ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایک کپڑے (یعنی صرف تہ بند میں اس طرح) نماز نہ
پڑھے کہ اس کے جسم کا بالائی حصہ یعنی پیٹ اور پیٹھ اور دونوں کندھے اس کپڑے (یعنی تہ بند کے بقیہ
حصہ یا کسی اور کپڑے سے) ڈھکے ہوئے نہ ہوں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: "Take your adornment at every masjid" (Al-A'raf: 31), and His saying: "And not display their adornment except what is apparent of it" (An-Nur: 31), and His saying: "O Prophet, tell your wives, your daughters, and the women of the believers to bring down over themselves [part] of their outer garments. That is more suitable that they will be known and not be abused" (Al-Ahzab: 59).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 359 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 516a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Nothing covering his shoulders
(1) His statement: "Nothing covering his shoulders" – and the more apparent interpretation is that the pronoun "from it" refers to the garment in general. This indicates the recommendation (sunnah) of placing the rida' (upper garment) or similar, such as the end of the izaar (lower garment) or other clothing, on the shoulders, and the dislike (karahah) of leaving it off when one is able to do so. Malik, Abu Hanifa, Al-Shafi'i, and the majority said: This prohibition is for reverence (tanzih), not for strict prohibition (tahrim). Therefore, if one prays in a single garment that covers their private parts but has nothing on their shoulders, their prayer is valid but disliked. As for Ahmad and some of the early scholars (Salaf), they held the view that the prayer is not valid, based on the apparent meaning of the hadith. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: ليس على عاتقيه منه شيء والأظهر أن ضمير منه يعود إلى مطلق الثوب، فيفيد سنية وضع الرداء ونحوه من طرف الإزار وغيره على الكتف، وكراهية تركه عند القدرة عليه لذلك. قال مالك وأبو حنيفة والشافعي والجمهور: هذا النهي للتنزيه لا للتحريم. فلو صلى في ثوب واحد ساتر عورته ليس على عاتقه منه شيء صحت صلاته مع الكراهة. وأما أحمد وبعض السلف، فذهبوا إلى أنه لا تصح صلاته عملا بظاهر الحديث. كذا في المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص صرف تہ بند سے اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس
کے جسم کا بالائی حصہ اس کے تہ بند کے حصے یا کسی اور کپڑے سے ڈھکا ہوا نہ ہو۔
واضح رہے کہ جو شخص تہ بند کے علاوہ اپنے جسم کے بالائی حصہ کو چادر یا کسی اور کپڑے سے
ڈھانکنے پر قادر نہ ہو تو ایسے شخص کی نماز صرف تہ بند کے ساتھ بغیر کسی کراہت کے جائز ہو جائے گی البتہ
ایسا شخص جو چادر کے اوڑھنے پر قدرت کے باوجود جسم کے بالائی حصہ پر کچھ اوڑھے بغیر صرف تہ بند کے
ساتھ نماز پڑھ لے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی، امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور جمہور رحمہم اللہ
کا یہی مسلک ہے۔ (مرقات)۔
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں اشتمال کئے ہوئے نماز پڑھتے
دیکھا کہ جس کے دونوں کنارے دونوں کندھوں پر اس طرح تھے (کہ بایاں کنارہ سیدھے مونڈھے
پر اور سیدھا کنارہ بائیں مونڈھے پر تھا)۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 354 (unverified) 94% confidence
Candidate: Sahih Muslim 517a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشتمال سے مراد یہ ہے کہ تہ بند کا بایاں کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے نکال کر سیدھے
مونڈھے پر ڈالے اور تہ بند کا سیدھا کنارہ سیدھے ہاتھ کے نیچے سے نکال کر بائیں مونڈھے پر ڈالے،
اگر کنارے چھوٹے ہوں تو دونوں کناروں کو گردن پر باندھے یا کناروں کو سینہ پر باندھے، اور اگر
کنارے دراز ہوں تو ان کو پیچھے لٹکاتا ہوا چھوڑ دے توشّح بھی اسی کو کہتے ہیں، جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ
علیہ کی اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے: ”وَقَالَ أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ”
صَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ“۔
ابو حازم نے کہا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ ایک کپڑے میں اس طرح نماز پڑھی کہ ان کے تہ بند کے (دونوں کنارے) ان کے
گردن پر باندھے ہوئے تھے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات، نیل الاوطار)12
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت، انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حصیر پر نماز پڑھ رہے ہیں اور اسی پر
سجدہ کر رہے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی کپڑے میں توشّح
یعنی اشتمال کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو وہ اس کپڑے کے
