Talq ibn Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If one of you passes wind during prayer, let him leave, perform ablution, and repeat the prayer." [Narrated by Abu Dawud while Al-Tirmidhi narrated it with additions and omissions]
Ali Al-Qari said: The command to repeat the prayer is obligatory if the occurrence was intentional. However, if it was involuntary, the command is for recommendation, as it is better to avoid disagreement.
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کی نماز میں (عمداً) ریح خارج ہو جائے تو اس پر وضوء
کر کے از سر نو شروع سے نماز پڑھنا واجب ہے، اگر بغیر ارادہ کے خود بخود ریح نکلے تو اس کو وضوء
کر کے از سر نو نماز پڑھنا مستحب ہے اور جس قدر نماز پڑھ لیا ہے اس پر بناء کرنا بھی جائز ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی کسی قدر زیادتی اور کمی کے ساتھ اس کی
روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 205 (unverified) 94% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1164 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کے ترجمہ میں جو قیود مذکور ہیں، مرقات سے ماخوذ ہیں اور ان سے مقصود یہ
ہے کہ اوپر کی حدیثیں جن میں حدث ہونے پر نماز کے بنا کا حکم ہے، اور یہ حدیث جس میں حدث ہونے
پر نماز کو شروع سے لوٹانے کا حکم ہے، تطبیق ہو جائے اور وہ اس طرح کہ اوپر کی حدیثیں جن میں نماز کے
بنا کا حکم ہے ان کو غیر اختیاری حدث سے متعلق کیا جائے اور اس حدیث کو جس میں نماز کے لوٹانے کا
حکم ہے، حدث اختیاری اور غیر اختیاری دونوں سے متعلق کیا جائے۔ اس حدیث کو دونوں صورتوں یعنی
اختیاری اور غیر اختیاری حدث سے اس طرح متعلق کیا جائے گا کہ اگر حدث اختیاری ہو تو نماز کو لوٹانا
واجب ہے اور اگر حدث غیر اختیاری ہے تو نماز کا لوٹانا مستحب یعنی افضل ہے۔ (یہ مضمون کچھ زیادتی
کے ساتھ مرقات سے ماخوذ ہے۔)
Ata ibn Yasar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said Takbir in one of the prayers, then gestured to the people to wait. He left and returned with traces of water on his skin, then resumed the prayer. [Narrated by Muhammad in "Al-Muwatta"]
Muhammad said: "This is the ruling we follow. If someone is afflicted with an occurrence during prayer, there is no harm in leaving without speaking, performing ablution, and resuming the prayer. However, it is better to speak, perform ablution, and start the prayer anew."
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نمازوں میں کسی ایک نماز کو تکبیر تحریمہ کہہ کر شروع فرمائے (پھر حدث ہونے پر) اپنے دست مبارک
سے صحابہ کو اشارہ فرمایا (جس کا مفہوم یہ تھا کہ ٹھیرے رہو) اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
مصلی سے چلے گئے پھر (وضوء فرما کر) ایسی حالت میں واپس ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلد
مبارک پر پانی کا اثر تھا پھر آپ نے (بناء کر کے) نماز پڑھائی۔ (یعنی تکبیر تحریمہ کہے بغیر جہاں سے
نماز چھوڑی تھی وہیں سے نماز شروع فرما کر نماز کی تکمیل فرمائی۔) اس کی روایت امام محمد نے موطاء
میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Muwatta Malik 111 (unverified) 30% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1) امام محمد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم اسی حدیث سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ جس کسی کا وضوء
نماز کی حالت میں ٹوٹ جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ نماز کی جگہ سے ہٹ جائے اور بات نہ
کرے اور وضوء کر کے جو کچھ نماز پہلے پڑھ چکا ہے اسی پر بناء کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور
افضل یہ ہے کہ بات کر لے اور وضوء کر کے نماز کو از سر نو شروع سے پڑھے۔
ف(2) ردالمحتار میں لکھا ہے کہ امام کو نماز میں حدث ہو جائے اور پانی مسجد میں موجود ہو تو وہ
نمازیوں کو اشارہ سے ٹھہرا کر کسی کو خلیفہ بنائے بغیر نماز کی جگہ سے ہٹ کر وضو کرے اور واپس آ کر بناء
کر کے باقی ماندہ نماز کی تکمیل کرے اور اگر پانی مسجد میں موجود نہ ہو تو امام کسی کو خلیفہ بنا کر خود وضوء کے
لئے چلا جائے لیکن امام کے لئے خواہ پانی مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو نماز میں حدث ہونے پر ہر
حالت میں وضوء کے لئے جانے کے واسطے کسی کو خلیفہ بنا لینا افضل ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "If one of you has an occurrence during prayer, let him hold his nose and then leave."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہے کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سے کوئی نماز پڑھے اور نماز میں اس کا وضوء ٹوٹ جائے تو وہ اپنی
ناک پکڑ لے (تا کہ لوگوں کو خیال ہو کہ اسے نکسیر آئی ورنہ ممکن ہے کہ وہ شرم کی وجہ سے وضوء ہی نہ
کرے اور بلا وضوء ہی نماز پڑھے) پھر نماز کی جگہ سے ہٹ جائے۔(اور وضوء کر کے بنا کرے۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Ali (may Allah be pleased with him) said: "If a man is leading people in prayer and feels the need to pass wind, vomit, or has a nosebleed, let him place his garment over his nose, take the hand of one of the people, and let him lead."
