Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Trials · Chapter 2

بَابُ الْمَلَاحِم ختم ہوا

26 narrations · In source reading order

Hadith 5198

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6815
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی اسوقت تک جب تک کہ دو بڑی جماعتیں جنگ نہ کریں، جنکے درمیان زبردست قتل وخون ہوگا اُن دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا اور (اسوقت تک قائم نہ ہوگی) جب تک کہ تیس کے قریب دجال کذاب 1 نہ اُٹھیں گے اُن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کریگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اُٹھا لیا جائے گا 2، زلزلوں کی کثرت 3 ہو جائے گی زمانہ قریب قریب ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہو جائیں اور ”ہرج“ زیادہ ہو جائے گا اور وہ قتل ہے اور یہاں تک کہ تم میں مال زیادہ ہو جائے گا اور بہنے لگے گا، یہاں تک کہ صاحب مال اُس شخص کو تلاش کرے گا جو اُس کے صدقہ کو قبول کرے، یہاں تک کہ وہ اس پر مال کو پیش کرے گا، تو جس پر وہ پیش کیا ہے وہ کہے گا: مجھے اُس کی کوئی ضرورت نہیں ہے 1 اور یہاں تک کہ لوگ عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے 2 اور یہاں تک کہ ایک شخص کسی دوسرے شخص کی قبر کے پاس سے گزرے تو یہ کہے گا: ہائے کاش اس کی جگہ میں ہوتا! اور یہاں تک کہ سورج اپنے مغرب سے نکلے، پس جب وہ (مغرب سے) نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں تو سب کے سب ایمان لائیں گے، اور یہ وہ وقت ہوگا جبکہ ایسے کسی نفس کو اُس کا ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو اب تک ایمان نہیں لایا تھا یا جو اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمایا 3 ہو، اور قیامت ضرور آئے گی حال یہ ہوگا کہ دو آدمی اپنے درمیان اپنے کپڑے کو پھیلائے1 ہوئے ہوں گے، اس کی خرید و فروخت نہ کر سکیں گے، اور اس کو لپیٹ نہیں سکیں گے اور قیامت ضرور ضرور آئے گی اس حال میں کہ آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ لیکر پلٹ کر آیا ہوگا لیکن وہ اس کو پی نہ سکے گا اور قیامت ضرور ضرور قائم ہوگی اس حال میں کہ وہ شخص اپنے حوض کو لیپ رہا ہوگا لیکن اس میں پانی پلا نہ سکے گا اور قیامت ضرور ضرور آئے گی اس حال میں کہ وہ اپنا نوالہ منہ تک اُٹھا لیا ہوگا مگر اُس کو کھا نہ سکے گا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7121 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (15)

Note 1

nearly thirty

(1) His statement: “nearly thirty” does not contradict the earlier assertion of “thirty,” as it is either a later narration or meant to indicate approximation. Similarly, it does not contradict what Al-Tabarani narrated from Ibn Umar: “The Hour will not come until seventy liars appear,” as that refers to a larger number or the thirty are specifically those claiming prophethood, while others claim otherwise, possibly making up a hundred in total. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

knowledge is taken away

(2) His statement: “knowledge is taken away” refers to beneficial knowledge related to the Qur’an and Sunnah, due to the passing of scholars from the People of the Sunnah and the Community, leading to an increase in ignorance and innovation. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

earthquakes increase

(3) His statement: “earthquakes increase” refers to physical earthquakes, meaning the movement of the earth, or metaphorical ones, meaning various forms of calamity. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

I have no need for it

(4) His statement: “I have no need for it” means either due to the richness of heart or material wealth, with the latter being more apparent. The people of that time will have turned to Allah, reaching a state of contentment with divine decree and sufficiency. (As stated in Al-Mirqat)

Note 5

until people compete in constructing tall buildings

(5) His statement: “until people compete in constructing tall buildings” means they will increase in their height and width or take pride in their decoration and beautification. This is not restricted to the time of the Mahdi, but may occur before or after it. Nowadays, construction has increased, people take pride in it, and it is boasted about everywhere, while buildings meant for good deeds are demolished and turned into houses, gardens, places of leisure, and entertainment. (As stated in Al-Mirqat)

Note 6

or earned good through its faith

(6) His statement: “or earned good through its faith” is connected to “believed.” “Good” refers to repentance or sincerity, with the indefinite form indicating magnification. It implies that neither faith nor repentance will benefit a soul at that time. The “or” indicates differentiation, as if saying: neither repentance from polytheism nor from sins will benefit. This refutes the Mu’tazilite argument that good deeds, expressed as “good,” are part of faith, as the verse in its faith good (Al-An’am: 158) negates this. It is said that the rejection of faith and repentance at that time is specific to those who witness the sun’s rising from the west, while those born afterward or who did not witness it may have their faith and repentance accepted. The correct view, based on authentic narrations, is that it is not specific, as repentance remains accepted until its door is closed, which occurs when the sun rises from the west. (As stated in Al-Mirqat)

Note 7

while two men have spread out their cloth

(7) His statement: “while two men have spread out their cloth” means the Hour will come suddenly upon people while they are engaged in their tasks, as Allah says: It will not come upon you except unexpectedly (Al-A’raf: 187). (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: قريب من ثلاثين: هذا لا ينافي جزمه في ما سبق بقوله: ثلاثون؛ فإنه إما متأخر وإما المراد منه التقريب وكذا لا ينافي ما رواه الطبراني عن ابن عمر، ولا تقوم الساعة حتى يخرج سبعون كذابًا، فإن المراد منه التكثير أو الثلاثون مقيدون بدعوة النبوة والباقون بغيرها على احتمال أن السبعين غير الثلاثين، فتكمل المائة، والله تعالى أعلم. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: يقبض العلم: أي النافع المتعلق بالكتاب والسنة بقبض العلماء من أهل السنة والجماعة، فيكثر أهل الجهل والبدعة. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: تكثر الزلازل : أي الحسية وهي تحريك الأرض، أو المعنوية وهي أنواع البلية. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله : لا إرب لي: أي لا حاجة لي إليه، إما لغنى قلبه أو لغنى يده، والأظهر أنه لهما جميعا، فكان أهل ذلك الزمان كلهم ممن تاب الله عليهم حتى رجعوا إلى مقام الرضاء بالقضاء والقناعة بالكفاية. كذا في «المرقاة».

Note 5

قوله

(٥) قوله: حتى يتطاول الناس في البنيان: أي حتى يتزايدوا في طوله وعرضه، أو يفتخروا في تزيينه وتحسينه. وهذا غير مقيد بزمان المهدي، بل المراد به إما بعده وإما قبله، فإن الآن قد كثر البنيان، وافتخر به أهل الزمان، وتطاول به اللسان في كل مكان، وهدموا العمارة الموضوعة للخيرات، وجعلوها دورا وبساتين وموضع التنزهات ومحال التلهيات. كذا في «المرقاة».

Note 6

قوله أو كسبت في إيمانها خيرا عطف على «آمنت، والمراد بالخير التوبة أو الإخلاص، فتنوينه للتعظيم، أي لا ينفع تلك النفس إيمانها وقبول توبتها، فيفيد أن «أو» للتنويع، فكأنه قال

(٦) قوله أو كسبت في إيمانها خيرا عطف على «آمنت، والمراد بالخير التوبة أو الإخلاص، فتنوينه للتعظيم، أي لا ينفع تلك النفس إيمانها وقبول توبتها، فيفيد أن «أو» للتنويع، فكأنه قال: لا ينفعها توبة عن الشرك، ولا توبة عن المعاصي، وبهذا يندفع استدلال المعتزلة بالآية على أن العمل المعبر عنه بالخير جزء للإيمان مع أن الظاهر من قوله تعالى: فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا (الأنعام: (۱۵۸) يدفع ذلك، ثم قيل: عدم قبول الإيمان والتوبة في ذلك الوقت مخصوص بمن شاهد طلوعها حتى أن من ولد بعده أو لم يشاهده يقبل كلاهما منه، والصحيح أنه غير مخصوص للخبر الصحيح أن التوبة لا تزال مقبولة حتى يغلق بابها، فإذا طلعت الشمس من مغربها أغلق. كذا في «المرقاة».

Note 7

قوله

(٧) قوله : وقد نشر الرجلان إلخ حاصله : أن قيام الساعة يكون بغتة لقوم وهم في أشغالهم، كما قال تعالى: ﴿لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً} (الأعراف: ۱۸۷). كذا في «المرقاة».

