Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں حج کے افعال، احکام اور فضائل کا بیان ہے) · Chapter 7

(حج کی قربانی اور قربانی کے جانوروں کا بیان)

16 narrations · In source reading order

Hadith 3089

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
2/3664۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے سال (6 ہجری میں جب کہ صلح حدیبیہ ہوئی اور آپ عمرہ کے لئے تشریف لے گئے تو) قربانی کے جانوروں میں ابوجہل کا اونٹ بھی ساتھ لے گئے (یہ وہی اونٹ تھا جو غزوہ بدر کے موقع پر مال غنیمت میں حاصل ہوا تھا) اس کی ناک میں سونے کی نتھنی تھی (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس اونٹ کو قربانی کے لئے اس لئے ساتھ لائے تا کہ مشرکین اس کو (ذبح ہوتے ہوئے) دیکھ کر جلیں (کہ ان کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے ہاتھ ذبح ہو رہا ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابودود نے کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the words of Allah Almighty: "O you who have believed, do not violate the rites of Allah or [the sanctity of] the sacred month or the sacrificial animals or the garlands..." (Al-Ma'idah 5:2)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1749 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (9)

Chapter-heading commentary

Nor the garlands

(1) "Nor the garlands": This establishes the legitimacy of garlanding sacrificial animals by Quran and Sunnah. (Al-Jawharah al-Nayyirah)

For you therein is good

(2) "For you therein is good": This indicates the permissibility of riding sacrificial camels, as the "good" includes riding and milking. ('Umdat al-Qari)

When lined up

(3) "When lined up": The strongest evidence for slaughtering while standing is this verse, interpreted by Ibn Abbas as "standing on three legs" (left foreleg tied). Abu Dawud authentically reported this. (Al-Maraqi)

When they are [lifeless]

(4) "When they are [lifeless]": The Prophet (ﷺ) slaughtered while standing to comply with this verse's apparent meaning, as "lifelessness" is most evident in this position. (Fath al-Qadir)

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: ولا القلائد فيثبت شرعية التقليد بالكتاب والسنة. كذا في «الجوهرة النيرة».

قوله

(۲) قوله : لكم فيها خير : موضع الاستدلال في جواز ركوب البدن في قوله: ﴿لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ (الحج: ٣٦) يعني من الركوب والحلب. كذا في عمدة القاري».

قوله

(۳) قوله: صواف استدلال النحر قياما بقوله تعالى: ﴿فَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَيْهَا صَوَافَ (الحج: ٣٦) أظهر، وقد فسرهابن عباس بقوله: قياما على ثلاث قوائم، وهو إنما يكون بعقل الركبة والأولى كونها اليسرى للاتباع، رواه أبو داود بإسناد صحيح على شرط مسلم. كذا في «المرقاة».

قوله

(٤) قوله: فإذا وجبت: وإنما من النبي له النحر قياما عملا بظاهر قوله تعالى: ﴿فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا﴾ (الحج: ٣٦) والوجوب السقوط، وتحققه في حال القيام أظهر. قاله في «فتح القدير».

Note 1

ف: واضح ہوکہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو قربانیاں دی ہیں وہ نفل اور شکرانہ میں دی گئیں، اس لئے کہ عمرہ میں قربانی واجب نہیں ہے۔ مرقات، اشعۃ اللمعات۔12

