عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشاب لگ جانے کے متعلق سوال کیا، ارشاد فرمایا کہ جب تم کو کچھ پیشاب
لگ جائے تو اس کو دھو ڈالو، اس لئے کہ میں خیال کرتا ہوں کہ عذاب قبر اس کی وجہ سے ہوا کرتا ہے
(1) The statement: "Wash it" — The apparent meaning of the hadith about washing clothes from urine once aligns with what Al-Shafi'i said, that it becomes pure by washing once; because water is purifying, and once it is used, it purifies, just as the body is purified from ritual impurity. Our Hanafi scholars considered strong suspicion, and they determined it should be washed three times; because repetition is necessary for extraction, as mentioned in the hadith of the one who wakes up from sleep; he was commanded to wash three times for imagined impurity, so for actual impurity, it is more applicable. Furthermore, squeezing is required in every wash according to the apparent narration, as squeezing is what extracts the impurity. According to Muhammad, if you wash three times and squeeze on the third time, it becomes purified. "Al-Mirqat" and the extract are selected from both of them.
Chapter on the interaction of a person in a state of major impurity (Janabah) and what is permissible for them
And Allah's saying: "None touch it except the purified." (Al-Waqi'ah: 79)
Note 1
قوله
(۱) قوله: فاغسلوه إلخ ظاهر حديث غسل الثوب من البول مرة يوافق ما قاله الشافعي من أنه يطهر بالغسل مرة؛ لأن الماء طهور، فإذا استعمل مرَّةً يطهر ، كما يطهر البدن من النجاسة الحكمية وعلماؤنا الحنفية اعتبروا غلبة الظن، ثم قدروها بالغسل ثلاث مرات؛ لأن التكرار لا بد منه للاستخراج، كما ورد في حديث المستيقظ؛ فإنه أمر بالغسل ثلاث مرات في النجاسة الموهومة، ففي المتحققة أولى. ثم لا بد من العصر في كل مرة في ظاهر الرواية؛ فإن العصر هو المستخرج، وعن محمد: إذا غسلت ثلاثا، وعصرت في المرة الثالثة تطهر. «المرقاة»» و المستخلص ملتقط منهما.
Note 1
(اس کی روایت بزار نے کی ہے) اور تلخیص میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور وہ حدیث
کہ جس کی سند میں ایوب بن جابر ہیں جس میں کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر ایک دفعہ دھونے کا ذکر
ہے ان کے ثقہ ہونے میں اختلاف ہے۔
ف: ظاہر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کپڑے کو پیشاب لگ جانے سے ایک دفعہ دھو لینا چاہئے اور
یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے موافق ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ کپڑا ایک دفعہ دھونے سے
پاک ہو جاتا ہے، وجہ یہ ہے کہ پانی پاک کرنے والا ہے، جب پانی ایک دفعہ استعمال کر لیا جائے تو کپڑا
پاک ہو جائے گا، جس طرح بدن بھی نجاست حکمیہ سے ایک بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن
ہمارے علماء حنفیہ نے کہا ہے کہ کپڑا اتنا دھویا جائے کہ گمان غالب اس کے پاک ہونے کا ہو جائے اور
گمان غالب کے حصول کی مقدار تین دفعہ دھونا بتلایا ہے، وجہ یہ ہے کہ بار بار دھونے سے نجاست خارج
ہو جاتی ہے اور اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی
اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت ہے کہ آپ نے نجاست موہومہ کے بارے میں تین
دفعہ دونوں ہاتھوں کو دھونے کا حکم فرمایا، لہٰذا اگر حقیقی نجاست ہو تو تین دفعہ دھونے کا حکم بطور اولیٰ ہوگا اور
ہمارے مذہب حنفی کے ظاہر الروایہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ہر دفعہ نچوڑنا ضروری ہے، اس لئے کہ
نچوڑنے سے ہی نجاست خارج ہو جاتی ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کہا
ہے کہ جب تم نے تین دفعہ دھو لیا اور تیسری دفعہ دھو کر نچوڑ لیا تو کپڑا پاک ہو جائے گا۔ (ماخوذ از:
مرقات و ملخص)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
میری ملاقات ہوگئی اور میں اس وقت جنبی تھا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ کے ساتھ ہو لیا
یہاں تک کہ ایک مقام پر بیٹھ گئے تو میں چپکے سے نکل گیا اور اپنے مقام پر پہنچا اور غسل کر کے پھر آپ
کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، ارشاد فرمایا: اے ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ تم کہاں تھے؟ تو میں نے آپ سے اپنے غسل کرنے کا حال بیان کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
تعجب سے سبحان اللہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ مومن تو ناپاک ہوتا ہی نہیں (یہ الفاظ بخاری کے
ہیں اور مسلم نے بھی اسی طرح معناً روایت کی ہے۔ البتہ مسلم میں یہ زائد ہے کہ آپ سے میری
ملاقات ایسی حالت میں ہوئی تھی کہ میں جنبی تھا تو مجھے اچھا معلوم نہیں ہوا کہ آپ کے پاس بلا غسل
بیٹھوں۔
(اور بخاری کی دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 283 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 371a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد ہے کہ مومن ناپاک نہیں ہوتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جنابت
نجاست حکمی ہے جس کا حکم شارع علیہ السلام نے دیا ہے اور غسل اس پر واجب کیا ہے، اس لئے جنابت
کی وجہ سے حقیقتاً مسلمان اور مومن نجس نہیں ہو جاتا اور اسی لئے جنبی کا پسینہ اور جھوٹا، اور اس سے مصافحہ
اور اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا وغیرہ جائز ہے۔ (لمعات)۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت فرماتے، پھر آپ غسل جنابت کرنے سے قبل گرمی حاصل کرنے کی
خاطر مجھ سے چمٹ جایا کرتے تھے (اس سے معلوم ہوا کہ جنبی کا بدن پاک ہے)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے اور مصابیح
کے الفاظ سے شرح السنہ میں بھی یہ حدیث مذکور ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ان کو رات میں غسل جنابت کی ضرورت درپیش ہو جاتی ہے۔ تو حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وضو کر لیا کرو، اور اپنے عضو مخصوص کو دھو کر سو جایا کرو۔ (اس
کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیوی سے جماع کرتے پھر سو جایا کرتے تھے اور پانی چھوتے نہ تھے اور اگر
آخر شب میں بیدار ہوتے تو پھر جماع کرتے اور غسل فرماتے۔
(اس کی روایت امام محمد نے موطا میں ہمارے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے کی ہے اور بیہقی اور
نووی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابوداؤد اور ترمذی نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد سے واپس ہوتے تو اللہ تعالیٰ کو جتنی نمازیں منظور ہوتیں ان کو ادا فرماتے
پھر اپنے بستر اور اپنی بیوی کی جانب مائل ہو جاتے تھے اور اگر حاجت (یعنی جماع کرنا ہوتا تو اس سے
فارغ ہو جاتے) پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اسی حالت میں سو جاتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے اور ابن ابی شیبہ، ابن جریر، عبدالرزاق اور سعید بن منصور
نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی
ہو جاتے تھے پھر سو جاتے، پھر بیدار ہوتے اور پھر سو جاتے (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے اور آپ کھانے اور سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ نماز کے وضو کی طرح
وضو کر لیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو آپ نماز کے وضو کی طرح سونے سے
قبل وضو فرما لیا کرتے تھے، اور جب حالت جنابت میں کھانے کا ارادہ فرماتے تو دونوں پہونچوں
تک ہاتھوں کو دھو لیا کرتے اور کلی کرتے پھر تناول فرماتے (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے اور کہا
ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔)
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی
اللہ عنہا نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو
آپ وضوء فرما لیا کرتے تھے اور جب آپ کھانے یا پینے کا ارادہ فرماتے تو عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی
ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک دھولیا کرتے، پھر کھاتے یا پیتے تھے
۔(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور ابن ابی شیبہ اور سعید بن منصور نے بھی اسی طرح روایت کی
ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں کھانے کا ارادہ فرماتے تو آپ پہونچوں تک دونوں ہاتھوں کو
دھولیا کرتے تھے۔(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں کھانے یا پینے کا ارادہ فرماتے تو آپ دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک
دھولیا کرتے اور کلی فرماتے پھر پیتے یا کھاتے۔(اس کی روایت عبدالرزاق اور سعید بن منصور نے کی
