English
Narrated from Abu al-Juhaym ibn al-Harith ibn al-Simmah: The Prophet ﷺ was coming from the direction of Bithr Jamal when a man met him and greeted him. The Prophet ﷺ did not respond until he approached the wall, wiped his face and hands on it, and then returned the greeting. [Agreed upon]
Our scholars say that from these narrations, it is understood that Tayammum is permissible in any situation where it is necessary to perform an action that requires purification, but where water is not available, such as for sleeping, greeting, responding to greetings, funeral prayers, Eid prayers, eclipse prayers, and optional prayers. However, it is not permissible for actions that require specific conditions like the Friday prayer (Jumu'ah).
العربية
Typed, pending editorial approval
٦٦٦ - وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصَّمَّةِ (رضي الله عنه) قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ نَحْوِ بِثْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
قَالَ عُلَمَاؤُنَا: فَيُسْتَفَادُ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَنَّ كُلَّ مَوْضِعِ يَقُوْتُ فِيْهِ الْأَدَاءُ لَا إِلَى خَلْفٍ، فَإِنَّهُ يَجُوزُ لَهُ التَّيَمُّمُ، كَنَوْمٍ وَسَلَامٍ وَرَدَّهِ وَصَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَالْعِيدِ وَالْكُسُوْفِ وَسُنَنٍ رَوَاتِبَ، وَمَا يَفُوْتُ إِلَى خَلْفٍ لَا يَجُوزُ لَهُ التَّيَمُّمُ، كَالْجُمُعَةِ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 749
ابوالجہیم بن الحارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ”بئر جمل“ کی جانب سے (جو ایک کنواں تھا) تشریف فرما ہوئے تو
ایک شخص آپ سے ملا اور آپ کو اس نے سلام کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب
نہیں دیا، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کی طرف بڑھے اور اپنے چہرے اور دونوں
ہاتھوں کا مسح فرمایا (یعنی تیمّم فرمائے) اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب
دیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 337 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 369 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 528 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 528
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
واضح ہو کہ عبادتیں دو طرح کی ہوا کرتی ہیں ایک وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے جیسے نماز جمعہ کہ اس کا قائم مقام ظہر ہے اور نماز پنجگانہ کہ ان کا قائم مقام اور بدل ان کی قضاء ہے اور دوسری وہ عبادتیں کہ جن کا بدل اور قائم مقام موجود نہیں جیسے نماز جنازہ اور عیدین وغیرہ، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا ان حدیثوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی عبادتیں کہ جن کا قائم مقام اور بدل موجود نہیں ہے اور وضوء کرنے تک وقت کے گزر جانے یا نماز کے ختم ہو جانے سے ان کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی عبادتوں میں باوجودیکہ صحت مند ہوں اور پانی موجود ہو اور پانی کے استعمال پر قدرت بھی حاصل ہو، ان ساری صورتوں کے باوجود تیمم جائز ہے جیسے نماز جنازہ و عیدین، نماز کسوف، سلام اور جواب سلام وغیرہ اور ایسی عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے، ان کے فوت ہو جانے کے اندیشہ سے تیمم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان کا بدل اور قائم مقام موجود ہے جیسے جمعہ اور پنجگانہ نمازیں۔12