Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Pilgrimage Rites

Hadith 3163

Chapter: The Sanctity of Makkah, May Allah the Exalted Protect It

In this book

Current reading

Pilgrimage Rites

Chapter: The Sanctity of Makkah, May Allah the Exalted Protect It

Zujajat al-Masabih 3163Volume 2

English

Abu Shurayh (may Allah be pleased with him) said to Amr ibn Sa‘id, who was sending troops to Makkah: "O leader, let me tell you what the Messenger of Allah (ﷺ) said the day after the conquest—my ears heard it, my heart memorized it, and my eyes saw him speak. He praised Allah and said: 'Makkah was made sacred by Allah, not by people. It is not lawful for anyone who believes in Allah and the Last Day to shed blood or cut trees here. If anyone justifies fighting in it, say: Allah permitted His Messenger but not you. He only permitted me for a brief time, and its sanctity has returned as before. Let the witness inform the absent.'" [Narrated by Nasa’i] The author of (Al-Madarik) mentioned that Umar (may Allah be pleased with him) said: "If I found the killer of Al-Khattab in the Haram, I would not touch him until he left."

العربية

Typed, pending editorial approval
٣١٦٣ - وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الله أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ - وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ -: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، سَمِعَتْهُ أُذْنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ1 لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ2 لِقِتَالِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِيهَا، فَقُولُوا: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ3 ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغُ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ». رَوَاهُ النَّسَائِيُّ. وَذَكَرَ صَاحِبُ «الْمَدَارِكِ»: أَنَّ عُمَرَ (رضي الله عنه) قَالَ :4 لَوْ ظَفَرْتُ فِيْهِ بِقَاتِلِ الْخَطَابِ مَا مَسِسْتُهُ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3759Noor 3760
ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرو بن سعید (جو عبدالملک بن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لئے) مکہ معظمہ کو لشکر بھیجا کرتا تھا (اور اس کا یہ عمل مکہ معظمہ کی حرمت کے خلاف تھا اس موقع پر) حضرت ابو شریح نے عمرو بن سعید سے فرمایا اے امیر! تم مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں اس بارے میں ایک حدیث سناؤں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن خطبہ میں ارشاد فرمایا جس کو میرے ان کانوں نے سنا ہے اور دل نے محفوظ رکھا ہے اور میری آنکھوں نے جو دیکھا وہ یہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کھڑے ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا کہ مکہ معظمہ کو عظمت اور بزرگی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے اور لوگوں نے اس کو یہ عظمت نہیں دی ہے۔ اس شخص کو جو اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ جائز نہیں ہے کہ اس میں (یعنی حدود حرم میں) خونریزی کرے اور نہ اس کو یہ جائز ہے کہ وہ حرم کے درختوں کو کاٹے (اس کے بعد حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا) کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قتال فرمایا تھا اس کو نظیر بنا کر کوئی خود بھی قتال کو جائز سمجھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی اور تم کو اجازت نہیں دی ہے (چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ) اللہ تعالیٰ نے مجھ کو آج کے دن کی ایک ساعت میں لڑنے کی اجازت دی اور اس کی عظمت و حرمت کو حسب دستور بحال کر دیا گیا یعنی آج اس کی وہی حرمت ہے جو کل تھی تو جو آج یہاں اس وقت حاضر ہیں۔ ان پر یہ لازم ہے کہ میرا یہ حکم اُن کو پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں۔ اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔ اور صاحب مدارک نے بیان کیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اگر مجھے حرم میں (میرے والد) خطاب کا قاتل بھی مل جائے تو (قصاص میں قتل کرنا تو کجا) اس کو چھوؤں گا بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ حرم کے باہر نکل جائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2876 (unverified) 45% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (9)

Note 2

It is not lawful for anyone who believes in Allah...

(2) The statement: "It is not lawful for anyone who believes in Allah..."—Abu Hanifah used this as proof that one who seeks refuge in the Haram may not be killed, as the verse is general. This is mentioned in (Umdat al-Qari).

Note 3

If anyone justifies fighting...

(3) The statement: "If anyone justifies fighting..."—This proves Makkah was conquered by force, the view of most scholars, including Malik, Abu Hanifah, and Awza‘i. This is mentioned in (Umdat al-Qari).

Note 4

Allah permitted His Messenger but not you

(4) The statement: "Allah permitted His Messenger but not you"—This highlights the unique privileges of the Prophet (ﷺ). This is mentioned in (Umdat al-Qari) and (Al-‘Urf al-Shadhi).

Note 5

If I found the killer of Al-Khattab...

(5) The statement: "If I found the killer of Al-Khattab..."—This refers to one who commits a crime outside the Haram and then seeks refuge in it. According to our school, he is safe from execution, while Shafi‘i holds he may be killed. This disagreement stems from interpreting "whoever enters it shall be secure" (3:97) as either absolute (our view) or partially restricted (Shafi‘i’s view). The Prophet’s (ﷺ) order to kill Ibn Khatal is explained as specific to that hour when the Haram’s sanctity was temporarily lifted. This is discussed in (Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah).

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر إلخ : استدل أبو حنيفة بقوله : لا يحل إلخ على أن الملتجئ إلى الحرم لا يقتل؛ لأنه عام يدخل فيه هذه الصورة. قاله في عمدة القاري».

