نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے صفیہ بنت ابو عبید
رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ وہ وضوء کرتیں تو اوڑھنی ہٹا کر سر کا مسح کرتیں، نافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں
اس وقت کم عمر تھا۔ اس کی روایت امام محمد نے کی ہے اور وضاحت کی ہے کہ اسی پر ہمارا عمل ہے کہ نہ تو
عمامہ پر مسح کیا جائے اور نہ اوڑھنی پر، ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ عمامہ پر مسح کیا جاتا تھا پھر وہ متروک و
منسوخ ہو گیا اور یہی قول امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ہمارے جمہور فقہاء کا ہے۔
ابو حیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو
وضوء فرماتے دیکھا کہ پہلے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ان کو پاک کیا، پھر تین دفعہ کلی کی اور
تین دفعہ ناک میں پانی لیا اور تین مرتبہ چہرہ کو دھویا اور ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا اور سر کا ایک
مرتبہ مسح کیا، پھر دونوں پیروں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر کھڑے ہوئے اور وضوء سے بچا ہوا پانی اسی قیام
کی حالت میں پی لیا، پھر فرمایا کہ میں تم کو یہ بتلانا چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء کس
طرح ہوتا تھا۔ (اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔)
حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے والد علی رضی
اللہ عنہ نے وضوء کرنے کے لئے پانی طلب کیا تو پانی پیش کیا گیا، تو آپ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھوں
کو پہنچوں تک پانی میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں
پانی لیا، پھر تین مرتبہ چہرے کو دھویا، پھر سیدھے ہاتھ کو کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، اسی طرح بائیں ہاتھ کو
کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا صرف ایک دفعہ مسح کیا، پھر سیدھے پیر کو تین دفعہ ٹخنوں سمیت دھویا،
پھر اسی طرح بائیں پیر کو بھی تین مرتبہ دھویا پھر کھڑے ہوگئے۔
اور مجھ سے فرمایا کہ برتن دے دو تو میں نے برتن دے دیا جس میں وضوء کا بقیہ پانی تھا تو آپ
نے کھڑے ہو کر اس پانی کو پی لیا، اس پر میں نے تعجب کیا، جب میرے تعجب کو دیکھا تو فرمایا کہ تعجب
مت کرو، میں نے تمہارے ابا جان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم
نے مجھ کو دیکھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضوء فرماتے تھے اور وضوء سے بچا ہوا پانی
کھڑے ہو کر پی لیتے۔
(اس کی روایت نسائی، طحاوی اور ابن جریر نے کی ہے اور ابن جریر نے اس کو صحیح بتلایا ہے اور
ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی روایت کی ہے۔)
ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی مسند میں علی ابن ابی طالب رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وضوء فرمایا تو دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین
مرتبہ دھویا اور تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک کو پانی سے صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور
دونوں ہاتھوں کو (کہنیوں سمیت) تین مرتبہ دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا
اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے
وضوء کے لئے پانی طلب فرمایا اور دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک تین مرتبہ دھویا، تین مرتبہ کلی کی اور تین
مرتبہ پانی سے ناک صاف فرمایا اور تین مرتبہ چہرے کو دھویا اور دونوں ہاتھوں کو تین تین مرتبہ کہنیوں
سمیت دھویا اور تین مرتبہ سر کا مسح کیا اور تین مرتبہ پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا پھر فرمایا: یہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا وضوء ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
عبداللہ بن محمد بن یعقوب رحمہ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا
ہے کہ جس شخص نے تین مرتبہ سر کے مسح کرنے کی روایت کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تین مرتبہ سر کا مسح
اس طرح کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنا دست مبارک تالو پر رکھا اور پھر دونوں
ہاتھوں کو سر کے پچھلے حصہ تک لے گئے پھر وہاں سے ہاتھوں کو سر کے اگلے حصہ تک واپس لائے اور
اسی کو تین مرتبہ مسح قرار دیا حالانکہ وہ (پورے سر پر) ایک ہی مرتبہ تھا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ
وسلم نے اپنے ہاتھ کو سر سے الگ نہیں کیا اور نہ تین مرتبہ آپ نے پانی لیا، یہ ایسا ہے جیسے کوئی پانی ہاتھ
میں لے پھر اس کو بہو بچوں کے کنارے تک کھینچ لے جائے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے
جارود بن زید، خارجہ بن مصعب اور اسد بن عمر رضی اللہ عنہم سے جو روایت کی ہے اس میں صرف ایک
مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے تو جب خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسح کرنے کی روایت کی
ہے تو اسی صورت میں تین مرتبہ مسح کرنے کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔
حمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے عثمان رضی اللہ
عنہ کو وضوء کرتے دیکھا تو آپ نے دونوں ہاتھوں پر پہنچوں تک تین مرتبہ پانی ڈالا اور ان کو دھویا،
پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی لے کر سینکا پھر تین مرتبہ چہرے کو دھویا، پھر دائیں ہاتھ کو
کہنی سمیت تین مرتبہ دھویا، اور بائیں ہاتھ کو کہنی سمیت اسی طرح تین مرتبہ دھویا، پھر آپ نے سر کا
