Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Zakat · Chapter 7

Chapter on The Virtue of Charity

78 narrations · In source reading order

Hadith 2413

Volume 1

English

Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated: When the Messenger of Allah (ﷺ) took the pledge from the women, a noble woman stood up, as if she were from the women of Mudar, and said, "O Prophet of Allah, we rely on our fathers, sons, and husbands. What is permissible for us from their wealth?" He said, "The fresh food that you eat and give as a gift."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٣ - وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: لَمَّا بَايَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ النِّسَاءَ قَامَتْ امْرَأَةُ جَلِيْلَةٌ كَأَنَّهَا مِنْ نِسَاءِ مُضَرَ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّا كُلُّ عَلَى آبَائِنَا وَأَبْنَائِنَا وَأَزْوَاجِنَا، مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ؟ فَقَالَ: «الرَّطْبُ تَأْكُلْنَهُ وَتُهْدِينَهُ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2821
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں سے بیعت لی تو ایک قوی اور جسیم عورت کھڑی ہوئی جو غالباً قبیلہ مُضَر کی عورتوں میں سے تھیں، عرض کیں: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم اپنے باپ، بیٹے اور شوہروں کے زیر پرورش ہوتی ہیں (ارشاد فرمایا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر ان کے مال سے) ہمیں کیا چیز (خیرات کرنا) جائز ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ کچھ چیزیں (جو جلد خراب ہو جاتی ہوں، مثلاً سالن، دودھ اور پکا میوہ وغیرہ) تم ان کو کھلاؤ اور ہدیہ کے طور پر بھی بھیج سکتی ہو (جس کا عام طور پر رواج بھی ہے)۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1686 (unverified) 82% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2414

Volume 1

English

Umayr, the freed slave of Abu Al-Lahm (may Allah be pleased with him), reported: My master ordered me to prepare some dried meat. A poor man came to me, and I fed him some of it. When my master found out, he beat me. I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and mentioned this to him. He called my master and said, "Why did you beat him?" He replied, "He gave away my food without my permission." The Prophet (ﷺ) said, "The reward is shared between you." In another narration, he said, "I was a slave, so I asked the Messenger of Allah (ﷺ), 'Can I give charity from my master's wealth?' He said, 'Yes, and the reward is shared between you.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٤ - وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمِ (رضي الله عنهما) قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ، فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ: «لِمَ ضَرَبْتَهُ؟ فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ. فَقَالَ: «الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا». وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوْمًا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ : أَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَالْأَجْرُ نِصْفَانِ بَيْنَكُمَا». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2822Noor 2823
عمیر رضی اللہ عنہ جو ابی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) میرے آقا نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت کے کباب بناؤں، اتنے میں ایک فقیر آ گیا تو میں نے اس گوشت میں سے اس کو کچھ کھلا دیا۔ میرے آقا کو (جب) یہ معلوم ہوا تو انھوں نے مجھے مارا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور یہ واقعہ بیان کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے آقا کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ تم نے عمیر کو کیوں مارا ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ میری اجازت کے بغیر یہ میرا کھانا دے دیا کرتا ہے۔ حضور ارشاد فرمائے کہ اس قسم کی خیرات کا تم دونوں کو ثواب ملے گا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشا یہ نہیں کہ غلام مالک اور ایک دوسری روایت میں اس طرح مروی ہے کہ عمیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں اپنے آقاؤں کے مال سے کچھ خیرات کر سکتا ہوں؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: ہاں! (خیرات کر سکتے ہو) اور اس کا ثواب تم کو اور تمہارے مالکوں کو برابر برابر ملے گا۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1025a (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1025b (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

کے مال میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے بلکہ غلام کو مارنے سے منع فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ مالک کو اس بات کی تسلی دی جائے کہ اس قسم کی خیرات سے دونوں کو ثواب ملتا ہے اور اس ثواب کو جو غلام کی خیرات سے مالک کو مل رہا ہے غنیمت سمجھنا چاہئے)(جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)

Hadith 2415

Volume 1

English

Abu Musa Al-Ash'ari (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "The trustworthy Muslim treasurer who gives what he is ordered to give in full, with a cheerful heart, to the one it is intended for, is one of the two charitable givers."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٥ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْأَمِينُ الَّذِي يُعْطِي مَا أُمِرَ بِهِ كَامِلا مُؤفَرًا طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ، فَيَدْفَعُهُ إِلَى الَّذِي أُمِرَ لَهُ بِهِ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2824
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ امانت دار مسلمان خانساماں جو اپنے مالک کے حکم کے مطابق بلا کم و کاست خوش دلی سے اس شخص کو خیرات دے کہ جس کو مالک نے دینے کا حکم دیا ہے تو وہ بھی دو خیرات کرنے والوں میں سے ایک ہوگا (یعنی اس کو بھی مالک کی طرح خیرات کرنے کا ثواب ملے گا)۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1438 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1023 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2416

Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: A man said to the Prophet (ﷺ), "My mother passed away suddenly, and I think if she had spoken, she would have given charity. Will she have a reward if I give charity on her behalf?" He said, "Yes." [Agreed upon] In another narration by Al-Daraqutni, a man asked the Prophet (ﷺ), "I had parents whom I honored during their lifetime. How can I honor them after their death?" The Prophet (ﷺ) said, "Honoring them after death includes praying for them along with your prayers and fasting for them along with your fasts."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٦ - وَعَنْ عَائِشَةَ(رضي الله عنها) قَالَتْ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ ﷺ : إِنَّ أُنِّي افْتُلِتَتْ نَفْسُهَا وَأَظُنُّهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، فَهَلْ لَهَا1 أَجْرُ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيُّ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: كَانَ لِيْ أَبَوَانِ أَبَرُّهُمَا حَالَ حَيَاتِهِمَا، فَكَيْفَ لِي بِبِرِّهِمَا بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: «إِنَّ مِنَ الْبِرِّ بَعْدَ الْمَوْتِ أَنْ تُصَلِّي لَهُمَا مَعَ صَلَاتِكَ وَتَصُوْمَ لَهُمَا مَعَ صِيَامِكَ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2825Noor 2826
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میری والدہ کا یکایک انتقال ہو گیا ہے اور اگر اس کو بات چیت کرنے کا موقع ملتا تو میرا خیال ہے کہ وہ ضرور خیرات کی وصیت کرتی، اب اگر میں اس کی جانب سے خیرات دوں تو کیا اس کو اس خیرات کا ثواب ملے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں (اس کو ضرور ثواب ملے گا)۔ اور دار قطنی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے ماں باپ جب زندہ تھے میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرتا تھا اب دونوں انتقال کر چلے ہیں تو میں ان کی موت کے بعد کس طرح ان کے ساتھ سلوک کروں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم نماز پڑھتے ہو تو اپنی نمازوں کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بھی نفل نماز پڑھ لیا کرو اور (اس کا ثواب ان کی ارواح کو ہدیہ دو) اسی طرح جب تم روزہ رکھتے ہو تو اپنے روزوں کے ساتھ ساتھ ان کے لئے بھی نفل روزہ رکھ لیا کرو (اور اس کا ثواب بھی ان کی ارواح کو ایصال کیا کرو)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1388 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1004a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Will she have a reward?

