Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "When a Muslim is questioned in the grave, he will testify that there is no deity worthy of worship except Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. That is the meaning of Allah's statement: {Allah keeps firm those who believe, with the firm word, in worldly life and in the Hereafter} (Surah Ibrahim: 27)."
In another narration, the Prophet (ﷺ) said: "{Allah keeps firm those who believe, with the firm word...} (Surah Ibrahim: 27): This verse was revealed regarding the punishment of the grave. It will be said to him: 'Who is your Lord?' He will reply: 'My Lord is Allah, and my Prophet is Muhammad.'
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسلمان سے قبر میں سوال ہوگا تو وہ ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ
“ کی شہادت دے گا، پس عذاب قبر کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے ﴿يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا
اور ایک دوسری روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے
فرمایا کہ یہ آیت ۞ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ”الخ ۞ عذاب قبر کے بارے میں
نازل ہوتی ہے۔ (میت سے) کہا جائے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ جواب دے گا: میرا رب اللہ ہے،
میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"When the servant is placed in his grave, and his companions turn away from him, he hears the sound of their footsteps. Then, two angels come to him and make him sit, and they ask him: 'What did you say about this man (Muhammad)?' As for the believer, he will say: 'I bear witness that he is the servant of Allah and His Messenger.' It will be said to him: 'Look at your place in the Hellfire; Allah has replaced it for you with a place in Paradise.' So he will see both of them.
But as for the hypocrite and the disbeliever, it will be said to him: 'What did you say about this man?' He will say: 'I do not know; I used to say what the people said.' It will be said to him: 'You neither knew nor did you follow.' Then, he will be struck with iron hammers, and he will let out a cry that will be heard by everyone around him except humans and jinn."
[Narrated by Al-Bukhari, and Muslim narrated a similar version).
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب بندہ کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے احباب اسے دفن کر کے واپس ہوتے ہیں کہ ابھی
ان کے جوتوں کی آہٹ کو سن رہا ہے اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں
اور کہتے ہیں: تُو ان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ مومن کہے گا: میں
گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس سے کہا جائے گا دیکھو تمہارا مقام
دوزخ تھا جس کو اللہ نے جنت کے مقام سے بدل دیا ہے وہ دونوں مقاموں کو بیک وقت دیکھے گا لیکن
منافق اور کافر ہر ایک سے دریافت کیا جائے گا ”تُو ان حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا
کہا کرتا تھا؟“ تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے اس سے کہا جائے گا تُو
نے نہ تو کچھ سمجھا اور نہ تو نے (قرآن) پڑھا۔
پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے اس پر ایسی مار پڑے گی جس سے وہ ایسی آواز سے چلا اٹھے گا کہ
جن و انس کے سوا سب آس پاس کی چیزیں اس کی اس چیخ و پکار کو سن لیتے ہیں۔ (بخاری نے اس کی
روایت کی ہے اور مسلم کی روایت بھی یہی ہے)۔
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"When one of you dies, his place (in the Hereafter) is shown to him morning and evening. If he is among the people of Paradise, then he is shown his place in Paradise. And if he is among the people of Hellfire, then he is shown his place in Hellfire. It will be said to him: 'This is your place until Allah resurrects you to it on the Day of Resurrection.'"
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو صبح و شام اس پر اس کا مقام پیش کیا جاتا ہے، پس
اگر اہل جنت سے ہو تو اس کے لئے اس کی جنت کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے اور اگر دوزخیوں سے ہو تو
اس کی دوزخ کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا اس وقت کا ٹھکانا ہے کہ
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنی طرف اٹھائے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی
ہے۔)
A’isha (may Allah be pleased with her) narrated that a Jewish woman entered upon her and mentioned the punishment of the grave. A’isha said to her, “May Allah protect you from the punishment of the grave.” Then A’isha asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the punishment of the grave, and he said, “Yes, the punishment of the grave is real.” A’isha said, “After that, I never saw the Messenger of Allah (ﷺ) pray without seeking refuge with Allah from the punishment of the grave.”