دونوں کناروں میں اشتمال کرے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
سعید بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ایک کپڑے میں نماز ادا کرنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ
میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ایک رات میں اپنے کسی کام کیلئے خدمت
اقدس میں حاضر ہوا تو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے پایا اور اس وقت مجھ پر ایک
ہی کپڑا تھا میں اس کو اپنے بدن پر اشتمال اصماء کے طور پر لپیٹ لیا تھا (اشتمال صماء کی تعریف ذیل
کے فائدہ میں درج ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو نماز پڑھتا رہا، جب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے دریافت فرمایا کہ اے جابر (رضی اللہ عنہ) اس وقت رات
میں آنے کا کیا سبب ہے تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی حاجت ظاہر کی، جب میں حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی حاجت کے اظہار سے فراغت پایا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر
(رضی اللہ عنہ) یہ بھی کوئی اشتمال ہے جس میں میں تم کو دیکھ رہا ہوں، میں نے عرض کیا ایک ہی کپڑا
ہونے سے میں نے اسی طرح اشتمال کیا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کپڑا بڑا ہو تو
اشتمال کرنا چاہئے یعنی کپڑے کا بایاں کنارہ بائیں ہاتھ کے نیچے سے نکال کر سیدھے مونڈھے پر اور
سیدھا کنارہ سیدھے ہاتھ کے نیچے سے نکال کر بائیں مونڈھے پر ڈال دیں اور اگر کپڑا چھوٹا ہو تو تہ
بند باندھ لیا جائے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ اگر کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں
میں اشتمال کرو اور اگر کپڑا چھوٹا ہے تو تہ بند کی طرح اس کو اپنی کمر پر باندھ لو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 361 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشتمال صماء سے مراد یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا ایک کپڑے کو اپنے پورے جسم پر اس طرح
لپیٹے کہ کپڑا کسی طرف سے نہ اٹھ سکے اور دونوں ہاتھ پھر اس کپڑے میں بے شکاف ٹھوس پتھر کی
طرح کسے ہوئے ہیں اور ہاتھوں کو اس کپڑے کے نچلے حصے سے ہی باہر کیا جا سکتا ہو، اور جب ہاتھوں کو
کسی ضرورت سے باہر نکالا جائے تو بے ستری کا اندیشہ رہتا ہو، اسی وجہ سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
اشتمال کے اس طریقے سے منع فرمایا ہے۔
(عمدۃ القاری، مجمع البحار۔)12
محمد بن المنکدر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جابر رضی اللہ عنہ
نے ہم کو صرف ایک تہ بند میں نماز پڑھائی جس کے دونوں کناروں کو انہوں نے اپنی گدی پر باندھا تھا
اور ان کے کپڑے تپائی پر رکھے ہوئے تھے، جابر رضی اللہ عنہ سے کسی نے (بطور اعتراض) کہا کہ آپ
صرف ایک تہ بند میں نماز پڑھا رہے ہیں (حالانکہ آپ کے کپڑے تپائی پر موجود ہیں) حضرت جابر
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے اسی لئے اس طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھائی تا کہ تم جیسا احمق
مجھے دیکھ کر (یہ سمجھ سکے کہ اس طرح ایک کپڑے میں نماز پڑھانا بھی جائز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانہ میں ہم میں کوئی ایسا شخص نہ تھا کہ جس کے دو کپڑے ہوں۔ (اس کی روایت بخاری نے
کی ہے۔)
اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک کپڑے میں نماز
پڑھنا سنت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک کپڑے میں نماز پڑھتے تھے اور اس کو
معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا پس کر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات اسی وقت تھی کہ جب کپڑوں
کی قلت تھی لیکن جب کہ اللہ تعالیٰ نے وسعت دے رکھی ہے تو دو کپڑوں میں نماز پڑھنا افضل ہے،
(اس لئے کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے ستر کھل جانے کا اندیشہ رہتا ہے۔) (اس کی روایت
امام احمد نے کی ہے۔)
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں شکار کرتا رہتا ہوں (اور شکار کے پیچھے دوڑنے میں سہولت کی غرض
سے صرف کرتا پہنتا ہوں تہ بند نہیں باندھتا) تو کیا میں اسی ایک کرتے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں کرتے کی گھنڈی لگا لو، اگرچہ کانٹے ہی کی ہو (تا کہ تم کو ستر نظر نہ
آئے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
and tie it, even with a thorn
(1) His statement “and tie it, even with a thorn”: It is mentioned in al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Muhtar that the condition for covering the 'awrah is that it must be concealed from others, meaning from the view of others from the sides, not from below. This applies even in a figurative sense, such as in a dark place or an empty place, where the 'awrah is considered visible in a figurative sense, thus covering it remains a requirement. However, it is not a condition to cover it from oneself.
