Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Etiquette · Chapter 13

بَابُ الْمُفَاخَرَةِ وَالْعَصَبِيَّةِ ختم ہوا

17 narrations · In source reading order

Hadith 4696

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6285Noor 6286
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان میں زیادہ عزت والا اللہ تعالیٰ کے پاس وہ ہے جو زیادہ تقویٰ والا ہے1، انہوں نے (صحابہ) نے عرض کیا: ہم اس کے بارے میں آپ سے نہیں پوچھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: لوگوں میں زیادہ عزت والے حضرت یوسف ہیں جو اللہ کے نبی ہیں، اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی اللہ کے نبی کے بیٹے ہیں اور یہ حضرت خلیل اللہ کے بیٹے ہیں، انہوں نے کہا: ہم اس کے بارے میں بھی آپ سے نہیں پوچھتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: کیا تم عرب کے خاندانوں کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں! تو آپ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں تم میں جو اچھے تھے وہ اسلام میں بھی تم میں اچھے ہیں، جب وہ (دین کی) سمجھ حاصل کرلیں۔ (متفق علیہ)۔ بخاری کی ایک روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہیں۔ (بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3383 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3382 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2378a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The noblest of them with Allah is the most God-conscious…

(1) His statement: “The noblest of them with Allah is the most God-conscious…”: Since they asked generally, and it was appropriate to direct it to the most perfect individual and superior quality, he said: “The noblest of them with Allah is the most God-conscious.” When it became clear they were not asking about absolute nobility, and he thought they meant combining lineage and status, he said: “Then the noblest of people is Joseph, the prophet of Allah…” His statement: “if they attain understanding” means knowledge coupled with action. In Sharh As-Sunnah, it is said: He means that one with merit and honor in pre-Islam, if he embraces Islam and attains understanding, combines that with religious benefit. One who does not embrace Islam destroys his honor and wastes his lineage. [Extracted from Al-Mirqat]

Note 1

قوله

(۱) قوله : أكرمهم عند الله أتقاهم إلخ: لما أطلقوا السؤال، وكان المناسب صرفه ال إلى الفرد الأكمل والوصف الأفضل، قال: «أكرمهم عند الله أتقاهم. فلما تبين له أنهم لم يسألوه عن الكرم المطلق، وظن أن مرادهم الجمع بين النسب والحسب، قال: فأكرم الناس يوسف نبي الله وقوله : «إذا فقهوا» المراد بالفقه هو العلم المقرون بالعمل. وفي شرح السنة: يريد أن من كانت له مأثرة وشرف إذا أسلم وفقه فقد حاز إلى ذلك ما استفاده بحق الدين، ومن لم يسلم فقد هدم شرفه وضيع نسبه. التقطته من «المرقاة».

