عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور میری امت میں وہ تمام باتیں اس طرح پوری پوری ہوں گی جو بنی
اسرائیل میں ہوئی ہیں حتیٰ کہ اگر ان میں کا کوئی شخص علانیہ اپنی ماں سے زنا کا ارتکاب کیا ہوگا تو
میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو ایسا ہی کرے گا، اور بنی اسرائیل (72) فرقوں میں بٹ گئے اور
میری امت (73) تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور سوائے ایک فرقہ کے سب کے سب دوزخ میں
جائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ ایک نجات پانے والا فرقہ کونسا فرقہ ہوگا؟ فرمایا: وہی
فرقہ نجات پانے والا ہوگا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
اور امام احمد اور ابوداؤد نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے
کہ (72) بہتر فرقے تو آگ میں اور ایک فرقہ جنت میں ہوگا، اور وہ ایسی جماعت (یعنی سوادِ اعظم)
ہوگا جو کتاب و سنت پر قائم رہے گا اور عنقریب میری امت میں چند ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں
آہواء (یعنی نفسانی خواہشات) اس طرح سرایت کر جائیں گے جس طرح کہ کسی مریض میں مرض
کلب (کتے کاٹنے کی بیماری) سرایت کر جاتی ہے کہ کوئی رگ اور جوڑ ایسا نہیں ہوتا جس میں یہ
بیماری سرایت نہ کی ہو۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کو۔ یا یوں فرمایا کہ: امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمراہی پر
جمع نہیں فرمائے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے تو جو جماعت سے الگ ہوا وہ (جنتیوں کی جماعت
سے الگ کر کے) دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (ترمذی نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑی جماعت کی اتباع کرو، اس لئے کہ جو جماعت سے جدا ہوا وہ تنہا آگ میں
ڈال دیا جائے گا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہوا ہے کہ اے پیارے بیٹے! اگر تجھے اس بات پر قدرت ہو کہ تیری صبح وشام ایسی
گزرے کہ تیرے دل میں کسی کی نسبت کوئی برائی نہ آئے تو اس طرح گزار دے، پھر ارشاد ہوا: اے
بچے یہ میرا طریقہ ہے، جس نے میرے طریقہ کو پسند کیا اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست
رکھا وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جو میری امت کے بگڑ جانے کے زمانہ میں میری سنت کا پابند رہا تو اس کو(100)
شہیدوں کا اجر ملے گا۔ (امام بیہقی نے اس کی روایت اپنی کتاب الزہد میں کی ہے)۔
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا
کہ ہم یہود سے چند باتیں سنتے ہیں جو ہم کو پسند آتی ہیں، کیا آپ کی اجازت ہے کہ اس کو قلمبند
کرلیں، ارشاد ہوا: کیا تم یہود و نصاریٰ کی طرح حیران و سرگرداں ہو جس طرح کہ یہود و نصاریٰ
حیران ہوئے ہیں، میں تمہارے پاس روشن، واضح اور پاک و صاف دین لایا ہوں، اگر موسیٰ علیہ
السلام موجود ہوتے تو میری اتباع کے سوا ان کو کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ (اس کی روایت امام احمد نے اور
بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے)۔
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (1) پاک (یعنی حلال) غذا کھائے اور (2) سنت پر عمل کیا کرے
،اور (3) لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول
اللہ آج ایسے لوگ بہت ہیں، فرمایا: میرے بعد کے زمانوں میں بھی ایسے لوگ رہیں گے۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے زمانہ میں ہو کہ اگر تم میں سے کوئی شخص بھی ان باتوں کا دسواں حصہ ترک
کر دے جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہوگا، پھر ایک زمانہ آئے گا کہ اس زمانہ میں جو شخص
ان باتوں کے دسویں حصہ پر عمل کرے گا جن کا اس کو حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پا لے گا۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے)۔
ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قوم بھی ہدایت پانے کے بعد گمراہ ہوئی ہے وہ صرف دین میں جھگڑنے کی
وجہ سے گمراہ ہوئی ہے، پھر آپ نے (سورۂ زخرف، آیت نمبر:58، پ:25، ع:6، کی) یہ
آیت ﴿مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ، بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ تلاوت فرمائی۔
ترجمہ: ان لوگوں نے جو یہ (عجیب مضمون) بیان کیا ہے تو محض جھگڑا کرنے کے لئے بلکہ یہ
لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
کرتے تھے کہ (دین کے بارے میں) اپنے اوپر سختی نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر سختی کرے گا، چنانچہ ایک
قوم نے اپنے اوپر سختی کر لی تو اللہ نے ان پر اس کو سخت ہی کر دیا، چنانچہ گرجا گھروں میں اور یہود کے
عبادت خانوں میں ان کے باقی ماندہ لوگ ہی تو ہیں کہ انہوں نے رہبانیت (دنیا سے بے تعلقی) کو
خود ایجاد کر لیا جس کو اللہ نے ان پر لازم نہیں کیا تھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کا نزول پانچ طرح پر ہوا ہے (1) حلال (2) حرام (3) محکم (4) متشابہ
(5) اور امثال۔ حلال کو حلال سمجھو اور حرام کو حرام، محکم آیتوں پر عمل کرو، اور متشابہ آیتوں پر ایمان لاؤ، اور
امثال (یعنی گزری ہوئی امتوں کے قصوں) سے عبرت حاصل کرو (یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور بیہقی نے
شعب الایمان میں جو روایت کی ہے وہ یہ ہے کہ حلال پر عمل کرو اور حرام سے بچو اور محکم کی اتباع کرو)۔
ف: محکم سے مراد قرآن کی ایسی آیتیں ہیں جن کے معنوں میں کوئی اشتباہ نہ ہو جیسے
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّكٰوةَ﴾ (نماز پابندی سے باقاعدہ پڑھا کرو اور زکات ادا کرتے
رہو) (سورہ بقرہ، پ:1، ع:5، آیت نمبر:43)۔
اور متشابہ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کے معنی خوب واضح نہ ہوں اور ان کے کئی معنی ہوسکتے ہیں،
جیسے ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ (تمہارا پروردگار آیا) (سورہ فجر، پ:30، ع:1، آیت نمبر:22) وغیرہ۔12
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حکم تین طرح کے ہیں: (1) وہ حکم جس کی ہدایت ظاہر ہے تو اس کی پیروی کیا
کرو (جیسے نماز و زکات کا حکم) (2) وہ حکم جس کی گمراہی ظاہر ہے تو اس سے بچتے رہو (جیسے زنا)
(3) وہ حکم جس میں اختلاف کیا گیا ہے تو اس کو اللہ عزوجل کے سپرد کردو (جیسے قیامت کے دن کا
تعین) وغیرہ۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کا ایسا بھیڑیا ہے جس طرح بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ
اکیلی دور رہنے والی اور کنارے پر چرنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے تو تم شاہراہ اسلام کو چھوڑ کر گمراہی کی
گھاٹیوں سے بچو، اور تم لازم کر لو جماعت کو اور جمہور کو (یعنی چھوٹے چھوٹے فرقوں میں نہ بٹ
جاؤ)۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت بھی جماعت سے جدا ہو جائے تو اس نے اسلام کا طوق اپنی
گردن سے اتار دیا۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطور مرسل روایت ہے انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں ایسی دو باتیں چھوڑ رہا ہوں، جب تک تم ان پر عمل کرتے
رہو گے گمراہ نہ ہو گے (1) ایک اللہ کی کتاب (2) دوسرے اس کے رسول کی سنت۔ (اس کی روایت
موطا میں اسی طرح ہے۔)
غُضَیْفُ بْنُ حَارِثٍ ثُمَالِی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کبھی کسی قوم نے دین میں نئی بات نکال لی تو اتنی ہی سنت اٹھالی جاتی
ہے، لہذا سنت پر عمل کرنا بدعت کے ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب کبھی کسی قوم نے
اپنے دین میں نئی بات ایجاد کرلی تو اللہ اتنی سنت ان سے اٹھا لیتے ہیں، جس کو پھر قیامت تک ان کے
پاس واپس نہیں فرماتے۔ (دارمی نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابراہیم بن میسرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی بدعتی کی تعظیم کی تو اس نے اسلام کے ڈھا دینے میں مدد کی۔ (امام
بیہقی نے شعب الایمان میں اس کی روایت بطور ارسال کی ہے)۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی
کتاب کی تعلیم پائی پھر اس کے احکام کی تعمیل کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کو گمراہی سے بچائیں گے اور
قیامت میں اس کو بُرے حساب سے محفوظ رکھیں گے۔
اور ایک دوسری روایت میں (ایسا بھی) آیا ہے کہ جس نے اللہ کی کتاب کی پیروی کی
تو وہ دنیا میں گمراہ نہ ہوگا اور آخرت میں بدنصیب نہ ہوگا پھر آپ نے (سورہ طہ، آیت نمبر: 123، پ:
16، ع: 7 کی) یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ﴾۔
(ترجمہ: تم میں جو کوئی میری اس ہدایت یعنی قرآن اور سنت کا اتباع کرے تو وہ نہ دنیا میں گمراہ
ہوگا اور نہ آخرت میں بدنصیب۔ (اس کی روایت رزین نے کی ہے۔)