This is the position on which the fatwa is given because it is explicitly narrated from Abu Hanifah and Abu Yusuf that the prayer does not become invalid due to this, as mentioned in al-Munyah and other works. Therefore, if one sees his 'awrah through the opening of his garment, the prayer does not become invalid, even though it is disliked.
This is because it is stated in al-Siraj: “He should button it due to this hadith”, which implies obligation, and neglecting it results in disapproval (karahah). However, this does not contradict their explicit statement that the prayer does not become invalid, and thus, this opinion is the preferred one, as mentioned in Sharh al-Munyah.
Note 1
قوله وازرره ولو بشوكة وقال في الدر المختار و رد المحتار والشرط ستر عورة عن غيره أي عن رؤية غيره من الجوانب لا من الأسفل، ولو حكما أي ولو كانت الرؤية حكمية، كما في المكان المظلم أو المكان الخالي فإن العورة فيه مرئية حكما فيشرط سترها فيه، لا سترها عن نفسه. به يفتى؛ لأنه روي عن أبي حنيفة وأبي يوسف نصا أنه لا تفسد صلاته، كما في المنية» وغيرها، فلو رآها من زيقه لم تفسد وإن كره؛ لقوله في السراج»
(۱) قوله وازرره ولو بشوكة وقال في الدر المختار و رد المحتار والشرط ستر عورة عن غيره أي عن رؤية غيره من الجوانب لا من الأسفل، ولو حكما أي ولو كانت الرؤية حكمية، كما في المكان المظلم أو المكان الخالي فإن العورة فيه مرئية حكما فيشرط سترها فيه، لا سترها عن نفسه. به يفتى؛ لأنه روي عن أبي حنيفة وأبي يوسف نصا أنه لا تفسد صلاته، كما في المنية» وغيرها، فلو رآها من زيقه لم تفسد وإن كره؛ لقوله في السراج»: فعليه أن يزره لهذا الحديث، ومفاده الوجوب المستلزم تركه للكراهة، ولا ينافيه ما مر من نصهما على أنها لا تفسد، فكان هذا هو المختار، كما في شرح المنية».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک کرتے میں بلا تہ بند نماز پڑھنا جائز ہے بشرطیکہ
گریبان میں گنڈی لگا دی جائے۔
واضح ہو کہ بوقت نماز نمازی پر ستر عورت فرض ہے، ستر عورت کی دو قسمیں ہیں:(1) ایک ستر کو
دوسروں کی نظر سے بچانا (2) دوسرے ستر کو اپنی نظر سے بچانا۔
ستر کو دوسروں کی نظر سے بچانے کی بھی دو صورتیں ہیں:(1) ایک ستر کو اطراف سے بچانا،
(2) دوسرے ستر کو نیچے سے بچانا۔
(1) ستر کو اطراف سے بچانے کا مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت پر نماز میں اپنے جسم کے جس
قدر حصے کو کپڑے سے چھپانا فرض ہے اس پورے حصے کو کپڑے سے اس طرح چھپانا واجب ہے کہ
چاروں طرف سے ستر کا کوئی حصہ دکھائی نہ دیتا ہو۔
(2) ستر نیچے سے چھپانے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرد تہ بند باندھے یا عورت ساڑی پہنے تو تہ
بند یا ساڑی کا نچلا یعنی زمین کی طرف والا حصہ کھلا رہتا ہے اور تہ بند یا ساڑی کے اس نچلے حصے کے کھلے
رہنے سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔
اطراف ستر کو دوسروں کی نظر سے بچانے کی بھی دو حیثیتیں ہیں (1) ایک حقیقی، (2) دوسرے
حکمی ’ستر حقیقی یہ ہے کہ کپڑے سے ستر پوشی کی جائے اور ستر حکمی یہ ہے کہ بغیر کسی کپڑے کے اندھیرے
میں یا خالی جگہ یا صحراء میں جہاں لوگوں کی نظر نہ پڑتی ہو نماز ادا کی جائے تو ستر حکمی کی ان تینوں صورتوں
میں اگرچہ نمازی کا ستر دوسروں کی نگاہ سے محفوظ ہے مگر یہ ستر حقیقی ہے اس لئے یہ ستر حکمی مفسد نماز ہے
،جب تک ستر کو کپڑے سے نہ چھپایا جائے ستر حقیقی نہیں ہوتا، اس لئے نمازی پر فرض ہے کہ اپنے ستر کو
اندھیرے میں ہو یا خالی مکان میں ہو کپڑے سے چھپائے۔
اب رہا نماز میں ستر کو اپنی نظر سے بچاؤ تو یہ واضح رہے کہ نمازی حالت میں اگر خود نمازی کی نگاہ
اپنی ستر پر پڑ جائے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ مکروہ ہو جائے گی۔ چنانچہ منیہ میں امام ابوحنیفہ اور
امام ابویوسف رحمہما اللہ سے یہی روایت ہے۔
اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کو ان کی نظر سے ستر کو