Note 1

1 قوله : لا أرب لي (مجھے اس کی کوئی ضرورت و حاجت نہیں) یہ یا تو اسکے دل کی بے نیازی کی وجہ سے ہوگا یا اسکے ہاتھ کی بے نیازی کی وجہ سے اور راجح بات یہ ہے کہ یہ (بے نیازی) ایک ساتھ اُن دونوں کی وجہ سے ہوگی، پس اُس زمانہ کے تمام لوگ اُن لوگوں میں سے ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ رضاء بقضاء اور قناعت بقدر کفایت کے مرتبہ میں ہوں گے۔ (مرقات)۔ 2 قوله : حتى يتطاول الناسُ فى البنيان (یہاں تک کہ لوگ عمارت میں ایک دوسرے پر مسابقت و فخر کریں گے یہاں تک کہ لوگ اسکو اونچی اور چوڑی بنانے میں ایک دوسرے سے بڑھتے جائیں گے، یا وہ اس کی تزئین کاری اور اسکو آراستہ کرنے میں باہم فخر کریں گے اور یہ امام مہدی کے زمانہ کے ساتھ مقید نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یا تو اسکے بعد ہے یا اس سے پہلے ہے، کیونکہ اب تعمیرات کی کثرت ہو گئی ہے اور اُس پر اہل زمانہ فخر کرنے لگے ہیں اور ہر جگہ اُس کی تعمیر پر زبان فخر و مباہات کا اظہار کرنے لگی، اور بھلائی کے کاموں کیلئے بنائی ہوئی عمارتوں کو لوگوں نے ڈھا دیا اور اُنہیں گھر، باغات اور تفرج اور لہو و لعب کے مقامات بنا دیا ہے۔ (مرقات)۔ 3 قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِيْ إِيْمَانِهَا خَيْرًا (6_الانعام آیت:158) (یا جو اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمایا ہو) اسکا عطف ”آمنت“ پر ہے۔ اور خیر سے توبہ یا اخلاص مراد ہے اسکی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی ایسے کسی کو اسکا نہ ایمان لانا نفع دے گا اور نہ توبہ قبول ہوگی کہ وہ دونوں اسکے لئے مفید ہوں لفظ ”أَوْ“ بیان نوع کیلئے ہے، تو گویا حضور ﷺ نے یہ فرمایا کہ اسکو نہ شرک سے توبہ کرنا فائدہ --- بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر --- ۔۔۔ باقی حاشیہ ۔۔۔ دیگر گناہوں سے توبہ کرنا اور اسی سے دفع ہوجاتا ہے معتزلہ کا اس آیت سے اپنے اس عقیدہ پر استدلال کرنا کہ ”عمل جس کو خیر سے تعبیر کیا گیا وہ جزءِ ایمان ہے“، علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے قول ”فِيْ إِيْمَانِهَا خَيْرًا“ کا ظاہر خود ان کے اس استدلال کو دفع کر رہا ہے، پھر یہ بھی کہا گیا ہے کہ اُس وقت ایمان اور توبہ کا قبول نہ ہونا اُس آدمی کے ساتھ مخصوص ہے جو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کو دیکھے گا اور جو شخص اس کے بعد پیدا ہو یا اس کو نہ دیکھا ہو اُس سے یہ دونوں باتیں قبول کئے جائیں گے لیکن صحیح بات تو یہ ہے کہ یہ کسی کے لئے خاص نہیں ہے، اسلئے کہ صحیح حدیث شریف میں ہے کہ توبہ برابر مقبول ہوتی رہیگی جب تک کہ اس کا دروازہ بند نہ ہو، پس جب سورج اپنے مغرب سے نکلے گا تو وہ بند کر دیا جائے گا۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : وقد نشر ⟦?⟧ الخ (اس حال میں کہ دو آدمی اپنے کپڑے پھیلائے ہوئے ہوں گے) اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا آنا لوگوں کے حق میں اچانک ہوگا جبکہ وہ اپنے کاموں میں ہوں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”لَا تَأْتِيْكُمْ إِلَّا بَغْتَةً“ (7۔ الاعراف آیت:187) وہ تم پر اچانک آ جائے گی۔ (مرقات)۔ 1 قوله: حتّى تقاتلوا قومًا الخ (یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے) زیادہ قریب الفہم بات یہ ہے کہ اس میں چنگیز خان کے واقعہ اور اُس فساد انگیزی کی جانب اشارہ ہے جو اُسکی طرف سے واقع ہوئی اور خصوصاً بغداد شریف میں۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : خورا و کرمان (قوم خُوز اور کرمان) ایک شارح نے کہا: اس سے تُرکوں کی دو قسمیں مراد ہیں، آپ نے اُنہیں اُنکے باپ کے نام سے موسوم فرمایا، اور ہم اسکو شہر خوزستان اور کرمان کے باشندگان پر محمول نہیں کرینگے، کیونکہ وہ لوگ حدیث میں بیان کردہ صفت پر نہیں پائے گئے بلکہ اس پر ترک پائے گئے ہیں۔ (مرقات)۔ 1 قوله : يسمونه البصرة عند نهر الخ (جسکا نام وہ بصرہ رکھیں گے ایک نہر کے پاس) محدث اشرف رحمہ اللہ نے کہا: حضور ﷺ نے اس شہر سے ”مدینۃ السلام بغداد“ مراد لیا ہے کیونکہ دجلہ اُسی کے کنارے ہے اور اُسکا پل وسط بغداد میں ہے نہ کہ وسط بصرہ میں اور نبی اکرم ﷺ نے اس کا تعارف بصرہ سے اسلئے کروایا کہ بغداد اُسکے باہر اور اس کے دروازے کے قریب ایک مقام ہے جسکو ”باب بصرہ“ کہا جاتا ہے تو نبی اکرم ﷺ نے اس ایک جز کے نام سے پورے شہر کو موسوم فرمایا یا اس میں مضاف کو حذف کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: ”وسئل القرية“ اور نبی اکرم ﷺ کے عہد میں بغداد اس ہیئت پر تعمیر شدہ نہ تھا اور نہ وہ شہروں میں سے کوئی شہر تھا؛ بلکہ آپ ﷺ کے عہد میں وہاں چیدہ چیدہ بستیاں تھیں، یہی وجہ ہیکہ آپ ﷺ نے مستقبل کے صیغہ سے فرمایا: ”ويكون من امصار المسلمين“ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہوگا اور فی الواقع ہمارے زمانہ میں کسی نے جنگ وقتال کیلئے ترکوں کے بصرہ میں داخل ہونے کو کبھی نہیں سنا اھ۔ اور اگر شہر معروف بصرہ اس سے مراد ہو تو ممکن ہیکہ ایسا آئندہ پیش آئے کیونکہ یہ بات کبھی نہیں سنی گئی کہ کفار جنگ کیلئے وہاں پڑاؤ ڈالے ہوں۔ (مرقات)۔ 2 قوله : فرقة يأخذون لأنفسهم وهلكوا (ایک گروہ ایسا ہوگا جو۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ باقیہ ۔۔۔ اپنی جانوں کیلئے امان لے لیگا اور ہلاک ہوگا) یعنی اپنے ہاتھوں سے ممکن؛ بلکہ اس گروہ سے مُستعصم باللہ اور اس کے عموم مسلمان مراد ہوں جو خود کیلئے اور اہلیان بغداد کیلئے امان کے طلبگار ہوئے اور آخرکار خود اور اپنے ہاتھوں سے سب کے سب ہلاک ہوئے اور یہ واقعہ بماہ صفر ۶۵۶ھ پیش آیا۔ (مرقات)۔ 1 قولہ: الأُبُلَّة (اُبُلَّہ) ہمزہ اور باء کے ضمہ اور لام تشدید کے ساتھ ہے، بصرہ کے قریب اسکے سمندری جانب مشہور شہر ہے۔ اور وہ سیر و تفریح کے چار مقامات میں سے ایک ہے اور یہ بصرہ سے قدیم ہے، ایک شارح نے کہا: وہ دنیا کی جنتوں میں سے ہے جو چار ہیں: (1) بصرہ کا اُبُلَّہ۔ (2) دمشق کا غوطہ (3) سمرقند کا سغد (4) بوان کی گھاٹی، پھر یہ بھی کہا گیا کہ ”بوان“، ”کرمان“ کا نام ہے، اور کہا گیا کہ وہ فارس کا ”نوبندجان“ ہے قولہ: مسجد العشار: مسجد عشار وہ مشہور مسجد ہے جسمیں نماز ادا کر کے برکت حاصل کی جاتی ہے یہ بات علامہ میرک شاہ نے بیان کی۔ قولہ: مما يلي النهر: یعنی جو دریائے فُرات سے قریب ہے۔ (ماخوذ از مرقات)۔ 