ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ حمزہ
بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں سفر کی حالت
میں روزے رکھ سکتا ہوں۔ اور وہ کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ان سے فرمایا: چاہو تو تم (سفر کی حالت میں) روزے رکھو اور چاہو تو نہ رکھو۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
And the words of Allah Almighty: “And fasting is better for you, if only you knew.” (Qur’an 2:184)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1943 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1121a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
If you wish, fast…
(1) The statement: “If you wish, fast…” Al-Tahawi said: “This shows that the Prophet (ﷺ) permitted fasting while traveling for those who wished to do so and not fasting for those who wished not to. This confirms that fasting Ramadan while traveling is permissible.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: إن شئت قصم إلخ: قال الطحاوي: فهذا رسول الله ﷺ قد أباح الصوم في السفر لمن شاء ذلك، والفطر لمن شاء ذلك. فثبت بهذا وبما نذكره بعده أن صوم رمضان في السفر جائز.
Note 1
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس شخص کو
سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے جو سفر میں روزہ رکھنا چاہتا ہو تو صدر کی اس حدیث سے اور مابعد
کی احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سفر کی حالت میں رمضان کے روزے رکھنا مسافر کے لئے
جائز ہے۔12
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم (ایک مرتبہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سولہویں رمضان کو جہاد کے لئے نکلے۔ ہم میں سے بعض
نے (جو قوی تھے) روزہ رکھا اور بعض نے (جو کمزور تھے) روزہ نہ رکھا۔ نہ تو روزہ دار نے غیر روزہ
دار کے حق میں نکتہ چینی کی اور نہ غیر روزہ دار نے کسی روزہ دار کی نکتہ چینی کی۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1116a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Some of us fasted...
(2) The statement: “Some of us fasted...” Al-Tahawi said: “This indicates that the Prophet’s (ﷺ) breaking of the fast and his command to his companions to do so was not a prohibition of fasting while traveling but a permission to break the fast.”
Note 2
قوله
(٢) قوله: فمنا من صام إلخ : وقال الطحاوي: فدل ما ذكرنا فيه أن ما كان من إفطار رسول الله ﷺ وأمره أصحابه بذلك ليس على المنع من الصوم في السفر، وأنه على الإباحة للإفطار.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ہم میں سے بعض تو روزہ دار تھے اور بعض نے روزہ نہ رکھا۔ ہم
ایک سخت گرمی کے دن ایک منزل پر اترے، جن لوگوں نے روزہ رکھا تھا وہ (ضعف سے نڈھال
ہو کر) گر پڑے اور جن لوگوں نے روزہ نہ رکھا تھا وہ کھڑے رہے، ڈیرے لگائے اور جانوروں کو پانی
پلائے (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: جن لوگوں نے آج روزہ نہیں رکھا
تھا (وہ خدمت کر کے پورا) ثواب حاصل کر لئے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1119a (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 2890 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
Those who broke their fast took the reward.
