Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Marriage · Chapter 10

Chapter on the Treatment of Women and the Rights of Each

32 narrations · In source reading order

Hadith 3319

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4399
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے (کہ میں عورتوں کے بارے میں تم کو وصیت کر رہا ہوں) تم عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے میں میری وصیت قبول کرو اس لئے کہ عورتیں ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور پسلیوں میں سب سے زیادہ ٹیڑھی اوپر والی پسلی ہے اور اگر تم اس کو ایک دم سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر تم اس (پسلی) کو اپنی حالت میں چھوڑ دو تو اس کا ٹیڑھا پن باقی رہے گا (میں تم کو پھر تاکید کرتا ہوں کہ ہر صورت میں) تم عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں میری وصیت قبول کرو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Mighty, the Exalted: “And live with them in kindness. For if you dislike them, perhaps you dislike a thing and Allah makes therein much good” [An-Nisa: 19], and His saying, the Exalted: “And they have rights similar to those against them in a just manner, and men have a degree over them. And Allah is Mighty, Wise” [Al-Baqarah: 228], and His saying, the Exalted: “As for those from whom you fear rebellion, admonish them and forsake them in bed and strike them. Then if they obey you, seek no means against them. Indeed, Allah is Exalted, Great” [An-Nisa: 34].

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3331 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5186 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1468b (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Chapter-heading commentary

And live with them in kindness, etc.

(1) The statement: “And live with them in kindness, etc.”: This means to treat women with kindness, such as providing maintenance, speaking gently, and other good conduct. If you dislike them due to their bad character or appearance, be patient with them and do not separate from them, for in what you dislike, there may be much good, such as abundant reward, righteous offspring, or other benefits. The phrase “perhaps you dislike” is placed as the reason for the implied command to be patient, as explained in Tafsir al-Ahmadiyyah.

And they have rights similar to those against them in a just manner

(2) The statement: “And they have rights similar to those against them in a just manner”: This indicates the mutual rights of the husband and wife. The husband’s rights over the wife include her service, respect, refraining from objecting to him, complete obedience to his commands, submission to him in all matters, and not preventing intimacy during menstruation or postpartum. The wife’s rights over the husband include maintenance, clothing, payment of the dowry as specified in fiqh, and teaching her the laws and rulings of the religion. Although the husband and wife are equal in rights, men have a degree over them, meaning an additional right and virtue due to their responsibility for expenditure, authority in marriage, divorce, revocation, inheritance, and similar matters, as in Tafsir al-Ahmadiyyah.

As for those from whom you fear rebellion

(3) The statement: “As for those from whom you fear rebellion”: This refers to their turning away or disobedience. Admonish them by advising them to obey. If advice does not work, forsake them in bed, meaning do not share their blanket, engage in intimacy, or turn your back to them in bed. If forsaking does not work, strike them lightly, without causing harm or injury. If they then obey by ceasing rebellion after admonishment, forsaking, or striking, as clarified in “Then if they obey you” [An-Nisa: 34], do not seek means against them by rebuking or harming them. Instead, remove any blame from them and treat their past actions as if they did not occur, for one who repents from a sin is as one who has no sin. “Indeed, Allah is Exalted, Great” [An-Nisa: 34], meaning He has greater power over you than you have over your wives, as in Tafsir al-Ahmadiyyah.

Hadith 3320

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4400
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے (اور پسلی ٹیڑھی ہوتی ہے) وہ تیرے لئے کبھی بھی سیدھے راستے پر نہیں چلے گی (بلکہ اس میں تلوّن رہے گا) اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن کی موجودگی میں فائدہ اٹھاتے رہو اور اگر تم اس کو ایک دم سیدھا کرنا چاہو تو اس کو توڑ دو گے اور اس کا توڑنا اس کو طلاق دینا ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1468b (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ حضرت حواء علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا ہوئیں تو عورت کی اصل پسلی ٹیڑھی ہے اور پسلی کا بالکل سیدھا ہونا ممکن نہیں اسی لئے عورت کا بالکل آراستہ ہونا اور اس کی عادتوں کا بدلنا محال ہے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ حکمت سے برتاؤ کرو، بالکل غافل نہ ہوجاؤ کہ ناہموار رہے اور نہ ہر بات میں مواخذہ کرو کہ زندگی تلخ ہوجائے۔ غرض یہ کہ عورتوں کی کج روی اور بدمزاجی پر صبر کرنا ضروری ہے اور ان سے محبت کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہئے یوں تو تمام لوگوں سے عمدہ سلوک اور اخلاق کے ساتھ پیش آنا چاہئے تا کہ خاص و عام خوش رہیں اور مرتے وقت ہماری تعریف کریں اور دعا دویں اور حسن سلوک کے زیادہ مستحق تو بیوی اور بچے ہیں اور اس کے بعد دوسرے عزیز و اقرباء اور دوست و احباب ہیں۔ اور بعض علماء نے اس حدیث کی توضیح میں یوں لکھا ہے کہ عام طور پر عورتیں ضدی اور بے سمجھ ہوتی ہیں اور بعض وقت خاوند چاہتا ہے کہ اس کی ضد کو دور کرے لیکن وہ اور سخت ضدی ہوجاتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تشبیہ کے فرمایا کہ یہ ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئیں ہیں، یعنی ٹیڑھی مزاج کی ہوتی ہیں اگر تم اپنے مزاج کے مطابق کرنا چاہو گے تو نہیں کر پاؤ گے اور بالآخر طلاق کی نوبت آجائے گی اور طلاق دینا اس کو توڑ دینا ہے۔ اس لئے ہر صورت میں عورتوں سے نرمی سے پیش آنا چاہئے نرمی سے پیش آتے رہو گے تو اس ٹیڑھی چیز سے فائدہ اٹھاتے رہو گے۔

