Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

Hadith 666

(یہ باب ہے تیمّم کے بیان میں)

In this book

Current reading

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں)

(یہ باب ہے تیمّم کے بیان میں)

Zujajat al-Masabih 666Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 749
ابوالجہیم بن الحارث بن الصمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ”بئر جمل“ کی جانب سے (جو ایک کنواں تھا) تشریف فرما ہوئے تو ایک شخص آپ سے ملا اور آپ کو اس نے سلام کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیوار کی طرف بڑھے اور اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح فرمایا (یعنی تیمّم فرمائے) اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 337 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 369 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 528 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 528

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

واضح ہو کہ عبادتیں دو طرح کی ہوا کرتی ہیں ایک وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے جیسے نماز جمعہ کہ اس کا قائم مقام ظہر ہے اور نماز پنجگانہ کہ ان کا قائم مقام اور بدل ان کی قضاء ہے اور دوسری وہ عبادتیں کہ جن کا بدل اور قائم مقام موجود نہیں جیسے نماز جنازہ اور عیدین وغیرہ، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا ان حدیثوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی عبادتیں کہ جن کا قائم مقام اور بدل موجود نہیں ہے اور وضوء کرنے تک وقت کے گزر جانے یا نماز کے ختم ہو جانے سے ان کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی عبادتوں میں باوجودیکہ صحت مند ہوں اور پانی موجود ہو اور پانی کے استعمال پر قدرت بھی حاصل ہو، ان ساری صورتوں کے باوجود تیمم جائز ہے جیسے نماز جنازہ و عیدین، نماز کسوف، سلام اور جواب سلام وغیرہ اور ایسی عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے، ان کے فوت ہو جانے کے اندیشہ سے تیمم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان کا بدل اور قائم مقام موجود ہے جیسے جمعہ اور پنجگانہ نمازیں۔12