مسح کیا پھر سیدھے پیر کو ٹخنوں سمیت تین دفعہ دھویا، پھر بائیں پیر کو اسی طرح تین دفعہ دھویا، اس کے
بعد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے اس وضوء کی طرح وضوء فرماتے دیکھا۔ پھر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا اور دو رکعتیں
اس طرح ادا کیں کہ ان رکعتوں میں کوئی وسوسہ نہ لائے تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے
جائیں گے۔ (اس کی روایت بخاری، مسلم، ابوداؤد، امام احمد، دارقطنی، ابن حبان اور ابن خزیمہ نے
کی ہے۔)
ابوعلقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ایک دن وضوء کے لئے پانی طلب کیا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے صحابہ کرام میں سے چند حضرات کو بلوا لیا پھر اپنے داہنے ہاتھ میں پانی لے کر بائیں ہاتھ پر ڈالا
اور دونوں ہاتھوں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی فرمائی اور تین مرتبہ ناک میں پانی لیا، پھر اپنے
چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت تین تین مرتبہ دھویا، پھر سر کا مسح فرمایا پھر
اپنے دونوں پیروں کو ٹخنوں سمیت دھویا اور صاف کیا پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو
بالکل اسی طرح وضوء فرماتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اب وضوء کرتے دیکھا ہے۔ پھر
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضوء کیا اور اچھی طرح وضوء کیا، پھر دو رکعت (تحیۃ
الوضوء) پڑھ لیں تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہوگا جیسے وہ اس دن پاک تھا جس دن اس کی
ماں نے اسے جنا تھا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے (حاضرین صحابہ میں سے) ایک سے پوچھا کہ: اے
فلاں کیا ایسا ہی ہوا ہے نا؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! ایسا ہی ہوا ہے، پھر آپ نے دوسرے سے
پوچھا بات ایسی ہی ہے نا؟ تو انہوں نے بھی جواب دیا جی ہاں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے صحابہ کرام میں سے چند حضرات کی (اس بات پر) گواہی لے لی، پھر فرمایا اللہ بزرگ و برتر کا شکر
ہے کہ تم نے اس معاملہ میں میری تائید کی۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹوں کی چرواہی کیا
کرتے تھے، جب میری باری آئی تو میں ایک دن شام کے وقت اونٹوں کو واپس لا رہا تھا، میں نے حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہوئے لوگوں سے حدیث بیان فرماتے ہوئے پایا، اور آپ (اس وقت) یہ
ارشاد فرما رہے تھے ”ہر وہ مسلمان جو وضوء کرے اور اپنے وضوء کو اچھی طرح کر کے پھر کھڑا ہو جائے اور دو
رکعت نماز اس طرح ادا کرے کہ دونوں رکعتوں میں اس کا دل اور اس کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف رہے تو
جنت اس پر واجب ہوگی“۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اے بلال (رضی اللہ عنہ)! تم اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا
ایسا عمل مجھے بتلاؤ کہ جس پر سب سے زیادہ ثواب کی امید قائم کی جاسکے کیونکہ میں نے تمہارے
دونوں جوتوں کی آہٹ جنت میں اپنے آگے سنی ہے، بلال رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے ایسا
کوئی کام نہیں کیا ہے جس پر ثواب کی امید سب سے زیادہ کی جاسکتی ہو، بجز اس بات کے کہ جب کبھی
رات کے یا دن کے کسی حصہ میں طہارت (یعنی وضوء یا غسل) کرتا ہوں تو اس طہارت سے اللہ تعالیٰ
نے میرے حصہ میں جو نمازیں مقدر فرمائی ہیں ان کو ضرور پڑھ لیا کرتا ہوں۔ (اس کی روایت بخاری
نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو وضوء سے فارغ ہونے کے بعد سورہ ﴿اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِىْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ ایک
مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اس کا شمار صدیقین میں ہوگا اور جو دو مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اس کو شہداء کے دفتر
میں شریک کیا جائے گا اور جو تین مرتبہ پڑھ لیا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کا حشر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ
فرمائے گا۔ (اس کی روایت دیلمی نے کی ہے)۔
ان ہی میں سے ایک یہ ہے کہ جس نے وضوء کے بعد سورہ ﴿اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ﴾ کو پڑھا
تو اس کے پچاس سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضوء فرماتے تو چہرہ مبارک کو اپنے کپڑے کے ایک
کنارے سے پونچھ لیتے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ نے فرمایا کہ
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک کپڑا تھا جس سے آپ وضوء کے بعد اعضائے
مبارک کو خشک فرما لیا کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 53 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He had a piece of cloth with which he would dry his body parts after wudu,
(1) Regarding the statement: "He had a piece of cloth with which he would dry his body parts after wudu," Ibn Hajar said: "If this is authentic, it should be understood as being done either out of necessity or to show that it is permissible. Maimunah came to him after he performed wudu with a cloth, but he rejected it and began wiping the water off with his hands. For this reason, the Shafi'i scholars say it is recommended for one performing wudu or ghusl to refrain from drying off, following the example of the Prophet ﷺ."