بچانے کی خاطر جو حکم دیا ہے کہ کرتے کے گریبان میں گنڈی لگائی جائے تو اس سے مقصود اسی کراہت
سے بچانا ہے اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ بحالت نماز نمازی کی نگاہ اس کے ستر پر پڑ جائے تو اس سے
نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ مکروہ ہوجاتی ہے۔ (درمختار، ردالمحتار، شرح منیہ۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں
سدل کرنے سے منع فرمایا ہے اور نمازی کو اپنے دہن یعنی منہ پر سر اور گردن سمیت ڈھاٹے کی طرح
کپڑا لپیٹنے سے بھی منع فرمایا ہے (اس لئے کہ اس سے قرأت اور سجدہ اچھی طرح ادا نہیں ہوتا۔)
(اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 643 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 378 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: سدل کے معنی یہ ہیں کہ نمازی چادر یا رومال کو اپنے کندھوں پر اس طرح ڈالے کہ دونوں
کناروں کو لٹکتا ہوا چھوڑ دے اور وہ سمٹے ہوئے نہ ہوں، یا قبا اور عباء کو اس طرح اوڑھ لے کہ اس کے
آستینوں میں ہاتھ نہ ڈالا جائے یا ایک چادر یا کسی کپڑے میں سارے بدن کو اس طرح لپیٹ لے کہ
دونوں ہاتھ اسی چادر یا کپڑے میں داخل کرلے ہوں جیسا کہ یہود کا دستور تھا، ان چیزوں سے نماز مکروہ
ہوتی ہے۔ (مرقات اشعۃ اللمعات۔)
اور عمدۃ الرعایۃ میں لکھا ہے: ”فان ارسل جانبا وضمه جانبه الآخر والقاه على
منكبه فليس بسدل“۔
اگر چادر کے ایک کنارے کو لٹکتا ہوا چھوڑ دے اور دوسرے کنارے کو سمیٹ کر دوسرے کندھے پر
ڈال دیا جائے تو یہ سدل نہیں کہلائے گا اور اس سے نماز مکروہ نہیں ہوتی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص اپنے تہبند کو
ٹخنے سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز ختم کرنے
کے بعد) حکم فرمایا کہ جاؤ اور وضوء کرلو (یہ سن کر) وہ گیا اور وضوء کر کے واپس آیا، ایک اور شخص نے
دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس شخص کو کس لئے وضوء کا حکم فرمایا ہے؟
(حالانکہ وہ باوضوء تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ وہ اپنے تہبند کو ٹخنے کے نیچے لٹکائے
ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے جو اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے
لٹکائے ہوئے نماز پڑھتا ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ حالت نماز میں ہوں یا نماز کے باہر ہوں ہر دو
صورتوں میں امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ کے پاس تہبند یا پاجامہ کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا مکروہ ہے
اور ردالمحتار میں ہے کہ مردوں کیلئے ایسے پاجاموں کا پہننا مکروہ ہے جن کے کنارے پنجوں پر گرتے
ہوں۔
ف(2): اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”إِنَّ اللَّهَ لَايَقْبَلُ صَلٰوةَ
رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ“۔
(اللہ تعالیٰ) اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے جو اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے
نماز پڑھتا ہے۔
واضح ہو کہ یہاں ٹخنوں کے نیچے تہبند کے لٹکانے پر نماز کے قبول نہ ہونے کا ارشاد ہوا ہے اور
نماز کے صحیح نہ ہونے کا ارشاد نہیں ہوا، جس سے ثابت ہے کہ نماز میں ٹخنوں سے نیچے تہبند یا پاجامہ کو
رکھنے سے نماز مکروہ ہوتی ہے اور فاسد نہیں ہوتی۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ نے تہبند یا
پاجامہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھ کر نماز ادا کرنے پر نماز کی کراہت کا حکم لگایا ہے نماز کے فساد کا حکم نہیں لگایا۔
اس حدیث میں اس شخص کو جو ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکائے ہوئے نماز ادا کر رہا تھا حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ‘‘، (جاؤ اور وضوء کرلو) یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے اس شخص کو اس کے باوضوء ہونے کے باوجود دوبارہ وضوء کرنے کا جو حکم ارشاد فرمایا ہے اس کی ایک
غرض یہ تھی کہ اس شخص نے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے رکھے ہوئے جو نماز ادا کی ہے اس کا گناہ معاف