(1) The statement: "Will she have a reward?" Our scholars have clarified in the chapter of Hajj on behalf of others that a person can dedicate the reward of his deeds to someone else, whether it is prayer, fasting, charity, or other acts. This is mentioned in Al-Hidayah. What necessitates this is what Al-Daraqutni reported: A man asked the Prophet (ﷺ), "I had parents whom I honored during their lifetime. How can I honor them after their death?" He said, "Honoring them after death includes praying for them along with your prayers and fasting for them along with your fasts." This is the summary of what is in Rad Al-Muhtar and Fath Al-Qadir.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فهل لها أجر الخ: صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها. كذا في الهداية». وقد ثبت ما يوجب المصير إلى ذلك، وهو ما رواه الدارقطني أن رجلا سأله فقال: كان لي أبوان أبرهما حال حياتهما، فكيف لي ببرهما بعد موتهما ؟ فقال له : إن من البر بعد الموت أن تصلي لهما مع صلاتك، وتصوم لهما مع صيامك . هذا حاصل ما في رد المحتار» و«فتح القدير».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ میت کو خیرات کا ثواب پہنچتا ہے بدایہ کے باب الحج عن الغیر میں لکھا ہے کہ ہمارے علماء نے صراحت کی ہے کہ انسان کے لئے یہ جائز ہے کہ اپنے نیک عمل کا ثواب دوسرے کو بخشے، خواہ وہ نماز ہو، یا روزہ یا خیرات۔ اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے کہ اہل السنۃ والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ فرائض کے علاوہ نوافل کا ثواب دوسروں کو پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ امام عبداللہ یافعی نے اپنی کتاب روضۃ الریاحین میں لکھا ہے کہ شیخ اجل علامہ عزالدین عبدالسلام کو وفات کے بعد خواب میں دیکھا گیا، فرما رہے تھے کہ ہم دنیا میں ایصال ثواب کے قائل نہ تھے، لیکن یہاں (یعنی عالم برزخ میں آنے کے بعد معلوم ہوا کہ میت کو بھیجا ہوا ثواب پہنچتا ہے۔12

Hadith 2417

Volume 1

English

Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated: I donated a horse in the cause of Allah, but the person who had it neglected it. I wanted to buy it, thinking he would sell it cheaply. I asked the Prophet (ﷺ), and he said, "Do not buy it, and do not take back your charity, even if he gives it to you for a dirham. For the one who takes back his charity is like a dog that returns to its vomit." In another narration, "Do not take back your charity, for the one who takes back his charity is like the one who returns to his vomit."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٧ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه) قَالَ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ، وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: «لَا تَشْتَرِهِ2وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَم؛ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُوْدُ فِي قَيْنِهِ». وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ3، فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْنِهِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2827Noor 2828
امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو جو جہاد میں جا رہا تھا (اور جس کے پاس گھوڑا یہ تھا) راہ خدا میں ایک گھوڑا دے دیا۔ اس نے اس گھوڑے (کو لاپرواہی سے رکھا اور) اس کو دبلا کر دیا۔ میں نے چاہا کہ اس کو خرید لوں، اور میرا خیال تھا کہ وہ اس کو سستی قیمت پر فروخت کر دے گا پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو نہ خریدو اور اپنے صدقہ کو واپس نہ لو، اگرچہ کہ وہ تمہیں ایک ہی درہم میں کیوں نہ بیچ دے، اس لئے کہ اپنی خیرات کو واپس لینے والا ایسے کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو پھر چاٹ لے۔ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ تم اپنی خیرات کو واپس نہ لو، اس لئے کہ اپنی خیرات کو واپس لینے والا اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قے کو پھر چاٹ لے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1490 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1620a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (4)

Note 2

Do not buy it.

(2) The statement: "Do not buy it." In Umdat Al-Qari, it is said: "There is a dislike for a man to buy back his charity, and this is the opinion of Malik, the scholars of Kufa, and Al-Shafi'i, whether the charity was obligatory or voluntary. If someone buys back his charity, the sale is not invalidated, but it is better to avoid it." Ali Al-Qari said: "Some scholars held that it is forbidden for the giver to buy back his charity based on the apparent meaning of the hadith, but the majority view is that it is disliked as a precaution, because the ugliness lies in the fact that the recipient might give the giver a discount due to the prior act of charity, making it akin to taking back the charity in that amount."

Note 3

Do not take back your charity.

(3) The statement: "Do not take back your charity." What is understood from Al-Bukhari's approach is that he does not differentiate between a gift and charity, but this is not the case. A gift can be taken back, with some disagreement and details, unlike charity, which cannot be taken back under any circumstances. This is what Al-Allamah Al-Ayni said in Umdat Al-Qari in the chapter on gifts. The author of Al-Durr Al-Mukhtar said: "Charity is like a gift in that both are voluntary acts, and thus it is not valid unless it is received, nor can it be taken back."

Note 2

قوله

(٢) قوله : لا تشتره وقال في عمدة القاري فيه كراهة شراء الرجل صدقته الحديث عمر الله، وهو قول مالك والكوفيين والشافعي، وسواء كانت الصدقة فرضًا أو تطوّعًا. فإن اشترى أحد صدقته لم يفسخ بيعه وأولى به التنزه عنها انتهى. وقال علي القاري: ذهب بعض العلماء إلى أن شراء المتصدق صدقته حرام لظاهر الحديث، والأكثرون على أنها كراهة تنزيه؛ لكون القبح فيه لغيره، وهو أن المتصدق عليه ربما يسامح المتصدق في الثمن بسبب تقدم إحسانه، فيكون كالعائد في صدقته في ذلك المقدار الذي سومح.

