He (Anas) also said: The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer, but he did not make us hear the recitation of 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem.' Then Abu Bakr and Umar also led us in prayer, and we did not hear it from them either.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ہم کو نماز پڑھائی تو حضور علیہ السلام کو (سورہ فاتحہ کے پہلے نماز میں جہر سے) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيمِ پڑھتے نہیں سنا اور ہم کو حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نماز پڑھائی ہم نے ان
دونوں حضرات سے بھی (نماز میں جہر سے) ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ پڑھتے ہوئے نہیں
سنا۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Abdullah ibn Mughaffal (may Allah be pleased with him) narrated: My father heard me saying 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem' in prayer, so he said to me, "O my son, avoid innovation, for I did not see any of the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) who disliked anything in Islam more than innovation." He continued: "I have prayed with the Prophet (ﷺ), with Abu Bakr, with Umar, and with Uthman, and I did not hear any of them say it. So do not say it when you pray. Rather, say: 'All praise is due to Allah, the Lord of the worlds.'" [Narrated by Al-Tirmidhi, Al-Nasa’i, Ibn Majah]
Imam Abu Hanifa also reported something similar.
Al-Tirmidhi said: "The hadith of Abdullah ibn Mughaffal is a sound hadith, and most of the scholars from among the companions of the Prophet (ﷺ), including Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, and others, as well as the generation after them from the Tabi'un, acted upon it. Sufyan Ath-Thawri, Ibn al-Mubarak, Ahmad, and Ishaq also held this view. They did not consider it appropriate to recite 'Bismillah-ir-Rahman-ir-Raheem' aloud, but said that it should be recited silently." End quote.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں
کہ میرے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے مجھے نماز میں ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ و
بلند آواز سے پڑھتے ہوئے سنا تو کہا بیٹا یہ تو بدعت ہے، اور بدعت سے بچو، پھر کہا کہ میں نے اصحاب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو بدعت سے عداوت و نفرت کرتے ہوئے نہیں دیکھا انہوں نے یہ
بھی فرمایا کہ میں نے حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی مگر کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم (بلند آواز
سے) کہتے ہوئے نہیں سنا اس لئے تم کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم آواز سے نہ کہنی چاہئے
جب تم نماز پڑھو تو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ“ کہو۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
اور نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اس کی روایت کی ہے اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے بھی اسی
طرح روایت کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حدیث حسن
ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، حضرت ابوبکر،
حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ اور ان کے بعد اکثر
تابعین کا بھی یہی عمل رہا ہے اور امام سفیان ثوری، امام ابن مبارک، امام احمد اور امام اسحق رحمہم اللہ بھی
اسی کے قائل ہیں، ان سب کا بھی یہی قول ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ جہر سے نہ پڑھی
جائے بلکہ آہستہ پڑھنی چاہئے۔
(ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور
حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما (نماز میں) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ بلند آواز سے نہیں
پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔)
On his authority: I prayed behind the Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr, Umar, and Uthman, and I did not hear any of them reciting “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ” aloud.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے پیچھے اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے
میں نے نہیں سنا کہ ان حضرات میں سے کسی نے بھی (نماز میں) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
آواز سے پڑھی ہو۔
(اس کی روایت امام احمد اور نسائی نے ایسی سند سے کی ہے جو صحیح کی شرط کے موافق ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، یہ سب حضرات (نماز میں سورہ فاتحہ
کے پہلے) ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ آہستہ پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
On his authority: The Messenger of Allah (ﷺ), as well as Abu Bakr, Umar, Uthman, and Ali, used to recite “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ” silently. [Narrated by Al-Tabarani, and all its narrators are trustworthy]
It is evident that the narrations regarding reciting "Bismillah" silently indicate that doing so is a Sunnah. They also suggest that it is not a part of Surah Al-Fatiha or any other surah; otherwise, there would be no reason to conceal it while the rest of the verses are recited aloud. The verses of a surah are equal in the ruling of recitation, whether aloud or silent, as is well known.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں سورہ
فاتحہ سے پہلے) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ آہستہ پڑھا کرتے تھے اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر و
حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم بھی بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ (نماز میں سورہ فاتحہ سے
پہلے) آہستہ ہی پڑھتے تھے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے اور اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)
ف: ان احادیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ
الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ آہستہ پڑھتے تھے اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ سورہ فاتحہ سے پہلے
بسم اللہ الرحمن الرحیم آہستہ پڑھنا چاہئے اور دوسرے یہ کہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سورہ فاتحہ کا جزء
نہیں ہے، اگر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سورہ فاتحہ کا جزء ہوتا تو اس کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہ
فاتحہ کی طرح جہر سے پڑھتے، سورہ فاتحہ کو جہر سے پڑھنا اور بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کو آہستہ پڑھنا
یہ خود اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں ہے۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں)
قرأت شروع کرنے سے پہلے أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (آہستہ) کہا کرتے تھے۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
On the authority of Abu Wa'il: Umar and Ali did not recite "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" aloud, nor the Ta'awwudh (seeking refuge) nor the Tasmiyah (saying Ameen).
ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر اور حضرت
علی رضی اللہ عنہما (نماز میں) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ جہر سے نہیں پڑھا کرتے تھے اور اسی طرح
اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بھی جہر سے نہیں پڑھتے اور نہ تو آمین بلند آواز سے کہتے تھے۔
(اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔)
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (نماز میں) بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيمِ آہستہ پڑھتے تھے اور اعوذ بالله من الشيطان الرجيم اور ربنا لك الحمد بھی
آہستہ پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
On the authority of Ibrahim: There are four things the Imam should recite silently: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ", seeking refuge from Satan, "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" and "Ameen." [Narrated by Muhammad in Al-Athar]
Abd Al-Razzaq and Abu Ma'mar also reported from Umar bin Al-Khattab a similar narration.
Al-Tahawi said: Since it is established from the Messenger of Allah (ﷺ) and from those who followed him that they did not recite "بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ" aloud, it confirms that it is not part of the Quran. If it were, it would have been recited aloud like the rest of the Quran. Do you not see that “بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ” in Surah An-Naml is recited aloud like the rest of the Quran because it is part of the Quran?
Since it is confirmed that "بسم الله" before Surah Al-Fatiha is recited silently while the Quran is recited aloud, it proves that it is not part of the Quran. Thus, it should be recited silently, just as the Ta'awwudh and the opening supplication are recited silently.
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ (نماز میں) چار
چیزیں امام کو آہستہ کہنی چاہئے ایک ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ
دوسرے ”اَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“
تیسرے ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“
اور چوتھے ”آمین“۔ اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے۔
اور عبدالرزاق اور ابومعمر نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت
کی ہے۔
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم اور آپ کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز میں ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ آہستہ پڑھا
کرتے تھے جہر سے نہیں پڑھتے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ نہ تو سورہ
فاتحہ کا اور نہ قرآن کے کسی سورہ کا ابتدائی جزو ہے اگر ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ“ سورہ فاتحہ یا قرآن
کے کسی سورت کا ابتدائی جزو ہوتا تو اس کو بھی قرآن کی اور آیتوں کی طرح ضرور جہر سے پڑھا کرتے۔
سورہ نمل میں جو ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ مذکور ہے اس کو اس وجہ سے جہر سے پڑھا
جاتا ہے کہ وہ دیگر آیتوں کی طرح اس سورہ میں قرآن کا جزو ہے، علاوہ ازیں نماز میں سورہ فاتحہ سے
پہلے ثناء اور تعوذ کو اسی وجہ سے آہستہ پڑھا جاتا ہے کہ یہ دونوں قرآن کے جزو نہیں ہیں، اس طرح جب
”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ کا آہستہ پڑھا جانا حدیثوں سے ثابت ہوا تو معلوم ہوگیا کہ ”بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ بھی ثناء اور تعوذ کی طرح قرآن کا جزو نہیں ہے۔
On the authority of Abu Hurairah: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen,' for whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." [Agreed upon]
In another narration: "When the Imam says: غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ,' then say 'Ameen'; 1 for whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven." This is the wording of Al-Bukhari, and Muslim reported something similar.
In another narration by Al-Bukhari: "When the reciter says 'Ameen,' then say 'Ameen,' for the angels also say 'Ameen,' and whoever's 'Ameen' coincides with that of the angels, his past sins will be forgiven."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم بھی آمین کہو (امام کے آمین کہنے کا
ارادہ ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہنے سے ظاہر ہوتا ہے) کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ
ساتھ ہوگی تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کئے جائیں گے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے
کہ جب امام ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہے، اور (آمین کہنے کا ارادہ کرے) تو تم
بھی آمین کہو، کیونکہ جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے ساتھ ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ
گناہ معاف کئے جائیں گے۔
یہ امام بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں اور مسلم کی روایت کے الفاظ بھی قریب قریب اسی کے ہیں۔
اور بخاری کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ جب قاری (وَلَا الضَّآلِّينَ
کہہ کر) آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ اس وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اس
لئے جس شخص کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے ساتھ ساتھ ہو تو اس کے گزشتہ گناہ معاف
ہو جائیں گے۔
Candidate: Sahih Muslim 410a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
When the Imam says غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ,' then say 'Ameen'
(1) His statement: "When the Imam says غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ,' then say 'Ameen'" clearly indicates that the followers should say 'Ameen' after the Imam finishes reciting these words. From this, it is understood that the Imam recites 'Ameen' silently; for if it were prescribed to say it aloud, the Prophet (ﷺ) would have said: "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen'" instead of linking it to "Ghayr al-maghdubi 'alayhim wa la al-dallin."