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی ایک مثال اس طرح بیان کی ہے کہ ایک سیدھی راہ
ہے، اور اس کے ہر دو جانب دو دیواریں ہیں، جس میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر
پردے لٹکے ہوئے ہیں، سر راہ ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ سیدھی راہ پر قائم رہو، اور ٹیڑھی راہ نہ چلو
(یعنی دائیں اور بائیں جو دروازے ہیں ان کا رخ نہ کرو) اور اس سیدھے راستے پر ایک اور پکارنے
والا یہ بھی پکار رہا ہے، جب بھی بندہ ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے (وہی پکارنے والا کہتا
ہے) افسوس اس کو نہ کھول، اگر تو اس کو کھول دے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا۔ پھر اس کی آپ نے تفسیر
یوں فرمائی اور فرمایا کہ صراط سے مراد اسلام ہے، اور کھلے دروازے اللہ کے محارم (یعنی حرام کردہ چیزیں)
ہیں اور لٹکے ہوئے پردے اللہ کے حدود ہیں، راستہ پر کھڑا ہو کر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر جو
دوسرا پکارنے والا ہے وہ اللہ کا واعظ ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے (جو ہر برائی کے وقت اس کو اس سے
روکتا ہے مگر یہ اس کی سن کر اس میں مبتلا ہوجاتا ہے)۔ (اس کی روایت ”رزین“ نے کی ہے)۔
اور امام احمد اور امام بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں حضرت نواس بن سمعان
سے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی میں اسی کا اختصار ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو شخص کسی
طریقہ پر چلنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ ان لوگوں کے طریقہ پر چلے جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں
کیوں کہ زندہ شخص کا فتنہ سے بچنا دشوار ہے، اور یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) ہیں
جو اس امت میں افضل تھے، جن کے دل نہایت نیک اور جن کا علم بہت وسیع تھا اور جو تکلف سے دور
تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت اور دین کے قیام کے لئے منتخب
فرمایا تھا، ان کی فضیلت کو سمجھو، ان کے نقش قدم پر چلو اور جس قدر ہوسکے ان کے اخلاق و سیرت کو
اختیار کرو کہ وہ حضرات راہ راست اور ہدایت مستقیم پر تھے۔ (اس کی روایت رزین نے کی ہے)۔
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ
تعالیٰ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لے جا کر حاضر ہوئے اور عرض
کیا: یا رسول اللہ! یہ تورات کا ایک نسخہ ہے تو آپ نے سکوت فرمایا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پڑھنا
شروع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (غصہ سے) متغیر ہو رہا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ نے فرمایا: اے عمر (رضی اللہ عنہ) تجھ پر ہے ”ثَكَلَتْكَ الثَّوَاكِلُ“ (یہ جملہ مقام تعجب میں کہا
جاتا ہے) کیا تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے تغیر کو نہیں دیکھ رہے ہو؟ عمر رضی اللہ
عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور کہا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، اس
کے غضب سے اور اس کے رسول کے غضب سے، ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے
پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس
ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، اگر موسیٰ علیہ السلام تم میں
ظاہر ہوتے اور تم ان کی پیروی کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے تو تم راہ راست سے گمراہ ہو جاتے اور اگر
موسیٰ علیہ السلام موجود ہوتے اور میری نبوت کو پاتے تو وہ بھی صرف میری پیروی کرتے (اس کی
روایت دارمی نے کی ہے)۔
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا لیکن اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے۔ (اس کی
روایت دارقطنی نے کی ہے)۔
(1) قوله: كلامي لا ينسخ كلام الله إلخ إنما يجوز النسخ بالكتاب والسنة متفقا ومختلفًا، فيجوز نسخ الكتاب بالكتاب والسنة، وكذا يجوز نسخ السنة بالسنة والكتاب، فهي أربع صور عندنا أي نسخ الكتاب بالكتاب، ونسخ السنة بالسنة، ونسخ الكتاب بالسنة، ونسخ السنة بالكتاب، خلافًا للشافعي في المختلف، فلا يجوز عنده إلا نسخ الكتاب بالكتاب والسنة بالسنة. قلنا: لما كان النسخ بيان مدة الحكم المطلق، جاز أن يبيّن الله مدة كلام رسوله، أو رسوله مدة كلام ربه.