1 قولہ: ھذہ لأبی ھریرة (یہ ابوہریرہ کیلئے ہے) ہمارے علماء نے کہا کہ یہ حج بدل کی اصل یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنے عمل کا ثواب دوسروں کو خواہ وہ وفات پانے والے ہوں یا باحیات ہوں دے سکتا ہے خواہ وہ حج ہو کہ نماز یا روزہ ہو کہ صدقہ یا کچھ جیسے تلاوت قرآن اور اذکار ہیں، پس جب وہ ان میں سے کوئی کام انجام دے اور اسکا ثواب غیر کیلئے کردے تو وہ جائز ہے اور اہل سنت و جماعت کے نزدیک اُسی کو پہنچتا ہے اور صاحب رد المحتار نے ’’البحر الرائق‘‘ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص روزہ رکھے یا نماز پڑھے یا صدقہ کرے اور اسکا ثواب مرنے والے اور زندہ لوگوں میں سے کسی کے لئے کردے تو ان اعمال کا ثواب اہل سنت و جماعت کے نزدیک ان کو پہنچتا ہے۔ (بدائع)۔ 2 قولہ: دعوا الحبشة (تم حبشہ کے لوگوں کو چھوڑ دو) علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: تم یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے قول: وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً (توبہ،36) (تمام مشرکین سے جنگ کرو) اس آیت کے درمیان اور اس حدیث کے درمیان تطبیق اس طرح سے ہوگی کہ آیت مطلق ہے اور یہ حدیث مقید ہے لہذا مطلق کو مقید پر محمول کیا جائیگا، اور آیت کے عموم کیلئے اس حدیث شریف کو مخصص مانا جائیگا جیسا کہ مجوس کے حق میں اس عموم کو خاص کیا گیا حالانکہ وہ کافر ہیں مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد: ’’سنوا بهم سنة أهل الكتاب‘‘، (تم اُنکے ساتھ اہل کتاب جیسا سلوک کرو) کی وجہ سے ان سے جزیہ لیا گیا۔ علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اور ہوسکتا ہے کہ یہ آیت اس حدیث کی ناسخ ہو جو ضعف اسلام کے موقع پر فرمائی گئی ہے، اب رہا حبشہ والوں اور ترکوں کو ترک کرنے اور چھوڑنے کی۔۔۔ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر۔۔۔ ۔۔۔ بقیہ حاشیہ ۔۔۔ جو تخصیص ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ اہل حبشہ وغیرہ کے ملکوں اور مسلمانوں کے درمیان بڑی دشواریاں اور بے آب و گیاہ چٹیل میدان ہیں لہذا آپ نے تھکا دینے والی بے انتہاء مشقت کے پیش نظر مسلمانوں کو انکے ملکوں میں داخلہ کی تکلیف نہیں دی، اور اب رہے ترک لوگ تو انکی لڑائی بہت سخت ہوتی ہے اور انکا ملک ٹھنڈا ہے، اور عرب جو کہ اسلام کا لشکر ہیں گرم ملک سے ہیں لہذا آپ نے انہیں اس ملک میں داخل ہونے کی تکلیف دی، پس یہ وہ راز ہیں جس کی وجہ سے آپ نے انکی تخصیص فرمائی، لیکن اگر وہ خدا نخواستہ مسلمانوں کے ملک میں قہرآمیز داخل ہوجائیں والعياذ بالله تو لڑائی کو چھوڑنا کسی کیلئے جائز نہ ہوگا؛ کیونکہ ایسی حالت میں جہاد فرض عین ہوجاتا ہے اور پہلی حالت میں فرض کفایہ ہے۔ میں کہتا ہوں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو ارشاد فرمایا: ”ما ترک کم“ (جب تک کہ وہ تم کو چھوڑے رہیں) اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ حدیث میں امر جو آیا ہے وہ رخصت اور اباحت کیلئے ہے، وجوب اقدام کیلئے نہیں ہے؛ کیونکہ مسلمانوں نے ترکوں اور حبشہ والوں سے اقدامی جنگ کی ہے اور تاحال اس سے کوئی زمانہ خالی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے وہاں اسلام اور مسلمانوں کو والی کی صورت حال کے باوجود سربلندی عطاء فرمائی ہے۔ (مرقات)۔ 1 قولہ : لا يستخرج كنز الكعبة الخ (کعبہ کے خزانہ کو نہیں نکالے گا) یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”حرماً آمناً“ کے معارض نہیں ہے، اسلئے کہ اس آیت کے معنی ہیں: ”قرب قیامت اور دنیا کے بگاڑ تک امن والا“، یا اسکو امن والا حرم بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ اہل حرم یہاں لوگوں کو پرامن رکھیں اور وہاں کسی کے لئے تکلیف کے درپے نہیں ہوں گے، چنانچہ بعض علماء اہل توفیق نے یہی جواب دیا تھا جب قرامطہ کے زندیقوں نے قتل و غارت گری کرکے فساد برپا کیا اور ملک کو اجاڑ دیا اُنکے سردار نے کہا: اللہ کا کلام ”ومن دخله كان آمناً“ کا فرمان (سورہ آل عمران، آیت 97) کہاں گیا تو کسی اہل توفیق نے یہی جواب دیا اور کہا کہ اسکے معنی تو یہ ہے کہ پس تم اسکو امن دو جو اس میں داخل ہوتا ہے اور اسے قتل، یا رہزنی کے ذریعہ اسکے داخلہ میں رکاوٹ مت بنو۔ (مرقات)۔ 1 قوله : فيخرج اليهم جيش من المدينة (پس مدینہ سے ایک لشکر انکی طرف نکلے گا) علامہ ابن ملک رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد شہر حلب ہے، اور ’’اعماق‘‘ اور ’’دابق‘‘ اسکے قریب کے دو بستیاں ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ اس سے مراد ’’دمشق‘‘ ہے اور کتاب ’’الازہار‘‘ میں یہ کہ اب رہی وہ بات جو کہی گئی کہ اس سے مراد نبی اکرم ﷺ کا مدینہ منورہ ہے تو یہ بات ضعیف ہے اسلئے کہ اس حدیث کے اخیر حصے سے یہ معلوم ہوتا ہے روم کی طرف روانہ ہونے والے لشکر سے امام مہدی کا لشکر مراد ہے۔ نیز یہ کہ اُس زمانہ میں مدینہ منورہ ویران رہیگا۔ (مرقات)۔ 2 قوله : بين الذين سبوا منا (اُن لوگوں کے درمیان جنہوں نے ہمارے کچھ لوگوں کو قیدی بنالیا) علامہ تورپشتی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: قول راجح یہ ہے کہ اُنکی جانب سے یہ بات اُس جنگ عظیم اور زبردست خونریز لڑائی کے بعد ہوگی جس میں دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہونے کے بعد پھر دشمن مسلمانوں سے جنگ کے لئے نکلے گا اور زبردست جنگ ہوگی اور یہ رومیوں سے جنگ کے بعد اور قسطنطنیہ کی فتح سے پہلے ہوگا چنانچہ رومی سرزمین عرب پر قدم جمالیں گے یہاں تک کہ وہ ’’اعماق‘‘ یا ’’دابق‘‘ میں پڑاؤ ڈالیں گے اور اس وقت مسلمانوں سے مطالبہ کرینگے کہ وہ اُنکے اور اُن (مسلمانوں) کے درمیان راستہ چھوڑ دیں جو اُنکے لوگوں کو قید کرلئے ہیں تو مسلمان اس وقت وہ جواب دیں گے جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا۔ (مرقات)۔ 3 قوله : فيفتتحون قسطنطينية (پس وہ قسطنطنیہ کو فتح کرینگے) امام ترمذی نے کہا: قسطنطینیہ نبی اکرم ﷺ کے بعض صحابہ کے زمانہ میں فتح کیا گیا اور دوبارہ دجال کے نکلنے کے وقت فتح ہوگا۔ (مرقات)۔ 1 قوله : فأمّهم (پھر آپ انکی امامت کرینگے) یعنی حضرت عیسی علیہ السلام بشمول امام مہدی مسلمانوں کی نماز میں امامت کرینگے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ امام مہدی کو یہ بتاتے ہوئے آگے بڑھائینگے کہ یہ نماز آپ ہی کیلئے قائم کی گئی اور یہ اعلان کرنے کے لئے آپ پیروی کرنے والے ہیں اور آپ مستقل طور پر متبوع نہیں ہیں بلکہ اس کو مضبوط کرنے اور تائید کرنے والے ہیں، پھر اس کے بعد سے لوگوں کی امامت امام مہدی فرمایا کرینگے اور دجال اسوقت مسلمانوں کا محاصرہ کئے ہوئے ہوگا۔ (مرقات)۔ 2 قوله : يقتله الله بيده (اللہ تعالیٰ اسکو آپکے ہاتھ سے قتل فرمائیگا) شاید دجال محاصرہ کرنے کے بعد بیت المقدس سے بھاگ کھڑا ہوگا تو کسی مقام پر حضرت عیسی علیہ الصلوة والسلام اسے پائیں گے تو اسکو قتل کرینگے۔ (مرقات)۔