ہے۔)
حضرات احناف نے کہا ہے کہ ان احادیث سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جنبی کے لئے اس امر
میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ حالت جنابت میں بغیر وضوء کے کھائے اور پئے یا سو جائے، البتہ جنبی کے
لئے مستحب ہے کہ وہ وضوء کرے، جس نے وضوء کرلیا تو اچھا کیا اور جس نے وضوء نہیں کیا تو کوئی حرج
نہیں۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ اپنی بیوی
سے جماع کا ارادہ کرتا ہو تو وہ ہر دو جماع کے درمیان وضوء کرے۔(اس کی روایت مسلم نے کی
ہے۔)
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم جماع کرتے تھے پھر دوبارہ جماع کرتے اور وضوء نہیں فرماتے تھے۔ (اس کی روایت طحاوی
نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی
سب بیبیوں سے مجامعت کے بعد ایک ہی غسل پر اکتفا فرماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی
ہے) اور ترمذی نے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے۔
اور ترمذی نے کہا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح ہے اور اہل علم میں بہت سے حضرات
نے ایسا ہی کہا ہے، جن میں حسن بصری رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ جماع کے بعد
وضوء کے بغیر دوبارہ جماع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک
دن اپنی بیبیوں میں ہر ایک کے ساتھ جماع فرمائے اور ان میں سے ہر ایک کے پاس غسل فرماتے
جاتے تھے۔
ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کیوں آپ آخر میں ایک ہی غسل پر اکتفا نہیں فرماتے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب
دیا کہ الگ الگ غسل کرنا زیادہ صفائی زیادہ بہتر اور زیادہ پاکی ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد
نے کی ہے اور اس کی اسناد صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 219 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ان احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو دفعہ جماع کرنے
کے درمیان وضو نہ کرنا اور غسل نہ کرنا جائز ہے اور افضل یہ ہے کہ دو دفعہ جماع کرنے کے درمیان میں
غسل یا وضو کرلیا جائے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں (خواہ جنبی ہوں یا بے وضو) اللہ تعالیٰ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلتے تو (بغیر وضوء کئے) ہم کو قرآن پڑھاتے تھے اور ہمارے ساتھ
گوشت تناول فرماتے، (اس سے معلوم ہوا کہ بے وضوء زبان سے قرآن کا پڑھنا جائز ہے، ہاں بے
وضوء قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے) اور آپ کو قرآن پڑھنے میں جنابت کے سوا کوئی اور چیز مانع
نہیں ہوتی تھی۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی طرح کی روایت
کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیض والی عورت اور جنبی قرآن کو تھوڑا یا بہت کچھ بھی نہ پڑھے۔ (اس کی روایت
ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 131 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: حائضہ اور جنبی کے لئے قرآن کی آیت یا جزو آیت کا (تلاوت کی نیت سے) پڑھنا ناجائز
ہے کیوں کہ حدیث میں ”شَيْئًا“ کا لفظ آیا ہے البتہ معلمہ بحالت حیض قرآن کو ایک ایک کلمہ کرکے
پڑھ سکتی ہے جو اس حدیث کے حکم میں داخل نہیں ہے، البتہ ذکر یا دعا کی نیت سے اگر قرآن کی کوئی
آیت یا جزو آیت پڑھ لی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور یہ بھی اس حدیث کے حکم میں شامل
نہیں ہوگا۔
مہاجر بن قنفذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، انہوں نے حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے وضو فرما لینے تک سلام کا جواب نہیں دیا، اس کے بعد آپ نے ان
سے عذر بیان کیا اور فرمایا کہ میں نے بغیر وضوء کے ذکر الٰہی پسند نہیں کیا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے
کی ہے اور نسائی نے حَتّٰى تَوَضَّأَ (یعنی آپ نے وضوء کیا) تک روایت کی ہے اور اپنی سند میں یہ اضافہ
کیا ہے کہ مہاجر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء فرمایا اور اس کے بعد سلام کا
جواب دیا۔
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے
ساتھ ہو لیا، جب وہ حاجت کے لئے نکلے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حاجت سے فراغت حاصل
کر لی، اس دن جتنی حدیثیں آپ نے بیان فرمائیں اس میں سے ایک حدیث یہ تھی، آپ نے فرمایا
