حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول فرماتے ہیں یہاں تک کہ
اس کو (موت کا) غرغرہ نہ لگے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 3537 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 4253 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
As long as the death rattle has not reached his throat...
(2) The statement: "As long as the death rattle has not reached his throat..." In Al-Bazaziyyah, it is said: "It is said that the repentance of despair (with a ‘ya’)—meaning when hope is lost and death is certain—is accepted, but not the faith of despair. Another view says it is not accepted, as Allah equates those who repent at the time of death with the disbelievers in His words: ‘But repentance is not [accepted] of those who [continue to] do evil deeds...’ (An-Nisa 4:18), as mentioned in Al-Kashshaf, Al-Baydawi, and Al-Qurtubi.
In Al-Kabir by Ar-Razi, the scholars said: "The approach of death does not prevent the acceptance of repentance, but witnessing the horrors of death leads to certainty, removing free will. Thus, the Hanafis, Malikis, Shafi’is, Mu’tazila, Sunnis, and Ash’aris agree that the repentance of despair is not accepted like the faith of despair, due to the lack of free will and the inability to firmly resolve not to return to sin—which is a condition of repentance."
Some fatwas state that the repentance of hardship (with a ‘ba’) is accepted. If hardship refers to witnessing death’s horrors, the same objection applies. If it refers to nearing death, then it is acceptable. However, the apparent meaning is that hardship refers to witnessing death’s terrors.
The evidence for its acceptance is Allah’s words: "And He is the One who accepts repentance from His servants." (Ash-Shura 42:25). The apparent meaning supports this. The Maturidis, as mentioned by Shaykh Abdus-Salam in his commentary on his father’s An-Naqani’s poem, hold this view. The Ash’aris, however, say it is not accepted at the time of the death rattle, as stated by An-Nawawi.
Mulla Ali Al-Qari supported the second view, citing the hadith: "Allah accepts the repentance of a servant as long as the death rattle has not reached his throat," narrated by Abu Dawud, which includes both believers and disbelievers.
The objection that some Hanafi scholars and Shafi’is like As-Subki and Al-Balqini preferred the first view requires evidence. The matter is speculative, but the faith of despair is unanimously rejected."
Note 2
قوله
(۲) قوله: ما لم يغرغر : قال في أواخر البزازية»: قيل: توبة اليأس [قوله: توبة اليأس بالياء المثناة التحتية ضد الرجاء وقطع الأمل من الحياة، او بالموحدة التحتية، والمراد به الشد وأهوال الموت. كذا في رد المحتار». قلت: يقال: مرة بالياء المثناة التحتية وأخرى بالموحدة التحتية.] مقبولة لا إيمان اليأس. وقيل: لا تقبل كإيمانه؛ لأنه تعالى سوی بين من آخر التوبة إلى حضور الموت من الفَسَقَة والكفار وبين من مات على الكفر في قوله: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ (النساء : (۱۸) الآية كما في الكشاف والبيضاوي والقرطبي.
وفي الكبير» للرازي: قال المحققون قرب الموت لا يمنع من قبول التوبة بال المنانع منه مشاهدة الأهوال التي يحصل العلم عندها على سبيل الاضطرار، فهذا كرام الحنفية والمالكية والشافعية من المعتزلة والسنية والأشاعرة أن توبة اليأس لا تقبل كإيمان اليأس بجامع عدم الاختيار وخروج النفس من البدن وعدم ركن التوبة، وهو العزم بطريق التصميم على أن لا يعود في المستقبل إلى ما ارتكب، وهذا لا يتحقق في توبة اليأس إن أريد باليأس معاينة أسباب الموت بحيث يعلم قطعا أن الموت يدركه لا محالة، كما أخبر تعالى عنه بقوله: ﴿فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا (غافر : ٨٥). وقد ذكر في بعض الفتاوى: أن توبة البأس مقبولة. فإن أريد بالبأس ما ذكرنا يرد عليه ما قلنا، وإن أريد به القرب من الموت فلا كلام فيه، لكن الظاهر أن زمان البأس زمان معاينة الهول، والمسطور في الفتاوى أن توبة البأس مقبولة لا إيمانه؛ لأن الكافر أجنبي غير عارف بالله تعالى ويبدأ أيمانا وعرفانا، والفاسق عارف وحاله حال البقاء، والبقاء أسهل.