Hadith 3090

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3665Noor 3666Noor 3667
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ذوالحلیفہ پر (جو اہل مدینہ منورہ کی میقات ہے ظہر کی نماز ادا فرمائی اور اس اونٹنی کو طلب فرمایا (جس کو آپ بطور ہدی قربانی کے لئے لے جانا چاہتے تھے) پھر آپ نے اس اونٹنی کے کوہان کے سیدھی جانب کنارے پر (بطور نشانی کے) زخم لگایا (تاکہ لوگ تعرض نہ کریں، اور اس کو ایذاء نہ پہنچائیں) اور (زخم کو صاف کیا اور) خون کو پونچھ دیا اور اس کے گلے میں دو نعلین بطور ہار کے ڈالے (تاکہ یہ اور اونٹنیوں میں ممتاز رہے اور پہچانی جاسکے) اور پھر اونٹنی پر سوار ہوئے اور جب اونٹنی آپ کو (ذوالحلیفہ سے لے کر) مقام بیداء میں پہنچی تو آپ نے حج کے لئے لبیک فرمایا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔ اور بخاری و مسلم کی متفقہ روایت میں انس رضی اللہ عنہ سے اس طرح مروی ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (حجۃ الوداع کے وقت قِران کی نیت سے) حج اور عمرہ کا ایک ساتھ اس طرح تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے آپ فرما رہے تھے ”لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا“ (اے اللہ! میں عمرہ اور حج کے لئے حاضر ہوں) اور ابو یعلیٰ کی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قربانی کی) اونٹنی کے کوہان کے بائیں جانب اشعار کیا یعنی (ہلکا سا) زخم لگایا (تا کہ نشان رہے) پھر (اس زخم کے) خون کو اپنی مبارک انگلی سے پونچھ کر صاف فرمایا۔
Commentary and footnotes (9)

Note 1

His she-camel

(1) "His she-camel": This implies sheep are not garlanded, as it wasn't customary. Al-Shafi'i disagreed based on Aisha's narration about garlanding sheep. Our response: The Prophet (ﷺ) abandoned this later practice. ('Umdat al-Qari)

Note 2

(2) Marking (Ish'ar): Al-Shafi'i considered it recommended, while Abu Hanifah disliked it (though Hasan and Abu Yusuf permitted it). The fatwa follows the latter view. Al-Tahawi clarified Abu Hanifah only disliked excessive marking that might harm the animal. (Fath al-Qadir, Bahr al-Ra'iq)

Note 3

(3) Right side of hump: There's a difference between narrations about marking left vs. right. Ibn Umar consistently marked the left, suggesting he knew the Prophet's (ﷺ) practice. The reconciliation is that both sides were used at different times. (Bazl al-Majhud, Fath al-Qadir) (4) Talbiyah: The Prophet (ﷺ) combined Hajj and Umrah in his Talbiyah, as recorded in Sahihayn. Single mentions in other narrations are either abbreviated or context-specific. (Al-Maraqi)

Note 5

(5) Left side marking: Muhammad (al-Shaybani) held this as the preferred position, except for paired camels where right-side marking is permitted if access is difficult.

Note 1

قوله

(۱) قوله: دعا بناقته نبه بقوله: «ناقته على أن الغنم لا تقلد؛ لعدم التعارف بتقليدها، وقال الشافعي : يقلد الغنم أيضًا بقول عائشة : إن رسول الله ﷺ أهدى إلى البيت عنها فقلدها، متفق عليه. قلنا: فعله رسول ، ثم تركه وترك الناس بعده، ولو كانت سنة معروفة لما تركوه، والحديث انفرد به أسود بن يزيد ولم يذكره غيره، وادعى صاحب «المبسوط» أنه أثر شاد. كذا في «عمدة القاري».

Note 2

قوله

(۲) قوله: فأشعرها وعليه الشافعي، وهو مكروه عند أبي حنيفة حسن عندهما، والفتوى على قولهما. وقال الطحاوي: إنما كره أبو حنيفة الإشعار المحدث الذي يفعله عوام زمانه، والأعراب على وجه المبالغة، ويخاف منه السراية إلى الموت لا مطلق الإشعار، واختاره في غاية البيان وصححه. وفي فتح القدير أنه الأولى هذا حاصل ما في الهداية» و«البحر الرائق».

