ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ پر اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے 1
اور جو شخص اللہ پر اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔ اور جو شخص اللہ پر
اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے 1 یا خاموش رہے۔
اور ایک روایت میں پڑوسی کے بجائے یہ ہے جو شخص اللہ پر اور آخری دن پر
ایمان رکھتا ہو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ (متفق علیہ)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Should honor his guest
(1) The statement: “Should honor his guest”: The majority of scholars say hospitality is a Sunnah, not obligatory, and its obligation was abrogated, per al-Tahawi. Honoring a guest involves a cheerful demeanor and kind words. Hospitality is for three days: the first with what one can afford, the rest with what is available without burden, to avoid hardship for the host or themselves. After three days, it becomes charity, which is optional. Al-Dawudi said: Increase hospitality beyond what you provide for your family. Al-Kirmani said: Why mention these three matters? This is from the concise words, as they are the foundations: the third refers to speech, the first two to actions—the second to avoiding vices, the first to adopting virtues. One who reveres Allah’s command must show compassion to His creation, either by speaking good or staying silent from evil, or by doing what benefits and avoiding harm, per “Umdat al-Qari” and “Al-Mirqat.”
Note 2
Speak good or remain silent
(2) The statement: “Speak good or remain silent”: If one intends to speak, they should say what is good, whether obligatory or recommended, to earn reward. If its goodness is unclear—whether forbidden, disliked, or permissible—they should refrain, as permissible speech is to be avoided lest it leads to the forbidden, per “Al-Mirqat.”
Note 1
قوله
(١) قوله: فليكرم ضيفه: قال الجمهور: الضيافة سنة، وليست بواجبة. وقد كانت واجبة فنسخ وجوبها. قاله الطحاويوقالوا: وإكرام الضيف بِطَلَاقةِ الوجه وطيب الكلام، والإكرام ثلاثة أيام، في الأول بمقدوره وميسوره،والباقي بما حضره من غير تكلف؛ لئلا يثقل عليه وعلى نفسه، وبعد الثلاثة يعد من الصدقة، إن شاء فعل وإلا فلا.وقال الداودي: يزيد في إكرامه على ما كان يفعل في عياله. قال الكرماني: فإن قلت: ما وجه ذكر هذه الأمور الثلاثة؟قلت: هذا الكلام من جوامع الكلم؛ لأنها هي الأصول؛ إذ الثالث منها إشارة إلى القولية والأوّلان إلى الفعلية. الثاني:منهما إلى التخلية عن الرذائل، والأول إلى التحلية بالفضائل، يعني من كان له صفة التعظيم لأمر اللّٰه لا بُدَّ له أن يتصفبالشفقة على خلق اللّٰه عز وجل، إما قولًا بالخير أو سكوتًا عن الشر، وإما فعلًا لما ينفع، أو تركًا لما يضر،(عمدةالقاري) و (المرقاة) ملتقط منهما.
Note 2
قوله
(٢) قوله: فليقل خيرا أو ليصمت: يعني إذا أراد أن يتكلم، فإن كان ما يتكلم به خيرا يثاب عليه واجبًا كان أو مندوبًافليتكلم به، وإن لم يظهر له خيره سواء ظهر أنه حرام أو مكروه أو مباح. قوله: فليمسك عنه: فالكلام المباح مأموربتركه مخافة انجراره إلى الحرام. كذا في (المرقاة).
ابوشریح کعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص
اللہ پر اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے 2 اس کے لئے عمدہ
اہتمام ایک دن ایک رات ہے اور مہمانی تین دن ہے اور اس کے بعد وہ صدقہ ہے اور اس کیلئے یہ حلال
نہیں ہے کہ اس کے پاس وہ اس قدر قیام کرے کہ اس کو حرج میں ڈال دے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6135 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 48a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Should honor his guest, etc.
(1) The statement: “Should honor his guest, etc.”: Al-Zarqani said: The command to honor is for recommendation, as hospitality is a noble trait, not obligatory, since “due” (ja’izah) implies kindness, per al-Tahawi, Ibn Battal, and Ibn Abdul Barr. Al-Layth and Ahmad said hospitality is obligatory for one night, based on the hadith: “The guest’s night is obligatory on every Muslim.” The majority responded that this was early in Islam when mutual support was obligatory, or it applies to those in dire need, per “Al-Ta’liq al-Mumajjad.”