Note 3

قوله

(٣) قوله: ولا تعد في صدقتك والذي يفهم من صنيع البخاري أنه لا يفرق بين الهبة والصدقة، وليس كذلك؛ فإن الهبة يجوز الرجوع فيها على ما فيه من الخلاف والتفصيل، بخلاف الصدقة فإنه لا يجوز الرجوع فيها مطلقا. قاله العلامة العيني في عمدة القاري في كتاب الهبة. وقال صاحب الدر المختار والصدقة كالهبة بجامع التبرع وحينئذ لا تصح غير مقبوضة ولا في مشاع يقسم ولا رجوع فيها.

Hadith 2418

Volume 1

English

Buraidah (may Allah be pleased with him) narrated: I was sitting with the Prophet (ﷺ) when a woman came to him and said, "O Messenger of Allah, I gave my slave girl as charity, and she has died." He said, "Your reward is guaranteed, and her inheritance has returned to you." [Narrated by Muslim] In another narration by Ibn Majah, Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever dies owing fasts, a needy person should be fed on his behalf for each day." In Al-Jawhar Al-Naqi, it is said: "This is a Sahih Hadith." In another narration by Al-Tahawi, Amrah bint Abdur-Rahman said: I asked Aisha, "My mother died owing fasts of Ramadan. Can I fast on her behalf?" She said, "No, but give charity on her behalf for each day to a needy person, which is better than your fasting." In Umdat Al-Qari, it is said: "This is a sahih chain." In a narration by Muslim, she said, "She never performed Hajj. Can I perform Hajj on her behalf?" He said, "Yes, perform Hajj on her behalf."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٨ - وَعَنْ بُرَيْدَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُنِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ: «وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا1 عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ مَاجَه عَنِ ابْنِ عُمَرَ(رضي الله عنهما): قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامُ فَلْيُطْعَمْ عَنْهُ مَكَانَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ». قَالَ فِي الْجَوْهَرِ النَّقِي»: هَذَا حَدِيْثُ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلطَّحَاوِيِّ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْتُ لِعَائِشَةَ: إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ رَمَضَانَ، أَيَصْلُحُ أَنْ أَقْضِيَ عَنْهَا؟ فَقَالَتْ: لَا ، وَلَكِنْ تَصَدَّقِي عَنْهَا مَكَانَ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى مِسْكِينٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِكِ. قَالَ فِي عُمْدَةِ الْقَارِي»: هَذَا سَنَدٌ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: قَالَتْ: إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ، أَفَأَحُجُ عَنْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، حُجِّيْ عَنْهَا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2829Noor 2830Noor 2831Noor 2832
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک خاتون حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیں: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے اپنی ماں کی خدمت کے لئے ایک باندی دی تھی اور میری والدہ کا انتقال ہو گیا (اور وہ باندی وراثت میں واپس مجھے مل گئی ہے، اب میں اس کو لے سکتی ہوں یا نہیں؟) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (باندی دینے کا) ثواب تو تمہیں مل گیا، اور اب وراثت نے اس (باندی) کو تمہارے لئے واپس کر دیا ہے (اس لئے تم اس کو لے لو)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص انتقال کر جائے اور اس پر ایک مہینہ کے روزے قضاء ہوں تو (اس کے ولی کو) چاہئے کہ ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو (دو وقت کا) کھانا کھلائے۔ عمرۃ بنت عبدالرحمن رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور ان پر رمضان کے روزے قضاء رہ گئے ہیں کیا میرے لئے ان کی طرف سے روزوں کی قضاء جائز ہے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: نہیں! بلکہ ان کی طرف سے روزے رکھنے کے بجائے تمہارے لئے بہتر یہ ہے کہ تم ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو خیرات دے دیا کرو (مرقات اور عمدۃ الرعایہ میں مذکور ہے کہ ایک روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو ایک فطرہ کی مقدار غلہ دیا جائے۔ واضح ہو کہ ایک فطرہ کی مقدار دو کیلو گیہوں ہوتے ہیں)۔ اور مسلم کی ایک روایت میں (بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، ایک خاتون نے حاضر ہو کر) عرض کیا کہ میری والدہ نے حج نہیں کیا تھا (اور ان کا انتقال ہوگیا) کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں تم ان کی طرف سے حج کرلو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1149a (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Her inheritance has returned to you.

(1) The statement: "Her inheritance has returned to you." The scholars unanimously agreed that if someone gives charity and then inherits it, it is permissible for them. Ibn Al-Tin said: "A group of Zahiris held a strict view and disliked taking it back through inheritance, saying it must be given to a needy person because it becomes the right of Allah." This reasoning contradicts the text. Do you not see that the Messenger of Allah (ﷺ) allowed the giver to take back his charity when it returned to him through inheritance, while Umar ibn Al-Khattab (may Allah be pleased with him) was prevented from buying back his charity? These two hadiths establish the permissibility of charity returning to the giver by Allah's decree and the dislike of it returning by the giver's own action. This is the summary of what is in Umdat Al-Qari, Al-Mirqat, and Sharh Ma'ani Al-Athar.

Note 1

قوله

(۱) قوله: ردها عليك الميراث وأجمعوا أن من تصدق بصدقة، ثم ورثها أنه حلال له. وقال ابن التين: وشدت فرقة من أهل الظاهر، فكرهت أخذها بالميراث، وقالوا: يجب صرفها إلى فقير؛ لأنها صارت حقا الله تعالى. وهذا تعليل في معرض النص، فلا يعقل . أفلا ترى أن رسول الله الله قد أباح للمتصدق صدقته لما رجعت إليه بالميراث، ومنع عمر بن الخطاب الله من ابتياع صدقته، فثبت بهذين الحديثين إباحة الصدقة الراجعة إلى المتصدق بفعل الله وكراهة الصدقة الراجعة إليه بفعل نفسه. هذا حاصل ما في عمدة القاري» و«المرقاة» و«شرح معاني الآثار».