In "Al-Khanyah," it is stated that the Hanafi scholars do not see any harm in using a cloth for wiping after wudu or ghusl, as it was narrated that the Prophet ﷺ did this, and this is the correct position. However, one should avoid overdoing it or being excessive.
In "Sharah al-Kanz" by al-Zayla'i, it is also noted that wiping with a cloth after wudu is permissible, and this was practiced by Uthman, Anas, Hasan ibn Ali, and Masruq. The commentary in "Ma'raj al-Rayah" mentions that while wiping with a cloth is permissible, it should not be done excessively, so that the traces of wudu remain on the body parts. "Al-Muniyah" also explicitly states that it is recommended to wipe with a cloth.
Therefore, while some narrations indicate a rejection, it could have been done for a specific reason or to demonstrate the permissibility of wiping with a cloth.
Note 1
قوله
(۱) قوله : خرقة ينشف بها إلخ : قال ابن حجر : هذا إن صح فمحمول على أنه لعذر أو لبيان الجواز؛ لأن ميمونة أتته بعد وضوئه بمنديل فرده، وجعل ينفض الماء بيده، ولذا قال أصحابنا الشافعية يسن للمتوضئ والمغتسل ترك التنشيف للاتباع. اهـ وفي الخانية»: لا بأس عند الحنفية للمتوضئ والمغتسل أن يتمسح بالمنديل؛ لما روي عن رسول الله ﷺ أنه فعل ذلك، وهو الصحيح. إلا أنه ينبغي أن لا يبالغ ولا يستقصى. وفي شرح الكنز» للزيلعي : لا بأس بالتمسح بالمنديل بعد الوضوء، روي ذلك عن عثمان وأنس والحسن بن على ومسروق. وقال في معراج الراية»: إلا أنه لا يبالغ فيبقى أثر الوضوء على أعضائه، وصرح باستحباب التمسح صاحب «المنية» هذا. ويمكن أن يكون رده لعذر أو لبيان الجواز. كذا في «المرقاة» وغيره.
Note 1
ف: ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضوء کے بعد
رومال پیش کیں تو آپ نے اس کو واپس فرمایا اور دست مبارک سے پانی کو پونچھنے لگے، اسی بناء پر شوافع
کہتے ہیں کہ وضوء اور غسل کرنے والے کے لئے مسنون یہ ہے کہ وہ رومال وغیرہ سے اعضاء کو پونچھا نہ
کرے، لیکن خانیہ میں لکھا ہے کہ احناف کے پاس وضوء کرنے والے اور غسل کرنے والے کے اعضاء کو
کپڑے سے خشک کرنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ
آپ نے اس طرح پونچھا ہے اور یہی صحیح ہے، البتہ پونچھنے میں بہت ہی زیادتی نہ کرے، چنانچہ شرح کنز
اور زیلعی میں مذکور ہے کہ وضوء کے بعد کپڑے سے پونچھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اس لئے کہ
حضرت عثمان، انس، امام حسن بن علی اور مسروق رضی اللہ عنہم سے پونچھنے کی روایت آئی ہے۔ اور
معراج الدرایہ میں مذکور ہے کہ پونچھنے میں بہت ہی زیادتی نہ کرے بلکہ اس طرح پونچھے کہ اعضائے
وضوء پر وضوء کے پانی کے علامات باقی رہیں، پونچھنے کے مستحب ہونے کی صراحت مصنف منیہ نے کی
ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا رومال واپس
فرما دیا ہو تو کسی عذر کے لئے ہو یا یہ بتلانے کے لئے کہ نہ پونچھنا بھی جائز ہے۔ (ماخوذ از ”مرقات“
وغیرہ)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر
نماز کے لئے وضوء فرماتے اور ہم میں سے بعض ایسے تھے کہ جب تک وضوء نہ ٹوٹتا تو ایک ہی وضوء
سے کئی نمازیں ادا کرتے۔ (اس کی روایت دارمی نے کی ہے)۔
محمد بن یحییٰ بن حبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبید
اللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا با وضوء ہوں یا نہ ہوں، ہر دو
حالت میں ہر نماز کے لئے وضوء کرنا، اس عمل کو انہوں نے کس سے اختیار کیا ہے؟ عبیداللہ رضی اللہ
عنہ نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اسماء بنت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہما نے حدیث