Note 1
قوله
(١)قوله: فليكرم ضيفه إلخ: قال الزرقاني: الأمر بالإكرام للاستحباب عند الجمهور؛ لأن الضيافة من مكارم الأخلاقلا واجبة؛ لقوله: جائزة، والجائزة تفضل وإحسان، هكذا استدل به الطحاوي وابن بطال وابن عبد البر. وقال الليثوأحمد: تجب الضيافة ليلة واحدة؛ للحديث المرفوع: (ليلة الضيف واجبة على كل مسلم). وأجاب الجمهور عن هذاوما أشبهه أن هذا كان
في صدر الإسلام حين كانت المواساة واجبة، وبأنه محمول على ضيافة المضطرين. كذا في(التعليق الممجّد).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا سنت طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے مہمان کے ساتھ گھر کے دروازے تک نکلے۔3
ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ان سے اور حضرت ابن عباس رضی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 3358 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Accompany his guest to the door
(2) The statement: “Accompany his guest to the door”: This appears to be an additional act of honoring, per “Al-Mirqat.”
Note 2
قوله
(٢) قوله: يخرج الرجل مع ضيفه إلى باب الدار: والظاهر أن هذا من باب زيادة الإكرام. كذا في (المرقاة).
Note 1
اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور انھوں نے کہا کہ اس کی سند میں ضعف ہے اور ملا علی قاری نے کہا: متعدد
سندوں سے اس ضعف کی تلافی ہوجاتی ہے۔
علاوہ ازیں یہ حدیث فضائل اعمال سے ہے۔ اور طحاوی رحمہ اللہ نے کہا: عقبہ کی حدیث
”فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ“ (تم ان سے مہمان کا حق لو) اور اس جیسا حکم ابتداء اسلام میں تھا۔
اور وہ منسوخ ہوگیا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انھوں نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس گھر میں کھانا کھایا جاتا ہے اس گھر میں بھلائی اونٹ کے کوہان کی طرف
چھری جانے سے بڑھ کر تیزی سے پہنچتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم ایک دن یا ایک رات باہر تشریف لائے تو اچانک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات ابوبکر
اور عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے اس وقت اپنے گھروں
سے نکلنے کا سبب کیا ہے؟ انھوں نے کہا بھوک۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات
کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ مجھے بھی وہی چیز لائی ہے جو تم دونوں کو لائی ہے۔ تم
اُٹھو چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان
دونوں کے ساتھ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں
نہیں تھے۔ پس جس وقت ان کی بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو بولیں مرحبا و اہلا
(خوش آمدید یہ آپ کا گھر ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا فلاں (صاحب)
کہاں ہیں۔ وہ عرض کیں۔ وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لانے کیلئے گئے ہیں۔ اتنے میں انصاری صحابی
آگئے پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے دو ساتھیوں کو دیکھے پھر الحمد للہ کہے کہ آج
اللہ کے پاس کوئی بھی مجھ سے بڑھ کر معزز و مکرم مہمان والا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا، پس وہ گئے اور ان
کی خدمت میں ایک خوشہ لائے جس میں گدرے پکے اور تازہ کھجور تھے۔ اور عرض کیا: اس میں سے
آپ تناول فرمائیں اور چھری لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تم دودھ دینے
والی بکری سے دور رہو پھر وہ ان کے لئے ذبح کئے تو وہ حضرات اس بکری اور اس خوشے میں سے
تناول فرمائے اور نوش فرمائے۔ جب وہ سب شکم سیر اور سیراب ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و
سلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری
جان ہے قیامت کے دن تم سے ضرور ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا بھوک تم کو تمہارے
گھروں سے نکالی پھر تم واپس نہیں ہوئے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمت ملی۔ (مسلم)۔
ابو عسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم ایک رات میں نکلے اور آپ میرے پاس سے گذرے اور مجھ کو بلائے چنانچہ میں آپ کی
خدمت میں حاضر ہوا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کے پاس سے گذرے اور ان کو بلائے چنانچہ
وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر کے پاس سے گذرے اور ان کو