Note 1

اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے اور ”الجوهر النقي“ میں کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

Note 2

اس حدیث کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔ اور عمدۃ القاری میں کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔

Note 3

ف: واضح ہو کہ عبادات کی تین قسمیں ہیں ایک محض مالی جیسے زکات، دوسرے محض بدنی جیسے نماز، اور تیسرے مالی اور بدنی مشترک جیسے حج، پہلی قسم کی عبادات (یعنی محض مالی جیسے زکات) میں اختیار اور ضرورت دونوں حالتوں میں نیابت درست ہے، اس لئے کہ مالی عبادات میں نیابت سے بھی اس کا مقصود کہ اللہ تعالیٰ کے واسطے مال خرچ کیا جائے حاصل ہوجاتا ہے۔ دوسری قسم کی عبادات (یعنی محض بدنی) میں کسی صورت میں (صحت ہو یا مرض) نیابت درست نہیں، اس لئے کہ بدنی عبادات میں اتعابِ نفس (یعنی انسان کا اپنے نفس کو مشقت میں ڈالنا) مقصود ہے اور نیابت سے یہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ تیسری قسم کی عبادات یعنی مالی اور بدنی مشترک میں عجز کی صورت میں نیابت درست ہے، بشرطیکہ وہ عجز دائمی ہو اور حج فرض ہوچکا ہو، البتہ نفل حج ادا کرنا چاہتا ہو تو قدرت کے باوجود اپنے نائب کے ذریعہ حج بدل کروانا درست ہے۔ نیابت یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کی طرف سے اسی کی عبادات کو ادا کرے۔ (یہ مضمون ہدایہ سے ماخوذ ہے12)۔

Hadith 2419

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When Ramadan begins, the gates of heaven are opened." In another narration, "The gates of Paradise are opened, the gates of Hell are closed, and the devils are chained." In another narration, "The gates of mercy are opened."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤١٩ - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : إِذَا دَخَلَ1 رَمَضَانُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ». وَفِي رِوَايَةٍ: فُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتْ الشَّيَاطِينُ». وَفِي رِوَايَةٍ: فُتِحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2833Noor 2834Noor 2835
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں (یعنی اللہ کی رحمت پے در پے نازل ہوتی رہتی ہے، نیک اعمال بغیر کسی رکاوٹ کے آسمان پر اٹھا لئے جاتے ہیں، دعائیں قبول ہوتی ہیں) اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں (یعنی ماہ رمضان المبارک میں روزہ دار کو ایسے اعمال کی توفیق ہوتی ہے جن سے وہ جنت کا مستحق ہو جاتا ہے) اور دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں (یعنی روزہ دار تزکیہ نفس کی وجہ سے ایسے گناہ اور ایسے اعمال سے بچ جاتا ہے جو دوزخ میں پہنچانے کا باعث ہوتے ہیں) اور شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے (جس کی وجہ سے روزہ دار شیاطین کے وسوسوں اور گناہوں کی ترغیب سے محفوظ ہو جاتا ہے)۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1899 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1079a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1956 (unverified) 86% confidence

Mishkat (candidate) 1956

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

When Ramadan begins.

(1) The statement: "When Ramadan begins." Some said: "The correct view is what Muhammad reported from Mujahid, and no one disagreed with it, that it is disliked to say, 'Ramadan has come' or 'Ramadan has gone,' because it is one of the names of Allah. However, most scholars hold that it is not disliked, as it appears in authentic hadiths." This is mentioned in Rad Al-Muhtar.

Note 1

قوله دخل رمضان قال بعضهم

(۱) قوله دخل رمضان قال بعضهم: الصحيح ما رواه محمد عن مجاهد، ولم يحك خلافه أنه كره أن يقال: جاء رمضان وذهب رمضان؛ لأنه اسم من أسمائه تعالى، وعامة المشايخ أنه لا يكره؛ لمجيئه في الأحاديث الصحيحة. كذا في رد المحتار».

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں رمضان المبارک کی فضیلت کا بیان ہے کہ مسلمان نے جب روزہ رکھا اور پیٹ خالی ہوا تو اکثر گناہوں سے بچا تو رحمت الٰہی کو جوش ہوا، بہشت کے دروازے کھلے، دوزخ بیکار ہوئے، شیطان بند ہوئے، کیونکہ انسان پر شیطان کا قابو پیٹ بھرنے پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اکثر بے نمازی بھی رمضان میں روزہ رکھتے ہیں۔ اور نماز شروع کر دیتے ہیں اور یہی دلیل ہے شیطان کے قید ہونے کی۔ بہرحال رمضان المبارک کی برکت میں کوئی شبہ نہیں۔ 12

Hadith 2420

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "When the first night of Ramadan comes, the devils and rebellious jinn are chained, the gates of Hell are closed, and none of its gates are opened. The gates of Paradise are opened, and none of its gates are closed. A caller calls out, 'O seeker of good, proceed! O seeker of evil, desist!' And Allah has people whom He frees from the Fire, and that happens every night."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٠ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ صُفَّدَتِ الشَّيَاطِينُ، وَمَرَدَةُ الجِنِّ، وَغُلَّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابُ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ، وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ رَجُلٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2836Noor 2837
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات آ جاتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور دوزخ کا کوئی دروازہ بھی نہیں کھولا جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جنت کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک منادی یہ ندا کرتا ہے: اے طالب خیر متوجہ ہو جا (اور خیر کی جانب آ جا) اور اے شر پسند (گناہوں سے) باز آ جا (کہ یہ گناہوں سے توبہ کرنے کا وقت ہے) اور اللہ تعالیٰ (اس مہینہ میں گناہ گاروں کو) دوزخ سے نجات دیتے ہیں اور (یہ ندا رمضان المبارک میں) ہر رات ہوا کرتی ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔ اور امام احمد نے بھی اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 682 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1642 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رمضان المبارک میں شیاطین اور سرکش جن قید کئے جاتے ہیں اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ شیاطین کو اور سرکش جنوں کو اس لئے قید کیا جاتا ہے تاکہ وہ روزہ داروں کے دلوں میں وسوسے نہ ڈالیں اور اس کی علامت یہ ہے کہ رمضان المبارک میں اکثر گناہ گار اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور بعض لوگوں کو جو دیکھا جاتا ہے کہ رمضان المبارک میں بھی گناہوں سے توبہ نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شیاطین کے بہکانے کے پرانے اثرات ان کے دلوں میں جمے رہتے ہیں اور وہ اپنی عادت کے مطابق برائی کرتے رہتے ہیں۔ 12