ہوجائے اس لئے کہ وضوء سے صغیرہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، علاوہ ازیں اس شخص کو دوبارہ وضوء
کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کی دوسری غرض یہ تھی کہ اس شخص نے اپنے تہبند کو ٹخنے سے نیچے رکھ کر
اپنے باطن میں کبر و غرور کی جو گندگی پیدا کرلی تھی وہ اس دوبارہ وضوء سے زائل ہوجائے اور اس طرح
اس طہارت ظاہری سے اس کو طہارت باطنی حاصل ہوجائے کہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے۔
(یہ مضمون مرقات اور اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔)12
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم ایک منقش حاشیہ دار چادر اوڑھ کر نماز پڑھ رہے تھے، پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
چادر کے نقش و نگار کو (نماز کے اندر) ملاحظہ فرمایا اور نماز ختم کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ میری اس
چادر کو ابوجہم رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور میرے لئے ابوجہم کی سادہ کملی لے آؤ، کیوں کہ اس چادر
کے نقش و نگار نے میری توجہ نماز سے ہٹا دی۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں اس طرح آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ میں نماز میں اس چادر کے نقش و نگار کو دیکھ رہا تھا پس مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ مجھے فتنے
میں نہ ڈال دے (اور میرے حضور قلب میں فرق نہ پڑے۔)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو ریشم کا قبا تحفۃً دیا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنے اور اس میں نماز ادا فرمائی اور نماز سے
فارغ ہوتے ہی اس قبا کو جسم مبارک سے بہت جلد علیحدہ فرما دیا اور اس وقت چہرۂ مبارک پر ناگواری
کے آثار ظاہر تھے، پھر فرمایا ریشم متقیوں کے لئے سزاوار نہیں ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم
نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 375 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2075a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ریشمی قبا پہن کر ناگواری کا اظہار فرمانا اس زمانہ کا واقعہ
ہے جب کہ مردوں کیلئے ریشم پہننے کی حرمت کا حکم ابھی نہیں آیا تھا لیکن جب حکم آ گیا تو مردوں کیلئے ریشم
کا پہننا حرام ہو گیا خواہ متقی ہوں یا غیر متقی۔(مرقات،اشعۃ اللمعات)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ
عنہا کے پاس ایک باریک رنگین باتصویر پردہ تھا جس کو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرہ مبارک
کی دیوار کی زینت کیلئے باندھ رکھا تھا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
تم اس پردہ کو ہمارے سامنے سے نکال دو اس لئے کہ اس کی تصویریں مجھے نماز میں دکھائی دینے سے
میری مشغولیت ان کی طرف ہو جاتی ہے۔(اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 374 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں، ایک(1) یہ کہ نماز ادا کرتے وقت نمازی کے
لباس پر یا نمازی کے سامنے تصویریں نہیں ہونی چاہیئے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں کو
نکال دینے کا حکم فرمایا ہے،(2) دوسرے یہ کہ نمازی کے سامنے یا لباس پر تصویریں ہونے سے نماز مکروہ
ہوتی ہے، فاسد نہیں ہوتی، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز کی حالت میں تصویریں تھیں تو
آپ نے ان کو نکالنے کا حکم دیا مگر نماز کا اعادہ نہیں فرمایا، چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا اعادہ نہیں
فرمایا، اسی وجہ سے نماز کے فاسد ہو جانے کا حکم نہیں لگایا جائے گا بلکہ نماز کے مکروہ ہونے کا حکم لگایا
جائے گا، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔(عمدۃ القاری)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (نماز میں) مرد کیلئے جو ستر شرط ہے وہ ناف
کے نیچے سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک ہے۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے، یہ ایک طویل حدیث کا ایک حصہ ہے اور اس کی سند میں