Note 1

1 قوله: أَكْرَمُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاهُمْ الخ (اللہ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ مکرم ان میں کا سب سے زیادہ متقی ہے) جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال مطلق رکھا، تو رسول اللہ ﷺ نے جواب کو فرد کامل اور خوب سے خوب تر وصف کی طرف جو پھیر دیا، یہی مناسب تھا چنانچہ فرمایا: ”اللہ کے نزدیک اُن میں سب سے زیادہ شریف اُن میں کا سب سے زیادہ متقی ہے“، پھر جب آنحضرت ﷺ کے سامنے یہ بات آئی کہ وہ لوگ آپ ﷺ سے مطلق بزرگی و شرافت کے بارے میں دریافت نہیں کرتے ہیں تو آپ نے اس خیال سے کہ ان کی مراد حسب و نسب کی بزرگی کو جمع کرنا ہے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ با کرامت یوسف علیہ السلام ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ اور آپ کا ارشاد ”بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں“ اس میں فقہ (دین کی سمجھ) سے مراد وہ علم ہے جو عمل سے ملا ہوا ہو۔ اور ”شرح السنہ“ میں ہے: آپ ﷺ کا منشا یہ ہے کہ جس کے پاس کوئی خوبی یا شرافت و منزلت ہو، اگر وہ مشرف بہ اسلام ہوجائے اور علم حاصل کرے تو یقیناً وہ جس قدر دین کے حق سے استفادہ کیا ہے اس کے ساتھ اس شرافت کا بھی حامل رہے گا۔ اور جو شخص مشرف بہ اسلام نہ ہوگا تو یقیناً وہ اپنی شرافت کو برباد کردیا اور اپنے نسب کو ضائع کردیا۔ (مرقات)۔ 1 قوله: انسابكم هذه ليست بمسبة الخ (تمہارے یہ نسب کسی کو برا کہنے کا سبب نہیں ہیں) یعنی باہمی فضیلت نسب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی بنیاد پر ہے۔ (مرقات)۔ 2 قوله: الحسب المال الخ (حسب مال ہے) حسب کی شرح کرنے والے نے کہا: ”حسب“ وہ ہے کہ جس کو کوئی شخص اپنے باپ دادا کے قابل فخر کارنامے شمار کرتا ہے اور ”کرم“ (شرافت و بزرگی) ملامت کی ضد ہے۔ چنانچہ کہا گیا: اس کے معنی یہ ہیں کہ جس چیز کے ذریعہ آدمی لوگوں کے نزدیک بڑے رتبہ والا بنتا ہے، وہ مال ہے۔ اور جس چیز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑے رتبہ والا بنتا ہے، وہ تقویٰ ہے۔ اور باپ دادا پر ناز کرنا ان دونوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہے۔ (مرقات)۔ 1 قوله: انا ابن عبدالمطلب (میں عبدالمطلب کا فرزند ہوں) علامہ کرمانی فرماتے ہیں: اگر تم یہ کہو کہ آں حضرت ﷺ نے ایسی بات کیسے فرمائی جبکہ آپ نے آباء و اجداد پر فخر کرنے سے منع فرمایا ہے؟ تو میں کہوں گا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اشارہ ہے اس خواب کی طرف جس کو حضرت عبدالمطلب نے دیکھا اور قریش سے بیان کیا تھا، اور اس کی تعبیر یہ دی گئی تھی کہ ”جبلوں کو ایک لڑکا توڑے گا“ جو لوگوں کا سردار ہوگا، اور جس کے دشمن اس کے ہاتھوں سے ہلاک ہوں گے، اور یہ بات ان میں مشہور تھی، پس رسول اللہ ﷺ نے اس (ارشاد) سے اس خواب کے واقع کی یاد دہانی فرمائی تاکہ اس سے آپ کے ان صحابہ کی قوت تازہ دم ہو جائے جو پست ہمت ہوگئے تھے پھر وہ اس بھروسے کے ساتھ واپس آ جائیں کہ آخرکار فتح آپ کے لئے ہونے والی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ فخر کرنے سے منع کیا گیا ہے وہ کفار سے جہاد کے علاوہ دوسرے مواقع میں ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے موقع پر بڑائی جتانے کی اجازت عطا فرمائی ہے، جبکہ اس جنگ کے علاوہ دوسرے موقع پر اس سے آپ ﷺ کا منع کرنا ثابت ہے۔ اھ اور ملا علی قاری رحمة اللہ علیہ نے مرقات میں کہا: اور جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ مفاخرت (آپس میں فخر کرنا) کی دو قسمیں ہیں:

Hadith 4697

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6287
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے یہ نسب کسی کو برا1 کہنے کا سبب نہیں ہیں، تم سب آدم کے بیٹے ہو جس طرح ایک صاع دوسرے صاع کے برابر ہوتا ہے جس کو تم اونچا نہیں بھرتے ہو، کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ہے مگر دین اور تقویٰ کی وجہ سے۔ آدمی کے برے ہونے کے لئے کافی ہے کہ وہ بدزبان، بد اخلاق، اور بخیل ہو۔ (احمد، بیہقی: شعب الایمان)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4907 (unverified) 50% confidence

Mishkat (candidate) 4907

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

These lineages of yours are not a means of disparaging…

(1) His statement: “These lineages of yours are not a means of disparaging…”: meaning, superiority is not through lineage but through God-consciousness. [As stated in Al-Mirqat]

Note 1

قوله

(۱) قوله : أنسابكم هذه ليست بمسبة إلخ : يعني أن التفاضل ليست بالنسب، ولكن بالتقوى. كذا في «المرقاة».

Hadith 4698

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6288
سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدنا سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسب2 (یعنی دنیا والوں میں عزت کی چیز) مال ہے اور کرم (اللہ کے پاس عزت کی چیز) تقویٰ ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3271 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 4219 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Status is wealth…

(1) His statement: “Status is wealth…”: The commentator said: Status is what one counts as the glories of his ancestors, and nobility is the opposite of baseness. It means that what makes a man great in people’s eyes is wealth, and what makes him great with Allah is God-consciousness. Boasting about ancestors is neither. [As stated in Al-Mirqat]

Note 1

قوله

(۱) قوله: الحسب المال إلخ : قال شارح الحسب ما يعده من مفاخر آبائه، والكرم ضد اللؤم، فقيل : معناه الشيء الذي يكون به الرجل عظيم القدر عند الناس هو المال، والشيء الذي يكون به عظيم القدر عند الله التقوى، والافتخار بالآباء ليس بشيء منهما. كذا في «المرقاة».