Note 3

قوله

(۳) قوله: سنامها الأيمن: وقد وقع في هذا الحديث أن إشعاره له بدنته كان في صفحة سنامها الأيمن. وقال في الهداية : وصفته أن يشق سنامها بأن يطعن في أسفل السنام من الجانب الأيمن أو الأيسر، قالوا: والأشبه هو الأيسر؛ لأن النبي ﷺ طعن في جانب اليسار مقصودا، وفي الجانب الأيمن اتفاقا، ووقع في «مسلم» عن أبي حسان عن ابن عباس : أنه له صلى الظهر بذي الحليفة، ثم دعا ببدنه، فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن، وروى البخاري «الإشعار، فلم يذكر قيد الأيمن، ولا الأيسر، لكن قد أسند أبو يعلى إلى أبي حسان عن ابن عباس بطريق آخر أنه أشعر بدنه في شقها الأيسر، ثم سلت الدم بإصبعه الحديث. وفي موطأ مالك عن نافع أن ابن عمر الله كان إذا أهدى هديا من المدينة يقلده بنعلين، ويشعره في الشق الأيشر، فهذا يعارض ما في مسلم من حديث ابن عباس؛ إذ لم يكن أحد أشد اقتفاء لظواهر فعل رسول الله ﷺ من ابن عمر ، فلولا علمه وقوع ذلك من فعله ﷺ لم يستمر عليه فوجه التوفيق حينئذ هو ما صرنا إليه من الإشعار فيها حملا للروايتين على رؤية كل راء الإشعار من جانبه، وهو واجب ما أمكن، بذل المجهود» و «فتح القدير» مختصرا.

Note 4

قوله

(٤) قوله: أهل بالحج وكذا بالعمرة لما في الصحيحين عن أنس قال: سمعت رسول الله ﷺ يلبي بالحج والعمرة، يقول: لبيك عمرة وحجا، ومن حفظ حجة على من لم يحفظ مع أنه يمكن أن الراوي اقتصر على ذكر الحج؛ لأنه الأصل أو لأن مقصوده بيان وقت الإحرام والتلبية أو لعدم سماعه أولا أو لنسيانه آخرا. كذا في «المرقاة».

Note 5

قوله

(٥) قوله: في الشق الأيسر : قال محمد وبهذا نأخذ التقليد أفضل من الإشعار، والإشعار حسن والإشعار من الجانب الأيسر إلا أن تكون صحبا مقرنة لا يستطيع أن يدخل بينهما فليشعرها من الجانب الأيسر والأيمن.

Hadith 3091

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3668
نافع رحمہ اللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ (جب حضرت ابن عمر حج کے لئے روانہ ہوتے تو) وہ مدینہ منورہ سے ہی ہدی یعنی قربانی کے جانور کو ساتھ لے لیتے اور جب ذوالحلیفہ پر (جو اہل مدینہ کی میقات ہے) پہنچتے تو ہدی کے گلے میں (بطور نشانی) نعلین ڈالتے اور اس کے کوہان کو اشعار کرتے یعنی ہلکا سا زخم لگاتے اور اس موقع پر پہلے نعلین گلے میں ڈالتے پھر اشعار کرتے اور یہ دونوں کام ایک ہی جگہ کرتے اور اس وقت قبلہ رو ہو کر (پہلے) نعلین جانور کے گلے میں ڈالتے اور پھر اس کے کوہان کے بائیں جانب اشعار کرتے پھر اس ہدی کو اپنے ہمراہ رکھتے یہاں تک کہ اور لوگوں کے ساتھ مقام عرفات میں وقوف کرتے پھر جب لوگ (عرفات سے مزدلفہ) روانہ ہوتے تو ہدی بھی ان کے ساتھ ہی رہتی۔ پھر جب دسویں ذوالحجہ کی صبح منیٰ پہنچتے تو (رمی کے بعد) حلق یا قصر سے پہلے اس جانور کو ذبح کرتے اور اس جانور کو خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے۔ ان جانوروں کو (نحر کرنے کے لئے) کھڑے کرتے تو ان کو قبلہ رخ کھڑا (کر کے نحر) کرتے اور (ان جانوروں کے گوشت کو) خود بھی کھاتے اور دوسروں کو کھلاتے۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2634 (unverified) 45% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 829 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2634

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3092

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3669
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما (جب حج کے لئے تشریف لے جاتے اور ہدی ساتھ ہوتی تو) اپنی اونٹنی کے کوہان کے بائیں جانب ہی اشعار فرماتے البتہ اگر کوہان (کا بایاں جانب) اس قابل نہ ہوتا اور اس میں دشواری ہوتی اور بائیں طرف اشعار ممکن نہ ہوتا تو (کوہان کے) سیدھے جانب اشعار فرماتے اور جب اشعار کا ارادہ فرماتے تو اونٹنی کو قبلہ رو کرتے اور بسم الله والله اكبر کہہ کر اپنے ہاتھ سے اشعار کرتے (پھر جب نحر کا وقت آتا تو) اونٹنی کو کھڑا کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کرتے۔ اس کی روایت امام محمد نے اپنی موطا میں کی ہے۔