بلائے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے
یہاں تک کہ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے فرمایا: تم ہمیں گدرے
کھجور کھلاؤ۔ چنانچہ وہ ایک خوشہ لائے اور اس کو رکھ دیئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں نے تناول فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھنڈا پانی طلب
فرمائے اور نوش فرمائے اور ارشاد فرمایا بروز قیامت ان نعمتوں کے بارے میں تم سے پوچھا جائے
گا۔ راوی نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوشہ لیا اور اس کو زمین پر مارا، یہاں تک کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب گدرے کھجور جھڑے۔ پھر عرض کیا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و
سلم کیا ہم کو قیامت کے دن اس کے بارے میں بھی پوچھا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
ہاں: مگر تین چیزوں کے متعلق کپڑے کا وہ ٹکڑا جس کے ذریعہ آدمی اپنے شرم کے حصے کو لپیٹ لیتا ہے۔
2] یا روٹی کا وہ ٹکڑا جس کے ذریعہ وہ اپنی بھوک مٹاتا ہے۔ یا وہ سوراخ (مختصر مکان)
جس میں آدمی گرمی اور سردی (سے بچاؤ کیلئے) بمشکل داخل ہوتا ہے۔ (احمد، شعب الایمان للبیہقی)۔
انس رضی اللہ عنہ سے یا ان کے سوا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس اجازت چاہی اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ فرمایا پس سعد
نے وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انھوں نے نہیں سنایا یہاں تک
کہ آپ نے تین مرتبہ سلام فرمایا اور سعد رضی اللہ عنہ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جواب عرض
کئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں سنایا پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس ہوگئے تو سعد آپ
کے پیچھے گئے اور عرض کئے: یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کے ہر مرتبہ کا سلام میرے
کان میں پہنچا خدا کی قسم یقیناً میں نے آپ کا جواب عرض کیا اور میں آپ کو نہیں سنایا اور میں چاہا کہ
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بکثرت سلام وبرکت حاصل کروں پھر وہ سب گھر میں داخل ہوئے
چنانچہ انھوں نے آپ کے لئے کشمش پیش کیا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تناول فرمائے پس
جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ
عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ“۔ (نیک لوگ تمھارا کھانا کھائیں اور فرشتے تمھارے حق میں رحمت کی دعا کریں
اور تمھارے پاس روزوں دار افطار کریں)۔ (شرح السنۃ)۔
ابوالاحوص جشمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے کہا: میں نے
عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ بتائیے اگر میں کسی آدمی کے پاس سے گذروں اور نہ
وہ مجھے مہمان بنائے نہ وہ میری ضیافت کرے پھر اس کے بعد وہ میرے پاس سے گذرے تو کیا میں
اس کی ضیافت کروں یا اس کا بدلہ لوں آپ نے فرمایا: بلکہ تم اس کی ضیافت کرو۔ 1 (ترمذی)۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
آپ نے فرمایا: مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی مثال ہے جو اپنی رسی میں گھومتا ہے پھر
اپنی رسی کی طرف لوٹ کر آتا ہے اور بلاشبہ مومن بھولتا ہے پھر وہ ایمان کی طرف لوٹ کر آتا ہے۔ پس
تم اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور اپنا سلوک مومنین کے ساتھ کرو۔ (شعب الایمان للبیہقی، حلیہ ابونعیم)۔
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کا ایک پیالہ تھا جس کو چار آدمی اُٹھاتے تھے۔ جس کو غراء کہا جاتا تھا۔ پس جب وہ چاشت
کے وقت میں داخل ہوئے اور چاشت کی نماز پڑھے تو آپ کی خدمت میں وہ پیالہ لایا گیا اس حال میں
کہ اس میں ثرید بنی ہوئی تھی وہ اس پر جمع ہوگئے اور جب وہ زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و
سلم دوزانو بیٹھے چنانچہ ایک دیہاتی نے کہا: یہ بیٹھک کیسی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
کہ اللہ مجھ کو کرم والا بندہ بنایا اور سرکش و متکبر نہیں بنایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے
اطراف سے کھاؤ اور اس کے درمیانی حصہ کو چھوڑ دو اس میں برکت ہوگی۔ (ابوداؤد)۔
وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم
کھاتے ہیں اور شکم سیر نہیں ہوتے۔ آپ نے فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہوں گے تو انہوں نے
