Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

کتاب ایمان کے بیان میں · Chapter 4

(تقدیر پر ایمان لانے کے بیان میں)

44 narrations · In source reading order

Hadith 104

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 114
مطر بن عکامس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی بندے کی موت اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر مقرر فرما دیتے ہیں تو اس بندے کی کسی حاجت کو اس سرزمین سے متعلق کر دیتے ہیں اور وہ وہاں جا کر مر جاتا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2146 (unverified) 88% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 110 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 110

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 105

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 115
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ میں پیدائش کے وقت اسلام کی قابلیت ہوتی ہے پھر اس کو اس کے ماں باپ، یہودی اور نصرانی بنا لیتے ہیں، دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! اگر کوئی بچپن میں مر جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ زیادہ جانتے ہیں کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ (امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ نے اس کی روایت کی ہے)۔

Hadith 106

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 116
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر بندے کے متعلق پانچ باتوں سے فارغ ہو چکا ہے: ایک اس کی مدت حیات، دوسرا اس کا عمل نیک و بد، تیسرا اس کا ٹھکانہ (یعنی قبر کہاں ہوگی)، چوتھا اس کا انجام (یعنی جنتی ہوگا یا دوزخی)، پانچواں اس کا رزق (تھوڑا رہے گا یا زیادہ رہے گا)۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 103 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 103

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 107

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 117
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تقدیر کے بارے میں جو کچھ بھی کلام کرے گا اس سے اس کے متعلق قیامت میں سوال کیا جائے گا اور جو شخص تقدیر کے بارے میں کلام نہیں کرے گا اس سے اس بارے میں سوال نہ ہوگا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 84 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.781

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 108

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 118
ابن دیلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا کہ تقدیر کے بارے میں میرے دل میں کچھ تردد ہے آپ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان فرمائیے شاید کہ میرے دل کا تردد اللہ رفع فرما دیں، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر اللہ عزوجل آسمان اور زمین والوں کو عذاب میں مبتلا کر دے تو وہ ان پر ظالم نہیں ہوگا اور اگر ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے عمل سے بہتر ہوگی، اگر تم کوہ احد کی مقدار میں سونا راہ خدا میں خرچ کرو تو تم سے اللہ قبول نہیں فرمائے گا تاوقتیکہ تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ اور یقین رکھو کہ جو چیز تم کو پہنچی ہے وہ ٹلنے والی نہ تھی اور جو چیز ٹل گئی وہ تم کو پہنچنے والی نہ تھی، اگر تم اس کے سوا دوسرے اعتقاد پر مر جاؤ تو دوزخ میں داخل ہوگے۔ پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے بھی بالکل وہی بات فرمائی جو اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمائی تھی، پھر حذیفہ ابن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا تو انہوں نے بھی یہی کہا، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4699 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 77 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 115 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 115

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 109

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 119
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ فلاں شخص نے آپ کو سلام کہلا بھیجا ہے، آپ نے فرمایا : مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ اس نے دین میں نئی بات پیدا کر لی ہے، اگر اس نے واقعی ایسا کیا ہے تو اس کو میرے سلام کا جواب نہ پہنچاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری اُمت یا اس اُمت میں خسف (زمین میں دھنسنا) اور مسخ (چہرہ کا بدل جانا) یا قذف (پتھر کا برسایا جانا) ہوگا اور یہ اہل قدر (منکرین تقدیر پر) کے لئے ہوگا۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2152 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4613 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 110

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 120
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے بچے جنت میں رہیں گے، ان کی پرورش (سیدنا) ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے۔ (اس کو حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے)۔

Hadith 111

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 121
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو آدم علیہ السلام کی پشت سے وہ تمام روحیں نکل پڑیں جن کو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی ذریت میں قیامت تک پیدا کرنے والے تھے اور ان میں سے ہر انسان کے دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی چمک ظاہر کی (یہ چمک فطرت اسلام کی تھی جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے) پھر ان سب کو آدم علیہ السلام کے سامنے لایا، آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہیں۔ آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تو اس کے دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک آپ کو پسند آئی، کہا اے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ داؤد علیہ السلام ہیں، آدم علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ان کی عمر کس قدر ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، آدم علیہ السلام نے کہا! اے رب میری عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کی عمر میں زائد فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم علیہ السلام کی عمر میں صرف چالیس سال رہ گئے تو ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر سے چالیس برس ابھی باقی نہیں ہیں؟ ملک الموت نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے اپنے فرزند داؤد علیہ السلام کو اپنی عمر سے 40 سال دیئے ہیں: آدم علیہ السلام نے انکار کیا (یہ انکار نسیان کی وجہ سے تھا نہ کہ عناد کی وجہ سے) تو ان کی ذریت نے بھی انکار کیا۔ اور آدم علیہ السلام بھول گئے اور درخت (ممنوعہ) کو تناول کرلئے تو آپ کی ذریت بھی بھولنے لگی اور آدم علیہ السلام نے خطا کی، تو ان کی ذریت بھی خطا کرتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3076 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 112

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 122
ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور جس وقت ان کو پیدا کیا تو ان کے سیدھے مونڈھے پر ایک ضرب لگائی اس سے ان کی نورانی اولاد کو نکالا جو چیونٹیوں کی طرح تھی اور بائیں کندھے پر ایک ضرب لگائی اور سیاہ اولاد کو نکالا جو کوئلہ کے مانند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے سیدھے طرف والوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں اور بائیں جانب والوں کی نسبت فرمایا: یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 119 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 119