Hadith 5199

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6816
حضرت شقیق رحمۃ اللہ علیہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے کہا: ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا: فتنہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی حدیث تم میں سے کس کو یاد ہے؟ تو میں نے کہا: مجھے اُسی طرح یاد ہے، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اُنہوں نے کہا: لاؤ سناؤ، واقعی تم جرأت مند ہو اور اس کی کیا کیفیت ہوگی؟ اُنہوں نے کہا میں نے عرض کیا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: آدمی کا فتنہ و آزمائش اس کے گھر میں اُس کے مال میں اُس کی جان میں اُس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی میں ہوتی ہے روزہ نماز صدقہ بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اس کا کفارہ بن جاتا ہے۔ پس عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری مراد یہ نہیں ہے، میری مراد تو وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح موج مار رہا ہوگا، وہ (حذیفہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں، میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ کا اُس سے کیا تعلق ہے؟ کیونکہ آپ کے اور اُسکے درمیان ایک بند دروازہ ہے آپ نے فرمایا: تو کیا وہ دروازہ توڑا جائیگا یا کھولا جائیگا؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ توڑا جائیگا آپ نے فرمایا: وہ اس لائق رہیگا کہ بند نہیں کیا جاسکے گا، اُنہوں (شقیق رحمہ اللہ علیہ) نے کہا: پس ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: کیا حضرت عمر جانتے تھے وہ دروازہ کونسا ہے؟ اُنہوں نے کہا: ہاں، جس طرح وہ یہ جانتے تھے کہ کل کے دن سے پہلے رات ہے در حقیقت میں نے اُن سے ایسی حدیث بیان کی جو پہیلی اور معمہ نہیں ہے اُنہوں (شقیق رحمہ اللہ علیہ) نے کہا: پس ہم کو سیدنا حذیفہ سے یہ دریافت کرنے میں ڈر لگا کہ وہ دروازہ کونسا ہے؟ تو ہم نے مسروق سے کہا: تم اُن سے دریافت کرو، چنانچہ وہ اُن سے دریافت کئے تو اُنہوں نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 525 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7096 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2892 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5200

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6817
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اُسوقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تم اُس قوم سے جنگ 1 نہ کرو، جنکی جوتیاں بال والی کھال کی ہونگی اور یہاں تک کہ تم ترکوں سے جنگ کرو گے جو چھوٹی آنکھوں والے چہرے سُرخ والے اور چپٹی ناک والے ہوں گے گویا اُنکے چہرے گول یا تہہ بہ تہہ جلد سے بنی ہوئی ڈھال ہوں گے۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2912a (unverified) 91% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2928 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

until you fight a people

(1) His statement: “until you fight a people” likely refers to the events involving Genghis Khan and the devastation, especially in Baghdad. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: حتى تقاتلوا قوما إلخ والأقرب أنه إشارة إلى قضية جنكيز وما وقع له من الفساد، وخصوصا في بغداد. كذا في «المرقاة».

Hadith 5201

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6818Noor 6819
اُنہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت نہیں آئیگی جب تک کہ تم قوم خورا1 اور کرمان سے جنگ نہ کرو جو سرخ چہرے والے، چپٹی ناک والے چھوٹی آنکھوں والے ہونگے، اُنکے چہرے تہ بہ تہ جلد سے بنائی ہوئی ڈھال (کی طرح) ہونگے، اُنکی جوتیاں بال والی کھال کی ہونگی۔ (بخاری)۔ اور اُسکی ایک روایت میں سیدنا عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ سے ”عِرَاضُ الوجوهِ“، چوڑے چہرے والے مروی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2929 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2930 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

Khuz and Kirman

(1) His statement: “Khuz and Kirman” refers to two groups of Turks named after their ancestors, not the people of Khurasan or Kirman, as the latter do not match the description in the hadith, whereas the Turks do. (As stated in Al-Mirqat)

Hadith 5202

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6820
سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ چھوٹی آنکھوں والی ایک قوم تم سے جنگ کریگی، یعنی تُرک، حضور ﷺ نے فرمایا: تم اُنہیں تین مرتبہ بھگاؤ گے یہاں تک کہ تم اُنہیں جزیرہ العرب میں پہنچا دو گے، اب رہا پہلی مرتبہ ہانکنے کے وقت تو اُن میں سے جو بھاگ جائیگا وہ نجات پائیگا اب رہا دوسری مرتبہ ہانکنے کے وقت تو بعض بچ نکلیں گے اور بعض ہلاک ہو جائینگے اور تیسری مرتبہ ہانکنے کے وقت تو وہ جڑ پیڑ سے ختم ہو جائیں گے۔ یا حضور ﷺ نے جیسے ارشاد فرمایا۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4305 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

صاحب ”عونُ المعبود“ نے کہا ہے کہ ابوداؤد کی یہ حدیث اور مسند احمد کی حدیث دونوں بظاہر ایک دوسرے کے مخالف ہیں، کیونکہ مسند احمد کی روایت یہ بتا رہی ہے کہ تُرک ہی مسلمانوں کو تین مرتبہ ہانکیں گے یہاں تک کہ اُنہیں جزیرہ العرب میں پہنچا ئینگے اور قرطبی نے مسند احمد کی حدیث کی نقل کر کے کہا: اُسکی اسناد صحیح ہے، پھر صاحب ”عون المعبود“ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک مسند احمد کی روایت ہی درست ہے۔ اب رہا ابوداؤد کی روایت تو ظاہر ہے کہ اُنہیں بعض راویوں سے وہم ہوگیا ہے، پھر اُنہوں نے چند وجوہ سے مسند احمد کی روایت کو تائید دی اُن میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ تاتاریوں کا فتنہ مسند احمد کی تفصیلی حدیث کے مطابق پیش آیا ہے۔ پس اللہ آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔

Hadith 5203

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6821
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ ایک وسیع نشیبی علاقہ میں اُتریں گے جسکا نام وہ بصرہ رکھیں گے، ایک نہر کے پاس جسکو ”دجلہ“ کہا جاتا ہے جس پر ایک پُل ہوگا پڑاؤ ڈالیں گے 1 جسکے باشندے کثیر ہونگے اور وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہوگا اور جب اخیر زمانہ آئیگا تو بنی ”قنطوراء“ آئینگے جنکے چہرے چوڑے آنکھیں چھوٹی ہونگی یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے پر اُتریں گے؛ تو اُسکے باشندگان تین گروہوں میں بٹ جائینگے، ایک گروہ 2 ایسا ہوگا جو گائے کی دموں اور جنگل کو اختیار کریں گے اور وہ ہلاک ہو جائیگا اور ایک گروہ ایسا ہوگا جو اپنی جانوں کیلئے امان لے لیگا اور ہلاک ہو جائے گا، اور ایک گروہ ایسا ہوگا جو اپنے بال بچوں کو اپنے پیٹھ پیچھے رکھے گا اور اُن سے معرکہ جنگ کریگا اور یہ لوگ شہداء ہیں۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4306 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

they call Basra, near a river

(1) His statement: “they call Basra, near a river” refers to the city of peace, Baghdad, as the Tigris is its river, and its bridge is in its center, not Basra’s. The Prophet (ﷺ) referred to it as Basra because there is a place near Baghdad’s gate called Bab al-Basra, so he named Baghdad after part of it or omitted the implied term, as in Allah’s saying: Ask the town (Yusuf: 82). Baghdad was not built in this form during the Prophet’s time, nor was it a major city then, hence he used the future tense: “it will be among the cities of the Muslims.” In his time, it consisted of scattered villages. No one in our time has heard of the Turks entering Basra for battle. If it refers to the well-known Basra, it may occur later, as no disbelievers have been known to enter it for battle. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

a group will seek safety for themselves and perish

(2) His statement: “a group will seek safety for themselves and perish” means by their own hands. This likely refers to Al-Musta’sim Billah and those with him who sought safety for themselves and Baghdad’s people but perished by their hands. This event occurred in Safar 656 AH. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: يسمونه البصرة عند نهر إلخ : قال الأشرف : أراد الله بهذه المدينة مدينة السلام بغداد، فإن دجلة هي الشط، وجسرها في وسطها لا في وسط البصرة، وإنما عرفها النبي ببصرة؛ لأن في بغداد موضعا خارجيا منه قريبا من بابه يدعى باب البصرة، فسمى النبي الله بغداد باسم بعضها، أو على حذف المضاف، كقوله تعالى: ﴿وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ} (يوسف: (۸۲) وبغداد ما كانت مبنية في عهد النبي الله على هذه الهيئة، ولا كان مصرا من الأمصار في عهده ، ولذا قال : ويكون من أمصار المسلمين بلفظ الاستقبال، بل كان في عهده القرى متفرقة، وإن أحدا لم يسمع في زماننا بدخول الترك بصرة قط على سبيل القتال والحرب. وإن أراد البصرة المعهودة فلعله يقع بعد ذلك؛ إذ لم يسمع أن الكفار نزلوا بها قط للقتال. التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: فرقة يأخذون لأنفسهم وهلكوا أي بأيديهم. ولعل المراد بهذه الفرقة المستعصم بالله ومن معه من المسلمين طلبوا الأمان لأنفسهم ولأهل بغداد، وهلكوا بأيديهم عن آخرهم كانت هذه الواقعة في صفر سنة ست وخمسين وست مائة، التقطه من المرقاة».