Hadith 3093

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3670
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) دسویں ذوالحجہ کے دن ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1319 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

(1) Cow for Aisha: Scholars differed whether a camel is superior to a single sheep. Some argued a sheep is better if more valuable, while Abu Bakr Muhammad ibn al-Fadl held camels are superior due to more meat - all of it counting as obligatory if sacrificed for one person. (Al-'Alamgiriyyah)

Note 1

قوله

(۱) قوله: عن عائشة بقرة اختلف المشايخ أن البدنة أفضل أم الشاة الواحدة، قال بعضهم: إن كانت قيمة الشاة أكثر من قيمة البدنة فالشاة أفضل؛ لأن الشاة كلها فرض، والبدنة مبحها فرض والباقي يكون فضلا، قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل البدنة أفضل؛ لأنها أكثر لحما من الشاة، وما قالوا: إن البدنة يكون بعضها نفلا، فليس كذلك، بل إذا نحرت عن واحد، كان كلها فرضا، وشبهه بالقراءة في الصلاة لو اقتصر على ما تجوز به الصلاة جاز ولو زاد عليه يكون الكل فرضًا. كذا في العالمكيرية».

Note 1

ف: واضح ہو کہ اونٹ یا گائے کی قربانی میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں اور چاہیں تو صرف ایک آدمی کی طرف سے بھی ایک گائے یا اونٹ کی قربانی دی جاسکتی ہے، البتہ قربانی غیر کی طرف سے دی جارہی ہو تو اس سے اجازت کے بغیر نہ دی جائے۔ مرقات اور اشعۃ اللمعات اور فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ اگر گائے یا اونٹ کی قربانی ایک شخص کی طرف سے دی جائے تو پوری گائے یا اونٹ کی قربانی ایک ہی کی طرف سے ہوگی۔12

Hadith 3094

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3671
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (جب عمرہ کے لئے آئے اور ہم کو عمرہ سے روک دیا گیا تھا تو اس وقت) ہم نے اونٹ کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے اور اسی طرح گائے کی قربانی بھی سات آدمیوں کی طرف سے ادا کی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1318a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

(1) Seven per camel: This supports the majority view (including Hanafis) that seven may share a camel or cow if all intend worship (e.g., Hajj or Udhiyah). Al-Shafi'i extended this to include non-worshippers sharing for meat, while Malik prohibited sharing for obligatory sacrifices. Sharing sheep is unanimously invalid. (Al-Maraqi)

Note 1

قوله

(۱)قوله: البدنة عن سبعة وفيه دليل لمذهبنا كأكثر أهل العلم أنه يجوز الاشترا السبعة في البدنة أو البقرة إذا كان كلهم متقربين سواء يكون قربة متحدة كالأضحية والهدي أو مختلفة كأن أراد بعضهم الهدي وبعضهم الأضحية وعند الشافعي: ولو أراد بعضهم اللحم، وبعضهم القربة جاز، وعند مالك: لا يجوز الاشتراك في الواجب مطلقا، وأما الاشتراك في الغنم فلا يجوز إجماعا. كذا في «المرقاة».

Hadith 3095

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3672
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن اونٹوں کو بطور ہدی (مکہ معظمہ) روانہ فرمایا تھا۔ ان اونٹوں کے قلادہ یعنی ہار کی رسیاں میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بانٹی ہیں۔ پھر ان رسیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنے ہاتھ سے) ان جانوروں کے گلوں میں ڈالا اور اشعار فرمایا اور اپنی طرف سے (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ہجرت کے نویں سال مکہ معظمہ) بطور ہدی کے روانہ فرمایا (اور اس طرح بطور ہدی ان جانوروں کو روانہ کرنے سے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کوئی حلال چیز حرام نہیں ہوئی۔ (یعنی ہدی بھیجنے والے پر اگر وہ اپنے مقام پر ہی رہے تو اس پر ہدی بھیجنے کی وجہ سے کوئی پابندی لازم نہیں آتی)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1321a (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1697 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

(1) No prohibition: According to Hanafis, merely garlanding and sending animals doesn't initiate Ihram - one must personally accompany them. (Al-Hidayah)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فما حرم عليه إلخ : أما مذهب الحنفية في ذلك، ففي الهداية» قال: فإن قلدها وبعث بها ولم يسقها لم يصر محرما.