Hadith 3321

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4401
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ کوئی مسلمان مرد اپنی بیوی سے بغض و عداوت نہ رکھے (اس لئے کہ) اس کی کسی عادت سے ناخوش ہے تو دوسری عادت سے خوش ہوجائے گا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1469 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کو اپنی بیوی کی اچھی عادت سے خوش رہنا چاہئے اس لئے کہ بیوی میں کچھ برائی ہو تو اس میں کچھ بھلائی بھی ہوگی اس لئے بھلائی سے اپنے دل کو تسکین دینا چاہئے اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہنا چاہئے اس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بیوی کے ذریعہ سے انسان حرام کاری سے بچتا رہتا ہے۔

Hadith 3322

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4402
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر کی کبھی بھی خیانت نہ کرتی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3330 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1470 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں دو واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ ایک یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غذا کیلئے من وسلویٰ نازل ہوتا تھا من حلوہ کی طرح ایک شیریں چیز ہوتی تھی اور سلویٰ تیتر بٹیر کی طرح ایک چھوٹا پرندہ ہوتا تھا۔ بنی اسرائیل بغیر محنت اور مشقت کے ان کو کھاتے رہے ان پر یہ پابندی تھی کہ جتنا چاہیں کھالیں لیکن ذخیرہ نہ بنائیں، وہ بڑے حریص تھے۔ بچے ہوئے کھانے کو ذخیرہ بنانا شروع کیا تو وہ سڑنے لگا اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل ایسا نہ کرتے تو کبھی گوشت نہ سڑتا۔ دوسرا واقعہ یہ ہے کہ حضرت حواء علیہا السلام نے حضرت آدم علیہ السلام سے خیانت یہ کی کہ ان کو درخت کے کھانے پر آمادہ کیا جس سے منع کیا گیا تھا اگر وہ درخت نہ کھلاتیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے میں خیانت اور نافرمانی نہ کرتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند سے بھی خیانت اور نافرمانی نہ کرتی۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)12

Hadith 3323

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4403
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں جس کسی کو دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی بھلائی دیدی گئی۔ (1) نعمتوں پر شکر کرنے والا دل (2) دکھ سکھ میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والی زبان (3) ایسا بدن (جو دنیوی) مصیبتوں پر صبر کرنے والا ہو (4) اور ایسی بیوی جو نہ تو اپنے نفس میں خیانت کرنے والی ہو اور نہ اپنے شوہر کے مال میں۔ (اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ خیانت نہ کرنے والی بیوی شوہر کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ ابن ماجہ کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ بیوی ایسی ہو کہ جو آخرت کے کام میں مدد کرے عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کہ وہ بیوی کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے اور گھر کے تمام کام عورت انجام دے لیتی ہے۔ جس کی وجہ سے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے۔ اگر بیوی نہ ہو تو گھر کے کاموں کی وجہ سے عبادت کی فرصت کم ملتی ہے۔ بعض عورتیں بڑی نیک اور عابدہ ہوتی ہیں ان کی وجہ سے مرد بھی زاہد اور عابد بن جاتا ہے۔ بعض زاہدائیں بھی ہوتی ہیں کہ اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)

Hadith 3324

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4404
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو اس کی خطا و قصور پر مارے تو اس پر مواخذہ نہ ہوگا۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2147 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1986 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ بیوی کو شوہر معقول وجہ پر مارے تو اس پر مواخذہ نہ ہوگا معقول وجہ میں نماز کا نہ پڑھنا، غسل نہ کرنا، شوہر کے لئے بناؤ سنگار نہ کرنا یا بلا وجہ جماع سے انکار کرنا یا شوہر کی بلا اجازت باہر جانا داخل ہیں۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)

Hadith 3325

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4405Noor 4406
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو غلام کی طرح نہ پیٹے پھر دن کے آخری حصہ میں اس سے جماع کرے۔ اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ تم میں سے کوئی اس بات کا ارادہ کرتا ہے کہ اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارے اور پھر شاید کہ وہ دن کے آخری حصہ میں اس سے ہم بستر ہو پھر آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ان لوگوں کو نصیحت فرمائی جو ہوا کے خارج ہونے پر ہنستے تھے تو آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسے کام (یعنی ہوا خارج ہونے) پر کیوں ہنستا ہے جس کو وہ خود کرتا ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4942 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5204 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2855 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف میں شوہر کو تاکید ہے کہ بیوی کو غلام کی طرح نہ مارے اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ شام کو پھر اس سے صحبت کرے۔ یہ بات شرعاً اور عقلاً مناسب نہیں کہ جس کو اپنے پاس لٹائے اس کو ایسی سخت مار مارے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حتی المقدور بیوی پر ہاتھ نہ اٹھاوے اور اگر ایسا ہی سخت قصور کرے تو زبان سے خفا ہو، یا ساتھ سونا چھوڑ دے، اس پر بھی نہ مانے تو ہلکی مار مارے۔ (حاشیہ مشکوٰۃ)۔ ⟦?⟧ اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ہوا خارج ہونے پر ہنسنے والوں کو اس لیے تنبیہ فرمائی کہ انسان کو ایسے فعل پر جو خود اس سے سرزد ہوتا ہو نہیں ہنسنا چاہئے، اس لیے کہ دوسرے پر ہنسنا بے ادبی ہے اور دوسرے کو شرمندہ کرنا ہے اور یہ اخلاق سے بعید بات ہے۔

Hadith 3326

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4407
لَقِيطُ بْنُ صَبْرَةَ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری بیوی کی زبان میں کچھ (خرابی) ہے یعنی بدزبان ہے۔ آپ نے فرمایا: اس کو طلاق دیدے، میں نے عرض کیا اس سے میری اولاد ہے اور عرصہ دراز سے میرے ساتھ ہے (اگر میں اس کو طلاق دوں تو مجھے تکلیف ہوگی) آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فرمایا: تُو اس کو نصیحت کر اور سمجھا اس میں اگر بھلائی ہوگی تو وہ اسے قبول کرلے گی۔ لیکن تم اپنی بیوی کو باندی کی طرح نہ مارو۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 142 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3327