Hadith 5204

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6822
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! لوگ کچھ شہر بسائیں گے تو اُنہیں سے ایک شہر کو بصرہ کہا جائیگا۔ پس اگر اسکے پاس سے تم گزرو تم اُس میں داخل ہو تو تم وہاں کے شور بخیز زمین سے اور مقام ”کلاء“ سے اور وہاں کے کھجوروں کے باغ اور وہاں کے بازار اور وہاں کے اُمراء کے دروازہ سے خود کو دور رکھو اور تم اس کے اطراف و اکناف کے علاقہ کو اختیار کرو، کیونکہ اُن مقامات میں ”خَسْف“ (زمین میں دھنسنا)، پتھر برسنا، زلزلہ ہوگا اور ایک ایسی قوم ہوگی جو رات بسر کریگی اور صبح کریگی تو بندر اور خنزیر بن کر۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4307 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5205

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6823
حضرت صالح بن درہم رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ہم حج کرنے کیلئے جا رہے تھے تو اچانک ایک صاحب ملے اور اُنھوں نے ہم سے کہا: تمہارے بازو میں ایک بستی ہے جسکو ”اُبُلَّہ“، 1 کہا جاتا ہے، ہم نے کہا: ہاں اُنہوں نے کہا: تم میں سے مجھے کون اس بات کی ضمانت دیگا کہ وہ میرے لئے مسجد العشار میں دو یا چار رکعت نماز پڑھے اور کہے کہ یہ ابوہریرہ1 کیلئے ہے، میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ بزرگ و برتر روز قیامت مسجد عشار سے ایسے شہداء کو اُٹھائیگا کہ شہداء بدر کے ساتھ اُٹھنے کے سوا کوئی اور کھڑا نہ ہوگا۔ (ابوداؤد)۔ امام ابوداؤد نے کہا: یہ مسجد نہر سے متصل حصہ میں ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4308 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 1

Al-Ubullah

(1) His statement: “Al-Ubullah” with a stressed hamza, ba, and doubled lam, is a well-known town near Basra on its coastal side. It is one of the four paradises of the world, older than Basra. The commentator said: It is among the gardens of the world, which are four: Al-Ubullah of Basra, Ghutah of Damascus, Sa’d of Samarkand, and Sha’b Bawwan. It was said Bawwan is Kirman, or Nuwband Jan in Persia. His statement: “Mosque of Al-Ashar” refers to a famous mosque where prayer is sought for blessings. His statement: “near the river” refers to the Euphrates. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

These are for Abu Hurairah

(2) His statement: “These are for Abu Hurairah” indicates that one may dedicate the reward of their actions to others, dead or alive, such as Hajj, prayer, fasting, charity, or recitation of the Qur’an and remembrances. If someone does this and dedicates its reward to another, it is permissible, and it reaches them according to the People of the Sunnah and the Community. (As stated in Al-Bada’i)

Note 1

قوله

(۱) قوله: الأبلة بضم الهمزة والباء وتشديد اللام البلد المعروف قرب البصرة من جانبها البحري. كذا في «النهاية». وهي أحد المنتزهات الأربع، وهي أقدم من البصرة، قال شارح: هي من جنان الدنيا هي أربع: أبلة البصرة، وغوطة دمشق، وسعد سمرقند وشعب بوان ثم قيل بوان هو كرمان وقيل نوبند جان في الفارس قوله: «مسجد العشار» مسجد مشهور يتبرك بالصلاة فيه، ذكره ميرك. قوله: «مما يلي النهر»: أي نهر الفرات. التقطته من «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله : هذه لأبي هريرة قال علماؤنا الأصل في الحج عن الغير أن الإنسان له أن يجعل ثواب عمله لغيره من الأموات والإحياء حجا أو صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كتلاوة القرآن والأذكار، فإذا فعل شيئًا من هذا وجعل ثوابه لغيره جاز، ويصل إليه عند أهل السنة والجماعة. وقال في رد المحتار» ناقلا عن البحر»: من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات والأحياء جاز، ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة. كذا في البدائع».

Hadith 5206

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6824
حضرت نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم حبش2 کے لوگوں کو چھوڑ دو، جب تک کہ وہ تم کو چھوڑیں اور تم ترکوں کو چھوڑ دو جب تک وہ تم کو چھوڑیں۔ (ابوداؤد و نسائی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4302 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 3176 (unverified) 93% confidence · Validation similarity: 0.695

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Leave Abyssinia

(1) His statement: “Leave Abyssinia” is reconciled with Allah’s saying: Fight the polytheists all together (At-Tawbah: 36), as the verse is general and the hadith is specific, so the general is interpreted by the specific. The hadith specifies the verse’s generality, as with the Magians, who are disbelievers yet had jizyah taken from them due to the saying: “Treat them as you treat the People of the Book.” Al-Tayyibi said: It is possible the verse abrogates the hadith due to the weakness of Islam at the time. The specification of Abyssinia and the Turks is because their lands are separated from Muslims by deserts and wastelands, so Muslims were not tasked with entering their lands due to the great hardship. As for the Turks, their strength is formidable, and their lands are cold, while the Arabs, the soldiers of Islam, were from hot lands, so they were not tasked with entering them. If they enter Muslim lands by force—may Allah protect us—fighting them is obligatory, as jihad in this case is an individual obligation, whereas in the first case, it is a collective obligation. The hadith’s command is for permission, not obligation, as Muslims have fought the Turks and Abyssinians, and Islam and its people have been honored. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: دعوا الحبشة : قال الخطابي : اعلم أن الجمع بين قوله تعالى: ﴿وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَة (التوبة: ٣٦) وبين هذا الحديث: أن الآية مطلقة والحديث مقيد، فيحمل المطلق على المقيد، ويجعل الحديث مخصصا لعموم الآية، كما خص ذلك في حق المجوس؛ فإنهم كَفَرَةٌ، ومع ذلك أخذ منهم الجزية؛ لقوله : «سنوا بهم سنة أهل الكتاب». قال الطيبي (رحمه الله): ويحتمل أن تكون الآية ناسخة للحديث لضعف الإسلام، وأما تخصيص الحبشة والترك بالترك والودع فلأن بلد الحبشة وغيره بين المسلمين وبينهم مهامه وقفار ، فلم يكلف المسلمين دخول ديارهم لكثرة التعب وعظمة المشقة، وأما الترك فبأسهم شديد وبلادهم باردة والعرب وهم جند الإسلام، كانوا من البلاد الحارة، فلم يكلفهم دخول البلاد، فلهذين السرين خصصهم، وأما إذا دخلوا بلاد المسلمين قهرا - والعياذ بالله - فلا يجوز لأحد ترك القتال؛ لأن الجهاد في هذه الحالة فرض عين، وفي الحالة الأولى فرض كفاية. قلت: وقد أشار إلى هذا المعنى حيث قال: «ما تركوكم. وحاصل الكلام أن الأمر في الحديث للرخصة والإباحة لا للوجوب ابتداء أيضًا، فإن المسلمين قد حاربوا الترك والحبشة بادين، وإلى الآن لا يخلو زمان عن ذلك، وقد أعز الله الإسلام وأهله في ما هنالك. كذا في «المرقاة».

Hadith 5207

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6825
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم حبشیوں کو چھوڑ دو جب تک کہ وہ تم کو چھوڑے رہیں، کیونکہ کعبہ کے خزانہ 1 کو نہیں نکالے گا مگر دو چھوٹی پنڈلیوں والا جو حبشہ کا ہوگا۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4309 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

none will extract the treasure of the Ka’bah

(1) His statement: “none will extract the treasure of the Ka’bah” does not contradict Allah’s saying: a secure sanctuary (Al-Qasas: 57), as it means secure until near the Hour and the world’s ruin, or it means they secure others and do not harm anyone in it. Some scholars answered the Qarmatians’ leader, who caused corruption, killed people, and ruined lands, questioning: “Where is Allah’s saying: Whoever enters it is safe (Aal-E-Imran: 97)?” They replied: It means secure those who enter it and do not harm or kill them. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : لا يستخرج كنز الكعبة إلخ: لا يعارض قوله تعالى: حَرَمًا عَامِنَا (القصص: ٥٧)؛ لأن معناه «آمنا» إلى قرب القيامة وخراب الدنيا، أو المراد بجعله حرما آمنا أنه حكم بأنهم يؤمنون الناس، ولا يتعرضون لأحد فيه، كما أجاب بهذا بعض أهل التوفيق لما قال رئيس أهل الزندقة من القرامطة بعد ما فعلوا من الفساد من قتل العباد و خراب البلاد فأين كلام الله {وَمَن دَخَلَهُ كَانَ ءَامِنًا} (آل عمران : (۹۷) ، فقال : إنما معناه فآمنوا من دخله، ولا تتعرضوا في مدخله بنهبه أو قتله. التقطته من «المرقاة».