بیان کی اور اسماء رضی اللہ عنہا کو عبداللہ بن حنظلہ ابن ابی عامر رضی اللہ عنہ نے جن کو ملائکہ نے غسل دیا
تھا حدیث بیان کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لئے وضوء کا حکم دیا گیا تھا خواہ وضوء سے
ہوں یا بے وضوء ہوں، اور جب ہر نماز کے لئے وضوء کرنا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاق
گزرا تو آپ کو ہر نماز کے لئے مسواک کرنے کا حکم دیا گیا اور آپ سے اس طرح کی پابندی وضوء
کے بارے میں دور کر دی گئی مگر یہ کہ بے وضوء ہونے کی صورت میں تو (وضوء ضروری ہے) عبیداللہ
رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ خیال تھا کہ (وضوء اور بے وضوء
ہر دو حالتوں میں ہر نماز کے لئے وضوء کرنے کی) ان میں قوت موجود ہے، اس بناء پر وہ مرتے دم تک
اس پر عمل کرتے رہے۔
((اس کی روایت امام احمد بن حنبل نے کی ہے)۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا خواہ وضوء ہو یا نہ ہو عزیمت ہے، اور ایک ہی وضوء سے کئی
نمازوں کا ادا کرنا رخصت ہے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وضوء اور بے وضوء، ہر دو حالتوں
میں ہر نماز کے لئے تازہ وضوء کرنا عزیمت پر عمل تھا۔
ابو غطیف ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز ظہر پڑھی اس کے بعد وہ اپنے گھر اپنی نشست گاہ کو واپس
ہوئے تو میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا، جب عصر کی اذان دی گئی تو آپ نے وضوء کے لئے پانی منگوایا
اور وضو فرمایا، پھر آپ گھر سے نکلے تو میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، اور جب مغرب کی اذان ہوئی
تو آپ نے وضوء کے لئے پانی طلب کیا اور وضوء کیا تو اس پر میں نے پوچھا اے ابوعبدالرحمن (رضی
اللہ عنہ) ہر نماز کے لئے وضوء کرنا کیسا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ میرا ہر نماز
کے لئے وضوء کرنا سنت نہیں ہے اور مجھے چاہئے تھا کہ صبح کی نماز کے وضوء سے اگر درمیان میں وضوء نہ
ٹوٹے تو باقی تمام نمازیں پڑھ لوں، ایسا نہیں ہے میرا ہر نماز کے لئے وضوء کرنا سنت ہے، اس لئے کہ میں
نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی وضوء کرے تو اللہ تعالیٰ
اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتے ہیں تو اے بھتیجے! اسی ثواب کے لئے میرا یہ عمل ہے۔ (اس کی روایت
طحاوی نے کی ہے۔)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضوء کا پانی اور مسواک رکھی جاتی، جب آپ رات میں بیدار ہوتے تو
ضرورت سے فارغ ہوتے اور مسواک کیا کرتے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
عبداللہ بن محمد بن یعقوب رحمہ اللہ علیہ نے وضاحت کی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جس شخص نے تین مرتبہ سر کے مسح کرنے کی روایت کی ہے اس کی مراد یہ ہے کہ تین مرتبہ سر کا مسح اس طرح کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اپنا دست مبارک تالو پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں کو سر کے پچھلے حصہ تک لے گئے پھر وہاں سے ہاتھوں کو سر کے اگلے حصہ تک واپس لائے اور اسی کو تین مرتبہ مسح قرار دیا حالانکہ وہ (پورے سر پر) ایک ہی مرتبہ تھا اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو سر سے الگ نہیں کیا اور نہ تین مرتبہ آپ نے پانی لیا، یہ ایسا ہے جیسے کوئی پانی ہاتھ میں لے پھر اس کو بہو بچوں کے کنارے تک کھینچ لے جائے، چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے جارود بن زید، خارجہ بن مصعب اور اسد بن عمر رضی اللہ عنہم سے جو روایت کی ہے اس میں صرف ایک مرتبہ مسح کرنے کا ذکر ہے تو جب خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ مسح کرنے کی روایت کی ہے تو اسی صورت میں تین مرتبہ مسح کرنے کا مفہوم وہی ہوگا جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