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4408Noor 4409Noor 4410
حکیم بن معاویہ قشیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اُن کے والد نے بیان کیا کہ میں نے دریافت کیا یارسول اللہ! ہم میں سے کسی شوہر پر اس کی بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب تم پہنو تو اُس کو بھی پہناؤ، اور چہرہ پر مت مارو اور اس کو بُرا بھلا مت کہو اور (ضرورت ہو تو) اس سے گھر ہی میں علیحدگی اختیار کرو۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد، اور ابن ماجہ نے کی ہے) بخاری نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ازواج مطہرات سے ایک مہینہ تک صحبت نہ کرنے کی قسم کھائی تھی اور آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاؤں میں (کسی وجہ سے) موچ آ گئی تھی۔ آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے بالاخانہ پر انتیس رات قیام فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے تو ایک مہینہ کی قسم کھائی تھی تو آپ نے ارشاد فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اور مسلم نے (اسی مذکورہ بالا واقعہ کی تفصیل) جابر رضی اللہ عنہ سے (اس طرح) روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم (کی خدمت میں) حاضر ہونے کی اجازت طلب کی آپ نے لوگوں کو دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا اور کسی کو (ملاقات کی) اجازت نہیں دی جا رہی تھی راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر کو اجازت دی گئی اور وہ اندر تشریف لے گئے پھر حضرت عمرؓ تشریف لائے اور اجازت طلب کی ان کو بھی اجازت مل گئی، حضرت عمرؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ رنجیدہ اور خاموش تشریف فرما ہیں اور ازواج مطہرات بھی آپ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے اطراف موجود ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا میں ضرور ایسی بات کہوں گا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خوش ہو کر) ہنس پڑیں چنانچہ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ خارجہ کی بیٹی (یعنی میری بیٹی کو) دیکھتے کہ اگر وہ مجھ سے (میری طاقت سے زیادہ ) نفقہ مانگتی تو میں کھڑا ہو کر اس کی گردن مروڑتا (اور اس کی پٹائی کرتا) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا میری بیویاں اس وقت جو میرے اطراف جمع ہیں جیسے تم دیکھ رہے ہو مجھ سے (میری حیثیت سے زیادہ) نان نفقہ طلب کر رہی ہیں (یہ سن کر) حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور حضرت عائشہؓ کی گردن مروڑی اور حضرت عمرؓ بھی کھڑے ہوئے اور حضرت حفصہؓ کی گردن مروڑی اور یہ دونوں حضرات کہہ رہے تھے کہ تم دونوں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ چیز مانگتے ہو جو آپ کے پاس موجود نہیں (یہ سن کر) تمام ازواج مطہرات نے کہا کہ خدا کی قسم! اب ہم آئندہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی چیز نہ مانگیں گے جو آپ کے پاس موجود نہ ہو۔ پھر اس کے بعد آپ نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے ایک مہینہ یا انتیس (29) دن علیحدگی اختیار فرمائی پھر یہ آیت نازل ہوئی ”يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ عَظِيمًا“. (سورۃ احزاب، پ:21، ع:4، آیت نمبر:29/28) ”اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بیویوں سے آپ فرما دیں کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور خوش اسلوبی سے چھوڑ دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت چاہتی ہو تو بے شک اللہ تعالیٰ تم میں سے جو نیکوکار ہیں ان کے لئے خدا نے بڑے بڑے اجر تیار کر رکھے ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (ان آیتوں کے اترنے کے بعد) سب سے پہلے آپ حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا اے عائشہؓ! میں تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم اس معاملہ میں جلدی نہ کرنا یہاں تک کہ تم اپنے ماں باپ سے مشورہ کر لو۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا وہ کونسی بات ہے یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے ان کے سامنے آیت مذکورہ کی تلاوت فرمائی تو حضرت عائشہؓ نے (فوراً) فرمایا یا رسول اللہ! میں آپ کے بارے میں کیا اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ بلکہ میں اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دار آخرت کو پسند کرتی ہوں اور آپ سے یہ درخواست بھی کرتی ہوں کہ میں نے آپ کو جو جواب دیا ہے آپ ازواج مطہرات میں سے کسی ایک کو بھی نہ بتائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا (ایسا نہیں) ازواج مطہرات میں سے جو بھی مجھ سے پوچھیں گی میں ان کو ضرور بتاؤں گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی کو رنج دینے والا اور مشقت میں ڈالنے والا بنا کر نہیں بھیجا ہے بلکہ مجھے (احکام) سکھانے والا اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2142 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1911 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1850 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3259 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 3259

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

Do not strike her face, etc.

(1) The statement: “Do not strike her face, etc.”: In Fatawa Qadikhan, a husband may strike his wife for four reasons: neglecting adornment when he desires it, refusing intimacy when she is pure, neglecting prayer (in some narrations, though Muhammad said he cannot strike her for neglecting prayer, and neglecting purification from major impurity or menstruation is akin to neglecting prayer), and leaving the house without his permission, as in Al-Marqah. Al-Khazn said: Ash-Shafi‘i said striking is permissible, but refraining from it is better.