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 113

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 123
ابونضرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی جن کا نام ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ ہے، ان کی عیادت کے لئے ان کے چند اصحاب آئے اور وہ رو رہے تھے، دوستوں نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ تم اپنی بڑی ہوئی مونچھوں کو ترشوا دو، اور اس پر قائم رہو مجھ سے ملنے تک، ابو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنے سیدھے ہاتھ سے ایک مٹھی اٹھائی اور دوسری مٹھی دوسرے ہاتھ میں اور فرمایا: یہ اس کے (یعنی جنت) کے لئے ہے اور یہ اس کے (یعنی دوزخ) کے لئے ہے اور مجھے کسی کی پرواہ نہیں، اور مجھے علم نہیں کہ میں کس مٹھی میں ہوں۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 117 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 117

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 114

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 124
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ نعمان یعنی میدان عرفہ میں اللہ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے عہد لیا وہ اس طرح کہ آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی تمام ذریت کو نکالا جس کو اس نے پیدا فرمایا ہے اور آدم علیہ السلام کے سامنے ان سب کو چیونٹیوں کے مانند پھیلا دیا، پھر ان تمام کے روبرو گفتگو کی اور کہا ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ سب نے کہا: کیوں نہیں، آپ ضرور ہمارے رب ہیں، (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: میں نے تم سے اس لئے گواہی لی ہے کہ تم قیامت میں یہ نہ کہہ دو کہ ہم اس سے بے خبر تھے، یا یہ نہ کہہ دیں کہ ہمارے آباء و اجداد نے ہم سے قبل شرک کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد پیدا ہوئے اور ان ہی کی اولاد ہیں، کیا آپ ہم کو باطل کام والوں کے عمل کی وجہ سے ہلاک کر دیں گے؟ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 121 (unverified) 60% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 2455 (unverified) 45% confidence

Mishkat (candidate) 121

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 115

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 125
اُبی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (سورہ اعراف، آیت نمبر:172، پ:9، ع:22،کی) اس آیت کے بارے میں روایت ہے ﴿ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ، ﴾ (اے پیغمبر لوگوں کو وہ وقت بھی یاد دلا دو، جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم یعنی ان کی پشت سے ان کی نسلوں کو باہر نکالا)۔ حضرت اُبی ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جمع فرمایا اور ان کو مختلف گروہ میں تقسیم کیا (یعنی غنی و فقیر اور نیک و بد) پھر ان کو صورت عطا فرمائی اور ان کو گویا کیا تو انھوں نے کہنا شروع کیا، پھر ان سے عہد و پیمان لیا اور خود ان کو ان ہی پر گواہ بنایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو ان سب نے کہا: کیوں نہیں! بیشک آپ ہمارے رب ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو گواہ رکھتا ہوں اور تمہارے باپ آدم کو بھی تم پر گواہ بناتا ہوں تاکہ قیامت کے روز تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم کو اس کا علم نہ تھا، یقین رکھو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور نہ میرے سوا کوئی تمہارا پروردگار ہے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، میں تمہارے پاس اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تم کو میرا یہ عہد و پیمان یاد دلاتے رہیں گے اور تمہارے لئے اپنی کتابیں نازل کروں گا۔ ان سب نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں اور ہمارے معبود ہیں، آپ کے سوا کوئی ہمارا رب نہیں اور نہ آپ کے سوا کوئی ہمارا معبود ہے، سب نے اس کا اقرار کر لیا اور آدم علیہ السلام کو ان تمام پر بلند فرمایا کہ سب کو دیکھ لیں تو آپ نے دیکھا کہ اس میں کوئی تونگر ہے اور کوئی محتاج اور کوئی خوبصورت ہے اور کوئی بدشکل، آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! سب بندوں کو آپ نے برابر کیوں نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آدم علیہ السلام نے ان انبیاء (علیہم السلام) کو چراغوں کی مانند (روشن) دیکھا جن پر نور تھا اور وہ ایک دوسرے سے خصوصی عہد رسالت اور نبوت سے مخصوص کئے گئے اور یہ اللہ کے اس قول (سورہ احزاب، پ:21، ع:1، آیت نمبر:7،) میں مذکور ہے، وہ یہ ابْنِ مَرْيَمَ ۞ (اس وقت کو یاد کرو جب کہ ہم نے تمام انبیاء سے عہد لیا اور آپ سے بھی اور حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے بھی) اور عیسیٰ علیہ السلام کی روح بھی ان ہی میں تھی جس کو مریم علیہا السلام کے پاس بھیجا۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی گئی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح مریم علیہا السلام کے منہ سے داخل ہوئی۔ (اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 122 (unverified) 60% confidence

Mishkat (candidate) 122

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 116

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 126
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئندہ ہونے والی باتوں کا تذکرہ کر رہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم یہ سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کی تصدیق کر دو، اور اگر یہ سنو کہ کوئی شخص اپنے پیدائشی اوصاف سے ہٹ گیا ہے تو اس کی تصدیق نہ کرو، اس لئے کہ وہ پھر اسی طرف لوٹ جائے گا جن (صفات) پر وہ پیدا ہوا ہے۔ (اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 118 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 118

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 117

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 127
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول آپ کو ہر سال زہر ڈالی ہوئی بکری کی تکلیف ہوتی رہتی ہے جس کا گوشت (ایک یہودن نے آپ کو خیبر میں کھلا دیا تھا) اور آپ نے اس کو تناول فرمایا تھا، فرمایا: مجھے اس بکری سے جو تکلیف پہنچی ہے وہ میرے لئے لکھی جا چکی تھی جب کہ آدم علیہ السلام اپنی خمیر میں تھے (ابن ماجہ نے اس کی روایت کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 87 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.500

Confidence and text similarity are not editorial verification.