Hadith 2421

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Ramadan has come to you, a blessed month. Allah has made fasting in it obligatory for you. The gates of heaven are opened, the gates of Hell are closed, and the rebellious devils are chained. In it is a night better than a thousand months. Whoever is deprived of its goodness is truly deprived."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢١ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ، فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيْهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَتُغْلَقُ فِيْهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيْهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينُ، لِلَّهِ فِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2838
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ تمہارے پاس رمضان کا بابرکت مہینہ آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس مہینہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینہ میں آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت پے در پے نازل ہوتی رہتی ہے) اور دوزخ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں (یعنی روزہ دار نیز کہ نفس کشی کی وجہ سے ایسے گناہوں سے بچ جاتا ہے جو دوزخ میں پہنچانے کا باعث ہوتے ہیں) اور سرکش شیطانوں کی گردنوں میں طوق ڈالا جاتا ہے (یعنی ان کو جکڑ دیا جاتا ہے) اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ (کے تجلیات) کی ایک خاص رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی شب قدر میں عبادت کرنا ایک ہزار مہینہ عبادت کرنے کے برابر ہے) جو شخص اس رات کی نیکی سے محروم رہا وہ یقیناً ہر طرح کی خیر و برکات سے محروم رہا (یعنی جس کو شب بیداری کی توفیق نہ ہوئی یا اول شب یا آخر شب عبادت نہ کی تو وہ شب قدر کے برکات سے محروم رہا)۔ اس کی روایت امام احمد، اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 2106 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1962 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 1962

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2422

Volume 1

English

Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: When Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) said, "This month has come to you, and in it is a night better than a thousand months. Whoever is deprived of it is deprived of all goodness, and only the deprived one is deprived of its goodness."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٢ - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (رضي الله عنه) قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْ حَضَرَكُمْ، وَفِيْهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرُ كُلَّهُ، وَلَا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلَّا كُلُّ مَحْرُوْمٍ». رَوَاهُ ابْنِ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2839
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ (مبارک) مہینہ تمہارے پاس آ گیا ہے، (تو تم اس کو غنیمت سمجھو، دن میں روزے رکھا کرو اور رات میں تراویح پڑھا کرو) اور اس میں ایک ایسی رات ہے (جس میں عبادت کرنا) ہزاروں مہینوں کی راتوں (میں عبادت کرنے) سے بہتر ہے (اس لئے تم شب قدر کو اس مہینہ کی ہر رات میں عبادت کر کے تلاش کرو تا کہ تم اس کی برکات کو حاصل کر لو، اس لئے) کہ جو اس (شب قدر) کی بھلائیوں (یعنی اس میں عبادت کرنے کی توفیق) سے محروم رہا وہ ہر بھلائی سے محروم رہا اور اس کے (برکات سے) وہی محروم رہتا ہے جو بے نصیب ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 1644 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2423

Volume 1

English

Salman Al-Farisi (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us on the last day of Sha'ban and said, "O people, a great month has come upon you, a blessed month. In it is a night better than a thousand months. Allah has made fasting in it obligatory and standing in prayer at night voluntary. Whoever draws near to Allah with a good deed in it is like one who fulfills an obligation in other times, and whoever fulfills an obligation in it is like one who fulfills seventy obligations in other times. It is the month of patience, and the reward of patience is Paradise. It is the month of compassion, and the provision of the believer is increased in it. Whoever feeds a fasting person in it will have his sins forgiven, his neck freed from the Fire, and he will have a reward like that of the fasting person without diminishing his reward in the least." We said, "O Messenger of Allah, not all of us have the means to feed a fasting person." The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Allah grants this reward to whoever feeds a fasting person with a sip of milk, a date, or a drink of water. And whoever satisfies a fasting person, Allah will give him a drink from my pool, and he will never thirst until he enters Paradise. It is a month whose beginning is mercy, whose middle is forgiveness, and whose end is freedom from the Fire. Whoever eases the burden of his slave in it, Allah will forgive him and free him from the Fire."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٣ - وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ (رضي الله عنه) قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، قَدْ أَظَلَّكُمْ شَهْرٌ عَظِيمٌ، شَهْرُ مُبَارَكٌ، شَهْرٌ فِيْهِ لَيْلَةً خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، جَعَلَ اللهُ صِيَامَهُ فَرِيضَةً وَقِيَامَ لَيْلِهِ تَطَوُّعًا. مَنْ تَقَرَّبَ فِيْهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَيْرِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَمَنْ أَدَّى فَرِيضَةٌ فِيْهِ كَانَ كَمَنْ أَدَّى سَبْعِيْنَ فَرِيضَةً فِيْمَا سِوَاهُ، وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ، وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُؤَاسَاةِ، وَشَهْرُ يُزَادُ فِيْهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ. مَنْ فَطَرَ فِيْهِ صَائِمًا كَانَ لَهُ مَغْفِرَةٌ لِذُنُوْبِهِ وَعِتْقُ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ، وَكَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ». قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَيْسَ كُلُّنَا نَجِدُ مَا نُفَطَّرُ بِهِ الصَّائِمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: يُعْطِي اللهُ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَرَ صَائِمًا عَلَى مَذْقَةِ لَبَنٍ أَوْ تَمْرَةٍ أَوْ شُرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ، وَمَنْ أَشْبَعَ صَائِمًا سَقَاهُ اللهُ مِنْ حَوْضِيْ شُرْبَةً لَا يَظْمَأُ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ. وَهُمْ شَهْرُ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهُ عِنْقٌ مِنَ النَّارِ. وَمَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوكِهِ فِيْهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2840
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان کے آخری دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا اور اس (خطبہ) میں ارشاد فرمایا کہ ایک بڑے مہینہ نے تم پر سایہ ڈالا ہے جو برکت والا مہینہ ہے یہ ایک ایسا (مبارک) مہینہ ہے جس میں ایک ایسی رات ہے (جس میں عبادت کرنا) ہزار مہینوں (کی راتوں میں عبادت کرنے سے) بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کے روزے فرض کئے ہیں اور اس مہینہ کی راتوں میں عبادت (یعنی تراویح پڑھنے) کو سنت (مؤکدہ) قرار دیا ہے، جو شخص اس مہینہ میں کسی نیک کام کو بطور نفل ادا کرے اور اس سے اللہ تعالیٰ کا قرب چاہے تو وہ اس شخص کے برابر ہے جو کسی اور مہینہ میں فرض عبادت ادا کرتا ہے (یعنی اس مہینہ کی نفل عبادت اجر اور ثواب میں دوسرے مہینوں کی فرض عبادت کے برابر ہے) (اور جو شخص اس (مہینہ) میں فرض عبادت کرے تو (اجر و ثواب پانے میں) وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی دوسرے مہینہ میں ستر (70) فرض ادا کرے، یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ (محتاجوں سے) ہمدردی کرنے کا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے جس میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، جو شخص اس مہینہ میں روزہ دار کو افطار کرائے تو یہ اس شخص کے گناہوں کی بخشش کا سبب ہے اور دوزخ سے اس کی نجات کا ذریعہ ہے اور اس شخص کو اس روزہ دار کے ثواب کے برابر ثواب ملتا ہے اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کمی نہیں ہوتی (راوی نے کہا کہ) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے ہر ایک کو اتنا مقدور نہیں کہ روزہ دار کو افطار کرا سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو یہ ثواب دیتے ہیں جو کسی روزہ دار کو دودھ یا لسی پلائے یا کھجور کھلا دے یا (کم از کم) پانی کا ایک گھونٹ ہی پلا دے! اور جو شخص کسی روزہ دار کا پیٹ بھر دے گا تو اللہ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے کہ وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا اور یہ ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء (یعنی پہلا دہا) رحمت ہے اور درمیان (یعنی دوسرا دہا) بخشش ہے اور آخر (یعنی تیسرا دہا) دوزخ سے نجات ہے اور جو شخص اپنے روزہ دار باندی اور غلام سے کم کام لے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیں گے اور اس کو دوزخ سے نجات دیں گے۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1965 (unverified) 97% confidence