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس
آئی اور عذاب قبر کا ذکر کی اور کہی: اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر سے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں قبر کا عذاب حق
ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب
بھی آپ نماز ادا فرماتے تو عذاب قبر سے پناہ مانگتے۔ (بخاری اور مسلم نے بالاتفاق اس کی روایت کی ہے)۔
Zaid ibn Thabit (may Allah be pleased with him) narrated:
While the Messenger of Allah (ﷺ) was in a garden of Banu Najjar, riding on his mule, and we were with him, the mule suddenly veered, almost throwing him off. There were six or five graves in front of him. He asked, “Who knows the people of these graves?” A man replied, “I do.” The Prophet (ﷺ) asked, “When did they die?” The man said, “During the time of shirk (polytheism).” The Prophet (ﷺ) said, “Indeed, this nation will be tested in their graves. Were it not for the fear that you would stop burying your dead, I would have asked Allah to make you hear the punishment of the grave, which I can hear.”
Then he turned to us and said, “Seek refuge with Allah from the punishment of the Hellfire.” They said, “We seek refuge with Allah from the punishment of Hellfire.” He said, “Seek refuge with Allah from the punishment of the grave.” They said, “We seek refuge with Allah from the punishment of the grave.” He said, “Seek refuge with Allah from the trials, both visible and hidden.” They said, “We seek refuge with Allah from the trials, both visible and hidden.” He said, “Seek refuge with Allah from the trial of the Dajjal.” They said, “We seek refuge with Allah from the trial of the Dajjal.”
زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی
نجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے اور ہم آپ کے ساتھ تھے کہ وہ یکایک آپ کو لے کر بدک
گیا اور قریب تھا کہ وہ آپ کو گرا دے اور یکایک وہاں چھ یا پانچ قبریں دکھائی دیں، آپ نے فرمایا
: کیا کوئی شخص جانتا ہے کہ یہ قبر والے کون ہیں؟ ایک شخص نے کہا کہ میں جانتا ہوں، فرمایا: یہ کب
مرے ہیں؟ اس شخص نے کہا: شرک کی حالت میں، فرمایا: ان لوگوں پر قبروں کے اندر عذاب ہو رہا
ہے اور فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تم آئندہ سے دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں خدا سے دعا کرتا کہ وہ تم
کو قبر کا عذاب سنا دے جس کو میں سن رہا ہوں۔ پھر آپ ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمائے:
اللہ تعالیٰ سے دوزخ کے عذاب کی پناہ مانگو! صحابہ نے کہا کہ ہم دوزخ کے عذاب سے اللہ کی
پناہ میں آتے ہیں، فرمایا: قبر کے عذاب سے خدا کی پناہ مانگو، صحابہ نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے خدا کی
پناہ میں آتے ہیں، فرمایا: ظاہری اور باطنی فتنوں کے لئے اللہ سے پناہ مانگو، صحابہ نے کہا: ہم ظاہری
اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، فرمایا: دجال کے فتنے کے لئے خدا سے پناہ مانگو، صحابہ نے
کہا: ہم دجال کے فتنے سے خدا کی پناہ میں آتے ہیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے)۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“When the deceased is buried, two angels, black and blue, come to him. One is called Munkar, and the other is called Nakir. They ask him, ‘What did you use to say about this man (Muhammad)?’ He will reply, ‘He is the servant of Allah and His Messenger. I testify that there is no deity worthy of worship except Allah, and Muhammad is His servant and Messenger.’ They will say to him, ‘We knew that you used to say this.’ Then his grave will be expanded for him seventy cubits by seventy, and it will be illuminated for him. Then it will be said to him, ‘Sleep.’ He will reply, ‘Let me return to my family so that I may inform them.’ They will say, ‘Sleep like the sleep of a bridegroom who is only awakened by the one dearest to him,’ until Allah resurrects him from his resting place.
But if he is a hypocrite, he will say, ‘I heard people saying something, so I said the same; I do not know.’ They will say to him, ‘We knew you would say this.’ Then it will be said to the earth, ‘Compress him,’ and it will compress him so tightly that his ribs interlock. He will remain in torment there until Allah resurrects him from his resting place.”