Hadith 4699

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6289
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو قومیں اپنے باپ دادا پر جو مر چکے ہیں فخر کرتی ہیں وہ اس سے باز رہیں۔ وہ تو جہنم کا کوئلہ ہیں ورنہ اللہ کے پاس وہ گوبر کے اس کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے جو نجاست کو اپنی ناک سے ڈھکیلتا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا غرور اور باپ دادا پر جاہلی فخر کرنے کو ختم کر دیا ہے۔ اب صرف یہ ہے کہ وہ مومن متقی ہے یا بدکار و بدبخت ہے۔ لوگ سارے کے سارے آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے ہیں۔ (ترمذی، ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5116 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3955 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4700

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6290
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کہ جو آدمی اپنے آپ کو جاہلیت کی نسبت سے منسوب کرے تو تم اس کو اس کے باپ کی شرم گاہ کترواؤ اور کنایت مت کرو۔ (شرح السنہ)۔

Hadith 4701

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6291
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جنگ حنین کے موقع پر ابوسفیان بن حارث آپ کے خچر یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے جب مشرکین نے آپ کو گھیر لیا تو آپ سواری سے اتر گئے اور فرماتے جاتے: ”میں نبی ہوں“ ”جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب 1 کا بیٹا ہوں، راوی نے کہا: اس دن لوگوں میں سے کوئی بھی آپ جیسا بہادر نہیں دیکھا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2930 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

I am the son of Abdul-Muttalib

(1) His statement: “I am the son of Abdul-Muttalib”: Al-Kirmani said: If you ask how he said this when boasting about ancestors is prohibited, I say: It can be interpreted as referring to a vision Abdul-Muttalib saw, which he told Quraysh about, interpreted as him having a son who would lead people and destroy enemies through him, famous among them. The Messenger of Allah (ﷺ) reminded them of that vision to strengthen those who had fled among his companions, so they would return confident of ultimate victory. Another view is that prohibited boasting is outside jihad against disbelievers, as the Messenger of Allah (ﷺ) permitted arrogance in war while prohibiting it elsewhere. In Al-Mirqat, it is said: In summary, boasting is of two types: blameworthy and praiseworthy. The blameworthy is the pre-Islamic type of boasting about ancestors and lineages for fame and show. The praiseworthy combines lineage with religious status, not for show, but to manifest Allah’s blessings.

Note 1

قوله

(۱) قوله: أنا ابن عبد المطلب: قال الكرماني: فإن قلت: كيف قال هذا القول وقد نهى عن الافتخار في الآباء؟ قلت: يؤول بأنه إشارة إلى رؤيا كان رآها عبد المطلب، فأخبر بها قريشا، وعبرت بأنه سيكون له ولد يسود الناس، ويهلك أعداءه على يديه، وكان مشهورًا فيهم ، فذكرهم رسول الله الله به أمر تلك الرؤيا؛ ليقوي بذلك قوة من كان قد انهزم من أصحابه فيرجعوا واثقين أن سيكون الظفر في العاقبة له، والوجه الآخر أن يكون الافتخار المنهي عنه ما كان في غير جهاد الكفار، وقد رخص رسول الله ﷺ في الخيلاء في الحرب مع نهيه عنها في غير ذلك المقام. وقال في «المرقاة»: وتلخيص الجواب أن المفاخرة نوعان مذمومة ومحمودة، فالمذموم منها ما كان عليها الجاهلية من الفخر بالآباء والأنساب للسمعة والرياء، والمحمود منها ما ضم مع النسب الحسب في الدين، لا رياء، بل إظهارا لأنعمه تعالى عليه.