If one argues that a previous hadith states, "When the Imam says 'Ameen,' then say 'Ameen,'" implying that the followers should hear him say it, the response is given in "Al-Ta'liq Al-Hasan." The majority of scholars interpreted "When the Imam says 'Ameen'" metaphorically to reconcile both narrations. They explained that it means "when the Imam intends to say 'Ameen,'" similar to how Allah says: "When you rise for prayer" (Al-Ma'idah: 6), meaning "when you intend to pray."
Ibn Hajar mentioned in "Fath Al-Bari" that scholars have interpreted "when the Imam says 'Ameen'" metaphorically. Thus, it does not necessarily indicate that the Imam says 'Ameen' aloud. This is summarized from "I'laa Al-Sunan."
Note 1
قوله
(۱) قوله: إذا قال الإمام غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقولوا آمين: دلالة الحديث على قول المأموم: «آمين» بعد قول الإمام: «وَلَا الضَّالِّينَ ظاهرة، ويستفاد منه أن الإمام يخفي بها؛ لأن تأمين الإمام لو كان مشروعا بالجهر لما علق النبي ﷺ تأمينهم بقوله : «وَلَا الضَّالِّينَ»، بل علق بقوله: «آمين».
فإن قلت: قد جاء في الحديث السابق: إذا أمن الإمام فأمنوا». وفيه علق تأمين المأمومين بتأمينه، وإنهم لا يعلمون تأمينه إلا أن يسمعوا.
قلت: أجاب عنه في التعليق الحسن بأن الجمهور حملوا قوله: «إذا أمن» على المجاز؛ للجمع بينه وبين قوله : إذا قال الإمام: وَلَا الضَّالِّينَ فقولوا آمين، وقالوا بأن المراد إذا أراد التأمين، وهذا كما قال الله تعالى: ﴿إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَوةِ (المائدة :(٦) أي إذا أردتم إقامة الصلاة. قال الحافظ ابن حجر في «الفتح»: قالوا: فالجمع بين الروايتين يقضي حمل قوله: «إذا أمن على المجاز . اهـ فإذا كان معناه : إذا أراد التأمين، لا يستفاد منه الجهر بالتأمين للإمام. من تعليق إعلاء السنن ملخصا.
Note 1
ف: اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ امام کے ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہنے کے بعد مقتدی آمین
کہے چونکہ امام کے آمین کہنے کا وقت بھی یہی ہے، اس لئے امام اور مقتدی کی آمین ساتھ ساتھ ہوگی۔
اس حدیث میں امام کے ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہنے کے بعد مقتدی کو آمین کہنے کا جو حکم ہے اس
سے ثابت ہوتا ہے کہ امام بھی آہستہ آمین کہہ رہا ہے اگر امام کا جہر سے آمین کہنا مشروع ہوتا تو نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم مقتدی کو آمین کہنے کو امام کے ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہنے سے متعلق نہ کر کے امام کے
آمین کہنے سے متعلق فرماتے۔
اس حدیث کی پہلی روایت کے الفاظ ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا“ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ
مقتدی امام کے آمین کہنے پر آمین کہے مگر حقیقت میں اس کے یہ معنی نہیں ہیں اگر ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ
فَأَمِّنُوا“ کے یہ معنی لئے جائیں تو اس حدیث کی پہلی روایت اور اس کی دوسری روایت جس کے الفاظ یہ
ہیں: ”إِذَا قَالَ الْإِمَامُ ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ فَقُولُوا: ”آمِينَ“۔ (جب
امام ’وَلَا الضَّآلِّينَ‘ کہے تو تم آمین کہو) میں تضاد واقع ہوتا ہے۔ کیونکہ پہلی روایت میں یہ ہے کہ
مقتدی اس وقت آمین کہے جب امام آمین کہے اور دوسری روایت میں یوں ہے کہ مقتدی اس وقت
آمین کہے جب امام ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہہ لے۔
ان دونوں روایتوں کے تضاد کو دور کرنے کے لئے جمہور نے یوں تطبیق دی ہے کہ ”غَيْرِ
الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ والی حدیث کے معنی کو حقیقت پر محمول کیا ہے اور ”إِذَا أَمَّنَ
الْإِمَامُ“ والی حدیث کے معنی کو مجاز پر، اس طرح کہ پہلی روایت ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا“ کے معنی
مجازی اس طور پر یہ لئے گئے ہیں کہ جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم آمین کہو، اس کی مثال اسی
طرح ہے جیسے آیت ”إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلٰوةِ“ کے مجازی معنی (جب تم نماز کے لئے کھڑے
ہونے کا ارادہ کرو) لئے گئے ہیں۔
اور دوسری حدیث: ”إِذَا قَالَ الْإِمَامُ ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ فَقُولُوا:
”آمِينَ“ کے معنی حقیقی یہ لئے گئے ہیں کہ امام جب ”وَلَا الضَّآلِّينَ“ کہہ کر آمین کہنے کا ارادہ کرے
تو تم ”آمین“ کہو اب تضاد باقی نہ رہا اور دونوں روایتوں کے ایک ہی معنی ہوئے اسی بناء پر ہم نے صدر
میں ”إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا“ والی حدیث کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ جب امام آمین کہنے کا ارادہ کرے تو تم