والدليل على قبولها منه مطلقا إطلاق قوله تعالى: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ (الشورى: ٢٥)، ملخصا. وظاهر آخر كلامه اختيار التفصيل. وعزاه إلى مذهب الماتريدية الشيخ عبد السلام في شرح منظومة والده النقاني، وقال: وعند الأشاعرة لا تقبل حال الغرغرة توبة ولا غيرها، كما قال النووي. وانتصر للثاني الملا علي القارئ في شرحه على بدء الأمالي بإطلاق قوله : إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر، أخرجه أبو داود؛ فإنه يشمل توبة المؤمن والكافر. واعترض قول بعض الشراح أن التفصيل مختار أئمة بخاري من الحنفية، وجمع من الشافعية كالسبكي والبلقيني بأنه على تقدير صحته يحتاج إلى ظهور حجته والحاصل: إن المسألة ظنية، وأما إيمان اليأس فلا يقبل اتفاقا. قاله في رد المحتار».
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (کے گناہوں) کو بخش دیتا ہے جب
تک (بندہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان) حجاب واقع نہ ہو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم حجاب کیا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: (حجاب یہ ہے کہ) آدمی اس حالت میں مرے کہ وہ
مشرک تھا۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے اور بیہقی نے اس کی روایت ”كِتَابُ الْبَعْثِ
وَالنُّشُورِ“ میں کی ہے۔
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو کہ وہ
دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو برابر نہیں قرار دیتا تھا۔ باوجود یہ کہ اس پر پہاڑوں جیسے گناہ تھے۔
اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کے گناہوں کو بخش دینگے۔
اس کی روایت بیہقی نے ”كِتَابُ الْبَعْثِ وَالنُّشُورِ“ میں کی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے جس وقت وہ توبہ کرتا ہے
اس شخص کی خوشی سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری ایک بے آب و گیاہ جنگل میں بھاگ گئی۔
یعنی گم ہوگئی۔ اور اسی پر اس کا کھانا تھا اور پانی تھا وہ اپنی سواری کو تلاش کرتے کرتے تھک کر مایوس
ہوگیا (سواری کے ملنے سے ناامید ہو کر) وہ ایک درخت کے پاس آیا کیا دیکھتا ہے کہ وہ سواری اس
کے سامنے کھڑی ہے اور اس نے اس مہار پکڑ لی پھر (اس کی زبان سے فرط مسرت میں یہ الفاظ نکل
پڑے اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب حالانکہ اس کو یہ کہنا چاہئے تھا۔ اے اللہ میں تیرا بندہ
ہوں اور تو میرا رب ہے۔ جس طرح گم شدہ سواری ملنے سے اس شخص کو خوشی ہوئی تھی اسی طرح
گناہگار بندہ کے اللہ تعالیٰ سے بچھڑ کر ملنے سے اللہ تعالیٰ کو خوشی ہوتی ہے۔ اس حدیث کی روایت مسلم
نے کی ہے۔
حارث بن سوید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن مسعود
رضی اللہ عنہ نے (توبہ کے بارے میں) دو حدیثیں بیان کی ہیں، ایک حدیث (مرفوع ہے) جس کی
سند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتی ہے۔
اور دوسری حدیث موقوف ہے) جس کی روایت خود حضرت ابن مسعود رضی
اللہ عنہ سے ہے اور (اس حدیث موقوف میں) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (بندہ
مومن اپنے گناہوں سے بہت ڈرتا ہے چنانچہ) مومن اپنے گناہوں کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا وہ ایک
پہاڑ ہے جس کے نیچے وہ بیٹھا ہوا ہے اور ڈر رہا ہے کہ (نہ معلوم کہ) وہ پہاڑ کب اس پر گر پڑے اور
(اس کے برخلاف) فاجر و فاسق اپنے گناہوں کو (اتنا ہلکا) سمجھتا ہے کہ جیسے مکھی کہ وہ اس کی ناک پر
بیٹھے اور وہ اس کو ہاتھ کے اشارہ سے اڑا دے (یعنی وہ گناہوں سے بے پروا رہتا ہے اور توبہ نہیں کرتا
ہے) پھر اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (مرفوع حدیث سنائی) اور فرمایا کہ:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ: اللہ تعالیٰ اپنے بندہ مومن توبہ سے