(3) The statement: “Those who broke their fast took the reward.” This means they received the greater reward because breaking the fast was better for them at that time. The mention of “today” indicates that this ruling is not absolute. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 3
قوله
(۳) قوله: ذهب المفطرون بالأجر : أي بالثواب الأكمل؛ لأن الإفطار كان في حقهم حينئذ أفضل، وفي ذكر اليوم إشارة إلى عدم إطلاق هذا الحكم. قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ“ غیر روزہ
داروں نے آج (خدمت کر کے پورا) ثواب حاصل کر لیا“ اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا
ہے کہ یہ حکم وقتی تھا مطلق اور عام نہیں ہے۔12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (فتح مکہ کے موقع پر) مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے (اور یہ رمضان کا مہینہ تھا) آپ
نے مقام عسفان تک روزہ رکھا، پھر (مقام عسفان پر پہنچ کر) آپ نے پانی منگوایا اور ہاتھ میں
پانی لے کر لوگوں کو دکھانے کے لئے اونچا کیا اور (پانی پی کر) روزہ توڑے اور (اسی طرح بغیر روزہ
رکھے) آپ مکہ مکرمہ تشریف لائے، اور یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما
فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (سفر میں) روزہ رکھا بھی ہے اور روزہ نہیں
بھی رکھا ہے۔ تو جس کا جی چاہے (سفر میں) روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے روزہ نہ رکھے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور مسلم کی ایک اور روایت میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے
(اس سفر میں) عصر کے بعد پانی پیا ہے۔
اور ابو داود نے اپنی سنن میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، ابو
سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ میں اس سفر (یعنی فتح مکہ) سے پہلے بھی اور اس کے (یعنی فتح مکہ
کے اس واقعہ کے) بعد بھی (سفر میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ روزہ رکھا کرتا تھا
(اس سے معلوم ہوا کہ سفر کی حالت میں روزہ رکھنا فتح مکہ کے مذکورہ واقعہ کے بعد بھی جائز ہے، جیسا
کہ امام طحاوی نے فرمایا ہے)
اور ہمارے امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کی دوسری تاریخ
کو مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے (حالت سفر میں) آپ روزہ رکھتے ہوئے مقام
قدید تک پہنچے (قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے یہاں پہنچنے پر) صحابہ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سخت گرمی کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ توڑ
دیئے اور مکہ پہنچنے تک روزہ نہیں رکھے۔
اور ابن ابی شیبہ اور مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے
اور طحاوی نے ابن عباس اور ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہم سے اسی طرح روایت
کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1948 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1114b (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 4
He fasted...
(4) The statement: “He fasted...” In ‘Umdat al-Qari, it is said: “This clearly indicates that fasting while traveling is permissible, and it refutes those who do not permit it. It also shows the permissibility of breaking the fast while traveling.” In Fath al-Qadir: “Know that breaking the fast is permissible for a traveler if they did not intend to fast. If they intended to fast at night and woke up without breaking their resolve before dawn, they are fasting, and it is not permissible to break the fast on that day. However, if they break it, there is no expiation because the reason permitting it (travel) is present, creating doubt, which removes the expiation. This is mentioned in Al-Mirqat and Sharh al-Niqayah.”
Note 5
Abu Sa’id said...
(5) The statement: “Abu Sa’id said...” This means he fasted with the Prophet (ﷺ) while traveling after that. This hadith indicates that fasting while traveling after the Prophet’s (ﷺ) breaking of the fast mentioned in these narrations is permissible. Al-Tahawi said this.
Note 4
قوله
(٤) قوله: فصام الخ: وقال في عمدة القاري: فيه بيان صريح أنه لا صام في السفر، وفيه رد على من لم يجوز الصوم في السفر، وفيه بيان إباحة الإفطار في السفر انتهى. وفي فتح القدير: واعلم أن إباحة الفطر للمسافر إذا لم ينو الصوم، فإذا نواه ليلا وأصبح من غير أن ينقض عزيمته قبل الفجر أصبح صائما، فلا يحل فطره في ذلك اليوم، لكن لو أفطر فيه لا كفارة عليه؛ لأن السبب المبيح من حيث الصورة - وهو السفر - قائم، فأورث شبهة. وبها تندفع الكفارة، ويشكل عليه حديث كراع العميم بناء على أن الصحيح أن فطره عنده ليس في اليوم الذي خرج فيه من المدينة؛ لأنه مسافة بعيدة لا يصل إليها في يوم واحد، بل معنى قول الراوي: حتى إذا كان بكراع الغميم، وهو صائم»: أنه كان صائما حين وصل إليه. ولا شك أنه صوم يوم لم يكن في أوله مقيما غير أنه شرع في صوم الفرض، وهو مسافر، ثم أفطر. وتبين بهذا اندفاع الإشكال عن تعين الصوم في اليوم الذي أنشأ فيه السفر.