Note 2

Do not forsake her except in the house

(2) The statement: “Do not forsake her except in the house”: This means if something displeases him, he forsakes her in bed but does not move to another house. However, it is established in the Sahih that the Prophet (ﷺ) forsook his wives and went to an upper room. Thus, the restriction in “forsake them in bed” [An-Nisa: 34] is not intended, and the restriction in this Hadith is not followed. It is permissible to forsake outside the house, as the Prophet (ﷺ) did. The reality is that this varies by circumstance; sometimes forsaking in the house is more severe, sometimes outside, especially for women due to their sensitive nature, as in Nayl al-Awtar and Fath al-Bari, summarized.

Note 3

The Messenger of Allah swore an oath (ila), etc.

(3) The statement: “The Messenger of Allah swore an oath (ila), etc.”: In Al-Azhar, this is not the well-known ila, as Al-Tayyibi said: Ila in fiqh has specific rulings and is not called ila without them, as in Al-Marqah.

Note 4

Rather, I choose Allah and His Messenger, etc.

(4) The statement: “Rather, I choose Allah and His Messenger, etc.”: This supports the view of Malik, Ash-Shafi‘i, Abu Hanifah, Ahmad, and the majority of scholars that if a husband gives his wife a choice and she chooses him, it is not divorce, and no separation occurs, as in Al-Marqah.

Note 1

ف(1): اس حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کو چہرہ پر مارنے سے منع فرمایا ہے، اس بارے میں فتاویٰ قاضی خان میں یہ وضاحت ہے کہ شوہر بیوی کو چار باتوں پر مار سکتا ہے۔ (1) شوہر بیوی سے زیب و زینت کی خواہش کرے تو وہ زیب و زینت نہ کرے (2) بیوی حیض و نفاس سے پاک ہو اور وہ شوہر کی خواہش پر جماع کے لئے آمادہ نہ ہو (3) نماز کے چھوڑنے پر (4) شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی گھر سے نکلے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے اور تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ بیوی کو مارنے کی اجازت ہے لیکن نہ مارنا افضل ہے۔12 ف(2): واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پر مارنے سے اس لئے منع فرمایا ہے کہ چہرہ انسان کے اعضاء میں بڑی فضیلت اور عظمت کا عضو ہے اور چہرہ لطف اعضاء اور شریف اجزاء جیسے آنکھ، ناک، کان وغیرہ پر مشتمل ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ ف(3): اس حدیث شریف میں یہ بھی ارشاد ہے کہ (ضرورت ہو) تو بیوی سے تادیباً گھر ہی میں علیحدگی کی جا سکتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی وجہ سے شوہر کو بیوی پر کوئی شبہ ہو جائے تو وہ بیوی کو دوسرے گھر میں منتقل نہ کرے لیکن صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے امہات المومنین سے بالکلیہ علیحدگی اختیار فرمائی تھی اور اپنے بالاخانہ پر تشریف لے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ“ (بیویوں کو بستر سے جدا کر دو) میں اس بات کی قید نہیں ہے کہ بیویوں کو صرف گھر ہی میں جدا رکھا جائے بلکہ ان کو گھر سے بھی علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ حالات کے اعتبار سے علیحدگی کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بیوی سے گھر میں علیحدگی اختیار کرنا گھر سے منتقل کر دینے سے سخت ہوتا ہے اور کبھی اس کے برخلاف بھی معاملہ ہوتا ہے۔ بلکہ گھر میں علیحدگی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے خصوصاً عورتوں کے لیے اس لیے کہ عورتیں کمزور طبیعت کی ہوتی ہیں۔ (نیل الاوطار، فتح الباری۔12)

Note 2

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات سے ایک ماہ علیحدہ رہنے کے بعد سب سے پہلے حضرت عائشہؓ کے پاس تشریف لا کر فرمایا تم چاہو تو دنیا اور اس کی زینت کو اختیار کر لو یا چاہو تو اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرو تو ام المومنین نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو اختیار کرتی ہوں اس سے چاروں مسالک: مالکی، شافعی، حنبلی حنفی۔ اور جمہور علماء کے مسلک پر دلیل ملتی ہے کہ جس کسی نے اپنی بیوی کو زوجیت میں رہنے کا اختیار دیا اور بیوی نے اپنے اختیار سے کہا کہ میں تم کو اختیار کرتی ہوں تو نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ جدائی۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔12)

Hadith 3328

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4411Noor 4412
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ میں ان عورتوں کے اس فعل کو معیوب سمجھتی تھی جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (زوجیت میں قبول کرنے کیلئے) بخش دیا تھا اور (میں تعجب سے) یوں کہتی تھی کہ عورت (جو شرم و حیاء کا پیکر ہے) خود کو کسی کی (بیوی کے لئے) پیش کرتی ہے۔ لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں دیکھتی ہوں کہ آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا پروردگار آپ کی خواہش (اور رضامندی) کو جلدی قبول فرما لیتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: (سورۃ الاحزاب، پ:22، ع:6، آیت نمبر:51) فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ“ (اپنی ازواج مطہرات میں سے تم جس کو چاہو (اور جتنے دن چاہو) اپنے سے الگ رکھو اور جس کو چاہو (اور جب تک چاہو) اپنے پاس رکھو اور تم نے جن کو (ایک خاص مدت تک) الگ کر دیا تھا ان میں کسی کو پھر اپنے پاس بلا لو تو (اس میں بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے) اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی (طویل) حدیث میں ارشاد ہے عورتوں (کے حقوق) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور یہ حدیث قصہ حجۃ الوداع کے باب میں گزر چکی ہے۔ (بوجہ طوالت یہاں صرف اس کا حوالہ دیدیا گیا ہے تاکہ پوری حدیث کو وہاں دیکھ لیا جائے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4788 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5113 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1464a (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

You may postpone whom you will, etc.