Hadith 5208

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6826
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ رومی ’’اعماق‘‘ یا ’’دابق‘‘ میں اتریں گے تو ایک لشکر مدینہ سے انکی طرف 1 نکلے گا جو اس دن تمام اہل زمین کے بہترین لوگوں میں سے ہوگا پھر جب یہ لوگ صف آرا ہوں گے، تو رومی کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہمارے 2 لوگوں کو قید کرلیا، ہم ان سے جنگ کرینگے تو مسلمان کہیں گے نہیں بخدا! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے، پس مسلمان ان سے جنگ کریں گے ایک تہائی بھاگ جائیں گے جنکی توبہ اللہ کبھی قبول نہیں فرمائیگا اور ایک تہائی شہید ہونگے، وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہداء ہوں گے اور ایک تہائی فتح کرینگے یہ کبھی فتنے میں مبتلا نہ ہونگے پھر یہ قسطنطنیہ 3 فتح کرینگے تو اس دوران کہ وہ آپس میں اموالِ غنیمت تقسیم کر رہے ہونگے، اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکائے ہونگے کہ یکایک ان میں شیطان چیخے گا کہ مسیح (دجال) تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں میں پہنچ گیا ہے، تو یہ لوگ نکل پڑیں گے اور جھوٹی خبر ہوگی، پھر جب یہ لوگ ملک شام کو آئینگے تو وہ (دجال) ظاہر ہوگا پھر اس دوران کہ یہ جنگ کی تیاری کر رہے ہونگے، صفیں درست کر رہے ہونگے کہ نماز قائم ہوگی، پس عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) اتریں گے اور انکی امامت 1 فرمائینگے، پھر جب انہیں اللہ کا دشمن دیکھے گا تو گھلنے لگے گا جیسا کہ نمک پانی میں گھلتا ہے، پس اگر آپ اسکو چھوڑ دیں گے تو گھل جائیگا یہاں تک کہ ہلاک ہو جائیگا مگر اللہ اسکو آپکے ہاتھ سے ہلاک 2 کریگا اور آپ ان (لوگوں) کو اسکا خون اپنے نیزے میں دکھائینگے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2897 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (10)

Note 1

an army from Medina

(1) His statement: “an army from Medina” refers to Aleppo, as Al-A’maq and Dabiq are places near it, or Damascus. It is said that Medina, the Prophet’s city, is unlikely, as it will be in ruins at that time, and the army refers to the Mahdi’s army, as indicated by the hadith’s end. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

those who were taken captive from us

(2) His statement: “those who were taken captive from us” likely occurs after the great battle between the two groups, after reconciliation and confrontation with an enemy attacking the Muslims, before the conquest of Constantinople. The Romans will descend at Al-A’maq or Dabiq and ask the Muslims to make way for their captives, but they will respond as stated. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

conquer Constantinople

(3) His statement: “conquer Constantinople” was fulfilled in the time of some of the Prophet’s companions, and it will be conquered again at the Dajjal’s emergence. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

lead them

(4) His statement: “lead them” means Jesus will lead the Muslims in prayer, including the Mahdi. In one narration, the Mahdi steps forward, indicating the prayer was established for him and to show Jesus follows the Sharia. Afterward, Jesus will lead them continuously, with the Dajjal besieging the Muslims. (As stated in Al-Mirqat)

Note 5

Allah will kill him by his hand

(5) His statement: “Allah will kill him by his hand” suggests the Dajjal will flee from Jerusalem after besieging the Muslims, and Jesus will pursue and kill him in a certain place. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فيخرج إليهم جيش من المدينة : قال ابن الملك قيل: المراد بها حلب والأعماق ودابق موضعان بقربه. وقيل: المراد بها دمشق. وقال في «الأزهار»: وأما ما قيل من أن المراد بها مدينة النبي ﷺ فضعيف؛ لأن المراد بالجيش الخارج إلى الروم جيش المهدي بدليل آخر الحديث، ولأن المدينة المنورة تكون خرابا في ذلك الوقت. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: بين الذين سبوا منا : قال التوربشتي والأظهر هذا القول منهم يكون بعد الملحمة الكبرى التي تدور رحاها بين الفئتين بعد المصالحة والمناجزة لقتال عدو يتوجه إلى المسلمين وبعد غزوة الروم لهم، وذلك قبل فتح قسطنطنية فيطأ الروم أرض العرب حتى ينزل بالأعماق أو بدابق، فيسأل المسلمين أن يخلوا بينهم وبين من سبي ذريتهم، فيردون الجواب على ما ذكر في الحديث. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: فيفتتحون قسطنطينية: قال الترمذي والقسطنطينية قد فتحت في زمن بعض أصحاب النبي ﷺ وتفتح عند خروج الدجال. كذا في «المرقاة».

Note 4

قوله

(٤) قوله : فأمهم: أي أم عيسى المسلمين في الصلاة، ومن جملتهم المهدي، وفي رواية قدم المهدي معللا بأن الصلاة إنما أقيمت لك وإشعارًا بالمتابعة، وأنه غير متبوع استقلالا بل هو مقرر ومؤيد، ثم بعد ذلك يؤم بهم على الدوام، ويكون الدجال حينئذ محاصرا للمسلمين. التقطته من المرقاة».

Note 5

قوله

(٥) قوله : يقتله الله بيده لعل الدجال يهرب من بيت المقدس بعد ما كان محاصرا فيلحقه عيسى ال في أحد الأماكن فيقتله. كذا في «المرقاة».

Hadith 5209

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6827
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ میراث تقسیم نہ کی جائے گی اور مال غنیمت پر خوشی نہیں منائی جائیگی، پھر آپ نے فرمایا: دشمن اہل شام کے مقابل جمع کریں گے اور ان کے مقابل مسلمان بھی جمع ہوا کریں گے یعنی اہل روم کے مقابل اور مسلمان ایک جنگی دستہ (مر مٹنے) کیلئے تیار کرینگے کہ وہ نہیں لوٹیں گے مگر غالب ہو کر چنانچہ وہ جنگ کرینگے حتی کہ انکے درمیان رات حائل ہو جائیگی تو یہ اور وہ دونوں لوٹیں گے اور کوئی غالب نہ ہوگا اور یہ دستہ فنا ہو جائیگا مسلمان پھر ایک فوجی دستہ موت کے لئے تیار کرینگے کہ وہ نہ لوٹے مگر غالب ہو کر پس وہ جنگ کرینگے حتی کہ انکے درمیان رات حائل ہو جائیگی پس یہ بھی لوٹیں گے اور وہ بھی کوئی غالب نہ ہوگا اور یہ دستہ بھی فنا ہو جائیگا۔ پھر مسلمان ایک جنگی دستہ موت کے لئے تیار کریں گے کہ نہ لوٹے مگر غالب ہو کر پس وہ جنگ کریں گے یہاں تک کہ وہ شام کریں گے یہ اور وہ لوٹیں گے کوئی بھی غالب نہیں ہوگا اور جنگی دستہ فنا ہو جائیگا۔ اب جب چوتھا دن آئیگا تو ان کفار کیطرف بقیہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کفار پر شکست ڈال دیگا، پس ایسی عظیم جنگ کریں گے کہ اسکے جیسی دیکھی نہیں گئی، یہاں تک کہ کوئی پرندہ ان کے اطراف سے گزریگا تو ان کو پیچھے نہیں چھوڑ سکے گا یہاں تک کہ مر کر گر جائیگا، پس ایک باپ کی اولاد شمار کی جائے گی جو سو(100) تھے، پس وہ اس کو نہیں پائیں گے کہ ان میں سے سوائے ایک کے کوئی باقی رہا ہو، پس کونسے مال غنیمت پر خوشی منائیں گے یا کوئی میراث کو تقسیم کریں گے، پس وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اس سے بڑی جنگ سنیں گے اور ایک چیخ آئیگی کہ دجال ان کے بال بچوں میں پہنچ گیا ہے وہ جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے اسکو پھینک دیں گے اور اس جانب متوجہ ہو جائیں گے اور دس شہسواروں کا دستہ روانہ کریں گے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں ان کے نام اور ان کے باپ دادا کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ کو، وہ اس دن روئے زمین کے بہترین شہسوار میں سے ہوں گے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2899a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5210