وتقريره على تعين صوم اليوم الذي شرع في صومه عن الفرض، وهو مسافر والحاصل: أنه إن كان بلوغه كراع الغميم في اليوم الذي خرج فيه أشكل على الأول، وإن كان فيما بعد أشكل على ما بعده، ولا مخلص إلا بتجويز كونه علم من نفسه بلوغ الجهد المبيح لفطر المقيم، ونحوه ممن تعين عليه الصوم وخشي الهلاك انتهى. وقال محمد في موطئه»: وإنما بلغنا أن النبي ﷺ أفطر حين سافر إلى مكة؛ لأن الناس شكوا إليه الجهد من الصوم فأطر لذلك انتهى. حاصله ما في رد المحتار) وتنسيق النظام من أن السفر لا يبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم فلو سافر بعد الفجر لا يحل الفطر، والحديث محمول على أنه أفطر للتقوى على العدو، وللمشقة الحاصلة له ولهم.
Note 5
قوله
(٥) قوله: قال أبو سعيد إلخ يعني أن كان يصوم مع رسول الله الله في السفر بعد ذلك، فدل هذا الحديث على أن الصوم في السفر بعد إفطار النبي ﷺ المذكور في هذه الآثار مباح. قاله الطحاوي.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم
لوگوں کی سہولت کے لئے سفر کی حالت میں (رمضان کے) روزے نہ رکھنے کی اجازت دی ہے اس
لئے (سفر کی حالت میں) جس کو (رمضان کے) روزے رکھنا آسان معلوم ہوتا ہو وہ روزے رکھ
لے، اور جس کو روزہ نہ رکھنے میں سہولت ہو وہ (سفر میں رمضان کے) روزے نہ رکھے۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
(1) The statement: “Ease for you...” Ibn Abbas did not consider the Prophet’s (ﷺ) breaking of the fast while traveling as abrogating fasting during travel but as a means of ease. This is mentioned in Sharh Ma’ani al-Athar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: التيسير عليكم إلخ فهذا ابن عباس لم يجعل إفطار النبي ﷺ في السفر بعد صيامه فيه ناسخا للصوم في السفر، ولكنه جعله على جهة التيسير . قاله في شرح معاني الآثار».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لئے (چار رکعت والی نمازوں
میں) آدھی نماز معاف کر دی ہے اور مسافر اور دودھ پلانی والی اور حاملہ عورت کے لئے (رمضان
میں) روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے (لیکن ان کو بعد میں روزوں کی قضاء لازم ہے)۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Allah has reduced...
(2) The statement: “Allah has reduced...” If someone asks, “Since fasting is reduced for the traveler, if they fast, it is not obligatory, so it does not count,” the response is: “It is possible that the fasting reduced for them is the fasting they cannot avoid during those days, just as the resident cannot avoid it. This hadith indicates this meaning. Do you not see that it mentions the pregnant and nursing woman? If they fast Ramadan, it counts for them, and they are not like those who fast before the obligation of fasting. Rather, fasting becomes obligatory for them at the beginning of the month, but they are allowed to delay it due to necessity. The traveler is like them. This is the best way to understand this narration to avoid contradicting other narrations mentioned in this chapter.” This is summarized from Sharh Ma’ani al-Athar. In Al-Mirqat, Ibn Hajar said: “This is evidence for Al-Shafi’i’s view that shortening the prayer is permissible, not obligatory. We say: This is not correct, as shortening the prayer is obligatory according to us, and the evidence for our view is clear, including the hadith of Aisha in the two Sahih collections: ‘The prayer was initially prescribed as two rak’ahs, and the prayer of the traveler remained as such, while the prayer of the resident was increased.’ The meaning of ‘reduced’ is that it was initially lifted for the traveler.”