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب میت کو دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کے پاس دو سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے فرشتے آتے
ہیں، ایک کا نام منکر ہے دوسرے کا نکیر ہے۔ دونوں کہتے ہیں کہ تُو ان حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے
متعلق کیا کہا کرتا تھا تو وہ کہے گا: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ
رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کی شہادت دیتا ہوں، دونوں کہیں گے: ہم کو اس کا علم تھا کہ تُو یہی کہے گا، پھر اس کی قبر
میں ستر گز طول، اور ستر گز عرض میں کشادگی کر دی جاتی ہے، پھر اس کے واسطے اس کی قبر روشن کی جاتی
ہے اور کہا جاتا ہے آرام کی نیند لے، وہ کہے گا کہ میں اپنے تمام اہل و عیال کے پاس جا کر اس کی
اطلاع دینا چاہتا ہوں، دونوں کہیں گے اس دولہا (دلہن) کی طرح سو جا جس کو اس کا محبوب ترین اہل
بیدار کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس کی خواب گاہ سے بروز قیامت اٹھائے گا، اور اگر وہ منافق
ہو تو کہے گا: میں نے لوگوں کو جو کہتے سنا وہی کہہ دیا میں نہیں جانتا۔ دونوں کہیں گے: ہم جانتے تھے کہ تو
یہی کہے گا، پھر زمین سے کہہ دیا جائے گا اس پر مل جا تو زمین مل جائے گی (یعنی بھینچے گی) اور اس کی
پسلیاں ادھر کی ادھر ہو جائیں گی، وہ اسی طرح عذاب میں مبتلا رہے گا، یہاں تک کہ خدائے تعالیٰ اس
کو اس ٹھکانے سے اٹھائے گا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
It is narrated from Al-Bara' ibn 'Azib (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said:
When a believer is placed in his grave, two angels come to him, make him sit up, and ask him: "Who is your Lord?" He replies: "My Lord is Allah." They ask him: "What is your religion?" He replies: "My religion is Islam." They then ask: "Who is this man who was sent among you?" He replies: "He is the Messenger of Allah (peace be upon him)." They ask: "How do you know this?" He replies: "I read the Book of Allah, believed in it, and affirmed it."
This is the meaning of Allah’s saying: "Allah keeps firm those who believe with the firm word" (Surah Ibrahim, 14:27).
Then a caller from the heavens proclaims: "My servant has spoken the truth, so spread for him a bed from Paradise, clothe him with garments of Paradise, and open a door for him to Paradise." So its breeze and fragrance reach him, and his grave is expanded as far as his sight can reach.
As for the disbeliever, the Prophet (peace be upon him) described his death and said:
His soul is returned to his body, and two angels come to him, make him sit up, and ask him: "Who is your Lord?" He replies: "Oh! Oh! I do not know." They ask: "What is your religion?" He replies: "Oh! Oh! I do not know." They ask: "Who is this man who was sent among you?" He replies: "Oh! Oh! I do not know."
Then a caller from the heavens proclaims: "He has lied, so spread for him a bed from Hell, clothe him with garments of Hell, and open a door for him to Hell." So its heat and scorching wind reach him.
His grave is compressed until his ribs interlock, and a blind and deaf tormentor is appointed for him, holding an iron hammer which, if struck on a mountain, would reduce it to dust. He strikes him with it, and he lets out a scream that is heard by everything between the east and the west, except for humans and jinn. Then he is turned into dust, and his soul is returned to him.