(1) The statement: “You may postpone whom you will, etc.”: Interpreters differed on its meaning. The most well-known view is that it pertains to division among them. Equal division was obligatory for him, but when this verse was revealed, it was lifted, and the choice was given to him. Abu Razin and Ibn Zayd said: This verse was revealed when some Mothers of the Believers became jealous and sought more maintenance. The Prophet (ﷺ) forsook them for a month until the verse of choice was revealed. Allah commanded him to let them choose between this world and the Hereafter, to release those who chose this world, and to keep those who chose Allah and His Messenger as Mothers of the Believers, never to be married by others. He could receive whom he willed, postpone whom he willed, and they would be content whether he divided among them or not, or favored some in maintenance or division. This was his exclusive privilege, and they accepted it and chose him on this condition, as in Ma‘alim at-Tanzil.

Note 1

ف: واضح ہو کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں سورۂ احزاب کی آیت ”تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ “ کا ذکر ہے۔ اس بارے میں ابو رزین اور ابن زید نے کہا ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ امہات المومنین میں سے بعض نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو غیرت دلائی اور بعض نے حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سے زیادہ نفقہ طلب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمام امہات المومنین سے ایک ماہ تک علیحدگی اختیار فرمائی یہاں تک کہ آیت مذکورہ جس کو آیت تخییر کہتے ہیں نازل ہوئی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو اس بات کا اختیار دیا کہ دنیا کو اختیار کریں یا آخرت کو۔ اور ان میں سے جو دنیا کو اختیار کریں ان کو چھوڑ دیا جائے اور جو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کریں اور وہ امہات المومنین برقرار رہیں گے اور ان سے پھر کوئی نکاح نہیں کر سکے گا اور یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم امہات المومنین میں سے جن کو چاہیں جتنے دن چاہیں اپنے پاس رکھ سکیں گے اور جن کو جتنے دن چاہیں الگ رکھ سکیں گے۔ اس پر امہات المومنین نے رضامندی ظاہر فرمائی خواہ آپ باری مقرر فرمائیں یا نہیں یا آپ باری میں بعض کو ترجیح دیں اس طرح آپ نفقہ میں بھی بعض کو زیادہ عطا فرمائیں بہرحال اس میں بھی حضور کو بالکلیہ اختیار دیدیا گیا اور یہ حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ کے خصوصیات میں شامل ہے اور ان ساری باتوں کو امہات المومنین نے پسند فرما کر آپ کو اختیار فرمایا۔ ”معالم التنزیل“ کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے جیسا کہ حدیث نمبر(4410) کے فائدہ میں بیان کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بالکلیہ اختیار ملنے کے باوجود آپ کا کمال انصاف یہ تھا کہ آپ نے تمام امہات المومنین میں باری مقرر فرمائی اور نفقہ میں بھی مساوات قائم فرمائی۔12

Hadith 3329

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4413
ایاس بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ کی باندیوں (یعنی بیویوں) کو نہ مارو، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے کہ (آپ کے اس ارشاد سے) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہوگئی ہیں (یہ سن کر) آپ نے (شوہروں کو) اجازت دی کہ (وہ تادیباً اپنی بیویوں کو) مار سکتے ہیں (یہ حکم سن کر مردوں نے عورتوں کو خوب مارا پیٹا) تو بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایت کرنے کے لئے ازواج مطہرات کے پاس جمع ہوئیں (اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں شکایت پیش کی) تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ازواج مطہرات کے پاس بہت ساری عورتیں اپنے شوہروں (کے مارنے پر) شکایت کرنے کیلئے جمع ہوئیں ہیں (آگاہ ہو جاؤ) تم میں ایسے لوگ اچھے نہیں ہیں (جو اپنی بیویوں کو مارتے پیٹتے ہیں)۔ (اس کی روایت ابوداؤد، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2146 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1985 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Women have become bold, etc.

(1) The statement: “Women have become bold, etc.”: The Sunnah’s alignment with the Quran on striking suggests the Prophet (ﷺ) prohibited striking before the verse’s revelation. When women became bold, he permitted it, and the Quran confirmed it. When they exceeded in striking, he clarified that while striking is permissible for bad conduct, patience and refraining from striking are better and more virtuous. This meaning is attributed to Ash-Shafi‘i, as in Al-Marqah.

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شوہروں کو بیویوں کو مارنے سے روکا، غالباً حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ممانعت (سورۂ نساء، پ:5، آیت نمبر:34، ع:6) کی آیت جس میں ”وَاضْرِبُوْهُنَّ“ مذکور ہے اس کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت سے عورتیں دلیر ہو گئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مارنے کی اجازت دیدی اور پھر قرآن میں بھی یہی حکم نازل ہوا لیکن شوہروں نے جب مار پیٹ میں شدت کی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا اگرچہ بیویوں کو ان کی بداخلاقی کی وجہ سے مار پیٹ کی اجازت ہے مگر ان کی بداخلاقی پر صبر اور تحمل افضل اور احسن ہے۔ یہ تفصیل حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے جو مرقات میں مذکور ہے۔

Hadith 3330

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4414Noor 4415
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے تم میں، بہتر آدمی وہ ہے جو اپنے اہل (یعنی اپنی بیوی بچوں خویش و اقارب اور اجنبیوں) سے (سلوک) میں، بہتر ہو اور میں اپنے اہل کے لئے سب سے بہتر ہوں اور غم میں سے جب کسی کا انتقال ہو جائے تو (مرنے کے بعد اس کی برائی اور غیبت کرنی) چھوڑ دو۔ اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔ اور ابن ماجہ نے اسکی روایت حضرت ابن عباسؓ سے (لأهلى) تک کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3895 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1977 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3252 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 3252

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث میں ”صاحبکم“ کا لفظ ارشاد فرمایا گیا ہے اس سے بعض محدثین نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو مراد لیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ یوں فرما رہے ہیں جب میرا وصال ہو تو میرے بعد میرے اہل بیت میرے صحابہ اور میری امت کو تکلیف دے کر مجھے نہ ستاؤ۔ (مرقات 12)