Hadith 3096

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3673
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے ہدی کے جانوروں کے قلادہ کی رسیوں کو اس اون سے جو میرے پاس تھا بانٹی تھی اور ان جانوروں کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ہجرت کے نویں سال اپنی طرف سے) میرے والد (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جب کہ وہ امیر حج مقرر فرمائے گئے تھے۔ (بطور ہدی مکہ معظمہ) روانہ فرمایا تھا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1701 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.475

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3097

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3674
ابوالزبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہدی یعنی قربانی کے جانور پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے ان کو یہ فرماتے سنا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ اس جانور پر احتیاط کے ساتھ سوار ہو۔ (تاکہ اس کو ضرر نہ پہنچے) بشرطیکہ تم اس پر سواری کے لئے مجبور نہ ہو جاؤ۔ یہاں تک کہ تم کو دوسری سواری مل جائے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1324a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

One may ride sacrificial camels if forced to, but should avoid it otherwise.

(1) When necessary: Hence Al-Hidayah states: "One may ride sacrificial camels if forced to, but should avoid it otherwise." Abu Hanifah permits riding only under necessity, while al-Shafi'i allows it for need. This hadith supports our view. (Al-'Urf al-Shadhi)

Note 1

قوله

(۱) قوله: إذا ألجئت إليها إلخ ولذا قال في الهداية»: ومن ساق بدنة فاضطر إلى ركوبها ركبها، وإن استغني عن ذلك لم يركبها، انتهى. فيجوز الركوب عند أبي حنيفة عند الاضطرار، وعند الشافعي عند الحاجة، والاضطرار أشد من الحاجة، ثم الاضطرار والحاجة موكولان إلى رأي من ابتلي بهما، وهذا الحديث لنا. قاله في العرف الشذي».

Hadith 3098

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3675
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک صحابی (یعنی ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ) کے ہمراہ سولہ (16) اونٹ بطور ہدی کے (نفل قربانی کے لئے مکہ معظمہ) روانہ فرمائے اور ان کو ان جانوروں پر امیر بھی بنایا (تاکہ ان کی نگرانی کریں) تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کوئی جانور (تھکن یا بیماری کی وجہ سے) چل نہ سکے تو میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (ایسی صورت میں) تم اس کو ذبح کر دو، اور اس کے نعلین کو (جو بطور قلادہ کے اس کے گلے میں ڈالے گئے ہیں) اس کے خون میں رنگ کر ان کو اس کے کوہان کے اوپر رکھ دو (تاکہ فقراء اور راہرو اس سے واقف ہو جائیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے اور وہ اس کے گوشت کو کھا لیں) لیکن تم اور تمہارے (تونگر) ساتھی اس کو نہ کھائیں (حضرت ناجیہ اور ان کے ساتھیوں کو اس جانور کے گوشت کھانے سے اس لئے بھی منع کیا گیا کہ ان کو تہمت سے بچایا جائے کہ انہوں نے اس کے کھانے کے لئے اس کو ذبح کیا ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (4)

Note 1

(1) With Najiyah: (Al-Maraqi)

Note 2

If a voluntary sacrifice is lost en route, slaughter it and mark it as described - the wealthy cannot eat it. For obligatory sacrifices, replace it.