سوار بن داؤد ہیں جن کو عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے؛ لیکن امام ابن معین ان کو ثقہ قرار دیتے ہیں)۔
(ابن معین فن رجال کے امام ہیں اس لئے ان کا قول معتبر ہے۔)
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مردوں کے لئے نماز میں ہوں یا غیر نماز میں ہوں
ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنے سمیت چھپانا ضروری ہے۔(اس کی روایت حاکم نے مستدرک میں کی ہے)۔
اور دارقطنی کی دوسری روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ
(مرد کے لئے) ستر عورت کی ابتداء ناف کے نیچے سے ہوتی ہے یعنی ناف ستر میں داخل نہیں ہے۔
عقبہ بن علقمہ رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ علی
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گھٹنا (مرد کیلئے) ستر میں داخل
ہے۔(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے
ہیں کہ ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کا نکاح اپنی باندی سے کردے تو وہ ہرگز اپنی باندی کے ستر (یعنی باندی کے
جسم کے اس حصہ کو) نہ دیکھے (جس کا اجنبیوں سے چھپانا فرض ہے اس لئے کہ غیر سے نکاح ہونے کے
بعد مالک بھی مثل اجنبی کے ہوجاتا ہے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
اور دار قطنی کی ایک روایت میں عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی باندی کا نکاح اپنے غلام یا اپنے
نوکر سے کر دے تو اس باندی کے ناف کے نیچے اور گھٹنے کو نہ دیکھے اس لئے کہ باندی کے ناف کے
نیچے سے لے کر گھٹنے سمیت جسم کا حصہ (بشمول چھاتیوں کے) پورا ستر ہے۔
اور عبدالرزاق نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ، انس
رضی اللہ عنہ کے گھرانے کی ایک باندی کو مارے جس کو انہوں نے منہ چھپائے ہوئے دیکھا اور فرمایا
کہ تو اپنے سر کو کھلا رکھا کرو وہ عورتیں جو باندی نہیں ہیں ان سے مشابہت مت اختیار کر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باریک کپڑے پہنی ہوئیں داخل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، اور فرمایا کہ اے اسماء! (جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ
پہنچوں تک دونوں ہاتھ اور چہرے کے سوا تمام بدن کو چھپائے۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ باریک تنزیب یا جالی وغیرہ کا بہت باریک دوپٹہ اوڑھ
کر نماز پڑھنا درست نہیں، یہ اس وقت ہے جب کہ اس کپڑے میں سے بدن دکھائی دیتا ہے اور اگر
جتنے بدن کا ڈھانکنا ضروری ہے اس کو دوسرے کپڑے سے ڈھک لیا گیا اور اس کے اوپر سے باریک
دوپٹہ بھی اوڑھ لیا جائے تو نماز ہو جائے گی۔ (منیہ اور درمختار۔)
قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
کہ جب لڑکی حائضہ یعنی بالغ ہو جائے تو اس کے چہرے اور پہنچوں تک ہاتھوں کے سوا بدن کے کسی
حصہ کا دکھائی دینا جائز نہیں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے مراسیل میں کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بالغہ عورت (جو باندی نہ ہو) اس کی نماز اوڑھنی کے بغیر (یعنی
کھلے سر) صحیح نہیں ہوتی۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت جو باندی نہ ہو، اگر وہ نماز پڑھتے وقت سر نہ
ڈھانکے تو اس کی نماز ادا نہیں ہوگی اس لئے کہ عورت کا سر اور اس کے بال ستر میں داخل ہیں، اسی بناء پر
سر اور بالوں کا چھپانا فرض ہے، عورت کی نماز ایسے باریک کپڑوں میں بھی صحیح نہیں جن میں اس کے
بالوں کا رنگ یا بدن دکھائی دیتا ہو یہ بھی بے ستری میں داخل ہے۔ (اللمعات۔)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
دریافت فرمائیں کہ کیا عورت بغیر تہ بند کے کرتے اور اوڑھنی میں نماز پڑھ سکتی ہے؟ تو حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں (عورت بغیر تہ بند کے بھی نماز پڑھ سکتی ہے۔) جبکہ اس کا کرتا اس قدر دراز
ہو کہ اس کے پشت قدم کرتے میں چھپ جاتے ہوں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 640 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
It covers the tops of her feet.