آمین ہوتا کہ دوسری روایت سے اس کا تطابق ہو جائے۔ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں ”إِذَا
أَمَّنَ‘‘ والی حدیث کے یہی معنی مجازی لئے ہیں۔
(یہ پورا مضمون ”تعلیق اعلاء السنن‘‘ سے ماخوذ ہے۔)
Abu Musa al-Ash‘ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) said: "When you pray, straighten your rows, then let one of you lead the prayer. When he says the Takbir, say the Takbir. When he says: غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ, say Ameen, and Allah will respond to you. When he says the Takbir and bows, then say the Takbir and bow, for indeed the Imam bows before you and rises before you." The Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) then said: "So, this compensates for that." He further said: "When he says: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ, say: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ, and Allah will listen to you."
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارا ارادہ نماز کا ہو تو تم اول اپنی صفیں سیدھی کرلو، پھر تم میں سے
کوئی امام بن جائے، جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب امام ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ
عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ کہے (اور آمین کہنے کا ارادہ کرے) تو تم بھی آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمہاری دعاء
کو قبول فرمائے گا جب امام اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جائے تو تم بھی اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں جاؤ مگر امام
تم سے پہلے رکوع میں جائے اور تم سے پہلے رکوع سے سر اٹھائے اس طرح تمہارے اور امام کے رکوع
کی مقدار برابر ہو جائے گی اور یہ بھی فرمایا کہ امام جب ”سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ‘‘ کہے تو تم ”اللَّهُمَّ
رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ‘‘ کہو اللہ تعالیٰ تمہاری حمد سنے گا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Shu‘bah narrated from Salamah ibn Kuhayl, from Hajar Abu al-‘Anbas, from ‘Alqamah ibn Wa’il, from his father that the Prophet (peace and blessings be upon him) recited: غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ, and then said: "Ameen," lowering his voice.
1
شعبہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ کے بعد آمین آہستہ فرمایا۔
(اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 248 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The narration of Sufyan is more authentic than the narration of Shu‘bah in this regard. Shu‘bah made errors in several parts of this Hadith. He said: 'from Hajar Abu al-‘Anbas,' whereas it is actually 'Hajar ibn al-‘Anbas,' and his kunyah is Abu as-Sakan. He also added 'from ‘Alqamah ibn Wa’il,' whereas it is not from ‘Alqamah but rather from Hajar ibn ‘Anbas, from Wa’il ibn Hujr.
(1) Al-Tirmidhi said: I heard Muhammad saying: "The narration of Sufyan is more authentic than the narration of Shu‘bah in this regard. Shu‘bah made errors in several parts of this Hadith. He said: 'from Hajar Abu al-‘Anbas,' whereas it is actually 'Hajar ibn al-‘Anbas,' and his kunyah is Abu as-Sakan. He also added 'from ‘Alqamah ibn Wa’il,' whereas it is not from ‘Alqamah but rather from Hajar ibn ‘Anbas, from Wa’il ibn Hujr."
Our scholars have said: To attribute an error to someone like Shu‘bah is itself a mistake, for he was the leader of the believers in Hadith. Regarding the preference between Sufyan and Shu‘bah, there are different opinions. The fact that Sufyan ath-Thawri was a mudallis and narrated this Hadith in an ‘an‘ana form, while Shu‘bah was not a mudallis and explicitly stated "akhbarana" (he informed us) in the narration as recorded by at-Tayalisi, provides a strong basis for preferring Shu‘bah’s narration over Sufyan’s.
The name "Hajar" belongs to his father "al-‘Anbas," and his kunyah, like his father’s, is "Abu al-‘Anbas." It is also possible that he had another kunyah, "Abu as-Sakan," as confirmed by Ibn Hibban in "Kitab ath-Thiqat." The additional mention of ‘Alqamah does not cause harm, as an addition from a trustworthy narrator is accepted, especially from someone like Shu‘bah. In some narrations, it is clarified that Hajar heard it from ‘Alqamah, who narrated it from Wa’il, but he also heard it directly from Wa’il himself, as recorded by Ahmad in his "Musnad."