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6828
سیدنا ذومخبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اہل روم سے امن والی صلح کرو گے، پس تم اور وہ اپنے پیچھے سے آنے والے دشمن سے جنگ کرینگے تو تمہیں فتح حاصل ہوگی اور تم مال غنیمت حاصل کرو گے اور سلامت رہو گے، پھر تم واپس ہوں گے یہاں تک کہ تم ٹیلوں والی سبزہ دار زمین میں اترو گے، تو عیسائیوں میں سے ایک آدمی صلیب اٹھا کر کہے گا صلیب غالب آگئی تو مسلمانوں میں سے ایک شخص غضبناک ہوگا اور اسے توڑ ڈالے گا، تو اس وقت رومی عہد شکنی کرینگے اور جنگ کیلئے جمع کریں گے اور بعض راویوں نے زیادہ کہا ”پھر مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف جوش سے بڑھیں گے اور جنگ کرینگے تو اللہ اس جماعت کو شہادت کے ذریعہ عزت دیگا“۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4292 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5211

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6829
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے ایسا1 شہر سنا جسکا ایک کنارہ خشکی میں ہے اور اسکا دوسرا کنارہ سمندر میں انہوں نے عرض کیا: ہاں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ اس پر اولاد اسحق کے ستر ہزار (غازی) جنگ کرینگے۔ تو جب وہ اسکے پاس پہنچینگے اور اتر جائینگے تو نہ وہ ہتھیاروں سے جنگ کرینگے اور نہ ہی تیر پھینکیں گے۔ وہ ”لا اله الا الله والله اكبر“ (نعرۂ تکبیر) کہیں گے تو اسکا ایک کنا رہ گر جائیگا، ثور بن یزید راوی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ نے اسکے سوا فرمایا یا نہ وہ کنارہ جو دریا میں ہے، پھر وہ دوسری مرتبہ بھی ”لا اله الا الله والله اكبر“ کا نعرہ بلند کریں گے تو اسکا دوسرا کنارہ بھی گر جائیگا پھر وہ تیسری مرتبہ کہیں گے ”لا اله الا الله والله اكبر“، تو ان کیلئے وہ کھول دیا جائیگا، چنانچہ وہ اس میں داخل ہونگے اور مال غنیمت کو پائیں گے، پس اس دوران کہ وہ اموال غنیمت کی تقسیم کررہے ہونگے کہ اچانک ان تک ایک چیخ آئیگی، کوئی کہے گا دجال نکل چکا ہے تو وہ ہر چیز چھوڑ دینگے اور لوٹ جائینگے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2920a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Have you heard of a city

(1) His statement: “Have you heard of a city” refers to a city in the Roman lands. It is said it is likely Constantinople, as it is the capital of the Romans, called Byzantium, with a wall twenty-one cubits high, a rectangular church, and a tall column with four gates, topped with a copper horse and rider holding a golden orb, built by Constantine. It is possible it refers to another city, as Constantinople is conquered with much fighting, while this city is conquered merely by saying “There is no god but Allah” and “Allah is the Greatest.” (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: هل سمعتم بمدينة : قال شارح هذه المدينة في الروم. وقيل: الظاهر أنها قسطنطينية، ففي القاموس»: هي دار ملك الروم، وفتحها من أشراط الساعة، وتسمى بالرومية بورنطيا، وارتفاع سورة أحد وعشرون ذراعا، و كنيستها مستطيلة وبجانبها عمود عال في دور أربعة أبواع تقريبا، وفي رأسه فرس من نحاس وعليه فارس، وفي إحدى يديه كرة من ذهب، وقد فتح أصابع يده الأخرى مشيرا بها، وهو صورة قسطنطين بنيها. ويحتمل أنه مدينة غيرها، بل هو الظاهر؛ لأن قسطنطينية تفتح بالقتال الكثير، وهذه المدينة تفتح بمجرد التهليل والتكبير. كذا في المرقاة».

Hadith 5212

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6830
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیت المقدس کی آبادی یثرب 1 کی خالی ہونا ہے اور مدینہ طیبہ کی خالی ہونا بڑی جنگ کا ظہور ہے اور بڑی جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا نکلنا ہے۔ (ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4294 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 5424 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 5424

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

The rebuilding of Jerusalem is the ruin of Yathrib

(1) His statement: “The rebuilding of Jerusalem is the ruin of Yathrib” means at the time of Medina’s ruin, it is said due to the conquest by disbelievers. In summary, each of these events is a sign of the occurrence of what follows it, with some time in between. Al-Tayyibi said: If you ask, how can it be reconciled that the conquest of Constantinople is followed by the emergence of the Dajjal, when in the previous hadith it is said that Satan shouts among them that the Dajjal has taken their place among their families, and they go out, but it is false? I say: Allah has made the conquest a sign of the Dajjal’s emergence, not that it immediately follows without delay. Satan’s shout was to alert them to its occurrence, distracting them from dividing spoils, and it was false, as indicated by the upcoming hadith about the great battle, the conquest of Constantinople, and the emergence of the Dajjal within seven months. The definite article in “the shouter” refers to Satan. I say: It appears that the matter involves multiple events, with Muslims being dispersed, and the city is not Constantinople, as the conquest of Constantinople involves fighting, whereas the conquest of the city is through saying “Allahu Akbar” and “La ilaha illa Allah” without fighting. Thus, Satan’s shout pertains to the conquest of Constantinople, while the Muslims’ shout pertains to those who conquer the city, and both groups abandon their spoils to fight the Dajjal. Allah knows best. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: عمران بيت المقدس خراب يثرب أي وقت خراب المدينة، قيل: لأن عمر أنه باستيلاء الكفار، وخلاصته أن كل واحد من هذه الأمور أمارة لوقوع ما بعده وأن وقع هناك مهلة، قال الطيبي الله : فإن قلت: قال: هنا فتحالقسطنطينية خروج الدجال، وفي الحديث السابق إذا صاح فيهم الشيطان أن المسيح قد خلفكم في أهليكم فيخرجون، وذلك باطل، فكيف الجمع بينهما ؟ قلت: إنه الله جعل الفتح علامة الخروج الدجال، لا أنها مستعقبة له من غير تراخ، وصراخ الشيطان كان للإيذان بأنه واقع ليشتغلوا عن القسم، وكان باطلا يدل عليه الحديث الآتي الملحمة العظمى فتح القسطنطينية وخروج الدجال في سبعة أشهر والتعريف في الصارخ في هذا الحديث للعهد والمعهود الشيطان. أقول: والذي يظهر أن القضية متعددة، وأن المسلمين كانوا متفرقة، وأن المدينة غير القسطنطينية؛ إذ قصة القسطنطينية كانت بالمقاتلة، وفتح المدينة إنما هو بالتهليل والتكبير من غير المحاربة، فحينئذ يحمل صريخ الشيطان بالنسبة إلى غزوة قسطنطينية، وصريخ المسلمين إلى أصحاب فتح المدينة، وإن كلا من الفريقين تركوا الغنائم وتوجهوا إلى قتال الدجال، والله تعالى أعلم بالحال. التقطته من «المرقاة».

Hadith 5213

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6831
اور انہیں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بڑی جنگ قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا ظاہر ہونا سات مہینوں میں ہوگا۔ (ترمذی ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4295 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2238 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5214

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 556832
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بڑی جنگ اور شہر (قسطنطنیہ) کی فتح کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہے اور دجال ساتویں سال نکلے گا۔(ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4296 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

This hadith

(1) His statement: “This hadith” etc.: In Fath al-Wadud, it is said that his statement “this hadith is more authentic” addresses the apparent contradiction between the two hadiths. It indicates that the second hadith has a stronger chain of narration, so the first does not oppose it. It is possible that the great battle spans six years from its start to its end, and the time between its end and the conquest of the city—Constantinople—is short, such that it, along with the emergence of the Dajjal, occurs within seven months. (As stated in Badhl al-Majhud)

Note 1

قوله

(۱) قوله : هذا الحديث إلخ: قال في فتح الودود قوله: وهذا الحديث أصح إشارة إلى جواب ما يقال: «بين الحديثين تناف فأشار إلى أن الثاني أرجع إسنادا فلا يعارضه الأول. وقيل: يمكن أن يكون بين أول الملحمة وآخرها ست سنين، ويكون بين آخرها . وفتح المدينة - وهي القسطنطينية - مدة قريبة بحيث يكون ذلك مع خروج الدجال في سبعة أشهر. كذا في بذل المجهود».