Mishkat (candidate) 1965

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2424

Volume 1

English

Sahl ibn Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "In Paradise, there are eight gates, one of which is called Ar-Rayyan, which only those who fast will enter."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٤ - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: فِي الْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ، مِنْهَا بَابٌ يُسَمَّى الرَّيَّانُ، لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا الصَّائِمُوْنَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2841
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں جن میں سے ایک دروازہ کا نام رَیّان (خوب سیراب کرنے والا) ہے اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی (اعزاز کے طور پر جنت میں) داخل ہوں گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 3257 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1152 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1957 (unverified) 65% confidence

Mishkat (candidate) 1957

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2425

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Whoever fasts Ramadan out of faith and seeking reward will have his past sins forgiven. Whoever stands in prayer during Ramadan out of faith and seeking reward will have his past sins forgiven. And whoever stands in prayer on the Night of Decree out of faith and seeking reward will have his past sins forgiven."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٥ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2842
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس نے عقیدت اور ایمان کے ساتھ (خلوص نیت سے) ثواب حاصل کرنے کے لئے رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور جو عقیدت اور ایمان کے ساتھ (خلوص نیت سے) رمضان میں عبادت کرے (یعنی تراویح، تلاوت قرآن اور ذکر میں مشغول رہے) تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور جس نے عقیدت اور ایمان کے ساتھ (خلوص نیت سے) شب قدر میں عبادت کی تو اس کے بھی تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔

Hadith 2426

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Every deed of the son of Adam is multiplied, a good deed receiving ten to seven hundred times its reward. Allah says, 'Except for fasting, for it is for Me, and I will reward it. He gives up his desires and food for My sake.' The fasting person has two joys: one when he breaks his fast, and one when he meets his Lord. The breath of the fasting person is more pleasant to Allah than the scent of musk. Fasting is a shield. If one of you is fasting, he should not engage in foul speech or raise his voice. If someone insults him or fights him, he should say, 'I am fasting.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٦ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَة ضِعْفٍ، قَالَ اللهُ تَعَالَى : إِلَّا الصَّوْمَ؛ فَإِنَّهُ لِيْ وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ. وَلَخَلُوْفُ1 فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ. وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفَتْ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2843
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ انسان کے ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ کیا جاتا ہے اس طرح کہ ایک نیکی (کا ثواب) دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ لیکن روزہ کا ثواب اس سے بھی زیادہ ہے کیونکہ روزہ میرے لئے ہے اور روزہ کا بدلہ میں ہی دوں گا کہ روزہ دار میری (خوشنودی) کے لئے اپنی خواہش اور اپنا کھانا چھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں: (1) ایک خوشی افطار کے وقت (کہ روزہ پورا ہوا، اور بھوک و پیاس کا غلبہ جاتا رہا) اور (2) دوسری خوشی (آخرت میں) اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت (کہ اللہ تعالیٰ سے مل کر روزہ کا ثواب حاصل کرے گا) اور روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے پاس مشک کی بو سے زیادہ پسندیدہ ہے اور روزہ ڈھال ہے (کہ روزہ دار اس سے دنیا میں شیطان کے شر سے اور آخرت میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے) لہذا تم میں سے جب کوئی روزہ دار ہو تو فحش کلامی نہ کرے اور نہ شور مچائے اور اگر اس کو کوئی برا کہے یا (اس سے لڑنے کا ارادہ کرے تو وہ اس سے کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں (مجھے لڑنا یا گالی دینا زیب نہیں ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 1904 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 1151e (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The breath of the fasting person.

(1) The statement: "The breath of the fasting person." In Al-Mirqat, it is said: "This does not necessarily mean that the fasting person should not remove the odor with a toothstick (miswak), as Al-Shafi'i used this hadith to argue that using a miswak after midday is disliked. This is similar to a mother saying about her child's urine, 'It is more pleasant to me than rosewater,' which does not mean she should not wash it. This issue will be discussed further in the chapter on the etiquette of fasting, Allah willing." Al-Qaduri from the Hanafis, Ibn Al-Arabi from the Malikis, Abu Uthman Al-Sabuni, Abu Bakr ibn Al-Sam'ani, and others from the Shafi'is all agreed that it refers to Allah's pleasure and acceptance. Al-Qadi said: "Allah may reward him in the Hereafter so that its fragrance becomes more pleasant than musk." There was a disagreement between Shaykh Taqiuddin Ibn Al-Salah and Shaykh Izzuddin Ibn Abd Al-Salam regarding whether the pleasantness of the fasting person's breath is in this world or the Hereafter. Ibn Abd Al-Salam held that it is in the Hereafter, like the blood of a martyr, and he cited as evidence what Muslim, Ahmad, and Nasa'i reported from Ata' from Abu Salih: "More pleasant to Allah on the Day of Resurrection." This is mentioned in Umdat Al-Qari. Shaykh Ibn Al-Humam said: "As for the meaning, it does not necessitate the dislike of using a miswak, because it is based on the assumption that the miswak removes the odor, which is not proven. It only removes the visible effect on the teeth, such as yellowing, because the cause is the emptiness of the stomach from food, and the miswak does not fill it with food to remove the cause." In Umdat Al-Qari, it is said: "The Prophet (ﷺ) praised the fasting person's breath to discourage people from avoiding speaking to fasting people due to the odor, not to discourage fasting people from using a miswak. Allah is above needing pleasant scents, so we know for certain that the prohibition was not about preserving the odor but about discouraging people from disliking it."