Hadith 3331

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4416
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایمان والوں میں کمال ایمان کے اعتبار سے سب سے بہتر وہ مومن ہے جس کے اخلاق و عادات سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھائی (اور نرمی) کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اس کی روایت ابوداؤد نے لفظ خلقاً تک کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1162 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4682 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3264 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 3264

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3332

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4417
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایمان والوں میں کمال ایمان کے اعتبار سے سب سے بہتر وہ مومن ہے جس کے اخلاق اور عادات (عموماً) سب سے (یعنی عامۃ الناس سے حُسن سلوک میں) اچھے ہوں اور (خصوصاً) اپنے بیوی بچوں پر زیادہ مہربان ہو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2612 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3333

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4418
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (یعنی آپ کے گھر میں) گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میرے ساتھ چند سہیلیاں بھی کھیلا کرتی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب (گھر میں) تشریف لاتے تو سہیلیاں آپ سے (شرما کر) باہر چلی جاتیں تو آپ اُن کو میرے پاس بھیجتے اور وہ میرے ساتھ کھیلتیں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6130 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2440a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

I used to play with dolls, etc.

(1) The statement: “I used to play with dolls, etc.”: In Radd al-Muhtar: Buying a clay bull or horse for a child’s amusement is not valid, has no value, and the one who destroys it is not liable. Some said otherwise, that it is valid and liable for its value. In Majtabi from Abu Yusuf: It is permissible to sell toys and for children to play with them.

Hadith 3334

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4419
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ تبوک یا غزوۂ حنین سے واپس تشریف لائے تو (آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ) حضرت عائشہ کے گھر کے (ایک گوشہ میں) محراب پر پردہ پڑا ہوا تھا (جس میں کھلونے اور گڑیاں تھیں) جب ہوا چلی تو ہوا نے طاق کے پردہ کے ایک کنارہ سے حضرت عائشہ کے کھلونوں اور گڑیوں کو ظاہر کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یا عائشہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے کہا یہ میری گڑیاں ہیں اور آپ نے ان گڑیوں کے درمیان ایک گھوڑا دیکھا جس کے دو کپڑے کے پر ہیں تو حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نے پھر دریافت فرمایا وہ کیا چیز ہے جس کو میں ان (گڑیوں) کے درمیان دیکھ رہا ہوں؟ ام المؤمنینؓ نے جواب دیا یہ گھوڑا ہے! آپ نے پھر دریافت فرمایا (کیا) گھوڑے کے بھی دو پر ہوتے ہیں تو ام المؤمنینؓ نے جواب دیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کے پاس گھوڑے تھے جن کو پر تھے، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی کچلیوں کو میں نے دیکھ لیا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4932 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں گڑیوں کے کھیلنے کا ذکر ہے گڑیاں کپڑے کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کو لڑکیاں بناتی ہیں ان کی شادی کرتی ہیں یہ بچوں کا کھیل ہے اور ان میں پوری صورت نہیں ہوتی اس لیے ان پر تصویر کا حکم نہیں اور لڑکیوں کو ان کا کھیلنا درست رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال اخلاق تھا کہ آپ بچوں پر شفقت فرماتے اور کھیل کود سے ان کو منع نہ فرماتے یہی وجہ ہے کہ آپ نے حضرت عائشہ کو گڑیاں کھیلنے، اُن کی ہمجولی لڑکیوں کے آنے سے اور کھیلنے سے نہیں روکا۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس کھیل سے لڑکیوں کی تربیت ہوتی ہے۔ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ شاید کہ گڑیوں کا قصہ تصویروں کے حرام ہونے سے پہلے کا ہو اور پھر جو تصویریں حرام ہو گئیں تو وہ بھی حرام ہو گئیں۔ (حاشیہ مشکاۃ)12

Hadith 3335

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4420
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں (خوش طبعی کے طور پر) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوڑنے لگے (کہ ہم دونوں میں کون آگے بڑھ جاتا ہے) ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ میں دوڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل گئی۔ جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو (دوسرے موقع پر) میں حضور کے ساتھ دوڑ لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے آگے نکل گئے اس پر آپ نے (مجھ سے) فرمایا کہ یہ اس دوڑ کے بدلہ میں ہے (جس میں تم مجھ سے آگے نکل گئی تھیں)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2578 (unverified) 99% confidence · Validation similarity: 0.847
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3251 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 3251

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

I raced him on foot

(1) The statement: “I raced him on foot”: Qadikhan said: Racing is permissible in four things: camels, horses, archery, and running on foot. It is permissible if the wager is from one side, e.g., “If I outrun you, I get this, but if you outrun me, you get nothing.” If the wager is from both sides, it is forbidden as gambling unless a third party is included, e.g., each says, “If you outrun me, you get this, and if I outrun you, I get this, but if the third wins, he gets nothing.” This is permissible and lawful, meaning morally good, not obligatory. What rulers do is also permissible, e.g., saying to two, “Whoever wins gets this.” Racing is allowed in these four due to textual evidence, and there is no evidence for others, as in Al-Marqah.

