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ایمان کی صحت کا انحصار حشر و نشر کے یقین اور ان کے
استحضار پر ہے اور ان کی تفصیل سورہ یٰسین میں تمام و کمال مذکور ہے اسی وجہ سے اس کو قرآن کا دل کہا گیا
ہے اور امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس قول کو احسن قرار دیا ہے، اس لئے کہ سورہ یٰسین کی تلاوت
سے مردہ قلوب زندہ ہو جاتے ہیں اور غفلت سے چونک کر طاعات کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اور اسی
وجہ سے قریب المرگ کے پاس اس کی تلاوت کی ترغیب وارد ہے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔
عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے (جو مکہ کے مشہور تابعی ہیں) روایت ہے
وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص
سورہ یٰسین کو دن کے ابتدائی حصہ میں پڑھ لے تو اس کی برکت سے اس شخص کی دینی و دنیوی حاجتیں
پوری کر دی جاتی ہیں۔ اور اس کی روایت دارمی نے مرسلاً کی ہے۔
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
ارشاد فرماتے ہیں کہ جو سورہ یٰسین کو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے پڑھے تو اس
کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں تو تم اس کو ان لوگوں کے پاس پڑھا کرو جو قریب المرگ
ہوں۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ سورہ یٰسین کو اخلاص سے پڑھنے سے گناہ معاف ہو
جاتے ہیں اور قریب المرگ شخص کے پاس اگر سورہ یٰسین پڑھا جائے تو وہ اس کو سنے گا اور اس کا دل
متاثر ہوگا اور اس کے گناہ بھی معاف ہوں گے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔ صاحب مرقات نے فرمایا
ہے کہ چونکہ سورہ یٰسین کی تلاوت گناہوں کی مغفرت کا سبب ہے اس لئے قبروں کے پاس بھی اس کو
پڑھنا چاہئے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص سورہ حٰمٓ ○ سورہ مؤمن کو الیہ المصیر تک یعنی ”حٰمٓ
ذِى الطَّوْلِ ، لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ، اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ“ )(سورہ مؤمن، آیت نمبر:1-3) اور اس کے
ساتھ آیہ الکرسی صبح میں پڑھ لے تو (ان کے پڑھنے کی برکت سے تمام ظاہری اور باطنی آفات اور
بلیات سے) شام تک محفوظ رہتا ہے اور (اسی طرح) جو ان کو شام کے وقت پڑھ لے تو وہ (ان کے
پڑھنے کی برکت سے) صبح ہونے تک محفوظ رہتا ہے۔
اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص رات میں سورہ دخان حٰمٓ الدخان (جو پ 25 میں ہے)۔ پڑھ
لے تو صبح تک 70 ہزار فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہیں گے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو سورہ حٰمٓ الدخان شب جمعہ پڑھا کرے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی
ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک
بلندی ہوتی ہے اور قرآن کی بلندی سورۂ بقرہ ہے۔ اور ہر چیز کا ایک خلاصہ ہوتا ہے اور قرآن کا
خلاصہ مفصل سورتیں ہیں۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں سورہ بقرہ کو سنام القرآن (قرآن کی بلندی) اس لئے قرار دیا گیا
ہے کہ یہ طویل سورت ہے اور اس میں بہت سارے احکام مذکور ہیں اور اس میں جہاد کا جو حکم موجود ہے
اس کی وجہ سے اسلام کو بلندی حاصل ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں مفصلات کو لُباب القرآن اس لئے کہا گیا کہ ان سورتوں میں ان چیزوں کو تفصیل
سے بیان کیا گیا ہے۔ جو قرآن کے دوسرے حصہ میں اجمال کے ساتھ مذکور ہیں۔ اور سورۂ
حجرات (پ،26) سے لے کر آخر قرآن تک کی تمام سورتوں کو مفصل کہتے ہیں۔
یہ پورا مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں
نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ہر چیز کی ایک زینت ہوتی ہے اور قرآن کی
زینت سورۂ رحمٰن ہے (کیونکہ سورہ رحمٰن میں دُنیوی نعمتوں کے ساتھ ساتھ اخروی نعمتوں اور جنت
کے حور و غلمان کا ذکر ہے)۔ اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو سورۂ واقعہ کو ہر شب پڑھے تو وہ کبھی تنگدست اور محتاج نہ ہوگا۔ اور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اپنی لڑکیوں کو تاکید فرماتے کہ وہ ہر رات اس سورت کو پڑھا