Hadith 4702

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6292
سیدنا عبدالرحمن بن ابی عقبہ سیدنا ابوعقبہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ اہل فارس کے غلام تھے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ اُحد میں حاضر تھا، میں نے مشرکین میں کے ایک آدمی کو مارا اور کہا: تو میری طرف سے اس ضرب کو لے کر جا اور میں فارسی غلام ہوں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: یہ کیوں نہیں کہا تو میری طرف سے اس مار کو لے اور میں انصار1 کی غلام ہوں۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5123 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

the Ansari youth

(1) His statement: “the Ansari youth”: meaning, if you boast when striking, attribute yourself to the Ansar, to whom I migrated and who supported me. Persians at that time were disbelievers, so he disliked attribution to them and commanded attribution to the Ansar, to associate with Muslims. [As stated in Al-Mirqat]

Note 1

قوله

(۱) قوله: أنا الغلام الأنصاري: أي إذا افتخرت عند الضرب فانتسب إلى الأنصار الذين هاجرت إليهم ونصروني، وكان فارس في ذلك الزمان كفار، فكره الانتساب إليهم، وأمره بالانتساب إلى الأنصار؛ ليكون منتسبا إلى أهل الإسلام. كذا في «المرقاة».

Hadith 4703

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6293
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ ایک صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر کہا: ”يا خير البرية“ اے ساری مخلوق میں سب سے بہتر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ابراہیم2 (علیہ السلام) ہیں۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2369a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

That is Abraham

(1) His statement: “That is Abraham”: An-Nawawi said: There are interpretations. One: He said this humbly and respectfully toward Abraham, due to his friendship and fatherhood; otherwise, our Prophet is as he said: “I am the master of Adam’s children, no boast.” Second: He said this before knowing he was the master of Adam’s children, as virtues are granted by Allah to whom He wills, so he informed of Abraham’s virtue until he knew his own superiority and informed of it. Third: It means he is the best of his era’s creation, using an expression implying generality for greater humility. I say: It permits differentiation among prophets (peace be upon them). I say: There is no indication of that in any of the three interpretations. Our Prophet’s superiority is established by authentic, explicit proofs nearly definitive or consensual, including Muslim and Abu Dawud’s Hadith: “I am the master of Adam’s children on the Day of Resurrection, the first whose grave splits, the first intercessor, and the first accepted.” And Ahmad, At-Tirmidhi, and Ibn Majah from Abu Sa’id: “I am the master of Adam’s children on the Day of Resurrection, no boast; in my hand is the banner of praise, no boast; no prophet that day, Adam or otherwise, but under my banner; I am the first the earth splits for, no boast; I am the first intercessor and accepted, no boast.” And At-Tirmidhi from Abu Hurairah: “I am the first the earth splits for, clothed in a garment from Paradise’s garments, then I stand at the Throne’s right, a position no creature stands but me.” And the like, indicating his mastery and greater felicity. It seems apparent that “I am the master of Adam’s children” came after “That is Abraham,” as the qualities on the Day of Resurrection cannot be in an inferior. Abrogation does not apply to reports. Some of our scholars’ commentators said: Interpret the Hadith as humility to align with Hadiths of his superiority over all humanity, and that Abraham is called by this title as a proper name like “the Friend,” so he said: “That is Abraham,” meaning the one called by this name is Abraham, to honor him without sharing. Thus, “best of creation” refers to the created excluding the uncreated, not generally including the Prophet. He is excluded either narratively, as mentioned, or rationally, as the speaker is not included in his command or report per some principles. Allah knows best. [As stated in Al-Mirqat]