بہت خوش ہوتے ہیں اس شخص (کی خوشی) سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو (سفر میں) ایک لق
ودق صحرا میں جہاں ہلاکت کا اندیشہ ہو اترا اور اس کے ساتھ اس کی سواری ہے جس پر اس کا کھانا
اور پانی ہے پس وہ ایک جگہ (پڑاؤ ڈالا) اور سوگیا۔ جب نیند سے بیدار ہوا تو دیکھا کہ اس کی سواری
غائب ہے وہ سواری کی تلاش میں نکلا اور گرمی اور بھوک پیاس کی شدت اور رنج غم میں گرفتار ہوگیا جو
اللہ تعالیٰ کو منظور تھیں (کافی تلاش کے بعد) اس نے کہا کہ: اسی جگہ واپس لیٹ جائیں جہاں میں
اترا ہوں اور وہاں اپنے بازو پر سر رکھ کر موت کے انتظار میں سوگیا پھر جب اس کی آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا
ہے کہ اس کی سواری اس کے سامنے کھڑی ہے جس پر اس کا کھانا اور پانی بھی موجود ہے تو اس شخص کو
(ایسی حالت میں) اپنی گم شدہ سواری اور توشے کے واپس ملنے کی جو خوشی ہوگی اللہ تعالیٰ کو اپنے بندۂ
مومن کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: تمام بنی آدم خطاکار ہیں (یعنی ہر انسان سے کچھ نہ کچھ گناہ ہوتا ہے)
اور گنہ گاروں میں سب سے بہترین وہ لوگ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں۔
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن کو (توبہ کرتے رہنے کی وجہ
سے) بہت دوست رکھتے ہیں جو گناہوں میں مبتلا رہتا ہے اور توبہ بھی کرتا رہتا ہے۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: اللہ تعالیٰ کے یہ ارشاد (سورۃ نجم،
آیت نمبر:32) ”الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلَّا اللَّمَمَ“ (وہ لوگ جو کبیرہ
گناہوں سے اور بے حیائی کی باتوں سے بچتے رہتے ہیں مگر یہ کہ ان سے چھوٹے چھوٹے گناہ جو کبھی
کبھار ہو جاتے ہیں کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (امیّہ ابن ابی الصلت کا یہ
شعر بطور مثال کے پڑھا)
اے اللہ اگر آپ بخشنا چاہیں تو بڑے بڑے گناہوں کو بخش دیں
اور آپ کا وہ کونسا بندہ ہے جس نے چھوٹے گناہ بھی نہ کئے ہوں
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ دھبّہ آ جاتا ہے پھر
جب وہ (اپنے گناہوں سے) توبہ اور استغفار کرتا ہے تو (وہ دھبّہ دھل جاتا ہے اور) اس کا دل
صاف ہو جاتا ہے اور اگر وہ گناہوں پر اصرار کرتا رہے (اور توبہ نہ کرے) تو یہ دھبّہ بڑھتا ہی جاتا
ہے یہاں تک کہ وہ سارے دل پر چھا جاتا ہے اور یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ
مطففین، آیت نمبر:14، میں) فرمایا ہے: ”كَلَّا بَلْ، رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا
يَكْسِبُونَ“ (ایسا نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں پر ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے جن کو
وہ کیا کرتے تھے زنگ بیٹھ گیا ہے)۔
اس حدیث کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جو شخص (صدق دل سے) توبہ کر لیتا ہے تو وہ اس شخص کی
طرح پاک و صاف کر دیا جاتا ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایسے
تائب پر کوئی مواخذہ نہیں ہوتا)۔
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور طبرانی نے اس کی روایت کبیر میں کی ہے۔
اور اسی بیان میں امام قشیری نے اپنی کتاب رسالہ میں انس رضی اللہ عنہ سے
اور اسی کو ابن نجار نے بھی روایت نقل کی ہے۔
اور حاکم نے ابو سعید سے
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عساکر نے روایت کی ہے۔
شرح السنہ میں ابن مسعود سے موقوفاً مروی ہے کہ: ندامت توبہ ہے اور گناہ
سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے کوئی گناہ ہی نہ کیا ہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 4250 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Regret is repentance...
