Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1424

Chapter on Congregational Prayer and Its Virtue

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Congregational Prayer and Its Virtue

Zujajat al-Masabih 1424Volume 1

English

It is narrated from Ubayy ibn Ka'b (may Allah be pleased with him) that he said: "One day, the Messenger of Allah (peace be upon him) led us in the Fajr prayer. After he finished, he asked, 'Is so-and-so present?' They said, 'No.' He asked, 'Is so-and-so present?' They said, 'No.' He then said: 'These two prayers (Fajr and Asr) are the heaviest prayers for the hypocrites. If you knew the virtue of these two prayers, you would come to them even if you had to crawl on your knees. The first row is like the row of angels. If you knew its virtue, you would race to it. A man’s prayer with another man is more virtuous than his prayer alone, and his prayer with two men is more virtuous than his prayer with one man. The more (people there are), the more beloved it is to Allah.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٢٤ - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ (رضي الله عنه) قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ يَوْمًا الصُّبْحَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَشَاهِدُ فُلَانٌ؟» قَالُوا: لَا ، قَالَ: «أَشَاهِدٌ فُلَانٌ؟» قَالُوا : لَا ، قَالَ: «إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ أَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا فِيهِمَا لَأَتَيْتُمُوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الرُّكَبِ. وَإِنَّ الصَّفَ الْأَوَّلَ عَلَى مِثْلِ صَفّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِيلَتُهُ لَابْتَدَرْتُمُوْهُ. وَإِنَّ صَلَاةَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، وَصَلَاتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللهِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1632
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو ایک دن فجر کی نماز پڑھائے، جب آپ سلام پھیرے تو دریافت فرمائے کہ کیا فلاں شخص حاضر ہے، صحابہ نے عرض کیا: حضور وہ موجود نہیں ہے، پھر آپ نے دوسرے شخص کا نام لے کر پوچھا کیا فلاں شخص حاضر ہے، صحابہ نے یہ عرض کیا: حضور وہ بھی موجود نہیں ہے آپ نے ارشاد فرمایا: یہ دو نمازیں یعنی عشاء اور فجر منافقوں پر تمام نمازوں سے زیادہ گراں گزرتی ہیں، اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ ان دو نمازوں کا کس قدر ثواب ہے تو تم ان دو نمازوں کے لئے اگر پیر بھی ہوں اور نہ چل سکتے ہوں تو گھٹنوں کے بل چل کر آیا کرتے اور نماز کی پہلی صف (فضیلت میں) فرشتوں کی صف کے مانند ہے، اگر تم کو صفِ اوّل کا ثواب معلوم ہو جائے تو تم پہلی صف میں شریک ہونے کے لئے جلدی کر کے ایک دوسرے پر سبقت کرتے۔ ایک آدمی کے ساتھ جماعت کر کے نماز پڑھنے والے کو تنہا نماز پڑھنے والے سے زیادہ ثواب ملتا ہے اور وہ اسی طرح دو آدمیوں کے ساتھ جماعت کر کے نماز پڑھنے والے کو ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے والے سے زیادہ ثواب ملتا ہے اسی طرح جماعت میں جس قدر نمازی زیادہ ہوتے جائیں گے نمازی کو اسی قدر زیادہ ثواب ملتا جائے گا، اس لئے جماعت میں جس قدر نمازی زیادہ ہوں اسی قدر اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 554 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 843 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جماعت میں نہ آنے والوں کو منافق فرمایا، اس سے جماعت کا وجوب ثابت ہوا اور نماز کے لئے مسجد میں آنے کا وجوب بھی اس سے ظاہر ہو رہا ہے کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی غیر حاضری مسجد پر ہی یہ سخت وعید فرمائی۔ اگر گھر کی جماعت کافی ہوتی تو مسجد میں نہ آنے پر یہ وعید نہ ہوتی۔ (اعلاء السنن)