Note 1

قوله ولخلوف فم الصائم إلخ وقال في المرقاة»

(۱) قوله ولخلوف فم الصائم إلخ وقال في المرقاة»: لا يلزم من هذه العبارة عدم إزالة الخلوف بالسواك وغيره، كما استدل الشافعي بهذا الحديث على أن السواك بعد الزوال مكروه؛ لأن نظيره قول الوالدة لبول ولدي: أطيب من ماء الورد عندي، وهو لا يستلزم عدم غسل البول، فكذا هذا وسيأتي بسط هذه المسألة إن شاء الله تعالى في أثناء باب تنزيه الصوم انتهى. وقال القدوري من الحنفية وابن العربي من المالكية وأبو عثمان الصابوني وأبو بكر بن السمعاني وغيرهم من الشافعية جزموا كلهم بأنه عبارة عن الرضى والقبول. وقال القاضي: وقد يجزيه الله تعالى في الآخرة حتى يكون نكهته أطيب من ريح المسك. وقد اختلف الشيخ تقي الدين ابن الصلاح والشيخ عز الدين ابن عبد السلام في طيب رائحة الخلوف هل هي في الدنيا أو في الآخرة، فذهب ابن عبد السلام إلى أن ذلك في الآخرة كما في دم الشهيد، واستدل بما رواه مسلم وأحمد والنسائي من طريق عطاء عن أبي صالح: أطيب عند الله يوم القيامة». كذا في عمدة القاري. وقال الشيخ ابن الهمام: وأما المعنى فلا يستلزم كراهة الاستياك؛ لأنه بناء على أن السواك يزيل الخلوف، وهو غير مسلم، بل إنما يزيل أثره الظاهر على السن من الاصفرار، وهذا لأن سببه خلو المعدة من الطعام، والسواك لا يفيد شغلها بطعام ليرتفع السبب انتهى. وقال في عمدة القاري: إنما مدح النبي ﷺ الخلوف نهيا للناس عن تحرز مكالمة الصائمين بسبب الخلوف لا نهيا للصوّام عن السواك، والله غني عن وصل الرائحة الطيبة إليه، فعلمنا يقيناً أنه لم يرد بالنهي استبقاء الرائحة، وإنما أراد نهي الناس عن كراهتها.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کے پاس مشک کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے کہا ہے کہ اس پر یہ لازم نہیں ہوتا کہ روزہ دار مسواک کے ذریعہ سے اپنے منہ کی بو دور نہ کرے جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث شریف سے استدلال کیا ہے کہ روزہ دار کے لئے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ ہے کیونکہ روزہ دار کے منہ کی بو کو حدیث شریف میں مشک کی خوشبو سے جو بہتر قرار دیا گیا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ماں اپنے بچے کے پیشاب کے بارے میں کہتی ہے: میرے بچہ کا پیشاب مجھے عرق گلاب سے زیادہ پسند ہے۔ ماں کے اس طرح کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ بچہ کا پیشاب ناپاک نہیں ہے کہ جس کو دھونے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح حدیث شریف میں جو ارشاد ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو مجھے مشک سے زیادہ پسند ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسواک ہی نہ کرے اور بو کو باقی رہنے دے۔ ان شاء اللہ اس مسئلہ کی مزید تفصیل ”بَابُ تَنْزِيْهِ الصَّوْمِ“ میں آئے گی۔ فقہاء احناف میں قدوری رحمہ اللہ نے اور مالکی فقہاء میں ابن العربی رحمہ اللہ نے اور شافعی فقہاء میں ابوعثمان صابونی، ابوبکر ابن السمعانی وغیرہ نے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو کے بارے میں حدیث شریف میں جو ذکر ہے اس سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اظہار خوشنودی اور شرف قبولیت ہے۔ اور قاضی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ روزہ دار کو آخرت میں اس طرح بدلہ دے گا کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو آخرت میں مشک کی خوشبو سے زیادہ مہک اٹھے گی، اور شیخ تقی الدین ابن الصلاح اور شیخ عزالدین عبد السلام اس بارے میں مختلف الرائے ہیں کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو کا تعلق دنیا سے ہے یا آخرت سے؟ امام عزالدین عبد السلام کا مسلک یہ ہے کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو آخرت میں ہوگی دنیا میں نہیں۔ جس طرح شہداء کے خون کے بارے میں صراحت ہے اور انہوں نے مسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس کو امام احمد اور نسائی نے عطاء کی سند سے روایت کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ”أَطْيَبُ عِنْدَ اللّٰهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“، یعنی روزہ دار کے منہ کی خوشبو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگی۔ یہ مضمون عمدۃ القاری میں مذکور ہے اور امام ابن الہمام نے کہا ہے کہ حدیث شریف سے یہ لازم نہیں آتا کہ روزہ دار کے لئے مسواک کرنا مکروہ قرار دیا جائے۔ اس بناء پر کہ مسواک سے روزہ دار کے منہ کی بو زائل ہو جاتی ہے، حالانکہ مسواک سے صرف دانتوں کی زردی زائل ہوتی ہے اور منہ کی بو زائل نہیں ہوتی جو حقیقت میں خلو معدہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور مسواک سے پیٹ تو نہیں بھرتا کہ خلو معدہ رفع ہوا اور منہ کی بو زائل ہو جائے۔ عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ دار کے منہ کی بو کی تعریف اس لئے فرمائی ہے کہ تا کہ لوگ روزہ دار کے منہ کی بو کی وجہ سے کہیں اس سے بات کرنا چھوڑ نہ دیں اور اس طرح فرمانے سے یہ مطلب نہیں کہ روزہ دار مسواک نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کو خوشبو وغیرہ کی احتیاج تو نہیں وہ تو ہر چیز سے بے نیاز اور غنی ہیں تو اس طرح یقین کے ساتھ ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ حدیث شریف کا یہ مفہوم نہیں کہ منہ کی بو کو باقی رکھا جائے اور مسواک نہ کریں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو کی وجہ سے لوگ اس سے بات کرنے میں کنارہ کشی نہ کریں اور اس سے نفرت نہ کریں، کیوں کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہوگی۔12