Note 1

قوله

(۱) قوله: ذاك إبراهيم قال النووي فيه وجوه، أحدها: أنه قال هذا تواضعا واحتراما لإبراهيم ال؛ الخلته وأبوته، وإلا فنبينا كما قال : أنا سيد ولد آدم، ولا فخر. وثانيها: أنه قال: هذا قبل أن يعلم أنه سيد ولد آدم، فإن الفضائل يمنحها الله تعالى لمن يشاء، فأخبر بفضيلة إبراهيم عليه إلى أن علم تفضيل نفسه، فأخبر به، وثالثها: أن المراد به أنه أفضل برية عصره، فأطلق العبارة الموهمة للعموم؛ لأنه أبلغ في التواضع. قلت: ومآل هذا يرجع إلى الأول مع أن كون كل منهما أفضل برية عصره ليس فيه مزيد مزية، قال: وفيه جواز التفاضل بين الأنبياء عليهم السلام قلت: لا دلالة عليه في كل من الوجوه الثلاثة. نعم أفضلية نبينا ثابتة بأدلة صحيحة صريحة كاد أن تكون المسألة قطعية، بل إجماعية منها حديث مسلم، وأبي داود: أنا سيد ولد آدم يوم القيامة، وأول من ينشق عنه القرب، وأول شافع، وأول مشفع ومنها: حديث الإمام أحمد والترمذي وابن ماجه عن أبي سعيد: أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر، وبيدي لواء الحمد ولا فخر، وما من نبي يومئذ آدم، فمن سواه إلا تحت لوائي، وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر، وأنا أول شافع وأول مشفع ولا فخر ومنها: حديث الترمذي عن أبي هريرة أنا أول من تنشق عنه الأرض فأكسى حلة من حلل الجنة، ثم أقوم عن يمين العرش ليس أحد من الخلائق يقوم ذلك المقام غيري . وأمثال ذلك من الأحاديث كثيرة صحيحة شهيرة مما يدل على سيادته وزيادته في سعادته، وفي الأحاديث المسطورة إشعار بتأخير قوله: أنا سيد ولد آدم عن قوله: ذاك هو إبراهيم؛ لأن الأوصاف المذكورة يوم القيامة لا تتصور أن تكون في المفضول مع أن النسخ لا يوجد في الأخبار هذا ، وقد قال بعض الشراح من علماءنا: يحمل الحديث على أنه قاله تواضعا؛ ليوافق الأحاديث الدالة على فضله على سائر البشر، وعلى أن إبراهيم كأنه يدعى بهذا النعت حتى صار علما له كالخليل، فقال: ذاك إبراهيم أي المدعو بهذه التسمية إبراهيم إجلالاً له، يعني من التشريك، فيكون معنى خير البرية» راجعا إلى من خُلِقَ دون من لم يخلق بعد، ولم يكن ذكر البرية» على العموم فلم يدخل النبي، في غمارهم. وحاصله أنه مستثنى منهم إما بطريق النقل، وهو ما ذكرنا، وإما بطريق العقل، فإن المتكلم عند بعض الأصوليين غير داخل في أمره وخبره، والله أعلم. كذا في «المرقاة».

Note 1

اور امام نووی نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات آپ کے سید ولد آدم ہونے کے علم سے سرفرازی سے پہلے فرمائی۔

Hadith 4704

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6294
سیدنا مطرف بن عبداللہ بن شخیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ میں قبیلہ بنی عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، ہم نے کہا: آپ ہمارے آقا سردار ہیں، تو آپ نے فرمایا: حقیقی آقا و سردار تو اللہ 1 ہے تو ہم نے عرض کیا: تو آپ ہم سب میں فضیلت میں افضل اور جود و کرم میں ہم سب میں عظیم ترین ہیں، تو آپ نے فرمایا: تم اپنی یہ بات بولو یا اس میں کی اپنی کوئی بات اور شیطان تم کو جری نہ بنائے۔ (احمد، ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4806 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The Master is Allah

(1) His statement: “The Master is Allah”: In Al-Mirqat, it is said: This magnifies his Lord and humbles himself, directing the matter to reality, observing Shariah and spiritual etiquettes—meaning the one who controls creatures’ affairs, nurtures, and governs them is Allah, Exalted is He. This does not contradict his metaphorical, relative mastery specific to humans, as he said: “I am the master of Adam’s children, no boast,” meaning not boasting but recounting Allah’s blessing and informing as commanded. Otherwise, Bukhari narrated from Jabir that Umar said: “Abu Bakr is our master and freed our master,” meaning Bilal. Relative to Bilal, it is humility. Allah knows best.

Note 1

قوله

(۱) قوله : فقال : السيد الله : قال في «المرقاة»: فيه تعظيم ربه وتواضع نفسه، فحول الأمر فيه إلى الحقيقة مراعاة لآداب الشريعة والطريقة أي الذي يملك نواصي الخلق ويتولاهم ويَسُوسُهم هو الله سبحانه. وهذا لا ينافي سيادته المجازية الإضافية المخصوصة بالأفراد الإنسانية حيث قال : أنا سيد ولد آدم ولا فخر، أي لا أقول افتخارا، بل تحدثا بنعمة الله وإخبارا بما أمرني الله ، وإلا فقد روى البخاري عن جابر أن عمر كان يقول : أبو بكر سيدنا وأعتق سيدنا يعني بلالا، وهو بالنسبة إلى بلال تواضع، والله أعلم.

