English
It is narrated from Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) used to say between the two prostrations: "O Allah, forgive me, have mercy on me, guide me, grant me well-being, and provide for me." [Narrated by Abu Dawud and Al-Tirmidhi)
العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٦٧ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُوْلُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1443
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
دو سجدوں کے درمیان جلسہ کی حالت میں یہ دعاء پڑھا کرتے تھے۔
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِىْ: اے اللہ میرے گناہوں کو بخش دیجئے اور آپ کی اطاعت میں جو کوتاہیاں
ہوئی ہیں ان کو معاف فرما دیجئے۔
وَارْحَمْنِىْ: اے اللہ! آپ میرے اعمال کو نہ دیکھئے اپنے فضل سے مجھ پر رحمت نازل
فرمائیے۔
وَاهْدِنِىْ: اے اللہ! مجھ کو ان عقائد کی طرف رہبری فرمائیے جن سے آپ راضی ہیں اور مجھ
سے وہ اعمال کروائیے جو آپ کو پسند ہیں۔
وَعَافِنِىْ: اے اللہ! دنیا میں بھی مجھ کو عافیت سے رکھئے اور آخرت میں بھی عافیت سے رکھئے۔
وَارْزُقْنِيْ: اے اللہ! مجھ کو ایسی روزی عطا فرمائیے جس کی وجہ سے میں کسی کا محتاج نہ رہوں۔
وَاجْبُرْنِيْ: اے اللہ! میری شکستہ حالت کو درست فرمائیے۔
وَارْفَعْنِيْ: اے اللہ! مجھ کو دنیا میں بھی مراتب عالیہ عطا فرمائیے اور آخرت میں بھی
(وَاجْبُرْنِيْ اور وَارْفَعْنِيْ کا اضافہ ابن ماجہ سے کیا گیا ہے۔) (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی
اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 850 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 284 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں اور اسی طرح دوسری حدیثوں میں دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں جن دعاؤں کا پڑھنا مروی ہے، ان کے متعلق صاحب ردالمحتار نے کہا ہے کہ ان دعاؤں کو ایسی نمازوں کے جلسہ میں پڑھنا مستحب ہے جو عموماً تنہا پڑھی جاتی ہیں جیسے تہجد، وتر، سنت اور نفل، اسی طرح کوئی شخص فرض نماز کو تنہا پڑھ رہا ہے تو وہ بھی اس کے جلسہ میں ان دعاؤں کو پڑھ سکتا ہے البتہ یہ نمازیں جب جماعت سے پڑھی جاتی ہیں تو ان کے جلسوں میں ان دعاؤں کو نہیں پڑھنا چاہئے تاکہ مقتدیوں پر بار نہ ہو، لیکن نماز کسوف کے جلسہ میں جماعت سے پڑھی جانے کے باوجود دعاؤں کو پڑھا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ نماز طوالت سے پڑھی جانے کے لئے ہی وضع ہوئی ہے، ایسا ہی اگر امام کسی ایسی جماعت کو نماز پڑھا رہا ہے جو سب ہم خیال ہوں اور کسی پر نماز کی طوالت بار نہیں تو اس کے جلسہ میں بھی امام اور مقتدی دونوں ان دعاؤں کو پڑھ سکتے ہیں۔