(1) The statement: "Regret is repentance..." In Al-Mirqat, it is said: "Regret is the greatest pillar of repentance, as it leads to leaving the sin, resolving not to return, and rectifying wrongs when possible."
Note 1
قوله
(۱) قوله: الندم توبة إلخ : قال في «المرقاة»: أي ركن أعظمها الندامة؛ إذ يترتب عليها بقية الأركان من القلح والعزم على عدم العود وتدارك الحقوق ما أمكن.
Note 1
ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں، ابن حجر نے اس حدیث کے
شواہد کی بنیاد پر اس کو حدیث حسن کا درجہ دیا ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں
کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس حدیث کے راویوں میں طبرانی مجہول راوی ہیں لیکن ابن حجر فرماتے
ہیں کہ راوی کے مجہول ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے کہ فضائل کے بیان میں ضعیف حدیث
قابل عمل ہے۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں اپنے والد کے
ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرے والد نے حضرت ابن
مسعود سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ
(گناہوں پر) ندامت ہی توبہ ہے تو حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو ایسا ارشاد فرماتے سنا ہے (کہ ندامت ہی توبہ ہے!)۔ (اس حدیث کی روایت امام
طحاوی نے کی ہے)۔
(1) The statement: "Regret is repentance..." Ibn Abi Imran disliked saying, "I seek Allah’s forgiveness and repent to Him," preferring, "I seek Allah’s forgiveness and ask Him for repentance." At-Tahawi said: "The correct view is that both are permissible."
In Al-‘Alamkiriyyah and Ma’ani Al-Athar, it is stated: "The Prophet (ﷺ) equated regret with repentance, showing that saying, ‘I repent to Allah,’ while feeling remorse is praiseworthy and rewarded."
Note 1
قوله
(۱)قوله: الندم توبة إلخ عن ابن أبي عمران يقول: يكره أن يقول الرجل: أستغفر الله وأتوب إليه، ولكن يقول: أستغفر الله وأسأله التوبة. قال الطحاوي: والصحيح جوازه كذا في القنية». قاله في العالمكيرية». وفي معاني الآثار»، فهذا رسول الله ﷺ قد جعل الندم توبة، فدل ذلك على أن من قال: أتوب إلى الله من ذنب كذا وكذا، وهو نادم على ما أصاب من ذلك الذنب، أنه محسن مأجور على قوله ذلك.
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ندامت ہی توبہ ہے اس لئے کہ جو شخص اپنے گناہوں
پر نادم ہوتا ہے تو توبہ کے دوسرے اجزاء یعنی گزشتہ گناہوں کو چھوڑ دینا اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم
کرنا اور تیسرے یہ کہ جن کے حقوق تلف ہوئے ہوں ان کے حقوق کو ادا کرنا ان سب پر آمادہ ہو جاتا
ہے اسی لئے ارشاد ہوا کہ ندامت ہی توبہ ہے۔ مرقات12
Commentary and footnotes (2)
Note 2
(2) The statement: "As long as the death rattle has not reached his throat..." In Al-Bazaziyyah, it is said: "It is said that the repentance of despair (with a ‘ya’)—meaning when hope is lost and death is certain—is accepted, but not the faith of despair. Another view says it is not accepted, as Allah equates those who repent at the time of death with the disbelievers in His words: ‘But repentance is not [accepted] of those who [continue to] do evil deeds...’ (An-Nisa 4:18), as mentioned in Al-Kashshaf, Al-Baydawi, and Al-Qurtubi. In Al-Kabir by Ar-Razi, the scholars said: "The approach of death does not prevent the acceptance of repentance, but witnessing the horrors of death leads to certainty, removing free will. Thus, the Hanafis, Malikis, Shafi’is, Mu’tazila, Sunnis, and Ash’aris agree that the repentance of despair is not accepted like the faith of despair, due to the lack of free will and the inability to firmly resolve not to return to sin—which is a condition of repentance." Some fatwas state that the repentance of hardship (with a ‘ba’) is accepted. If hardship refers to witnessing death’s horrors, the same objection applies. If it refers to nearing death, then it is acceptable. However, the apparent meaning is that hardship refers to witnessing death’s terrors. The evidence for its acceptance is Allah’s words: "And He is the One who accepts repentance from His servants." (Ash-Shura 42:25). The apparent meaning supports this. The Maturidis, as mentioned by Shaykh Abdus-Salam in his commentary on his father’s An-Naqani’s poem, hold this view. The Ash’aris, however, say it is not accepted at the time of the death rattle, as stated by An-Nawawi. Mulla Ali Al-Qari supported the second view, citing the hadith: "Allah accepts the repentance of a servant as long as the death rattle has not reached his throat," narrated by Abu Dawud, which includes both believers and disbelievers. The objection that some Hanafi scholars and Shafi’is like As-Subki and Al-Balqini preferred the first view requires evidence. The matter is speculative, but the faith of despair is unanimously rejected."