وقوله : «كلامي لا ينسخ كلام الله يؤيد ظاهرا مذهب الشافعي، ولكن المراد به ما أقوله اجتهادا أو رأيا، هذا كلامه لا ينسخ كلام الله، وغيره من الأحاديث الثابتة بالوحي يكون ناسخًا للكتاب، ويؤيده قوله : كنسخ القرآن في الحديث الآتي على معنى نسخ الأحاديث القرآن بإضافة المصدر إلى المفعول، فمثاله: نسخ الوصية للوالدين والأقربين بقوله (عليه السلام): لا وصية لوارث. وأجيب بأن الناسخ إنما هو آية الميراث، وفيه بحث؛ إذ الكلام في الوصية لا في مقدار الموصى به. ومن هذا القبيل قوله (عليه السلام): نحن معاشر الأنبياء لا نورث. هذا هو النوع الأول.
والنوع الثاني: وكلام الله ينسخ كلامي، وهذا يؤيد مذهب أبي حنيفة في الجواز، خلافًا للشافعي. ومثاله: نسخ التوجه إلى بيت المقدس؛ فإنه ﷺ كان متوجها إلى الكعبة، ثم تحوّل إلى بيت المقدس بالسنة، ثم نسخ بقوله تعالى: {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} (البقرة: ١٤٤).
والنوع الثالث: «وكلام الله ينسخ بعضه بعضا»، وهذا لا خلاف فيه، كآيات المسالمة بآيات القتال.
بقي في الحديث قسم رابع، وهو نسخ السنة بالسنة، وجوازه متفق عليه. مثاله: كنت نهيتكم عن زيارة القبور، ألا فزوروها.
فاجتمع في هذا الحديث الناسخ والمنسوخ، وهو مستفاد من الحديث الآتي، وهو قوله : «أحاديثنا ينسخ بعضها بعضًا». التقطته من «نور الأنوار» و«قمر الأقمار» و«اللمعات» و «المرقاة».
وقال في «رد المحتار»: اختلفوا في سجود الملائكة، قيل: كان لله تعالى، والتوجه إلى آدم للتشريف كاستقبال الكعبة، وقيل: بل لآدم على وجه التحية والإكرام، ثم نسخ بقوله (عليه السلام) : لو أمرت أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها. «التاتارخانية».
قال في «تبيين المحارم»: والصحيح الثاني، ولم يكن عبادة له، بل تحِيَّةً وإكرامًا، ولذا امتنع عنه إبليس، وكان جائزا فيما مضى، كما في قصة يوسف. قال أبو منصور الماتريدي: وفيه دليل على نسخ الكتاب بالسنة.