As for the claim that ‘Alqamah did not hear from his father, it has been explicitly stated in Al-Nasa’i’s chapter on raising hands while rising from bowing, in al-Bukhari’s "Juz’ Raf‘ al-Yadayn" (from Abu Nu‘aym’s narration), and in Muslim’s "Hadith al-Qassas" from the chain of Simak. It is also mentioned in Al-Tirmidhi’s "Kitab al-Hudud." Thus, al-Bukhari’s statement that Sufyan’s Hadith is more authentic than Shu‘bah’s, along with his remarks that "it is actually Hajar ibn al-‘Anbas" and that "there is no mention of ‘Alqamah" and "‘Alqamah was born six months after his father’s death," are not established. The one actually born after his father’s death was ‘Abd al-Jabbar ibn Wa’il.
This is a summary of what is mentioned in "at-Ta‘liq al-Hasan" and "al-Binayah."
As for the narrations mentioning aloud recitation of "Ameen," they can be understood as instructional, just as the Prophet (peace and blessings be upon him) would sometimes recite aloud in the Dhuhr prayer. This view is supported by the narration narrated by al-Hafiz Abu Bishr ad-Dulabi in "Kitab al-Asma’ wa al-Kuna" from Wa’il ibn Hujr:
"I saw the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) when he finished his prayer, to the extent that I could see his cheek from both sides. He recited: ‘عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ, and then said 'Ameen' while elongating his voice. I think he was teaching us."
It has been said that Yahya ibn Salamah is in this narration, and al-Hakim has strengthened him. Therefore, the preference for saying "Ameen" silently is supported by this and by analogy to other supplications and remembrances. Additionally, "Ameen" is not part of the Qur'an by consensus, so it should not be recited in the same manner as Qur'anic verses. Saying it silently distinguishes it from the Qur'an. If it is recited aloud alongside Surah al-Fatihah, it may create confusion that it is part of the Qur'an, just as writing it in the Mushaf is impermissible. For this reason, there is consensus on saying the Isti‘adhah silently since it is not part of the Qur'an. The debate regarding reciting the Basmala aloud is based on whether it is part of the Qur'an or not.
This is a summary of what is mentioned in "al-Mirqat," "al-Binayah," and "at-Ta‘liq al-Hasan."
Note 1
قوله
(۱) قوله: رواه الترمذي وقال الترمذي : سمعت محمدًا يقول: حديث سفيان أصح من حديث شعبة في هذا، وأخطأ شعبة في مواضع من هذا الحديث، فقال: عن حجر أبي العنبس، وإنما هو حجر بن العنبس، ويكنى أبا السكن، وزاد فيه عن علقمة بن وائل وليس فيه عن علقمة، وإنما هو حجر بن عنبس، عن وائل بن حجر. انتهى. قال علماؤنا: تخطئة مثل شعبة خطأ. كيف وهو أمير المؤمنين في الحديث. وفي الترجيح في ما بين سفيان وشعبة أقوال، وكون سفيان الثوري مدلسا وقد أتى به معنعنا، وكون شعبة غير مدلس - وقد صرح فيه بالإخبار كما هو عند الطيالسي - وجه حسن لترجيح شعبة على سفيان.
و «حجر» اسم أبيه عنبس، وكنيته ككنية أبيه أبو العنبس، ولا مانع من أن يكون له كنية أخرى وهي] أبو السكن؛ لأنه لا مانع أن يكون لشخص واحد كنيتان، وبهذا جزم ابن حبان في كتاب الثقات». وزاد فيه علقمة» لا يضر؛ لان الزيادة كان من الثقة مقبولة، ولا سيما من قبل شعبة، وبين في بعض الروايات أن حجرا سمعه من علقمة عن وائل، وقد سمعه من وائل نفسه، كما أخرج أحمد في مسنده.
أما سماع علقمة عن أبيه فقد جاء مصرحًا عند النسائي في باب رفع اليدين عند الرفع من الركوع، وعند البخاري في جزء رفع اليدين رواية أبي نعيم، وعند مسلم فمن حديث القصاص من طريق سماك، وعند الترمذي في كتاب الحدود، فتعليل البخاري هذا الحديث بكون حديث سفيان أصح من حديث شعبة. وقوله: «إنما هو حجر بن العنبس، وقوله: ليس فيه عن علقمة»، وقوله: ولد علقمة بن وائل بعد موت أبيه بستة أشهر، لم يثبت، والذي ولد بعد موت أبيه إنما هو عبد الجبار بن وائل. انتهى هذا ملخص ما في التعليق الحسن» و«البناية».