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف کی روشنی میں علامہ قاضی خان نے لکھا ہے کہ چار چیزوں میں ایک دوسرے سے مقابلہ کی اجازت ہے (1) اونٹ کی دوڑ پر (2) گھوڑے کی دوڑ پر (3) تیر اندازی میں اور (4) آدمیوں کی آپس میں دوڑ لگانے پر اور اس میں یک طرفہ شرط جائز ہے چنانچہ یوں کہے کہ اگر میں تم سے سبقت لے جاؤں تو مجھے اتنا ملے گا اور اگر تم مجھ پر سبقت لے جاؤ تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا اگر دونوں طرف سے شرط لگائی جائے تو حرام ہے، اس لئے کہ یہ جوا ہے، البتہ طرفین ایک تیسرے شخص کو شریک کر لیں ایک کہے کہ تو مجھ پر سبقت کرے تو تجھے اتنا ملے گا اور اگر میں سبقت کروں تو مجھے اتنا ملے گا اور اگر تیسرا شخص سبقت کرے تو اسے کچھ نہیں ملے گا اس طرح کی شرط جائز ہے اور جو انعام ملے گا وہ حلال ہے۔ اس سلسلہ میں قابل ذکر چیز یہ ہے کہ مذکورہ بالا شرط جو ایک طرفہ ہو جائز ہے سے مراد یہ ہے کہ یہ چیز درست ہے نہ یہ کہ یک طرفہ شرط سے وہ بدلہ کا مستحق ہو جاتا ہے اسی طرح بعض امراء کسی دو شخصوں کے بارے میں یوں کہیں کہ تم دونوں میں جو بھی سبقت کرے اسکو اتنا ملے گا۔ مذکورہ بالا چیزوں میں مقابلہ کی اجازت اس لئے جائز ہے کہ اس کا ذکر آثار اور روایتوں میں موجود ہے۔ (یہ مرقات سے ماخوذ ہے)12۔

Hadith 3336

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4421
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں اللہ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ میرے حجرہ کے دروازہ پر کھڑے ہیں اور حبشی مسجد (کے صحن) میں چھوٹی برچھیوں سے کھیل رہے ہیں (یعنی جنگی کرتب دکھا رہے ہیں) اور رسول اللہ ﷺ مجھ پر اپنی چادر مبارک سے پردہ فرما رہے تھے تاکہ میں انکے کھیل کو آپ کے کان اور مونڈھے پر سے دیکھوں پھر آپ میری خاطر کھڑے رہے یہاں تک کہ میں خود (اُکتا کر وہاں سے) ہٹ گئی۔ (حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں) اس سے تم اندازہ کرو کہ کم عمر لڑکی جو کھیل کود کی شائق ہو وہ کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی (اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری خاطر آخر تک کھڑے رہے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5236 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ عورتوں کا اجنبی مردوں کو دیکھنا اس بارے میں تفصیلی بحث اس کتاب کے حدیث نمبر 37 کے فائدہ میں گزر چکی ہے ملاحظہ کر لی جائے۔12

Hadith 3337

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4422
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ) مجھ سے فرمایا کہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو مجھے اس کا علم ہو جاتا ہے اور (اسی طرح) جب تم مجھ سے ناخوش ہوتی ہو تب بھی مجھے معلوم ہو جاتا ہے میں نے عرض کیا کہ (یا رسول اللہ ﷺ) آپ یہ کیسے پہچان لیتے ہیں؟ آپ نے جواب دیا کہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو اور اس طرح قسم کھاتی ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی قسم یہ بات ایسی نہیں اور جب تم مجھ سے ناخوش ہوتی ہو تو اس طرح قسم کھاتی ہو ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم یہ بات ایسی نہیں ہے۔ (یہ سن کر) میں نے کہا (آپ صحیح فرماتے ہیں) خدا کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو صرف آپ کا نام ہی نہیں لیتی (لیکن دل میں محبت باقی رہتی ہے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5228 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2439 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ناخوشی کا جو ذکر ہے اس سے گھر بار کے معاملات میں دنیوی ناخوشی مراد ہے نہ کہ دینی ناخوشی جس سے ایمان میں خلل پیدا ہوا اور یہ ناخوشی سوکنوں کی وجہ سے ہوتی ہے جو عورتوں کی فطری بات ہے جس پر شریعت میں گرفت نہیں۔ (مرقات 12)

Hadith 3338

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4423
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص کسی کی بیوی کو اس کے شوہر کے خلاف اور کسی کے غلام کو اُس کے آقا کے خلاف ورغلائے (اور بھڑکائے) وہ ہمارا نہیں ہے۔ (یعنی ہمارے طریقہ پر چلنے والا نہیں)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2175 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3339

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4424Noor 4425
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو (صحبت کے لئے اپنے) بستر پر بلائے اور وہ (کسی شرعی عذر کے بغیر) انکار کرے اور شوہر رات (اس پر) غصہ میں گزار دے تو اس (عورت) پر فرشتے صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور بخاری و مسلم ہی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جو کوئی شخص اپنی بیوی کو (صحبت کیلئے) اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرتی رہے تو وہ ذات عالی جو آسمان میں ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اس (عورت) پر ناراض رہتے ہیں یہاں تک کہ شوہر اس سے راضی ہو جائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3237 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1436d (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3340

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4426
طلق بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنی ضرورت (یعنی صحبت) کیلئے بلائے تو اس کو فوراً حاضر ہونا چاہیے اگرچہ کہ وہ تنور پر (روٹی پکا رہی ہو) (یعنی خواہ کتنا ہی ضروری کام کیوں نہ کر رہی ہو)۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1159 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3341