عرض کیا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پس تم مل کر کھاؤ اور اللہ کا نام لو تمہارے لئے اس میں
برکت ہوگی۔ (ابوداؤد)۔
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب مل کر ایک ساتھ کھاؤ اور الگ الگ،
متفرق طور پر مت کھاؤ کیونکہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور ملا علی قاری نے کہا: البتہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ”لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا
جَمِيعًا أَوْ أَشْتَاتًا ”۔ (24 سورۃ النور، آیت نمبر:61) (تم پر کوئی حرج نہیں یہ کہ تم مل کر کھاؤ یا الگ
الگ کھاؤ) اجازت پر محمول ہے جب یا آدمی تنہا ہو تو اس سے حرج دور کرنے کیلئے ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم نے فرمایا: جب دسترخوان بچھایا جائے تو کوئی آدمی نہ اُٹھے یہاں تک کہ دسترخوان اُٹھا لیا
جائے اور اپنے ہاتھ کو بھی نہ اُٹھائے اگرچہ وہ شکم سیر ہو جائے یہاں تک کہ قوم فارغ ہو جائے اور
چاہئے کہ وہ عذر پیش کرے کیونکہ یہ اس کے ہمنشین کو شرمندہ کر دے گا اور وہ اپنا ہاتھ روک لے گا ہو سکتا ہے
اس کو کھانے کی حاجت ہو۔ (ابن ماجہ، شعب الایمان للبیہقی)۔
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی قوم کے ساتھ کھاتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانے میں سب سے
اخیر تک رہتے۔
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھانا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم پر پیش کئے ہم نے کہا اس کی
خواہش ہم نہیں رکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بھوک اور جھوٹ پر جمع مت ہو۔
(ابن ماجہ)۔
Commentary and footnotes (4)
Note 1
(1) The statement: “Should honor his guest”: The majority of scholars say hospitality is a Sunnah, not obligatory, and its obligation was abrogated, per al-Tahawi. Honoring a guest involves a cheerful demeanor and kind words. Hospitality is for three days: the first with what one can afford, the rest with what is available without burden, to avoid hardship for the host or themselves. After three days, it becomes charity, which is optional. Al-Dawudi said: Increase hospitality beyond what you provide for your family. Al-Kirmani said: Why mention these three matters? This is from the concise words, as they are the foundations: the third refers to speech, the first two to actions—the second to avoiding vices, the first to adopting virtues. One who reveres Allah’s command must show compassion to His creation, either by speaking good or staying silent from evil, or by doing what benefits and avoiding harm, per “Umdat al-Qari” and “Al-Mirqat.”
Note 2
(2) The statement: “Speak good or remain silent”: If one intends to speak, they should say what is good, whether obligatory or recommended, to earn reward. If its goodness is unclear—whether forbidden, disliked, or permissible—they should refrain, as permissible speech is to be avoided lest it leads to the forbidden, per “Al-Mirqat.”
Note 1
(١) قوله: فليكرم ضيفه: قال الجمهور: الضيافة سنة، وليست بواجبة. وقد كانت واجبة فنسخ وجوبها. قاله الطحاويوقالوا: وإكرام الضيف بِطَلَاقةِ الوجه وطيب الكلام، والإكرام ثلاثة أيام، في الأول بمقدوره وميسوره،والباقي بما حضره من غير تكلف؛ لئلا يثقل عليه وعلى نفسه، وبعد الثلاثة يعد من الصدقة، إن شاء فعل وإلا فلا.وقال الداودي: يزيد في إكرامه على ما كان يفعل في عياله. قال الكرماني: فإن قلت: ما وجه ذكر هذه الأمور الثلاثة؟قلت: هذا الكلام من جوامع الكلم؛ لأنها هي الأصول؛ إذ الثالث منها إشارة إلى القولية والأوّلان إلى الفعلية. الثاني:منهما إلى التخلية عن الرذائل، والأول إلى التحلية بالفضائل، يعني من كان له صفة التعظيم لأمر اللّٰه لا بُدَّ له أن يتصفبالشفقة على خلق اللّٰه عز وجل، إما قولًا بالخير أو سكوتًا عن الشر، وإما فعلًا لما ينفع، أو تركًا لما يضر،(عمدةالقاري) و (المرقاة) ملتقط منهما.
Note 2
(٢) قوله: فليقل خيرا أو ليصمت: يعني إذا أراد أن يتكلم، فإن كان ما يتكلم به خيرا يثاب عليه واجبًا كان أو مندوبًافليتكلم به، وإن لم يظهر له خيره سواء ظهر أنه حرام أو مكروه أو مباح. قوله: فليمسك عنه: فالكلام المباح مأموربتركه مخافة انجراره إلى الحرام. كذا في (المرقاة).