وما روي من الجهر بها يحمل على التعليم كما كان يجهر بالآية أحيانا في الظهر، ومما يستأنس به لهذا القول ما أخرجه الحافظ أبو بشر الدولابي في كتاب الأسماء والكنى عن وائل بن حجر: رأيت رسول الله ﷺحين فرغ من الصلاة حتى رأيت خده من هذا الجانب ومن هذا الجانب، وقرأ: ﴿عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) فقال: «آمين» يمد بها صوته، ما أراه إلا يعلمنا».
قيل : فيه يحي بن سلمة، قواه الحاكم، فيرجح الإخفاء بذلك، وبالقياس على سائر الأذكار والأدعية، ولأن «آمین» ليس من القرآن إجماعا، فلا ينبغي أن يكون على صوت القرآن، وبإخفائها يقع التمييز بين القرآن وغيره؛ فإنه إذا جهر بها مع الجهر بالفاتحة يلبس أنها من القرآن، كما أنه لا يجوز كتابته في المصحف، ولهذا أجمعوا على إخفاء التعوذ؛ لكونه ليس من القرآن والخلاف بالجهر بالبسملة مبني على أنه من القرآن أم لا. انتهى هذا ملخص ما في «المرقاة» و«البناية» و«التعليق الحسن».
Note 1
ف: اس حدیث سے اور اس کے بعد کی حدیثوں سے ثابت ہوا کہ نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد
آمین آہستہ کہی جائے یہ نقلی دلائل ہیں، عقلی دلائل سے بھی آمین کا آہستہ کہنا اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ
آمین بھی نماز میں پڑھی جانے والی دعاؤں اور اذکار میں سے ہے جس طرح نماز کی دوسری دعاؤں اور
اذکار کو آہستہ پڑھتے ہیں اسی طرح آمین کو بھی آہستہ پڑھنا چاہئے۔
آمین کو آہستہ پڑھنے کی ایک اور عقلی دلیل یہ بھی ہے کہ تعوذ کی طرح آمین بھی قرآن کا جزو نہیں
ہے اگر آمین قرآن کا جزو ہوتا تو اس کو قرآن میں لکھا جاتا چونکہ تعوذ اور آمین دونوں قرآن میں نہیں لکھے
جاتے ہیں اس لئے ثابت ہوا کہ یہ دونوں قرآن کے جزو نہیں ہیں اور جو قرآن کا جزو نہ ہو اس کو آہستہ
پڑھا جاتا ہے، اسی لئے تعوذ کی طرح آمین کو بھی آہستہ پڑھنا چاہئے۔
(یہ مضمون مرقات، بنایہ اور التعلیق الحسن سے ماخوذ ہے۔)
‘Alqamah ibn Wa’il narrated from his father that he prayed with the Prophet (peace and blessings be upon him). When he reached: ghayri al-maghdubi ‘alayhim wala ad-dallin, he said: "Ameen," and lowered his voice.
علقمہ بن وائل رضی اللہ عنہ اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں
کہ ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ”غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ پر پہنچے تو آپ نے آہستہ آمین کہی۔
(اس کی روایت حاکم نے کی ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق صحیح ہے۔)
‘Alqamah ibn Wa’il narrated from his father that he prayed with the Prophet (peace and blessings be upon him). When he reached: ghayri al-maghdubi ‘alayhim wala ad-dallin, he said: "Ameen," and concealed his voice.
علقمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد وائل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے
والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”غَيْرِ
الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ“ پر پہنچے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے آہستہ آمین کہی۔
(اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد، طیالسی، ابویعلی، طبرانی اور دارقطنی نے کی ہے۔)
ابووائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر و حضرت علی
رضی اللہ عنہما (نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے (بسم اللہ الرحمن الرحیم) جہر سے نہیں پڑھتے تھے اور سورہ فاتحہ
کے بعد) آمین بھی جہر سے نہیں کہتے تھے۔ (اس کی روایت طبرانی نے تہذیب الآثار میں کی ہے۔)
Abu Zuhayr an-Namiri reported: "We went out with the Messenger of Allah (peace and blessings be upon him) one night, and we came across a man persistently making a supplication. The Prophet (peace and blessings be upon him) said: 'He has made it obligatory upon himself if he concludes it.' A man from the group asked: 'With what does he conclude it?' He replied: 'With Ameen.'"
ابوزہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ رات کو چل کر ایسے شخص کے پاس پہنچے جو نہایت عاجزی سے دعاء مانگ رہا تھا (نبی
صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس کی دعاء سنتے رہے) پھر آپ نے ارشاد فرمایا اگر اس نے اپنی دعاء
پر مہر کردی ہو، تو اس نے اپنی دعاء قبول کروالی، لوگوں میں سے ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم دعاء پر کس طرح مہر کرنی چاہئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ آمین کہہ کر۔ (اس کی
روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet (peace and blessings be upon him) used to recite in the first two Rak‘ahs of Dhuhr with Surah al-Fatihah and another Surah, and in the last two Rak‘ahs with only Surah al-Fatihah. Sometimes, he would make us hear a verse, and he would prolong the first Rak‘ah more than the second. He did the same in ‘Asr and Fajr."