کریں۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ صبح کے وقت تین دفعہ ”أَعُوذُ بِاللّٰهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ
الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“ پڑھ کر سورہ حشر کی آخری تین آیتیں (جو ”هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ“
سے شروع ہو کر ”وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ“ پر ختم ہوتی ہیں جو آیات نمبر:24-22 ہیں)۔ جو شخص
پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ (ان کی برکت سے) ستّر ہزار فرشتوں کو مقرر فرما دیتے ہیں جو شام تک اس کے
لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر وہ اس روز فوت ہو جائے تو وہ شہید مرتا ہے اور جو شخص
ان آیتوں کو اسی طرح شام کے وقت پڑھ لے تو ایسے شخص کو بھی یہی مرتبہ ملے گا۔ اس کی روایت ترمذی
اور دارمی نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ قرآن میں (30) آیتوں والی ایک سورت ہے جس نے ایک شخص کی
شفاعت کی جو اس کو پڑھا کرتا تھا یہاں تک کہ اس کو بخش دیا گیا۔ اور وہ سورت ”تَبَارَكَ الَّذِي
بِيَدِهِ الْمُلْكُ“ ہے۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے (لا علمی میں) ایک قبر کی جگہ
پڑاؤ ڈالا گیا اور ان کو یہ گمان نہ تھا کہ یہ قبر ہے۔
ناگہاں انہوں نے دیکھا کہ اس میں ایک انسان ہے جو سورہ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ
الْمُلْك پڑھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے سورہ کو ختم کیا۔ ان صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ یہ
سورت عذاب سے بچانے والی اور پڑھنے والے کو عذاب الٰہی سے نجات دلانے والی ہے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت یعنی ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى“ کو بہت محبوب رکھتے
تھے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Candidate: Musnad Ahmad 742 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 2160
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں سورت ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى“ کو محبوب رکھنے کا جو ذکر
ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سورت میں ارشاد ہے: ”إِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولٰى ، صُحُفِ
إِبْرَاهِيمَ وَمُوسٰى“ یہ مضامین یعنی دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی پائیداری، فرمان برداری کی کامیابی
وغیرہ جو اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں۔ اگلے صحیفوں میں بھی مذکور ہے جیسے حضرت ابراہیم اور
حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہما الصلوٰۃ والسلام کے صحیفوں میں تو گویا سابقہ صحیفوں میں قرآن کی حقانیت کی
تصدیق ہوتی ہے اور اسی وجہ سے یہ سورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت محبوب تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم اس سورت کو وتر کی پہلی رکعت میں ”سورہ قُلْ“ کو باقی دو رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے۔
یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ مسبحات ان سورتوں کو کہتے ہیں کہ جن کے اوائل میں سبحان یا يُسَبِّحُ یا سَبَّحَ یا سَبِّحْ کے کلمات آئے ہوں اور یہ سات سورتیں ہیں (1) سبحان الذي یعنی سورۂ بنی اسرائیل (2) سورۂ حدید (3) سورۂ حشر (4) سورۂ صف (5) سورۂ جمعہ (6) سورۂ تغابن (7) سورۂ اعلیٰ یعنی ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَىٰ“ جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔ اہ اس حدیث شریف میں جو ارشاد ہے کہ مسبحات میں ایک ایسی آیت ہے جو ایک ہزار آیتوں سے افضل ہے اس بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ یہ آیت (سورۂ حشر، آیت نمبر:21) ”لَوْ أَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْآنَ“ الی آخرہا ہے اور ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ آیت (سورۂ حدید، آیت نمبر:3) ”هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ، وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ“۔“۔ اہ