کہ ایک شخص گلی میں گزرا تو یکایک اس کی ملاقات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی حالت میں ہو گئی کہ
آپ قضاء حاجت سے فارغ ہو کر نکلے تھے اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب نہیں
دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص (جانے لگا) اور قریب تھا کہ وہ گلی میں نگاہ سے دور ہو جائے، اس وقت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر اپنے چہرے پر پھیرا پھر دوبارہ
دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر دونوں کہنیوں تک پھیرا اس کے بعد آپ نے اس شخص کے سلام کا
جواب دیا اور فرمایا کہ تم کو سلام کے جواب دینے میں صرف یہی چیز مانع تھی کہ میں وضو سے نہ تھا۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 330 (unverified) 46% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ تیمم شرائط تیمم کے پائے
جانے کے بغیر ہر ایسی چیز کے لئے جائز ہے جس کے لئے وضو شرط نہیں ہے اگرچیکہ پانی موجود ہے
اور پانی کے استعمال کے لئے کوئی عذر نہیں ہے لیکن ایسی چیز جس کے لئے وضو شرط ہے تو تیمم شرائط تیمم
پائے جانے کے بغیر جائز نہیں ہوگا مثلاً قرآن پڑھنے کے لئے تیمم کرنا کہ اس کے لئے وضو شرط نہیں
ہے تو قرآن پڑھنے کے لئے شرائط تیمم پائے جانے کے بغیر تیمم کر سکتا ہے لیکن جنبی ہے یا قرآن کو ہاتھ
لگانا مقصود ہے تو ان صورتوں میں تیمم ایسی حالت میں جائز ہوگا کہ تیمم کے شرائط پائے جاتے ہوں ورنہ
پانی کی موجودگی میں جنبی کے لئے غسل اور مسِّ قرآن کے لئے وضو کرنا ضروری ہوگا۔
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
مرد آدمی کو عورت کے غسل یا وضوء کے بعد بچے ہوئے پانی سے وضوء کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور ترمذی نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ترمذی نے ”اَوْ قَالَ بِسُؤْرِهَا“ یعنی لفظ
”فَضْل“ کے بجائے لفظ ”سُؤْر“ کی روایت کی ہے۔ (جس کے معنی یہ ہیں کہ عورت کے پینے کے
بعد بچے ہوئے پانی سے یا عورت کے نہانے یا وضوء کرنے کے بعد باقی ماندہ پانی سے مرد وضوء یا غسل
نہ کرے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 82 (unverified) 96% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 64 (unverified) 95% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 373 (unverified) 82% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں عورت کے بچائے ہوئے پانی سے وضوء یا غسل کی ممانعت ثابت ہو رہی
ہے اور اس کے بعد والی حدیث (نمبر:25/591) جس کے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں
اور جس کو شرح السنہ میں آپ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اس سے بظاہر عورت
کے بچائے ہوئے پانی سے وضوء یا غسل کا جواز معلوم ہوتا ہے تو یہ بات واضح رہے کہ اس حدیث میں جو
ممانعت مذکور ہے وہ تنزیہی ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بعد میں آنے والی حدیث میں جو اجازت
وارد ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔
حُمَیْد حُمَیْرِی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے ملا جو چار سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح حاضر رہے، ان صحابی نے مجھ سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
عورت کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے یا مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے کی ممانعت
فرمائی ہے، البتہ مسدد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ دونوں ایک ساتھ چلو سے پانی استعمال کریں۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
اور امام احمد نے اس حدیث کی ابتداء میں یہ بڑھایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے
ہم میں سے کسی کو روزانہ کنگھی کرنے یا غسل خانہ میں پیشاب کرنے کی ممانعت فرمائی ہے، اس کی
روایت ابن ماجہ نے عبداللہ بن مغفل سے کی ہے اور ہمارے علماء نے کہا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
کسی بی بی (رضی اللہ عنہا) نے ایک لگن سے غسل فرمایا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس
سے وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو وہ عرض کرنے لگیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جُنُبی تھی تو آپ