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4427
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں (اپنے شوہر کی شکایت کے لئے) حاضر ہوئیں اور ہم اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر تھے اس عورت نے عرض کیا کہ میرے شوہر صفوان ابن معطل میں جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں اور میں جب (نفل) روزے رکھتی ہوں تو افطار کروا دیتے ہیں۔ اور (خود) سورج نکلنے کے بعد نماز فجر پڑھتے ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ (اس وقت اتفاقاً) صفوان بھی حاضر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے یعنی صفوان سے ان (کی بیوی کی شکایتوں) کے بارے میں دریافت کیا۔ تو صفوان نے جواب دیا یا رسول اللہ اس کا یہ کہنا کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتے ہیں (اس کی وجہ یہ ہے کہ) وہ (نفل نماز میں) دو (طویل) سورتیں پڑھتی ہیں اور میں نے اس کو اس سے منع کیا ہے راوی کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (سورہ فاتحہ کے بعد) ایک ہی سورت پڑھی جائے تو (تنہا شخص ہو یا جماعت) سب کے لئے کافی ہو جائے گی۔ (ان کے شوہر صفوان نے) کہا کہ اس کا یہ کہنا کہ جب میں (نفل) روزہ رکھتی ہوں تو وہ افطار کروا دیتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلسل (نفل) روزہ رکھا کرتی ہیں اور میں جوان آدمی ہوں (چونکہ رات میں کھیتی باڑی کے کاموں میں مشغول رہتا ہوں اس لئے دن میں بیوی سے صحبت کرنے پر) صبر نہیں کر سکتا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت (اپنے شوہر کی موجودگی میں) اس کی اجازت کے بغیر (نفل) روزہ نہ رکھا کرے اب رہا اس کا یہ کہنا کہ میں سورج نکلنے کے بعد (فجر کی) نماز پڑھتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم (کھیتی باڑی کے) لوگ ہیں اور یہ چیز معروف ہے (کہ ہم رات بھر پانی سینچتے ہیں) جس کی وجہ سے سورج نکلنے تک اٹھ نہیں سکتے (یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صفوان جب تم نیند سے اٹھو تو نماز پڑھ لیا کرو (ادا ہو یا قضاء)۔ اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2459 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1762 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.487

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

We hardly wake up until the sun rises

(1) The statement: “We hardly wake up until the sun rises”: Literally or figuratively, meaning close to sunrise. He said, “When you wake up, O Safwan, pray,” meaning perform or make up the prayer. According to us, Ash-Shafi‘i used this to permit making up missed prayers during prohibited times. I say: Without considering our explanation, it is not necessary to pray immediately upon waking. The most it indicates is that waking is the cause for the obligation to make up, so if he wakes during a prohibited time and delays until it passes, he acts on both this Hadith and the Hadith prohibiting prayer during forbidden times, as in Al-Marqah and Umdat al-Qari.

Hadith 3342

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4428
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری ایک سوکن ہے اگر میں (اس کے سامنے) یہ ظاہر کروں کہ میرے خاوند نے مجھے یہ چیز دی ہے حالانکہ اس نے نہیں دی ہے تو کیا میرے لیے یہ گناہ کی بات ہوگی۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ظاہر کرنے والا اس چیز کا جس کو وہ نہیں ملی ہے، اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو جھوٹ اور فریب کے دو کپڑے پہنے ہو (یعنی مکار اور دھوکے باز ہے)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5219 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2130b (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3343

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4429
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو عورت پانچوں وقت کی نماز پڑھتی رہتی ہو اور رمضان کے روزے رکھتی ہو اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی رہی ہو اور اپنے خاوند کی اطاعت کرتی رہے تو وہ جنت کے جس دروازہ سے چاہے داخل ہو جائے۔ (اس کی روایت ابو نعیم نے حلیہ میں کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3254 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 3254

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3344

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4430
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو کوئی عورت اس حال میں انتقال کرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1161 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3256 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 3256

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3345

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4431
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ عورتوں میں کونسی عورت بہتر ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ عورت (بہتر ہے) کہ جب خاوند اس کو دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور شوہر اس کو کسی کام کا حکم دے تو وہ اس کو بجا لائے اور اپنی جان میں اور اس کے مال میں جو شوہر کی ناراضگی کا سبب ہو خلاف نہ کرے۔ (اس کی روایت نسائی نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔12)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3231 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3272 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 3272

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3346

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4432
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر میں کسی کو (اللہ کے سوا) کسی اور کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1159 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3347

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4433Noor 4434
قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (جب) حیرہ (جو کوفہ کے قریب ایک قدیم شہر تھا) آیا تو وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں۔ (یہ دیکھ کر اپنے دل میں) میں نے کہا کہ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے۔ پھر میں (جب مدینہ منورہ واپس ہوا تو) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں شہر حیرہ گیا تھا تو وہاں کے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے سردار کو سجدہ کرتے ہیں حالانکہ آپ زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے (اس لیے کہ آپ مخلوق میں سب سے زیادہ بزرگ اور موجودات میں سب سے زیادہ معزز ہیں یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا بتاؤ کہ (میرے انتقال کے بعد) اگر تم میری قبر پر سے گزرو تو کیا میری قبر کو (یا صاحب قبر کو) سجدہ کرو گے تو میں نے عرض کیا کہ نہیں (میں سجدہ نہیں کروں گا) آپ نے فرمایا کہ تم (میری زندگی میں اور میرے بعد میری قبر کو) سجدہ نہ کرو (پھر آپ نے فرمایا) کہ اگر کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کا حق عورتوں پر زیادہ رکھا ہے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔ اور امام احمد نے اس کی روایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2140 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3255 (unverified) 78% confidence

Mishkat (candidate) 3255

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3348

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 4435
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے ایک اونٹ آیا اور آپ کو سجدہ کیا آپ کے صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کو چوپائے اور درخت سجدہ کرتے ہیں تو ہم زیادہ حقدار ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا کہ (سجدہ عبادت ہے) تو تم اپنے رب (ہی) کی عبادت کرو اور اپنے (مسلمان) بھائی کی تعظیم کرو اور اگر میں کسی کو کسی کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کیا کرے (اور شوہر کا اتنا بڑا مرتبہ ہے کہ) اگر وہ بیوی کو حکم دے کہ وہ زرد پہاڑ سے پتھر سیاہ پہاڑ پر لے جائے اور (پھر) سیاہ پہاڑ سے سفید پہاڑ کی طرف (لے جائے) تو اس کو چاہئے کہ اس کا حکم بجا لائے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 3268 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 3268

Confidence and text similarity are not editorial verification.