[Narrated by Ahmad and Abu Dawud)
براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے
دریافت کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے، پھر دونوں دریافت
کرتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر وہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ
کون حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو تمہارے طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے؟، وہ کہتا ہے کہ وہ
خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، فرشتے دریافت کرتے ہیں تم کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ تو وہ جواب دیتا
ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی، یہی مراد ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا
﴿ يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ﴾ ”الخ“ اللہ تعالیٰ مومنوں کو قول ثابت (یعنی کلمہ
توحید) پر قائم رکھتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے
کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا فرش کر دو اور اس کو جنت کا لباس پہناؤ اور اس کے
لئے جنت کی جانب ایک دروازہ کھول دو، چنانچہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: اس کو جنت کی ہوا اور خوشبو آنے لگتی ہے اور اس کی قبر میں اس کی نظر پہنچنے کی حد تک وسعت
کر دی جاتی ہے۔
اس کے بعد کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کی روح اس کے جسم
میں لوٹائی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بٹھاتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں
: تیرا رب کون ہے؟ تو وہ ہائے ہائے میں نہیں جانتا کہتا ہے، اور وہ فرشتے پھر دریافت کرتے ہیں کہ
تیرا دین کیا ہے؟ اس پر بھی وہ یہی کہتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا، پھر دونوں سوال کرتے ہیں یہ
کون حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں جو تم میں رسول بنا کر بھیجے گئے تھے تو اس کا جواب بھی وہی ہائے
ہائے میں نہیں جانتا دیتا ہے، پس آسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا، لہذا اس
کے لئے آگ کا فرش بچھا دو، آگ کا لباس پہناؤ اور اس کے لئے دوزخ کی جانب سے دروازہ کھول
دو، آپ نے فرمایا کہ اس کو دوزخ کی گرمی اور اس کی لو آنے لگتی ہے، پھر ارشاد فرمایا کہ اس پر اس کی قبر
اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے اُدھر نکل جاتی ہیں، پھر اس پر ایک
اندھا گونگا فرشتہ مسلط کر دیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا ایسا گُرز ہوتا ہے جس کو اگر پہاڑ پر مارا
جائے تو وہ خاک ہو جائے پس وہ فرشتہ اس گُرز سے اس طرح مارتا ہے جس کی آواز کو انس و جن کے سوا
مشرق و مغرب کی تمام مخلوق سن لیتی ہے جس سے وہ خاک ہو جاتا ہے، پھر اس میں روح واپس ڈالی
جاتی ہے (قیامت تک اسی طرح عذاب میں مبتلا رہتا ہے)۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے
کی ہے)۔
It is narrated from `Uthman (may Allah be pleased with him) that whenever he stood by a grave, he would weep until his beard became wet. It was said to him: "You mention Paradise and Hell, but you do not weep, and yet you weep because of this?" He replied: "The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'The grave is the first stage of the stages of the Hereafter. Whoever is saved from it, what follows will be easier for him; and whoever is not saved from it, what follows will be more severe.' He also said: 'I have never seen a scene more terrifying than the grave.'" [Narrated by Tirmidhi and Ibn Majah. Tirmidhi said: "This is a strange hadith.")
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا
روتے کہ داڑھی تر ہو جاتی، آپ سے کہا گیا کہ جنت اور دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو آپ نہیں روتے
اور قبر کو دیکھ کر رو دیتے ہیں۔
آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قبر منازل آخرت کی پہلی منزل ہے
کسی کو اس سے نجات مل گئی تو اس کے بعد جو کچھ آئے گا وہ آسان تر ہے اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو
جو چیز اس کے بعد ہے وہ اس سے سخت تر ہے۔
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی منظر
میں نے قبر سے زیادہ ہولناک نہیں دیکھا۔(اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
It is narrated from `Uthman (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him), when he finished burying the deceased, would stand by the grave and say: "Seek forgiveness for your brother and ask for steadfastness for him, for he is now being questioned." [Narrated by Abu Dawud)
عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی
میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو ٹھہر جاتے اور فرماتے کہ اپنے اس بھائی کے لئے مغفرت مانگو اور
پھر اس کے لئے منکر نکیر کے سوال کے وقت ثابت قدم رہنے کی دعا کرو، اس لئے کہ اس وقت اس
سے سوال کیا جا رہا ہے۔(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
It is narrated from Abu Sa`id (may Allah be pleased with him) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Upon the disbeliever in his grave, ninety-nine dragons will be unleashed, biting and stinging him until the Hour is established. If one of those dragons were to blow upon the earth, it would never produce vegetation." [Narrated by Darimi)
ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کافر پر اس کی قبر میں ننانوے اژدھے مسلّط کر دیئے جاتے ہیں جو قیام