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ جب کسی نے
لوگوں کی امامت کی اور اپنے پیٹ میں تکلیف کا احساس کیا یا ⟦?⟧ کی آمد کا احساس ہوا یا نکسیر کے چھوٹ
جانے کا یقین ہوا تو اپنی ناک پر کپڑا رکھ لے اور مقتدیوں میں سے کسی کے ہاتھ کو پکڑ لے اور اس کو
آگے بڑھاوے۔(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
ف: عمدۃ الرعایۃ میں بنایہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جب امام کو مقتدیوں میں سے کسی کو خلیفہ
بنانے کی ضرورت پیش آئے تو مقتدی کو اپنی جگہ لے جانے کے لئے بات کے بغیر اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچے
یا ہاتھ سے اشارہ کرے اور اشارہ سے ہی اس کو اپنی باقی ماندہ نماز کی اطلاع کرے اور اگر خلیفہ بناتے
وقت بات کر لی تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If one of you has an occurrence while sitting at the end of the prayer before saying the Taslim, his prayer is valid." [Narrated by Al-Tirmidhi]
Ali Al-Qari said: This hadith has multiple chains, as mentioned by At-Tahawi. Multiple chains elevate a weak hadith to the level of Hasan. Ibn Al-Humam said: The statement of those who say a hadith is not authentic does not negate its validity, as evidence does not depend on authenticity alone; Hasan is sufficient.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اخیر نماز میں قعدہ اخیرہ (بقدر التشہد بیٹھنے
کے بعد) سلام پھیرنے سے قبل عمداً وضو توڑ دے تو اس کی نماز ہوگئی (اس واسطے کہ اپنے فعل سے
نماز سے باہر آنا فرض ہے، اور یہاں مصلّی عمداً حدث کر کے اپنے فعل سے باہر ہو گیا ہے اور اس کے
ذمہ کوئی فرض و واجب باقی نہ رہا اس لئے اس کی نماز ہوگئی۔)
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث کے ترجمہ میں جو قیود مذکور ہیں، مرقات سے ماخوذ ہیں اور ان سے مقصود یہ ہے کہ اوپر کی حدیثیں جن میں حدث ہونے پر نماز کے بنا کا حکم ہے، اور یہ حدیث جس میں حدث ہونے پر نماز کو شروع سے لوٹانے کا حکم ہے، تطبیق ہو جائے اور وہ اس طرح کہ اوپر کی حدیثیں جن میں نماز کے بنا کا حکم ہے ان کو غیر اختیاری حدث سے متعلق کیا جائے اور اس حدیث کو جس میں نماز کے لوٹانے کا حکم ہے، حدث اختیاری اور غیر اختیاری دونوں سے متعلق کیا جائے۔ اس حدیث کو دونوں صورتوں یعنی اختیاری اور غیر اختیاری حدث سے اس طرح متعلق کیا جائے گا کہ اگر حدث اختیاری ہو تو نماز کو لوٹانا واجب ہے اور اگر حدث غیر اختیاری ہے تو نماز کا لوٹانا مستحب یعنی افضل ہے۔ (یہ مضمون کچھ زیادتی کے ساتھ مرقات سے ماخوذ ہے۔)