Note 1

اور حضرت تورپشتی نے کہا: کہ اس سے حضور علیہ السلام کو مخاطب کرنے میں یہ قوم اپنے اس طریقہ کو اختیار کیا کہ جس کے مطابق وہ اپنے قبائل کے سرداروں کے ساتھ پیش آیا کرتی تھی، کیونکہ یہ لوگ ان (سرداروں) کو اس جیسے خطاب سے مخاطب کرتے تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اس لئے ناپسند فرمایا کہ آپ کا حق یہ ہے کہ آپ کو نبی اور رسول کے ذریعہ خطاب کریں کیونکہ وہی (نبوت و رسالت) ایک ایسا مرتبہ ہے کہ انسانوں میں سے کسی کے لئے اس سے اونچا کوئی مرتبہ نہیں ہے۔

Hadith 4705

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6295
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے ایسا مت 1 بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے ابن مریم (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) کو بڑھایا کیونکہ میں تو اس کا بندہ ہی ہوں پس تم عبداللہ اور اس کے رسول یعنی رسول اللہ بولو۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3445 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Do not extol me…

(1) His statement: “Do not extol me…”: Its implication is that extolling him differently from theirs is permissible. How well the author of Al-Burdah said: “Leave what the Christians claim about their prophet… and judge as you wish in praise of him and decide.” [As stated in Al-Mirqat]

Note 1

قوله

(۱) قوله: لا تطروني إلخ : مفهومه أن إطراءه من غير جنس إطرائهم جائز ، والله در صاحب البردة حيث قال: دع ما ادعته النصارى في نبيهم ........ واحكُمْ بِما شِئتَ مَدحًا فيه واحْتَكِمْ كذا في «المرقاة».

Hadith 4706

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6296
سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی بھیجی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر بغاوت (زیادتی) کرے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2865d (unverified) 93% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 4898 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 4898

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4707

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6297
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عصبیت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: (عصبیت یہ ہے کہ) تم ظلم کے باوجود اپنی قوم کی مدد کرو۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5118 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4708

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6298
عبادہ بن کثیر شامی، جو اہل فلسطین میں سے ہیں، ان ہی میں کی ایک خاتون سے جن کو فسیلہ کہا جاتا ہے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا اور کہا: یا رسول اللہ! کیا یہ بات عصبیت (بے جا طرفداری) میں سے ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت کرے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن عصبیت یہ ہے کہ آدمی ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے۔ (احمد، ابن ماجہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3949 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4709

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6299
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو آدمی ناحق کام پر اپنی قوم کی مدد کرے وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو گر جائے تو اسکو اسکی دم 1 پکڑ کر کھینچا جا رہا ہو۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5117 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

pulled by its tail

(1) His statement: “pulled by its tail”: meaning, grabbing its tail; it does not escape the well by being pulled by the tail, meaning such protection does not benefit him, as it is unjust. [As stated in Badhl Al-Majhud]

Note 1

قوله

(۱) قوله: فهو ينزع بذنبه أي بأخذ ذنبه فهو لا يخرج من البير بإخراجه بأخذ الذنب يعني لا ينفعه هذه الحماية؛ لكونه على غير حق. كذا في بذل المجهود».

Hadith 4710

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6300
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم میں سے نہیں ہے وہ آدمی جو عصبیت 2 کی طرف بلائے اور ہم میں سے نہیں ہے وہ آدمی جو عصبیت کی بناء پر لڑائی کرے، اور ہم میں سے نہیں ہے وہ آدمی جو عصبیت 3 پر انتقال کرے۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5121 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

who calls to fanaticism

(1) His statement: “who calls to fanaticism”: meaning, gathers them for it to aid in falsehood and oppression. [As stated in Badhl Al-Majhud]

Note 2

dies upon fanaticism

(2) His statement: “dies upon fanaticism”: meaning, with it embedded in his heart and desired by him, even if he calls no one and fights no one for it. [As stated in Badhl Al-Majhud]

Note 1

قوله

(۱) قوله: من دعا إلى عصبية: أي جمعهم إليها ليعينوه على الباطل والظلم. قاله في بذل المجهود».

Note 2

قوله

(۲) قوله: من مات على عصبية والمراد بالموت عليها بأن يكون مضمرة في قلبه ومرغوبة عنده، وإن لم يدع أحدا ولم يقاتل فيه أحدا. كذا في بذل المجهود».

Hadith 4711

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6301
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا، پس آپ نے فرمایا: تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو اپنے خاندان کی طرف سے مدافعت کرتا ہے جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ کرے۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5120 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 4712

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6302
سیدنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا اندھا اور بہرا بنا دیتا ہے۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 5130 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.