Note 2
قوله
(٢) قوله: وضع إلخ : فإن قال قائل : لما كان الصيام موضوعًا عنه كان إذا صامه فقد صامه، وهو غير مفروض عليه فلا يجزئه. قيل له: إنه قد يجوز أن يكون ذلك الصيام الذي وضعه عنه، وهو الصيام الذي لا يكون له منه بُد في تلك الأيام، كما لا بد للمقيم من ذلك. وفي هذا الحديث ما قد دلّ على هذا المعنى. ألا تراه يقول: «وعن الحامل والمرضع، أفلا ترى أن الحامل والمرضع إذا صامتا رمضان إن ذلك يجزئهما، وإنهما لا يكونان كمن صام قبل وجوب الصوم عليه، بل جعلنا يجب الصوم عليهما بدخول الشهر، فجعل لهما تأخيره للضرورة، والمسافر في ذلك مثلهما. وهذا أولى ما حمل عليه هذا الأثر حتى لا يضاد غيره من الآثار التي قد ذكرناها في هذا الباب. شرح معاني الآثار» مختصرا. وفي المرقاة»: قال ابن حجر فيه حجة لما عليه الشافعي أن قصر الصلاة جائز لا واجب. قلنا : وهو غير سديد وعندنا هذا القصر واجب، وقد تقدم دليل مذهبنا الصريح في المقصود، ومنه حديث عائشة في الصحيحين، قالت: فرضت الصلاة ركعتين ركعتين، فأقرت صلاة السفر، وَزِيدَ في صلاة الحضر»، فمعنى «وضع»: أي رفع ابتداء عن المسافر.
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے (جب شام ہو گئی تو) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ایک شخص کو حکم دیا: (سواری سے) اترو اور میرے لئے ستّو کو پانی میں گھول کر لاؤ۔ انہوں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ابھی روشنی موجود ہے (لیکن) آپ نے (پھر یہی) فرمایا کہ اترو اور میرے
لئے ستّو گھول کر لاؤ، انہوں نے پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابھی روشنی (باقی) ہے،
حضور ﷺ نے (پھر بھی یہی) فرمایا: اترو، اور میرے لئے ستّو گھول کر لاؤ تو وہ (حسب الحکم) اتر کر
حضور کے لئے ستّو گھول کر لائے تو آپ ﷺ نے ستّو پی لیا اور پھر (مشرق کی طرف) اپنے دست
مبارک سے اشارہ کر کے فرمایا جب تم ادھر (یعنی مشرق کی طرف) سے سیاہی پھیلتے دیکھو تو روزہ دار
روزہ کھول دے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1941 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
We were traveling...
(1) The statement: “We were traveling...” This and what follows confirm that fasting while traveling during Ramadan is better than breaking the fast. This is supported by the fact that the Prophet (ﷺ) and many of his companions fasted during Ramadan while traveling for the conquest of Makkah, as narrated by Al-Bukhari. If breaking the fast were absolutely better, this would not have happened. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari and ‘Umdat al-Wiqayah. It is understood from these hadiths that if a traveler is not harmed by fasting, fasting is better, but if they break the fast, it is permissible. This is mentioned in Al-Hidayah. Al-Isbijabi said in Sharh Mukhtasar al-Tahawi: “It is better to fast while traveling if fasting does not weaken the person. If fasting weakens them and causes hardship, breaking the fast is better. If they break the fast without hardship, they are not sinful.” This is mentioned in ‘Umdat al-Qari.
The hadith in the two Sahih collections: “The Prophet (ﷺ) was traveling and saw a crowd and a man shaded. He asked, ‘What is this?’ They said, ‘He is fasting.’ The Prophet (ﷺ) said, ‘It is not righteousness to fast while traveling.’” Similarly, Muslim narrated from Jabir (may Allah be pleased with him): “The Prophet (ﷺ) traveled to Makkah during Ramadan in the year of the conquest until he reached Kuray’ al-Ghamim. The people fasted, and he called for a cup of water and drank it. It was said, ‘Some people are fasting.’ He said, ‘They are disobedient.’” Similarly, Ibn Majah narrated from Abdurrahman ibn Awf that the Prophet (ﷺ) said: “Fasting Ramadan while traveling is like breaking the fast while resident.” This is understood to mean that they were harmed by fasting, causing weakness or illness, as indicated by the context. The general ruling is not based on the specific reason, but it is interpreted this way to reconcile the hadiths, as they clearly permit fasting while traveling. This is summarized in Fath al-Qadir.