(1) The statement: "It covers the tops of her feet." According to Abu Hanifah, the feet are part of the private area (awrah), and this is also the opinion of Ash-Shafi'i, based on this hadith. It is mentioned in Sharh An-Nuqayah. In Al-Khaniyyah, it is stated: "The correct view is that exposing a quarter of the foot invalidates the prayer, just like exposing other parts of the body that are considered private."
Note 1
قوله
(۱) قوله: يغطي ظهور قدميها وعن أبي حنيفة: أن القدم عورة، وبه قال الشافعي؛ لهذا الحديث، قاله في شرح النقاية». وقال في «الخانية: الصحيح أن انكشاف ربع القدم يمنع جواز الصلاة كسائر الأعضاء التي هي عورة.
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کیلئے پشت قدم کو چھپانا فرض ہے (پشت قدم
تلوے) اسی لئے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عورت کے قدم بھی ستر میں داخل ہیں، اور اس
حدیث کی وجہ سے امام شافعی رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ (یہ شرح الوقایہ میں مذکور ہے۔)
عورت کا قدم ستر میں داخل ہونے کی وجہ سے خانیہ میں کہا ہے کہ نماز کے وقت عورت کے قدم کا
چوتھائی حصہ دکھائی دینے سے نماز نہیں ہوگی جیسا کہ جسم کے دیگر اعضاء کا چوتھائی حصہ نظر آنے سے نماز
جائز نہیں ہوتی ہے۔ البتہ نماز میں قدم یا کسی اور عضو کا چوتھائی حصہ سے کم حصہ دکھائی دے تو نماز ادا
ہوجائے گی۔ (مرقات، عمدۃ الرعایۃ)۔
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم (جوتے اور موزے پہنے ہوئے نماز پڑھ کر) یہود کی مخالفت کرو، اس
لئے کہ یہود (جوتے اور موزے پہنے ہوئے نماز نہیں پڑھتے۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 652 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جوتے اور موزے پہن کر نماز پڑھنا دو شرطوں کے ساتھ
مباح ہے، پہلی شرط یہ ہے کہ جوتے اور موزے پاک ہوں اور دوسری شرط یہ ہے کہ جوتا یا موزہ یا چپل
اس قسم کے ہوں کہ سجدہ کی حالت میں پیروں کی تمام انگلیاں زمین پر ٹک جاتی ہوں۔
واضح ہو کہ ان شرطوں کے باوجود بھی جوتا یا چپل اتار کر نماز پڑھنا مستحب ہے، اس لئے کہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل جوتے اتار کر نماز پڑھنا تھا۔
اب رہا یہود کی مخالفت تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہود اپنی نماز جوتا اور
چپل نکال کر پڑھتے اور جوتے اور چپل پہن کر نماز پڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے تھے اسی لئے حدیث میں
ارشاد ہوا کہ یہود کی مخالفت میں جوتا اور چپل پہن کر نماز پڑھو، لیکن اس زمانے میں یہود و نصاریٰ اپنی اپنی
نماز جوتے اور موزے پہنے ہوئے پڑھتے ہیں، اس لئے اس زمانے میں ان کی مخالفت یہ ہے کہ نماز جوتا
اور چپل کے بغیر پڑھی جائے۔ (مرقات، عمدۃ القاری۔)
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ یکا یک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نعلین اُتار کر
بائیں جانب رکھ دیئے اور صحابہ نے جب یہ دیکھا تو وہ بھی اپنے اپنے نعلین اُتار دیئے اور جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز ختم کی تو فرمایا کہ تم نے اپنی نعلین کیوں اُتاری، صحابہ نے عرض کیا کہ
جب ہم نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نعلین مبارک اتار دیئے ہیں تو اس لئے ہم بھی اپنی
اپنی نعلین اُتار دیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور
خبر دی کہ نعلین میں نجاست ہے (اس لئے میں ان کو اُتار دیا) جب تم میں سے کوئی مسجد کو آئے تو دیکھ
لے اگر اپنی نعلین میں نجاست پائے تو اس کو پونچھ ڈالے پھر انہیں میں نماز پڑھے۔ (اس کی روایت
ابوداؤد اور دارمی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 650 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: نماز شروع کرنے سے پہلے کئی چیزیں واجب ہیں، ان میں سے خفین اور نعلین کا بھی
نجاستوں سے پاک ہونا شرط ہے، اس لئے ان میں سے کسی پر کوئی نجاست لگی ہو تو اس کو پاک کر دیا
جائے اگر نجاست پاک نہ کی گئی تو نماز جائز نہیں ہوگی۔
اس لحاظ سے اس حدیث شریف میں جو واقعہ مذکور ہے اس پر بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نماز میں تھے اور جبرئیل علیہ السلام کے اطلاع دیئے پر آپ نے نعلین اُتار دیئے جن کو قذر یعنی