Note 1

امام ابوداؤد نے کہا کہ یہ 1حدیث سابقہ حدیث سے زیادہ قابل ترجیح ہے۔

Hadith 5215

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6833
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: قسطنطنیہ کی فتح قیامت قائم ہونے 2کے ساتھ ہوگی۔(ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2239 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

with the establishment of the Hour

(1) His statement: “with the establishment of the Hour” means near the establishment of the Hour. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : مع قيام الساعة أي مع قرب قيامها. كذا في «المرقاة».

Hadith 5216

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6834
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: میں غزوہ تبوک کے موقعہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ چمڑے کے خیمہ میں تھے تو آپ نے فرمایا: قیامت کے سامنے کی چھ چیزیں شمار کرلو: میرا وصال، پھر بیت المقدس 3کی فتح، پھر وباء جو تم میں بکریوں کی بیماری کی طرح پھیلے گی1، پھر مال کا بہنا حتی کہ ایک آدمی کو سو دینار دیئے جائیں گے تو بھی وہ ناراض رہے گا2، پھر ایک ایسا بڑا فتنہ ہوگا3 عرب کا کوئی گھر نہیں رہے گا مگر وہ اس میں داخل ہو جائے گا، پھر وہ صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہوگی پھر وہ عہد شکنی کرینگے پھر وہ تمہارے مقابل 80 اسی جھنڈوں تلے آئینگے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار ہونگے۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3176 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (6)

Note 1

a plague

(1) His statement: “a plague” etc.: Al-Turbishti said that by “plague,” he meant an epidemic, originally a disease affecting livestock, with the “mim” pronounced with a dammah. Its use for humans highlights its rapid spread, as it does in livestock. This occurred during the plague of Amwas in the time of Umar ibn al-Khattab, the first plague in Islam, which killed seventy thousand in three days. Amwas is a village near Jerusalem where the Muslims had their camp. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

abundance of wealth

(2) His statement: “abundance of wealth” means its great quantity. His statement: “remains displeased” means angry, considering a hundred dinars little. This abundance appeared during Uthman’s caliphate with the conquests. Nowadays, some people consider a thousand dinars little and belittle it. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

then a tribulation

(3) His statement: “then a tribulation” means a great calamity. It is said this refers to the killing of Uthman and the subsequent tribulations. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: موتان إلخ: قال التوربشتي لله أراد بالموتان الوباء، وهو في الأصل موت يقع في الماشية، والميم منه مضمومة، واستعماله في الإنسان تنبيه على وقوعه فيهم وقوعه في الماشية فإنها تسلب سلبا سريعا، وكان ذلك في طاعون عمواس زمن عمر بن الخطاب ، وهو أول طاعون وقع في الإسلام، مات منه سبعون ألفا في ثلاثة أيام، و عمواس قرية من قرى بيت المقدس، وقد كان بها معسكرا المسلمين. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: استفاضة المال : أي كثرته، وقوله: ساخطا أي غضبان لعده المائة قليلا، وهذه الكثرة ظهرت في خلافة عثمان عند الفتوح، وأما اليوم فبعض أهل زماننا يعدون الألف قليلا ويحقرونه. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله : ثم فتنة: أي بلية عظيمة، قيل : هي مقتل عثمان وما بعده من الفتن المترتبة عليها. كذا في «المرقاة».

Hadith 5217

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6835
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے آپ نے فرمایا: قریب ہے کہ مدینہ طیبہ کی طرف مسلمانوں کا محاصرہ4 کیا جائے گا حتی کہ ان کی آخری سرحد ”سلاح“ ہوگی اور سلاح خیبر سے قریب ہے۔(ابوداؤد)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4250 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

be besieged at Medina

(1) His statement: “be besieged at Medina” means either the enemy besieges them at the Prophet’s city, or the Muslims flee from the disbelievers and gather between Medina and Salah—a place near Khaybar—or some enter Medina’s fortress while others stand guard around it to protect it. This meaning is clearer with his statement: “the furthest of their outposts,” meaning their frontiers. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: أن يحاصروا إلى المدينة: أي مدينة النبي المحاصرة العدو إياهم أو يفر المسلمون من الكفار ويجتمعون بين المدينة وسلاح - وهو موضع قريب من خيبر - أو بعضهم دخلوا في حصن المدينة وبعضهم ثبتوا حواليها احتراسًا عليها. وهذا المعنى أظهر بقوله : حتى يكون أبعد مسالحهم أي ثغورهم. كذا في «المرقاة».

Hadith 5218

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6836
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہود سے جنگ کرینگے تو مسلمان ان کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائیگا، تو پتھر اور درخت کہے گا اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے 1 ہے تو آ اور اسے قتل کر! سوائے غرقد کے کیوں کہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2922 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

there is a Jew behind me

(1) His statement: “there is a Jew behind me” will occur after the emergence of the Dajjal when the Muslims fight those Jews who follow him. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: هذا يهودي خلفي : هذا يكون بعد خروج الدجال حين يقاتل المسلمون من تبعه من اليهود. كذا في «المرقاة».

Hadith 5219

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6837
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ قبیلہ ”قحطان“ سے ایک آدمی نکلے گا جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا2۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7117 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2910 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3517 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

driving people with his staff

(1) His statement: “driving people with his staff” is an expression for subjugating people. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : يسوق الناس بعصاه : هذا عبارة عن تسخير الناس. كذا في «المرقاة».

Hadith 5220

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6838Noor 6839
اور انہیں سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات و دن ختم نہ ہوں گے جب تک کہ ایک شخص بادشاہ نہ بنے جسے ”جہجاہ“ کہا جائیگا۔ اور ایک روایت میں ہے جب تک کہ غلاموں میں سے ایک شخص بادشاہ نہ بنے جسے ”جہجاہ“ کہا جائیگا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2911 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 5221

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6840
اور انہیں سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسریٰ ہلاک ہو جائیگا اور اسکے بعد کوئی کسریٰ نہ 3 ہوگا، اور ضرور قیصر بھی ہلاک ہوگا، پھر اسکے بعد کوئی قیصر نہ ہوگا اور اسکے خزانے ضرور راہ خدا میں خرچ کئے جائینگے اور آپ نے جنگ کا نام تدبیر رکھا۔ (متفق علیہ)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3027 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1739 (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

there will be no Kisra after him

(1) His statement: “there will be no Kisra after him” etc.: Al-Shafi’i and other scholars said this means there will be no Kisra in Iraq nor Caesar in Sham as it was in his time. We know their rule ceased in these regions. As for Kisra, his rule ended entirely, torn apart completely and eradicated by the Prophet’s call. As for Caesar, he was driven out of Sham to the farthest reaches of his lands, and the Muslims conquered their lands, which became settled for the Muslims, praise be to Allah. (As stated by An-Nawawi in his commentary on Muslim)

Note 1

قوله

(۱) قوله: فلا يكون كسرى بعده إلخ : قال الشافعي وسائر العلماء: معناه لا يكون كسرى بالعراق ولا قيصر بالشام كما كان في زمنه ، فعلمنا بانقطاع ملكهما في هذين الأقليمين، فكان كما قال ، فأما كسرى فانقطع ملكه، وزال بالكلية من جميع الأرض، وتمزق ملكه كل ممزق، واضمحل بدعوة رسول الله ، وأما قيصر فانهزم من الشام، ودخل أقاصي بلاده، فافتح المسلمون بلادهما، واستقرت للمسلمين، والله الحمد، قاله النووي في شرحه للمسلم.

Hadith 5222

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6841
سیدنا جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مسلمانوں کی ایک جماعت ضرور آل کسریٰ کا خزانہ کھولے گی جو مقام ابیض میں 1 ہے۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2919a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

in the White Palace

(1) His statement: “in the White Palace”: Al-Qadi said the White Palace was a fortified castle in Al-Mada’in, called Safid Kushk by the Persians. Now, the mosque of Al-Mada’in stands in its place, and its treasure was extracted in the time of Umar. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: في الأبيض: قال القاضي له الأبيض قصر حصين كان بالمدائن، وكانت الفرس تسميه سفيد كوشك، والآن بني مكانه مسجد المدائن، وقد أخرج كنزه في أيام عمر . كذا في «المرقاة».

Hadith 5223

Volume 4

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 6842
سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جزیرۂ عرب پر جہاد کرو گے تو اللہ تعالیٰ اسے فتح کر دے گا، پھر فارس پر جہاد کرو گے تو اللہ اسے فتح عطا کر دے گا، پھر روم پر جہاد کرو گے تو اللہ اسے بھی فتح کر دے گا، پھر دجال سے 2 جہاد کرو گے تو اللہ اس سے بھی فتح عطا کرے گا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2900 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Then you will invade the Dajjal

(1) His statement: “Then you will invade the Dajjal” is addressed to the Companions, but it refers to the Muslim community. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله : ثم تغزون الدجال إلخ الخطاب فيه للصحابة، والمراد الأمة. كذا في «المرقاة».