Note 1
قوله
(۱) قوله: في سفر إلخ فثبت بهذا وبما نذكره بعده أن الصوم في السفر في رمضان أفضل من الإفطار، ويشهد له أن النبي ﷺ وكثيرا من أصحابه صاموا في رمضان في سفر غزوة فتح مكة، رواه البخاري. ولو كان الأفضل الترك مطلقا لما وقع ذلك. عمدة القاري و عمدة الوقاية مختصرا فيستفاد من هذه الأحاديث أن المسافر إن كان لا يستضر بالصوم، فصومه أفضل، وإن أفطر جاز. كذا في «الهداية». وقال الإسبيجابي في شرح مختصر الطحاوي: الأفضل أن يصوم في السفر إذا لم يضعفه الصوم، فإن أضعفه ولحقه مشقة بالصوم، فالفطر أفضل؛ فإن أفطر من غير مشقة لا يأثم. قاله في «عمدة القاري».
وما روى في الصحيحين: «أنه كان في سفر فرأى زحاما ورجلا قد ظلل عليه، فقال: ما هذا؟ قالوا: صائم». فقال: ليس من البر الصيام في السفر. وكذا ما روى مسلم عن جابر الله: أن النبي الخرج عام الفتح إلى مكة في رمضان، حتى بلغ كراع الغميم، فصام الناس، ثم دعا بقدح من ماء، فشربه، فقيل: إن كان بعض الناس قد صام. فقال: أولئك العصاة. وكذا ما روي عن ابن ماجه عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله ﷺ : صائم رمضان في السفر كالمفطر في الحضر محمول على أنهم استضروا به، وأورث صومهم ضعفًا أو مرضا، كما يعلم من شأن ورودها، وبدليل ما ورد في صحيح مسلم في لفظ فيه فقيل له: إن الناس قد شق عليهم الصوم، ورواه الواقدي في «المغازي» وفيه: وكان أمرهم بالفطر، فلم يقبلوا، والعبرة وإن كان لعموم اللفظ لا لخصوص السبب، لكن يحمل عليه؛ دفعا للمعارضة بين الأحاديث، فإنها صريحة في الصوم في السفر. «فتح القدير» ملخصا.
Note 1
ف: اس حدیث شریف اور اس کے بعد میں آنے والی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ سفر کی
حالت میں رمضان المبارک میں روزے رکھنا افضل ہے، بشرطیکہ روزے سے تکلیف نہ ہوتی ہو اور اگر
کوئی سفر میں رمضان کے روزے نہ رکھے تو اس کے لئے جائز ہے اور اس سے وہ گنہگار نہ ہوگا۔ البتہ
بعد میں وہ روزوں کی قضاء کر لے (ماخوذ از: ہدایہ، مختصر طحاوی اور عمدۃ القاری)12
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں (جو رمضان میں واقع ہوا تھا) سخت گرمی کے موسم میں نکلے گرمی
کی شدت کی وجہ سے ہر شخص اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیا کرتا تھا اور ہم میں کوئی روزہ دار نہ تھا البتہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابن رواحہ روزہ سے تھے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
عاصم احول رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے سفر میں رمضان کے روزے رکھنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ
(مسافر کے لئے) افضل یہ ہے کہ (رمضان کے) روزہ رکھے۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر تم (سفر کی حالت میں
رمضان کے) روزے چھوڑنا چاہتے ہو تو (تم کو) اس کی اجازت ہے اور اگر تم (حالت سفر میں
رمضان کے) روزے رکھ لو تو یہ تمہارے لئے افضل ہے۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سفر میں (رمضان
کے) روزے رکھنا افضل ہے اور روزے چھوڑنا اس کی اجازت اور رخصت ہے۔
اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قاسم بن محمد
نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہؓ میں
گرمی کی حالت میں بھی (رمضان کے) روزہ رکھا کرتی تھیں، میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے
دریافت کیا کہ گرمی کی حالت میں حضرت عائشہؓ کا (رمضان کے) روزے رکھنا کس وجہ سے تھا؟
(1) The statement: “She would hasten to fast.” Al-Tahawi said: “Aisha considered hastening to fast Ramadan while traveling better than delaying it until residence.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: تبادر : قال الطحاوي: فهذه عائشة كانت ترى المبادرة لصوم رمضان في السفر أفضل من تأخير ذلك إلى الحضر.