قیامت تک اس کو ڈستے اور کاٹتے رہیں گے، اگر ان میں کا ایک اژدھا زمین پر پھنکارے تو زمین
سبزی نہ اُگائے۔(دارمی نے اس کی روایت کی ہے)۔
It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that they went with the Messenger of Allah (peace be upon him) to the grave of Sad ibn Muadh when he passed away. When the Messenger of Allah (peace be upon him) prayed for him and placed him in his grave, and when the grave was leveled, the Messenger of Allah (peace be upon him) made tasbih (glorified Allah), and we also made tasbih for a long time. Then he said takbir (Allahu Akbar), and we followed him in saying takbir. It was said: "O Messenger of Allah, why did you make tasbih and then say takbir?" He replied: "The grave of this righteous servant of Allah was constricted, but Allah relieved it for him." [Narrated by Ahmad)
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے ساتھ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں گئے جب کہ وہ انتقال کر گئے تھے جب نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سُبْحَانَ اللّٰه“ فرمایا تو ہم بھی دیر تک سُبْحَانَ اللّٰه پڑھتے رہے، پھر آپ
نے ”اللّٰهُ أَكْبَرُ“ فرمایا تو ہم نے بھی اللّٰهُ أَكْبَرُ کہا، پس اس کے بعد آپ سے دریافت کیا گیا کہ کس
لئے آپ نے تسبیح پھر تکبیر کہی تو فرمایا کہ تحقیق اس نیک بندے پر زمین تنگ ہوگئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ
نے اس تنگی کو دور فرما دیا۔ (امام احمد نے اس کی روایت کی ہے)۔
It is narrated from Ibn `Umar (may Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "This is the one for whom the Throne of Allah trembled, the gates of the heavens were opened for him, and seventy thousand angels witnessed him. He was compressed and then relieved." [Narrated by Nasai)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ (سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ) وہ شخص ہیں جن کے لئے عرش ہل گیا اور آسمان کے
دروازے ان کے لئے کھول دیئے گئے اور ستر ہزار فرشتوں نے ان کے جنازہ میں شرکت کی، بے شک یہ
بھینچے گئے پھر ان کی قبر کشادہ کردی گئی۔ (پھر اس کی روایت نسائی نے کی ہے)۔
It is narrated from Asma’ bint Abu Bakr (may Allah be pleased with them) that the Messenger of Allah (peace be upon him) stood giving a sermon, mentioning the trial of the grave in which a person will be tested. When he mentioned this, the Muslims raised a loud cry. This is how it is narrated by Bukhari. Nasai added: "There was a commotion between me and him, preventing me from understanding the words of the Messenger of Allah (peace be upon him). When the noise settled, I asked a man close to me: 'What did the Messenger of Allah (peace be upon him) say in his final words?' He replied: 'It has been revealed to me that you will be tested in the graves, a trial close to the trial of the Dajjal.'"
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور قبر کے فتنہ کا ذکر فرمایا جس میں آدمی آزمایا جاتا ہے،
جب آپ نے اس کا بیان فرمایا تو مسلمانوں نے آہ و بکا کیا۔ (بخاری نے اسی طرح روایت کی ہے)
اور نسائی نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ راوی کا بیان ہے کہتے ہیں کہ آہ و بکا کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے کلام کو میں سمجھ نہ سکا جب شور کم ہوگیا تو میں نے اپنے سے قریب شخص سے دریافت کیا خدا تم کو
برکت دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخیر خطاب میں کیا ارشاد فرمایا؟ اس شخص نے کہا
کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بذریعہ وحی معلوم کرا دیا گیا ہے کہ تم قریب قریب فتنہ دجال
کی طرح ہی قبر میں آزمائے جاؤ گے۔
It is narrated from Jabir (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "When the dead is placed in the grave, the sun sets before him, and he sits wiping his eyes, saying: 'Let me pray.'" [Narrated by Ibn Majah)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب میت کو قبر میں داخل کر دیا جائے گا تو اس کو ایسا دکھائی دے گا کہ گویا
آفتاب غروب ہونے کے قریب ہے تو وہ بیٹھ کر آنکھیں ملے گا اور کہے گا کہ مجھے چھوڑ دو کہ میں نماز
پڑھوں۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)۔
It is narrated from Abu Huraira (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "When the dead is placed in the grave, a righteous man sits in his grave without fear or distress. Then he is asked: 'What were you in?' He replies: 'I was in Islam.' Then he is asked: 'Who is this man?' He says: 'Muhammad, the Messenger of Allah (peace be upon him), who brought clear signs from Allah, and we believed in him.' Then he is asked: 'Did you see Allah?' He replies: 'No one can see Allah.' Then an opening is made before him towards the fire, and he sees it crushing one part of another. It is said to him: 'Look at what Allah has saved you from.' Then an opening is made before him towards Paradise, and he sees its beauty and what is in it. He is told: 'This is your place; you were certain in it, you died upon it, and you will be resurrected upon it, if Allah wills.'
