العربية
Typed, pending editorial approval
٦٦٦ - وَعَنْ أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصَّمَّةِ (رضي الله عنه) قَالَ: أَقْبَلَ النَّبِيُّ ﷺ مِنْ نَحْوِ بِثْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
قَالَ عُلَمَاؤُنَا: فَيُسْتَفَادُ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَنَّ كُلَّ مَوْضِعِ يَقُوْتُ فِيْهِ الْأَدَاءُ لَا إِلَى خَلْفٍ، فَإِنَّهُ يَجُوزُ لَهُ التَّيَمُّمُ، كَنَوْمٍ وَسَلَامٍ وَرَدَّهِ وَصَلَاةِ الْجَنَازَةِ وَالْعِيدِ وَالْكُسُوْفِ وَسُنَنٍ رَوَاتِبَ، وَمَا يَفُوْتُ إِلَى خَلْفٍ لَا يَجُوزُ لَهُ التَّيَمُّمُ، كَالْجُمُعَةِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 337 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 369 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 528 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 528
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
واضح ہو کہ عبادتیں دو طرح کی ہوا کرتی ہیں ایک وہ عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے جیسے نماز جمعہ کہ اس کا قائم مقام ظہر ہے اور نماز پنجگانہ کہ ان کا قائم مقام اور بدل ان کی قضاء ہے اور دوسری وہ عبادتیں کہ جن کا بدل اور قائم مقام موجود نہیں جیسے نماز جنازہ اور عیدین وغیرہ، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا ان حدیثوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایسی عبادتیں کہ جن کا قائم مقام اور بدل موجود نہیں ہے اور وضوء کرنے تک وقت کے گزر جانے یا نماز کے ختم ہو جانے سے ان کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی عبادتوں میں باوجودیکہ صحت مند ہوں اور پانی موجود ہو اور پانی کے استعمال پر قدرت بھی حاصل ہو، ان ساری صورتوں کے باوجود تیمم جائز ہے جیسے نماز جنازہ و عیدین، نماز کسوف، سلام اور جواب سلام وغیرہ اور ایسی عبادتیں جن کا قائم مقام اور بدل موجود ہے، ان کے فوت ہو جانے کے اندیشہ سے تیمم نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ان کا بدل اور قائم مقام موجود ہے جیسے جمعہ اور پنجگانہ نمازیں۔12