Note 1
قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ حضرت عائشہؓ (سفر سے واپسی تک تاخیر کرکے) اقامت کی
حالت تک رمضان کے روزے رکھنے کے لئے مہلت نہیں لیا کرتی تھیں بلکہ (سفر ہی میں رمضان
کے روزے رکھنے میں جلدی کیا کرتی تھیں۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔
سلمہ ابن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس کسی شخص کے پاس ایسی سواری ہو جو اس کو منزل تک آرام کے
ساتھ پہنچا دے تو اس کو چاہئے کہ (سفر میں) جہاں کہیں بھی رمضان آ جائے روزہ رکھ لے۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 2409 (unverified) 85% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
A mount...
(2) The statement: “A mount...” This refers to any means of transportation, such as a camel, donkey, or other animal, that takes one to a place of comfort without hardship or difficulty. The command is understood as a recommendation, as breaking the fast is permissible while traveling even without hardship. This is mentioned in Al-Luma’at. In Al-Mirqat, it is said: “The command is understood as encouragement for the better option, as the texts indicate the permissibility of breaking the fast while traveling in general.”
Note 2
قوله
(۲) قوله: حمولة إلخ : أي كل ما يحمل عليه من إبل أو حمار وغيرهما، أي مركب يوصله إلى المنزل في حال الشبع والرفاهية، ولم يلحقه في سفر جهد ومشقة، والأمر فيه محمول على الندب، وإلا فالإفطار جائز في السفر، وإن لم يلحقه مشقة. قاله في اللمعات». وقال في المرقاة: الأمر فيه محمول على الندب والحث على الأولى، والأفضل للنصوص الدالة على جوز الإفطار في السفر مطلقا.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر سہولت ہو تو رمضان کے روزے
سفر میں لازماً رکھے جائیں، اس بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ یہ حکم وجوب کے لئے نہیں ہے کہ سفر
میں روزہ رکھنا واجب ہے بلکہ یہ امر استحباب پر محمول ہے کہ اس میں اولیٰ اور افضل عمل کی ترغیب دلائی
گئی ہے، ورنہ بغیر مشقت کے بھی سفر میں رمضان کے روزے نہ رکھنا جائز ہے۔ جیسا کہ دیگر نصوص
شرعیہ سے اس کا ثبوت ملتا ہے، البتہ بعد میں ان روزوں کی قضاء ضروری ہے۔12
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “If you wish, fast…” Al-Tahawi said: “This shows that the Prophet (ﷺ) permitted fasting while traveling for those who wished to do so and not fasting for those who wished not to. This confirms that fasting Ramadan while traveling is permissible.”
Note 1
(۱) قوله: إن شئت قصم إلخ: قال الطحاوي: فهذا رسول الله ﷺ قد أباح الصوم في السفر لمن شاء ذلك، والفطر لمن شاء ذلك. فثبت بهذا وبما نذكره بعده أن صوم رمضان في السفر جائز.
Note 1
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر اس شخص کو سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت دی ہے جو سفر میں روزہ رکھنا چاہتا ہو تو صدر کی اس حدیث سے اور مابعد کی احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سفر کی حالت میں رمضان کے روزے رکھنا مسافر کے لئے جائز ہے۔12