Hadith 2427

Volume 1

English

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said, "Fasting and the Quran will intercede for the servant on the Day of Resurrection. Fasting will say, 'O Lord, I prevented him from food and desires during the day, so allow me to intercede for him.' The Quran will say, 'I prevented him from sleep at night, so allow me to intercede for him.' They will be allowed to intercede."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٧ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو (رضي الله عنهما) أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَقُوْلُ الصِّيَامُ : أَيْ رَبِّ إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ. وَيَقُوْلُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفَعْنِي فِيهِ». قَالَ: «فَيُشَفَعَانِ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2844
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (ماہ رمضان کا) روزہ اور قرآن (کی تلاوت) یہ دونوں (روزہ دار) بندہ کی شفاعت کریں گے، روزہ کہے گا: اے پروردگار! میں اس کو دن میں کھانے پینے اور خواہشات کی تکمیل سے روک رکھا تھا۔ پس اس (روزہ دار) کے حق میں میری شفاعت قبول فرما (اور اس کے گناہوں کو بخش دے) اور قرآن کہے گا: اے پروردگار! میں نے اس (قرآن پڑھنے والے) کو رات کی نیند سے روک رکھا تھا (کہ تراویح اور تہجد میں قرآن پڑھا کرتا تھا) پس اس کے حق میں میری شفاعت قبول کر (اور اس کو جنت میں بلند درجات عطا فرما) پس دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1963 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 1963

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2428

Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: When the month of Ramadan began, the Messenger of Allah (ﷺ) would release every prisoner and give to every beggar.

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٨ - وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسِ (رضي الله عنهما) قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ أَطْلَقَ كُلَّ أَسِيرٍ1 وَأَعْطَى كُلَّ سَائِلٍ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2845
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آ جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر قیدی کو چھوڑ دیتے اور ہر سائل کو دیا کرتے تھے۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Note 1

Every prisoner.

(1) The statement: "Every prisoner." This refers to those who are imprisoned for a right owed to Allah or to a person, and their release is a way of emulating Allah's attributes.

Note 1

قوله

(۱) قوله : كل أسير : أي محبوس ممن يستحق الحبس لحق الله، أو لحق العبد بتخليصه منه : تخلقا بأخلاق الله تعالى.

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں ہر قیدی کو چھوڑ دیتے تھے، اس بارے میں مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں بندوں کو دوزخ سے نجات دیتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اخلاق کی پیروی میں قیدیوں کو جو حقوق اللہ یا حقوق العباد میں ماخوذ ہوں، ان کو چھوڑ دیتے تھے۔ حقوق اللہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار تھا کہ قیدیوں کو چاہیں تو چھوڑ دیں، اس اختیار کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں ہر قیدی کو چھوڑ دیتے تھے۔ اب رہا حقوق العباد تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فریقین کے درمیان تصفیہ فرما کر ایسے قیدیوں کو بھی چھوڑوا دیتے تھے۔12

Hadith 2429

Volume 1

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said, "Paradise is adorned for Ramadan from the beginning of the year to the next." He said, "When the first day of Ramadan comes, a wind blows from under the Throne, carrying the leaves of Paradise to the wide-eyed maidens, who say, 'O Lord, grant us husbands from Your servants who will please our eyes and whose eyes we will please.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٢٩ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَخْرَفُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى حَوْلٍ قَابِل». قَالَ: «فَإِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيْحُ تَحْتَ الْعَرْشِ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ عَلَى الْحُورِ الْعَيْنِ، فَيَقُلْنَ: يَا رَبِّ اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ أَزْوَاجًا تُقِرُّ بِهِمْ أَعْيُنُنَا، وَتُقِرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2846
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جنت رمضان کے لئے آراستہ کی جاتی ہے، ابتداء سال سے آخر سال تک جب رمضان المبارک کا پہلا دن ہوتا ہے تو حور عین پر جنت کے پتوں کی ہوا عرش کے نیچے سے چلتی ہے تو حوریں کہتی ہیں کہ اے رب! اپنے (نیک، روزہ دار، اور عبادت گزار) بندوں میں سے ہمارے لئے ایسے شوہر عطا فرما جن سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہو اور ان کی آنکھوں کو ہم سے مل کر ٹھنڈک حاصل ہو۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1967 (unverified) 65% confidence

Mishkat (candidate) 1967

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2430

Volume 1

English

Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: The Prophet (ﷺ) said, "My Ummah is forgiven on the last night of Ramadan." It was said, "O Messenger of Allah, is it the Night of Decree?" He said, "No, but the worker is given his full reward when he completes his work."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٤٣٠ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: «يُغْفَرُ لِأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ». قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوْفَّى أَجْرُهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2847
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امت محمدیہ (کے ہر روزہ دار) کی بخشش رمضان کی آخری رات میں کر دی جاتی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا وہ لیلۃ القدر ہوتی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! بلکہ کام کرنے والے کو اس کے کام کے ختم پر ہی اس کا پورا معاوضہ دیا جاتا ہے (اسی طرح روزہ دار کو روزوں کے ختم پر بخش دیا جاتا ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1968 (unverified) 78% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1967 (unverified) 55% confidence

Mishkat (candidate) 1967

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رمضان کی آخری شب ہر روزہ دار کی بخشش کی جاتی ہے، اس سے مراد عید کی شب ہے کہ اس پر ماہ رمضان کا روزہ ختم ہوتا ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے۔12

Hadith 2431

Volume 1 · Numbering gap

Translator’s numbering note

Printed number 2431 is absent from the English source volume 1; no translator numbering note occurs in this volume. Requires editorial review.

This is a placeholder for a missing printed number, not a narration.

Hadith 2432

Volume 1 · Numbering gap

Translator’s numbering note

Printed number 2432 is absent from the English source volume 1; no translator numbering note occurs in this volume. Requires editorial review.

This is a placeholder for a missing printed number, not a narration.

Hadith 2433

Volume 1 · Numbering gap

Translator’s numbering note

Printed number 2433 is absent from the English source volume 1; no translator numbering note occurs in this volume. Requires editorial review.

This is a placeholder for a missing printed number, not a narration.

Hadith 2434

Volume 1 · Numbering gap

Translator’s numbering note

Printed number 2434 is absent from the English source volume 1; no translator numbering note occurs in this volume. Requires editorial review.

This is a placeholder for a missing printed number, not a narration.

Hadith 2435

Volume 1 · Numbering gap

Translator’s numbering note

Printed number 2435 is absent from the English source volume 1; no translator numbering note occurs in this volume. Requires editorial review.

This is a placeholder for a missing printed number, not a narration.