(2) Companions: Referring to wealthy travelers, as Najiyah's group were affluent and abstained voluntarily. Hence Al-Hidayah rules: "If a voluntary sacrifice is lost en route, slaughter it and mark it as described - the wealthy cannot eat it. For obligatory sacrifices, replace it." (Fath al-Qadir)

Note 1

قوله

(۱)قوله: مع رجل : أي ناجية الأسلمي. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲)قوله: من أهل رفقتك أي من الأغنياء؛ لأن ناجيةً ومَن ذُكر تهوا عن الأكل؛ لأنهم كانوا أغنياء. قاله في فتحالقدير» لذلك في «الهداية»: وإذا عطبت البدنة في الطريق، فإن كان تطوعًا، نحرها وصبغ نعلها بدمها، وضرب بها صفحة سنامها، ولا يأكل هو ولا غيره من الأغنياء، فإن كانت واجبة أقام غيرها مقامها، وصنع بها ما شاء.

Hadith 3099

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3676
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ کا گزر ایک شخص پر ہوا جو اپنی اونٹنی کو نحر کرنے کے لئے بٹھائے رکھا تھا (یہ دیکھ کر) آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ اس کو کھڑا کر اور (اس کا اگلا بایاں پیر) باندھ کر نحر کر (اونٹ کو نحر کرنے کا یہ طریقہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1713 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1320 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The preferred method is to slaughter camels while standing, cows and sheep while lying down. One may slaughter camels lying down, but standing is superior.

(1) Standing tied: Al-'Alamgiriyyah states: "The preferred method is to slaughter camels while standing, cows and sheep while lying down. One may slaughter camels lying down, but standing is superior."

Note 1

قوله

(۱) قوله: قياما مقيدة وقال في العالمكيرية»: الأفضل في الجزور النحر، وفي البقر والغنم الذبح، وينحر الإبل قياما، وله أن يضجعها، والأول أفضل، ولا يذبح البقر والغنم قائما ويضجعهما.

Note 1

ف: فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ اونٹوں کو نحر کرنا اور گائے اور بکریوں کو ذبح کرنا افضل ہے اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرنا چاہیے۔ اگر چاہے تو اونٹوں کو بٹھا کر بھی نحر کر سکتا ہے لیکن کھڑا کر کے نحر کرنا افضل ہے اور گائے اور بکریوں کو کھڑا کر کے ذبح نہ کرنا چاہیے بلکہ ان کو لٹا کر ذبح کرے۔12

Hadith 3100

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3677
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ (حجۃ الوداع کے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کی اونٹنیوں پر نگران رہوں اور (ذبح کے بعد) ان کے گوشت چمڑے اور جھولوں (یعنی اوجھڑی، بوٹی) کو (غرباء اور فقراء میں) خیرات کر دوں اور قصاب کو (اجرت میں ان چیزوں کی) کوئی چیز (منہا کر کے) نہ دوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ہم قصائی کی اجرت اپنے پاس سے ادا کریں گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1317a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1717 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

(1) Supervise sacrifices: This permits delegating slaughter and distribution. ('Umdat al-Qari) Al-Hidayah adds: "It's better to slaughter personally if skilled, as the Prophet (ﷺ) took with him one hundred camels and slaughtered himself over sixty on them during Hajjat al-Wada' and ordered Ali (may Allah be pleased with him) for the rest to slaughter them. As it is a qurbah (righteous deed) and Self-performance is preffered in righteous deeds, but delegation is permitted for the unskilled."

Note 1

قوله

(۱) قوله: أن أقوم على بدنه : فيه جواز التوكيل في القيام على مصالح الهدي من ذبحه وقسمه لحمه وغير ذلك. قاله في عمدة القاري». وقال في الهداية»: والأولى أن يتولى ذبحها بنفسه إذا كان يُحسن ذلك؛ لما روي: أن النبي ﷺ ساق مائة بدنة في حجة الوداع، فنحر نيفا وستين بنفسه، وولى الباقي عليا ، ولأنه قربة والتولي في القربات أولى؛ لما فيه من زيادة الخشوع، إلا أن الإنسان قد لا يهتدي لذلك، ولا يحسنه فجوزنا توليته غيره.