نے فرمایا کہ پانی جُنُبی نہیں ہوتا۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد، اور ابن ماجہ نے کی ہے اور دارمی نے بھی اسی طرح روایت کی
ہے۔)
اور شرح السنۃ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
زمانہ میں مرد اپنی بیبیوں کے ساتھ مل کر وضو کیا کرتے تھے۔
(اس کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے اور امام محمد نے کہا ہے کہ کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ
عورت اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایک ہی برتن سے وضو اور غسل کرے خواہ ابتداءً عورت کی جانب
سے ہو یا شوہر کی جانب سے ہو، اور یہی قول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ”كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّؤُونَ جَمِيعًا“ (مرد اور عورتیں ایک
ساتھ مل کر وضو کیا کرتے تھے) جو مذکور ہے اس زمانے کا عمل ہے جبکہ پردے کے احکام نازل نہیں
ہوئے تھے اور جب پردے کے احکام نازل ہو چکے تو یہ عمل شوہر اور بی بی کے ساتھ مختص ہو گیا۔ (التعلیق
الممجد، فتح الباری۔)
عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے
کہا کہ اس خط میں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو عامل بنا کر بھیجتے
وقت دیا تھا اس میں لکھا تھا کہ قرآن شریف کو باوضو ہاتھ لگایا جائے۔
(اس کی روایت امام مالک اور دارقطنی نے کی ہے اور مستدرک میں حاکم نے اسی طرح روایت
کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اگرچہ کہ
انہوں نے اس کی روایت نہیں کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کے دروازے مسجد کے رخ سے دوسری جانب پھیر دو، اس لئے
کہ میں حیض والی عورت اور جنبی کے لئے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں قرار دیتا۔ (اس کی روایت ابو
داؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 232 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہ حدیث اور اس کے بعد والی حدیث سے جس کے راوی جابر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ ثابت
ہوتا ہے کہ حائضہ اور جنبی مسجد میں داخل ہو کر نہ تو بیٹھ سکتے ہیں اور نہ مسجد سے گزر سکتے ہیں۔ مسجد میں
سے گزر جانا یا مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنا دونوں برابر ہیں، اس وجہ سے کہ دخولِ مسجد کی ممانعت جنابت یا
حیض کی وجہ سے ہے اور گزرنے والا اسی حالت میں گزر رہا ہے تو اس حالت کے باقی رہتے ہوئے مسجد
میں سے گزر جانا یقیناً بیٹھنے کے مساوی ہوگا، اسی وجہ سے احناف کے پاس حائضہ اور جنبی دونوں کے
لئے مسجد میں بیٹھنا اور گزر جانا دونوں باتیں ناجائز ہیں، لیکن امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس حائضہ اور
جنبی مسجد میں بیٹھ نہیں سکتے مگر گزر سکتے ہیں، اور اسی لئے امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے آیت ”وَلَا جُنُبًا
إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ“ میں ”عَابِرِي سَبِيلٍ“ کے معنی گزرنے والے کے مراد لئے ہیں، حالانکہ ”
عَابِرِي سَبِيلٍ“ کے معنی مسافر کے ہیں، چنانچہ اس کی تفسیر میں حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ
عنہم سے مسافر ہی منقول ہے اور ”عابری سبیل“ سے مسافر مراد لینے کی دلیل کی یہ حدیث بھی ہے
جس سے جنبی اور حائضہ کو مرورِ مسجد کی اجازت ثابت نہیں ہو رہی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جنبی اور حائضہ مسجد میں سے
نہ گزریں، آیت کریمہ ”وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ“ (سورۂ نساء، پ:5، ع:7، آیت
نمبر:43) (مسجد میں سے گزرنے والے کے لئے نہیں ہے بلکہ) مسافر کے بارے میں نازل ہوئی
ہے جو (پانی نہ ملنے کی صورت میں) تیمم کر کے نماز پڑھتا ہے۔ (اس کی روایت عبد بن حمید نے کی
ہے۔)
ف: آیت ”وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ“، کا ترجمہ یہ ہے (اسی طرح نہانے کی حاجت ہو
تو نماز کے پاس نہ جانا، یہاں تک کہ غسل کرلو، ہاں سفر کی حالت میں راستہ جا رہے ہو اور پانی نہ ملے تو
تیمم کر کے نماز پڑھ لو۔)
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جس میں تصویر یا کتا یا جنبی ہوں۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث میں فرشتوں سے رحمت اور برکت لانے والے فرشتے اور وہ فرشتے مراد
ہیں جو ذکر سننے کے لئے اترتے ہیں کہ یہ فرشتے ان صورتوں میں گھر میں داخل نہیں ہوتے۔