نجاست لگی ہوئی تھی اور نماز کا اعادہ نہیں فرمایا حالانکہ مذکورہ بالا شرط کے لحاظ سے نماز کا اعادہ ضروری تھا۔
اس شبہ کے دو جواب ہیں: پہلا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں قذر کا لفظ واقع ہوا ہے جس
کے معنی نجاست کے نہیں بلکہ ایسی چیز کے ہیں جس سے طبیعت کو ناگواری ہوتی ہے جیسے رینٹھ وغیرہ،
چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعلین مبارک کو ایسی ہی چیز لگی تھی اسی لئے آپ نے نماز کا اعادہ نہیں فرمایا۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر نعلین مبارک کو نجس چیز ہی لگی ہوئی تھی تو وہ مقدار درہم سے کم تھی جس
سے نماز ادا ہو جاتی ہے اور اعادہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور جبرئیل علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کو نماز میں اطلاع دینا آپ کی لطافت طبع کی وجہ سے تھا تا کہ آپ نعلین مبارک اُتار دیں اور نماز اکمل
طریقہ سے ادا ہو جائے۔ (مرقات: اشعۃ اللمعات۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے نعلین کو اپنی سیدھی جانب نہ رکھے اور
اسی طرح اپنے بائیں جانب بھی نہ رکھے اس لئے کہ اپنے بائیں جانب رکھنے سے نعلین دوسرے کے
سیدھے جانب رکھنا لازم آتا ہے (جو دوسرے کی ناگواری کا سبب بنتا ہے) البتہ نعلین کو اپنے دونوں
پیروں کے درمیان رکھ لے۔
اور دوسری روایت میں اس طرح ہے یا اپنے نعلین پہن کر نماز پڑھ لے (جبکہ
دونوں پاک ہوں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن ماجہ نے اس حدیث کی معناً روایت کی ہے۔)
عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں، ان کے دادا نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ننگے پیر اور کبھی نعلین پہنے
ہوئے دونوں حالتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "Nothing covering his shoulders" – and the more apparent interpretation is that the pronoun "from it" refers to the garment in general. This indicates the recommendation (sunnah) of placing the rida' (upper garment) or similar, such as the end of the izaar (lower garment) or other clothing, on the shoulders, and the dislike (karahah) of leaving it off when one is able to do so. Malik, Abu Hanifa, Al-Shafi'i, and the majority said: This prohibition is for reverence (tanzih), not for strict prohibition (tahrim). Therefore, if one prays in a single garment that covers their private parts but has nothing on their shoulders, their prayer is valid but disliked. As for Ahmad and some of the early scholars (Salaf), they held the view that the prayer is not valid, based on the apparent meaning of the hadith. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: ليس على عاتقيه منه شيء والأظهر أن ضمير منه يعود إلى مطلق الثوب، فيفيد سنية وضع الرداء ونحوه من طرف الإزار وغيره على الكتف، وكراهية تركه عند القدرة عليه لذلك. قال مالك وأبو حنيفة والشافعي والجمهور: هذا النهي للتنزيه لا للتحريم. فلو صلى في ثوب واحد ساتر عورته ليس على عاتقه منه شيء صحت صلاته مع الكراهة. وأما أحمد وبعض السلف، فذهبوا إلى أنه لا تصح صلاته عملا بظاهر الحديث. كذا في المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص صرف تہ بند سے اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے جسم کا بالائی حصہ اس کے تہ بند کے حصے یا کسی اور کپڑے سے ڈھکا ہوا نہ ہو۔ واضح رہے کہ جو شخص تہ بند کے علاوہ اپنے جسم کے بالائی حصہ کو چادر یا کسی اور کپڑے سے ڈھانکنے پر قادر نہ ہو تو ایسے شخص کی نماز صرف تہ بند کے ساتھ بغیر کسی کراہت کے جائز ہو جائے گی البتہ ایسا شخص جو چادر کے اوڑھنے پر قدرت کے باوجود جسم کے بالائی حصہ پر کچھ اوڑھے بغیر صرف تہ بند کے ساتھ نماز پڑھ لے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی، امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور جمہور رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ (مرقات)۔