Hadith 3101

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3678
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں جب تنگی کی وجہ سے لوگوں کو احتیاج تھی تو) ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھ کر نہیں کھاتے تھے (بلکہ لوگوں میں تقسیم کر دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے وسعت دے دی اور) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو اجازت دے دی کہ تم (قربانیوں کے گوشت کو) کھاؤ اور توشہ بناؤ ،یعنی تین دن کے بعد بھی گوشت رکھ سکتے ہو) تو ہم نے کھایا اور توشہ بھی بنایا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1719 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1972a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Eat...

(1) The statement: "Eat..." etc. For this reason, it is said in Al-Hidayah: "One may eat from the meat of the sacrifice, and give to both the wealthy and the poor, and store some of it."

Note 1

قوله

(۱)قوله : كلوا إلخ لذلك قال في «الهداية»: ويأكل من لحم الأضحية، ويطعم الأغنياء والفقراء، ويدخر.

Note 1

ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ واجب قربانی جیسے تمتع اور قران کی قربانی کے گوشت کو خود بھی کھا سکتے ہیں اور اغنیاء اور فقراء کو بھی کھلا سکتے ہیں اور اس کا ذخیرہ بھی بنا سکتے ہیں البتہ نفل قربانی اور دم کی قربانی جو بطور جنایات و جرمانہ لازم آئے ایسی قربانیوں کا گوشت خود نہ کھائے بلکہ صرف غرباء اور مساکین میں تقسیم کر دے۔ ہدایہ میں بھی ایسا ہی مذکور ہے۔12

Hadith 3102

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3679
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ارشاد فرمایا (جب کہ قحط سالی تھی) کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ نہ رکھے (بلکہ غرباء میں تقسیم کر دے) جب دوسرے سال (قحط سالی نہ رہی) تو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم (قربانیوں کے گوشت کو) گزشتہ سال کی طرح (تقسیم کر دیں) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھاؤ اور کھلاؤ اور (تین دن سے زائد) جمع بھی رکھو۔ (پچھلے سال قحط سالی کی وجہ سے) لوگوں پر فاقہ تھا (اس لئے گوشت کا ذخیرہ بنانے سے میں نے منع کیا تھا) تاکہ تم (گوشت کو تقسیم کر کے غرباء کی) مدد کرو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5569 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1974a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3103

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3680
نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے تم کو قربانیوں کے گوشت کو تین دن سے زیادہ رکھ کر کھانے سے منع کیا تھا تا کہ (تم اس گوشت سے خیرات کریں اور غرباء کو مدد ملے اور) سب کے لئے کافی ہو جائے اب اللہ تعالیٰ نے (تنگی دور فرما دی ہے اور) خوش حالی مہیا فرما دی ہے (جس سے غرباء کی احتیاج باقی نہیں رہی) اس لئے اب تم (قربانی کے گوشت کو) کھاؤ۔ جب تک چاہے رکھو اور (خیرات کر کے) اجر حاصل کرو (لیکن اس کو بیچو نہیں، اس لئے کہ قربانی کے گوشت کی تجارت جائز نہیں) یاد رکھو (مِنٰی میں قیام کے) یہ (چاروں) دن کھانے پینے اور اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 2813 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 3104

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3681
عبداللہ بن قُرط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس یوم النحر یعنی دسویں ذوالحجہ بڑی فضیلت کا دن ہے۔ پھر فضیلت میں یوم القر ہے (اس حدیث کے راوی) ثور کہتے ہیں کہ یہ دوسرا دن ہے (یعنی گیارہویں ذوالحجہ ہے) راوی حدیث حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پانچ یا چھ اونٹ حاضر کئے گئے (تاکہ آپ جس اونٹ کی چاہیں پہلے قربانی فرما دیں) تو وہ اونٹ ایک دوسرے پر سبقت کر کے حضور سے قریب ہونے لگے (کہ حضور اپنے دست مبارک سے اس کو پہلے ذبح فرما دیں) راوی کا بیان ہے جب وہ (ذبح کئے گئے اور) پہلو کے بل گر پڑے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کچھ ارشاد فرمایا جس کو میں نہ سن سکا میں نے ان صاحب سے جو حضور سے قریب تھے پوچھا کہ حضور نے کیا ارشاد فرمایا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ حضور نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو چاہے ان جانوروں کے گوشت کا کاٹ کر لے جائے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1765 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.