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر
کے فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ اور ایک ایک سورہ پڑھا کرتے، اور
اخیر کی دو رکعتوں میں سے ہر ایک رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھا کرتے تھے اور کبھی ہم کو (تعلیم
امت کے لئے) کوئی آیت بلند آواز سے پڑھ کر سنا دیا کرتے، اور پہلی رکعت میں طویل قرأت کرتے
تھے اور دوسری رکعت مختصر اور اسی طرح عصر اور فجر کی فرض نمازوں میں پہلی رکعت میں طویل قرأت
کے ساتھ اور دوسری رکعت مختصر قرأت کے ساتھ ادا فرماتے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Alqamah bin Qais reported that Abdullah bin Mas’ud would not recite behind the Imam in prayers where the recitation was audible or silent, neither in the first two units nor in the last two. However, when he prayed alone, he would recite Al-Fatihah and a surah in the first two units but would not recite anything in the last two.
علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب
مقتدی ہوتے تو نہ جہری نماز میں قرآت خلف الامام کیا کرتے اور نہ تو سری نماز میں، نہ تو پہلی دو
رکعتوں میں قرآت کرتے اور نہ تو آخری دو رکعتوں میں اور جب تنہا فرض نماز پڑھتے تو پہلی دو
رکعتوں میں سے ہر ایک میں سورہ فاتحہ پڑھتے اور ضم سورہ کرتے اور آخری دو رکعتوں میں سے کسی
رکعت میں کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کی ہے۔)
Ali and Ibn Mas’ud both said: "Recite in the first two units and glorify (say SubhanAllah) in the last two." [Narrated by Ibn Abi Shaybah]
In "Al-Taleeq Al-Mumajjad": "Our companions have adopted this view and said that recitation in the last two units of obligatory prayers is not obligatory. If one glorifies (SubhanAllah) in them or remains silent, it suffices. This was also the opinion of Al-Thawri, Al-Awza’i, Ibrahim Al-Nakha’i, and the early scholars of Iraq."
حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا
کہ فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت کیا کرو، جب کہ (امام ہو یا تنہا نماز پڑھ رہے ہو) اور
آخری دو رکعتوں میں سبحان اللہ کہا کرو۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
ف: احادیث مذکورہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام اور تنہا نماز پڑھنے والے کے لئے چار
رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں اور تین رکعت والی فرض کی نماز میں تیسری رکعت میں سورہ
فاتحہ کی قرآت واجب نہیں ہے، ان رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بجائے سبحان اللہ پڑھے یا کچھ پڑھے بغیر
خاموش رہے تو یہ کافی ہے مگر افضل یہ ہے کہ ان میں سورہ فاتحہ پڑھے اور یہ کافی ہونا اور افضل ہونا مذہب
حنفی ہے، امام ثوری، امام اوزاعی اور حضرت ابراہیم نخعی اور عراق کے علماء سلف کا بھی یہی قول ہے۔ (یہ ”
التعلیق الممجد“ اور ”عمدۃ الرعایۃ“ سے ماخوذ ہے۔)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی
اللہ عنہ کو لکھا کہ فجر کی نماز میں طوال مفصل پڑھا کرو۔
(اس کی روایت ترمذی اور عبدالرزاق نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم فجر کی فرض نماز میں سورہ ”ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ“ یا اس کے برابر قرآن کا کوئی حصہ پڑھا کرتے
تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم باقی چار نمازوں کو نماز فجر کی طرح طویل قرأت سے نہیں پڑھتے تھے بلکہ
نماز فجر کی قرأت کی بہ نسبت مختصر قرأت کیا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 458a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ نماز ظہر کے فرض کی قرأت میں ہمارے فقہاء احناف کے دو قول ہیں، ایک قول
یہ ہے کہ ظہر کی قرأت عصر کی قرأت کی طرح اوساط مفصل سے ہو، منیہ المصلی نے اسی قول کو اختیار کیا
ہے اور اس قول کی تائید صدر کی اس حدیث سے ہوتی ہے، جس کے راوی جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ
ہیں۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ظہر کے فرض کی قرأت فجر کے فرض کی طرح طوال مفصل سے ہو، فقہ کے
اکثر متون اور درمختار اور ردالمحتار نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے اور فتویٰ بھی اسی قول پر ہے، علامہ عینی اور
امام ابن الہمام رحمہما اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، اس قول کی تائید آگے آنے والی حدیث سے ہوتی ہے
جس کو مسلم اور ترمذی نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
(یہ ردالمحتار سے ماخوذ ہے۔)
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے خود
سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی فرض نماز میں ”وَاللَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَ“ پڑھ رہے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abu Hurairah said: "The Prophet (ﷺ) would recite in the Fajr prayer on Fridays ‘Alif Lam Mim Tanzeel’ (Surah As-Sajdah) in the first unit, and in the second unit: ‘Has there come upon man a period of time...’ (Surah Al-Insan: 1)." [Agreed upon]