Note 1
ف(1): شیخ لمعی شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لمعات میں لکھا ہے کہ حنفیہ کے
نزدیک ثابت ہے کہ حدیث بھی کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے، لہذا اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے ارشاد کلامی (میرے کلام) سے مراد وہ قول ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر وحی کے
اپنے اجتہاد اور رائے سے کہا ہے یعنی میرا ایسا کلام کلام اللہ کا ناسخ نہیں ہوتا۔
البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كنسخ القرآن“ جواز اس کے بعد والی حدیث میں
مذکور ہے اگر اس کے معنی مصدری کو مفعول کی طرف مضاف کر دیں تو اس معنی کے لحاظ سے حدیث کا ناسخ
قرآن ہونا ثابت ہوتا ہے اور اس صورت میں ”كنسخ القرآن“ کے معنی ”كنسخ الأحاديثِ
القرآنَ“ یعنی ”احادیث کا قرآن کو منسوخ کرنا ہوں گے“۔12
ف(2):(1) پہلی یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو (2) دوسرے یہ کہ ایک سنت کی
تنسیخ دوسری سنت سے ہو (3) تیسرے یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، سنت سے ہو (4) چوتھے یہ کہ سنت کی
تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مختلف فیہ صورت میں اختلاف کیا ہے، لہذا ان کے پاس دو ہی صورتیں
نسخ کی جائز ہوں گی: (1) ایک یہ کہ کتاب اللہ کی ایک آیت، کتاب اللہ کی دوسری آیت کو منسوخ کر دے
(2) دوسری صورت نسخ کی یہ ہوگی کہ ایک حدیث کے ذریعہ سے دوسری حدیث منسوخ قرار پائے۔
احناف کی دلیل یہ ہے چونکہ نسخ کے معنی حکم مطلق کی مدت کو بیان کرنا ہے کہ اس حکم کی مدت اتنی
تھی پس یہ جائز ہے کہ اللہ اپنے رسول کے کلام کی مدت بیان فرما دیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اپنے رب کے کلام کی مدت بیان کر دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كَلَامِي لَا يَنْسَخُ
كَلَامَ اللّٰهِ“ (میرا کلام، کلام اللہ کو منسوخ نہیں کرتا) گو مذہب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بظاہر تائید کرتا
ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہ منشاء ہے کہ جس چیز کو آپ بغیر وحی بطور اجتہاد یا
بطور رائے فرمائے ہوں وہ ناسخ قرآن نہیں ہے لیکن وہ احادیث جو وحی کے ذریعہ سے ثابت ہوئے ہیں
وہ کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے اور اس کی تائید ارشاد نبوی ”تنسخ القرآن“ سے ہوتی ہے۔
اس حدیث کے بعد والی حدیث (حدیث نمبر:201)(اِنَّ اَحَادِيْثَنَا يَنْسَخُ الخ) کا مطلب
یہ ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث بعض احادیث کو اسی طرح منسوخ کر دیتی ہیں جس
طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احادیث بعض قرآن کو منسوخ کرتی ہیں، تنسخ القرآن
میں (نسخ) مصدر کی اضافت قرآن کی جانب ہے، جو مفعول ہے اور فاعل ”احادیث“ ہے یعنی حدیث کو
قرآن کے لئے ناسخ کہا جائے گا۔
نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث سے کتاب اللہ کے منسوخ ہونے کی مثال یہ ہے: والدین اور
قرابت داروں کے لئے وصیت کا حکم قرآنی حکم تھا جو حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ“
(وارث کے لئے وصیت نہیں کرنا چاہئے) سے منسوخ ہو گیا، اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس حدیث سے
وصیت والی آیت کو جو منسوخ قرار دیا جا رہا ہے اس کی ناسخ تو دراصل آیت میراث ہے نہ کہ یہ حدیث، اس
کا جواب یہ ہے کہ منسوخ آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہے نہ کہ ورثاء کی مقدار میراث کا، تو آیت میراث
ایسی آیت کی ناسخ قرار نہیں پا سکتی جس آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہو، البتہ وہی حدیث جس میں صرف
وصیت کا ذکر ہے منسوخ آیت کی ناسخ ہو سکتی ہے۔
اس کی دوسری مثال قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”نَحْنُ مَعَاشِرُ الْاَنْبِيَاءِ لَا نُوْرَثُ“ ہے (ہم
انبیاء کی جماعت کسی کو وارث نہیں بناتے) یہ حدیث بھی آیت میراث کے ایک خاص حصہ کی جو نبیوں
سے متعلق ہے ناسخ ہوتی ہے اور باقی آیت اپنے حال پر رہے گی، اس دوسری مثال سے بھی حدیث کا
کلام اللہ کے لئے ناسخ ہونا ثابت ہوتا ہے، واضح باد ہو کہ یہ نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث کے ناسخ قرآن
ہونے کی مثالیں ہیں۔
نسخ کی دوسری قسم ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ كَلَامِيْ“ ہے یعنی اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ
کرتا ہے اور اس سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے اور نسخ کی اس دوسری قسم کی مثال یہ ہے: بیت
المقدس کی جانب رُخ کرنے کا حکم یوں منسوخ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی جانب رُخ کر کے نماز
اداء فرماتے تھے بعد ازاں بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اس پر قرآن کا کوئی حکم
موجود نہیں تھا اور پھر یہ عمل قول باری تعالیٰ ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (آپ اپنے
رخ کو مسجد حرام کی جانب کر دیجئے) (سورہ بقرہ، پ:2، ع:17، آیت نمبر:144) سے منسوخ ہوا۔
نسخ کی تیسری قسم کی مثال ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا“ (کلام اللہ کی بعض آیتیں
بعض آیات کو منسوخ کر دیتی ہیں) اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں اور اس کی مثال صلح کی آیات ہیں
جو جہاد کی آیتوں سے منسوخ ہو گئیں۔
اب رہ گئی چوتھی قسم، وہ نَسْخُ السُّنَّةِ بِالسُّنَّةِ ہے یعنی ایک حدیث سے دوسری حدیث منسوخ
پائے اور اس کے جائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ اس کی مثال حدیث شریف: ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ
زِيَارَةِ الْقُبُورِ اَلَا فَزُورُوهَا“ ہے (یعنی میں نے تم کو زیارت قبور کی ممانعت کی تھی اب زیارت کیا
کرو) اس حدیث شریف میں ناسخ اور منسوخ دونوں جمع ہیں، اور حدیث ”إِنَّ أَحَادِيثَنَا يَنْسَخُ بَعْضُهُ
بَعْضًا۔“ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حدیثیں ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں۔ (یہ مضامین نور
الانوار، قمر الاقمار، لمعات اور مرقات سے اخذ کئے گئے ہیں)۔12
ردالمحتار میں لکھا ہے کہ فرشتوں کے سجدہ کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے، ایک قول یہ
ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی جانب صرف رخ اور توجہ تھی، اور رخ
کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی بزرگی ثابت ہو، اور یہ حکم کعبہ کی
طرف رخ کرنے کی طرح ہے اور دوم قول یہ ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ تعظیمی
کیا لیکن یہ سجدہ تعظیمی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ
لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہے (یعنی اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ
کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے) (ماخوذ از تاتار خانیہ۔)
تبیین المحارم میں صراحت کی گئی ہے کہ فرشتوں کا سجدۂ آدم علیہ السلام کو بطور عبادت نہ تھا بلکہ
سجدۂ تعظیمی و توقیری تھا اور اسی لئے سجدہ سے ابلیس نے انکار کیا اور یہ سجدہ تعظیمی پہلے زمانہ میں جائز
تھا، چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین اور بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا سجدہ تعظیمی تھا۔
امام ابو منصور ماتریدی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت
یوسف علیہ السلام کے قصوں میں سجدہ تعظیمی کا جو جواز معلوم ہوتا تھا وہ مذکور الصدر حدیث ”لَوْ أَمَرْتُ
أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہوگیا۔ اس سے ظاہر
ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے۔12
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ میری بعض حدیثیں بعض کو منسوخ کردیتی ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح میری حدیثیں
قرآن کو منسوخ کردیتی ہیں۔ (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے)۔
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کئی فرائض فرض کئے ہیں بس تم ان کو ضائع نہ کرو، اور کئی چیزیں
حرام کی ہیں ان کا ارتکاب نہ کرو اور چند حدود مقرر فرمائے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، اور چند باتوں کے
بارے میں بلا کسی بھول کے سکوت فرمایا ہے، ان میں کرید نہ کرو۔ (دار قطنی نے اس کی روایت کی ہے)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: محکم سے مراد قرآن کی ایسی آیتیں ہیں جن کے معنوں میں کوئی اشتباہ نہ ہو جیسے ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّكٰوةَ﴾ (نماز پابندی سے باقاعدہ پڑھا کرو اور زکات ادا کرتے رہو) (سورہ بقرہ، پ:1، ع:5، آیت نمبر:43)۔ اور متشابہ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کے معنی خوب واضح نہ ہوں اور ان کے کئی معنی ہوسکتے ہیں، جیسے ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ (تمہارا پروردگار آیا) (سورہ فجر، پ:30، ع:1، آیت نمبر:22) وغیرہ۔12