Note 2

قوله

(۲) قوله: فإن ترخص أحد لقتال رسول الله ﷺ: دليل على أن مكة فتحت عنوة، وهو مذهب الأكثرين، قال القاضي عياض: وهو مذهب مالك وأبي حنيفة والأوزاعي . كذا في «عمدة القاري».

Note 3

قوله

(۳)قوله: إن الله أذن لرسوله ولم يأذن لكم: فيه اختصاص الرسول ﷺ بخصائص. قاله في «عمدة القاري». وقال في «العرف الشذي»: لا يتمسك بقول عمرو بن سعيد إن الحرم لا يعيذ عاصيا إلخ فإنه عامل یزید، ويزيد فاسق بلا ريب، وفي شرح الفقه الأكبر لملا علي القاري روى عن أحمد بن حنبل أن يزيد كافر، وكان عمرو بن سعيد جمع العساكر ليكر على ابن الزبير، مُعَاوِنًا ليزيد على عبد الله بن الزبير، وفي «تذكرة ابن سعيد» هذا أن رجلا اشتراه النبي ﷺ من جده وأعتقه، وكان لهذا المعتق حفيد، فدعاه عمرو بن سعيد، وسأله لمن أنت المولى؟ قال: أنا مولى رسول الله ﷺ فقام عليه عمرو بسوطه وضربه، ثم دعاه بعد مدة، وسأله كما كان سأل، فأجاب بما كان أجاب، فقام عليه بالسوط، فإذا كان حال هذا الرجل هذا، فكيف يستدل بقوله : كما في «عمدة القاري».

Note 4

قوله

(٤) قوله: لو ظفرت إلخ أي من جنى في غير الحرم، ثم التجئ إلى الحرم لم يقتل فيه، بل يكون آمنا من القتل عندنا، وعند الشافعي يقتل فيه، وهذا الاختلاف مبني على اختلاف آخر بيننا وبينه ذكره أهل الأصول، وهو أن قوله تعالى: وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنَا (آل عمران: ۹۷) عام باق على عمومه عندنا، فكان قطعيا، وعند الشافعي عام مخصوص عنه بعض أفراده، وبيانه أن من عليه قصاص في الطرف مثل قطع اليد وغير ذلك إذا دخل في الحرم والتجئ إليه يؤخذ منه ذلك في البيت بالاتفاق، وكذا من جنى في الحرم واستحق له القتل يقتل فيه بالاتفاق، فالشافعي (رحمه الله) زعم أن هاتين الصورتين مخصوصتان من قوله تعالى: ﴿وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنَا (آل عمران : (۹۷) ، ثم قاس عليهما من جنى في غير الحرم واستحق به القتل، فالتجئ إليه حيث قال: يقتل فيه أيضًا، وتمسك بخبر الواحد أيضًا، وهو ما روي أنه قيل لرسول الله ﷺ يوم فتح مكة: إن ابن خطل تعلّق بأستار الكعبة بعد الارتداد، فقال: «اقتلوه». ونحن نقول: إن كلتا الصورتين ليستا بمخصوصتين؛ لأن النص لم يتناولهما، والمخصوص ما كان متناولا أولا، ثم عنه؛ لأن مفهوم النص هو أن من جنى في غير الحرم، ثم التجئ إلى الحرم، ودخل فيه بعد الجناية كان آمن الذات، ولم يتناول لمن جنى في عين الحرم، ولا لكونه آمن الطرف، ففي الصورة الأولى، وإن كان ذلك الرجل داخلا في الحرم بعد الجناية، لكنه آمن الذات، وإنما القصاص في الطرف، والطرف في حكم الأموال، والنص لم يتناول؛ لكونه أمن الطرف، وفي الصورة الثانية إنما يقتل؛ لأنه ليس بداخل في الحرم بعد الجناية، وإنما الجناية وقعت بعد الدخول. فلما كان هاتان الصورتان غير مخصوصتين فبالحري أن تكون الصورة المقيسة للشافعي باقية، على ما اقتضاه النص فمباح الدم بردّةٍ أو زنا أو قطع الطريق أو قصاص إذا التجئ لا يقتل، ولا يؤذى ولكن لا يطعم، ولا يسقى حتى يضطر إلى الخروج، ويؤيده قول عمر (رضي الله عنه) : لو ظفرت إلخ. كذا في التفسيرات الأحمدية».

Note 1

ف: (1) اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جس شخص کو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے اس کو جائز نہیں کہ مکہ معظمہ میں خون بہائے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس ارشاد نبوی سے استدلال فرمایا ہے کہ جو شخص حرم کے باہر قتل کر کے حرم میں پناہ لے اس کو قتل نہ کیا جائے، جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔12 ف(2): واضح ہو کہ فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتال کی جو اجازت ملی تھی وہ خصوصیات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے جیسا کہ عمدۃ القاری میں مذکور ہے۔12 ف(3) واضح ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ خطاب کا قاتل مجھے حرم میں مل جائے تو میں اس کو حرم سے باہر ہونے تک نہیں چھوؤں گا۔ اس سے احناف نے استدلال کیا ہے جو شخص حرم کے باہر کسی کو قتل کرے اور حرم میں وہ پناہ لے تو حرم میں اس کا قصاص جائز نہیں۔ لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس ایسے شخص کا قصاص حرم میں جائز ہے۔ البتہ جو شخص حرم میں کسی کو قتل کر دے تو اس کا قصاص حرم میں بالاتفاق سارے ائمہ کے پاس جائز ہے۔ (ماخوذ از: ”تفسیرات احمدیہ“)۔12