Al-‘Ayni said in "Al-Muhit": "On the condition that he sometimes recites other surahs so that an ignorant person does not assume that nothing else is permissible."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے
دن نماز فجر کے فرض کی پہلی رکعت میں اکثر الٓمٓ تَنْزِيل (سورہ سجدہ) اور دوسری رکعت میں ”هَلْ
اَتٰى عَلَى الْإِنْسَانِ“ پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 891 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 880a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ
”آلم سجدہ“ اور سورہ الدہر پڑھا کرتے تھے، علامہ عینی رحمہ اللہ نے اس بارے میں ”محیط“ کے
حوالہ سے لکھا ہے کہ امام جمعہ کے دن فجر کی نماز میں ان دو سورتوں کے سوا بعض اوقات دوسری سورتیں
بھی پڑھا کرے، تاکہ ناواقف ان سورتوں کو ہمیشہ پڑھنے سے یہ گمان نہ کرے کہ جمعہ کے دن نماز فجر
میں ان دو سورتوں کے سوا اور سورتوں کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔
Abu Sa’id Al-Khudri reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in the first two units of Dhuhr about thirty verses in each unit." [Narrated by Muslim]
In another narration by Al-Tirmidhi from the Prophet (ﷺ): "He recited in Dhuhr about the length of Surah As-Sajdah." Al-‘Ayni and Ibn Al-Humam said: "This indicates that he used to recite in the two units of Dhuhr similar to what he recited in Fajr."
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز
ظہر کے فرض کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس آیات کے برابر پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور ترمذی کی ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نماز
ظہر میں ”الٓمٓ تنزيل“ (سجدہ) کے برابر قرأت فرمائے ہیں۔
Jabir bin Samurah reported: "The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite in Asr ‘By the sky containing great stars’ (Surah Al-Buruj) and ‘By the sky and the night comer’ (Surah Al-Tariq) or similar surahs." [Narrated by Al-Tirmidhi and Abu Dawood]
This indicates that the Prophet (ﷺ) used to recite in the two units of Asr from the middle-length surahs of Al-Mufassal, as mentioned in "Umdat Al-Ri’ayah" and "Al-‘Inayah."
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز
عصر میں ”وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ“ اور ”وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ“ اور ان جیسی دوسری سورتیں جو
طوالت میں ان دونوں کے برابر ہوتی ہیں پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 307 (unverified) 90% confidence
Candidate: Sunan Abi Dawud 806 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی پہلی دو رکعتوں
میں اوساط مفصل پڑھا کرتے تھے جیسا کہ عمدۃ الرعایہ اور عنایہ میں مذکور ہے اور اوساط مفصل سے مراد
”سورہ بروج“ سے ”سورہ لم یکن“ تک کی تمام سورتیں ہیں اور ان میں ”لم یکن“ شامل
نہیں ہے۔ (ملتقی، شرح وقایہ)۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ
عنہ کو لکھا کہ نمازِ مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرو۔
(اس کی روایت ترمذی اور عبدالرزاق نے کی ہے، اور ابن ابی شیبہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Jabir bin Samurah said: "The Prophet (ﷺ) used to recite in Maghrib on Friday night: ‘Say, O disbelievers’ (Surah Al-Kafirun) and ‘Say, He is Allah, [who is] One’ (Surah Al-Ikhlas)."
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم شب جمعہ نماز مغرب میں اکثر ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور ”قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ“،
پڑھا کرتے تھے۔ (اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔)
اور اسی طرح کی روایت ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے
کی ہے، جس میں ”ليلة الجمعة“ ”شب جمعہ“ کا ذکر نہیں ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی
اللہ عنہ کو لکھا کہ نمازِ عشاء میں اوساطِ مفصل پڑھا کرو۔
(اس کی روایت عبدالرزاق نے کی ہے)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ان احادیث میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں سورہ فاتحہ سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ آہستہ پڑھتے تھے اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ایک یہ کہ سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم آہستہ پڑھنا چاہئے اور دوسرے یہ کہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں ہے، اگر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سورہ فاتحہ کا جزء ہوتا تو اس کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فاتحہ کی طرح جہر سے پڑھتے، سورہ فاتحہ کو جہر سے پڑھنا اور بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کو آہستہ پڑھنا یہ خود اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ سورہ فاتحہ کا جزء نہیں ہے۔