Note 2
(۲) قوله: ما لم يغرغر : قال في أواخر البزازية»: قيل: توبة اليأس [قوله: توبة اليأس بالياء المثناة التحتية ضد الرجاء وقطع الأمل من الحياة، او بالموحدة التحتية، والمراد به الشد وأهوال الموت. كذا في رد المحتار». قلت: يقال: مرة بالياء المثناة التحتية وأخرى بالموحدة التحتية.] مقبولة لا إيمان اليأس. وقيل: لا تقبل كإيمانه؛ لأنه تعالى سوی بين من آخر التوبة إلى حضور الموت من الفَسَقَة والكفار وبين من مات على الكفر في قوله: ﴿وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ (النساء : (۱۸) الآية كما في الكشاف والبيضاوي والقرطبي. وفي الكبير» للرازي: قال المحققون قرب الموت لا يمنع من قبول التوبة بال المنانع منه مشاهدة الأهوال التي يحصل العلم عندها على سبيل الاضطرار، فهذا كرام الحنفية والمالكية والشافعية من المعتزلة والسنية والأشاعرة أن توبة اليأس لا تقبل كإيمان اليأس بجامع عدم الاختيار وخروج النفس من البدن وعدم ركن التوبة، وهو العزم بطريق التصميم على أن لا يعود في المستقبل إلى ما ارتكب، وهذا لا يتحقق في توبة اليأس إن أريد باليأس معاينة أسباب الموت بحيث يعلم قطعا أن الموت يدركه لا محالة، كما أخبر تعالى عنه بقوله: ﴿فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا (غافر : ٨٥). وقد ذكر في بعض الفتاوى: أن توبة البأس مقبولة. فإن أريد بالبأس ما ذكرنا يرد عليه ما قلنا، وإن أريد به القرب من الموت فلا كلام فيه، لكن الظاهر أن زمان البأس زمان معاينة الهول، والمسطور في الفتاوى أن توبة البأس مقبولة لا إيمانه؛ لأن الكافر أجنبي غير عارف بالله تعالى ويبدأ أيمانا وعرفانا، والفاسق عارف وحاله حال البقاء، والبقاء أسهل. والدليل على قبولها منه مطلقا إطلاق قوله تعالى: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ (الشورى: ٢٥)، ملخصا. وظاهر آخر كلامه اختيار التفصيل. وعزاه إلى مذهب الماتريدية الشيخ عبد السلام في شرح منظومة والده النقاني، وقال: وعند الأشاعرة لا تقبل حال الغرغرة توبة ولا غيرها، كما قال النووي. وانتصر للثاني الملا علي القارئ في شرحه على بدء الأمالي بإطلاق قوله : إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر، أخرجه أبو داود؛ فإنه يشمل توبة المؤمن والكافر. واعترض قول بعض الشراح أن التفصيل مختار أئمة بخاري من الحنفية، وجمع من الشافعية كالسبكي والبلقيني بأنه على تقدير صحته يحتاج إلى ظهور حجته والحاصل: إن المسألة ظنية، وأما إيمان اليأس فلا يقبل اتفاقا. قاله في رد المحتار».