The evil man, however, sits in his grave terrified and distressed. He is asked: 'What were you in?' He replies: 'I do not know.' He is asked: 'Who is this man?' He says: 'I heard people saying something, so I said it.' Then an opening is made before him towards Paradise, and he sees its beauty and what is in it. He is told: 'Look at what Allah has turned away from you.' Then an opening is made before him towards the fire, and he sees it crushing one part of another. He is told: 'This is your place; you were in doubt about it, you died upon it, and you will be resurrected upon it, if Allah wills.'" [Narrated by Ibn Majah)
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردہ (یعنی نیک مسلمان) قبر میں داخل
ہونے کے بعد وہ قبر میں اٹھ کر بیٹھتا ہے نہ اس کو کوئی گھبراہٹ ہوگی اور نہ وہ خائف ہوگا، پھر اس سے
سوال ہوگا کہ تو کس دین پر تھا؟ وہ کہے گا میں اسلام پر تھا، پھر اس سے سوال ہوگا کہ یہ کون حضرت
(صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں؟ وہ کہے گا: یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، آپ ہمارے ہاں اللہ کی
جانب سے واضح دلائل لائے تو ہم نے آپ کی تصدیق کی، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے
اللہ کو دیکھا ہے؟ وہ جواب دے گا کہ کوئی شخص اس لائق نہیں کہ وہ اللہ کو دیکھ سکے، پس اس کے لئے
دوزخ کی جانب سے ایک روشن دان کھول دیا جائے گا تو وہ دیکھے گا کہ اس میں آگ کے شعلے ایک
دوسرے کو توڑ رہے ہیں، اس سے کہا جائے گا کہ دیکھ اس (جگہ) کو جس سے اللہ نے تجھ کو بچا لیا ہے،
پھر جنت کی جانب اس کے لئے ایک روشن دان کھول دیا جائے گا، وہ جنت کی بہار اور جو کچھ اس میں
ہے اس کی طرف دیکھے گا اس سے کہا جائے گا کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے تو یقین پر تھا اور اسی پر تیری موت
ہوئی اور اسی پر تو ان شاء اللہ اٹھایا جائے گا۔
اور بُرا آدمی قبر میں گھبراہٹ اور خوف کی حالت میں اٹھ بیٹھے گا اس سے سوال ہوگا کہ تو کس
دین پر تھا؟ وہ کہے گا: مجھے معلوم نہیں، پھر سوال ہوگا یہ کون حضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں؟ وہ کہے گا:
لوگوں کو جو کہتے سنا میں نے بھی کہہ دیا تو اس کے لئے جنت کی جانب ایک دریچہ کھول دیا جائے گا تو وہ
اس کی بہار اور جو کچھ اس میں ہے اس کو دیکھے گا اس سے کہا جائے گا تو اس مقام کو دیکھ جس کو اللہ تعالیٰ
نے تجھ سے ہٹا دیا ہے۔ پھر اس کے بعد دوزخ کی جانب ایک دریچہ اس کے لئے کھولا جائے گا تو وہ
اس کو دیکھے گا کہ اس میں شعلے ایک دوسرے کو توڑ رہے ہیں، اس سے کہا جائے گا یہ تیرا مقام ہے،
کیوں کہ تو شک پر تھا اور اسی پر تیری موت ہوئی اور اسی پر تو انشاء اللہ اٹھایا جائے گا۔ (ابن ماجہ نے
اس کی روایت کی ہے)۔