ف(2): جنبی سے وہ جنبی مراد ہیں جن کو غسل نہ کرنے کی عادت ہوا کرتی ہے اور وہ جنبی بھی
مراد ہے جو غسل کرنے میں اتنی دیر کر دے کہ نماز کا وقت گزر جائے۔
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے رحمت کے فرشتے قریب نہیں ہوتے: ایک کافر
(خواہ زندہ ہو یا مردہ) دوسرے وہ شخص جو ایسی خوشبو استعمال کرے جو عورتوں کے لئے مختص ہے)
کیونکہ اس سے عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے) اور تیسرے ملائکہ اس جنبی کے پاس بھی نہیں آتے
جب تک کہ وہ غسل نہ کر لے یا کم سے کم وضوء۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Wash it" — The apparent meaning of the hadith about washing clothes from urine once aligns with what Al-Shafi'i said, that it becomes pure by washing once; because water is purifying, and once it is used, it purifies, just as the body is purified from ritual impurity. Our Hanafi scholars considered strong suspicion, and they determined it should be washed three times; because repetition is necessary for extraction, as mentioned in the hadith of the one who wakes up from sleep; he was commanded to wash three times for imagined impurity, so for actual impurity, it is more applicable. Furthermore, squeezing is required in every wash according to the apparent narration, as squeezing is what extracts the impurity. According to Muhammad, if you wash three times and squeeze on the third time, it becomes purified. "Al-Mirqat" and the extract are selected from both of them. Chapter on the interaction of a person in a state of major impurity (Janabah) and what is permissible for them And Allah's saying: "None touch it except the purified." (Al-Waqi'ah: 79)
Note 1
(۱) قوله: فاغسلوه إلخ ظاهر حديث غسل الثوب من البول مرة يوافق ما قاله الشافعي من أنه يطهر بالغسل مرة؛ لأن الماء طهور، فإذا استعمل مرَّةً يطهر ، كما يطهر البدن من النجاسة الحكمية وعلماؤنا الحنفية اعتبروا غلبة الظن، ثم قدروها بالغسل ثلاث مرات؛ لأن التكرار لا بد منه للاستخراج، كما ورد في حديث المستيقظ؛ فإنه أمر بالغسل ثلاث مرات في النجاسة الموهومة، ففي المتحققة أولى. ثم لا بد من العصر في كل مرة في ظاهر الرواية؛ فإن العصر هو المستخرج، وعن محمد: إذا غسلت ثلاثا، وعصرت في المرة الثالثة تطهر. «المرقاة»» و المستخلص ملتقط منهما.
Note 1
(اس کی روایت بزار نے کی ہے) اور تلخیص میں لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند حسن ہے اور وہ حدیث کہ جس کی سند میں ایوب بن جابر ہیں جس میں کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر ایک دفعہ دھونے کا ذکر ہے ان کے ثقہ ہونے میں اختلاف ہے۔ ف: ظاہر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کپڑے کو پیشاب لگ جانے سے ایک دفعہ دھو لینا چاہئے اور یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک کے موافق ہے، اور انہوں نے کہا ہے کہ کپڑا ایک دفعہ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے، وجہ یہ ہے کہ پانی پاک کرنے والا ہے، جب پانی ایک دفعہ استعمال کر لیا جائے تو کپڑا پاک ہو جائے گا، جس طرح بدن بھی نجاست حکمیہ سے ایک بار دھونے سے پاک ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے علماء حنفیہ نے کہا ہے کہ کپڑا اتنا دھویا جائے کہ گمان غالب اس کے پاک ہونے کا ہو جائے اور گمان غالب کے حصول کی مقدار تین دفعہ دھونا بتلایا ہے، وجہ یہ ہے کہ بار بار دھونے سے نجاست خارج ہو جاتی ہے اور اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ نیند سے بیدار ہونے والے کے متعلق جو حدیث وارد ہوئی اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحت ہے کہ آپ نے نجاست موہومہ کے بارے میں تین دفعہ دونوں ہاتھوں کو دھونے کا حکم فرمایا، لہٰذا اگر حقیقی نجاست ہو تو تین دفعہ دھونے کا حکم بطور اولیٰ ہوگا اور ہمارے مذہب حنفی کے ظاہر الروایہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ہر دفعہ نچوڑنا ضروری ہے، اس لئے کہ نچوڑنے سے ہی نجاست خارج ہو جاتی ہے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ جب تم نے تین دفعہ دھو لیا اور تیسری دفعہ دھو کر نچوڑ لیا تو کپڑا پاک ہو جائے گا۔ (ماخوذ از: مرقات و ملخص)۔