Narrated Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There will come upon my Ummah what came upon the Children of Israel, so much so that if among them there was one who openly committed an immoral act with his mother, there will be among my Ummah those who do the same. The Children of Israel split into seventy-two sects, and my Ummah will split into seventy-three sects, all of them in the Fire except one." They asked: "Which one is that, O Messenger of Allah?" He replied: "The one I and my companions are upon." [Narrated by Tirmidhi]
And in the narration of Ahmad and Abu Dawood from Muawiyah: "Seventy-two of them will be in the Fire and one in Paradise, and that is the Jama'ah. And indeed, there will emerge from my Ummah some people who will be swept away by those desires, just as the dog is swept by its master, and not a single vein or joint will be left in them except that it will be affected."
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرور میری امت میں وہ تمام باتیں اس طرح پوری پوری ہوں گی جو بنی
اسرائیل میں ہوئی ہیں حتیٰ کہ اگر ان میں کا کوئی شخص علانیہ اپنی ماں سے زنا کا ارتکاب کیا ہوگا تو
میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو ایسا ہی کرے گا، اور بنی اسرائیل (72) فرقوں میں بٹ گئے اور
میری امت (73) تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی اور سوائے ایک فرقہ کے سب کے سب دوزخ میں
جائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ ایک نجات پانے والا فرقہ کونسا فرقہ ہوگا؟ فرمایا: وہی
فرقہ نجات پانے والا ہوگا جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
اور امام احمد اور ابوداؤد نے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے
کہ (72) بہتر فرقے تو آگ میں اور ایک فرقہ جنت میں ہوگا، اور وہ ایسی جماعت (یعنی سوادِ اعظم)
ہوگا جو کتاب و سنت پر قائم رہے گا اور عنقریب میری امت میں چند ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن میں
آہواء (یعنی نفسانی خواہشات) اس طرح سرایت کر جائیں گے جس طرح کہ کسی مریض میں مرض
کلب (کتے کاٹنے کی بیماری) سرایت کر جاتی ہے کہ کوئی رگ اور جوڑ ایسا نہیں ہوتا جس میں یہ
بیماری سرایت نہ کی ہو۔
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah will never unite my Ummah: or he said, the Ummah of Muhammad: on misguidance, and the hand of Allah is upon the Jama'ah, and whoever separates himself will be in the Fire."
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میری امت کو۔ یا یوں فرمایا کہ: امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گمراہی پر
جمع نہیں فرمائے گا اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے تو جو جماعت سے الگ ہوا وہ (جنتیوں کی جماعت
سے الگ کر کے) دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (ترمذی نے اس کی روایت کی ہے)۔
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Follow the larger group, for indeed, whoever separates himself will be in the Fire."
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑی جماعت کی اتباع کرو، اس لئے کہ جو جماعت سے جدا ہوا وہ تنہا آگ میں
ڈال دیا جائے گا۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "O my son, if you can wake up in the morning and evening without any malice in your heart towards anyone, then do so." Then he said: "O my son, this is part of my Sunnah, and whoever loves my Sunnah loves me, and whoever loves me will be with me in Paradise."
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ مجھ کو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہوا ہے کہ اے پیارے بیٹے! اگر تجھے اس بات پر قدرت ہو کہ تیری صبح وشام ایسی
گزرے کہ تیرے دل میں کسی کی نسبت کوئی برائی نہ آئے تو اس طرح گزار دے، پھر ارشاد ہوا: اے
بچے یہ میرا طریقہ ہے، جس نے میرے طریقہ کو پسند کیا اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست
رکھا وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever holds fast to my Sunnah at the time of corruption in my Ummah will have the reward of a hundred martyrs."
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: جو میری امت کے بگڑ جانے کے زمانہ میں میری سنت کا پابند رہا تو اس کو(100)
شہیدوں کا اجر ملے گا۔ (امام بیہقی نے اس کی روایت اپنی کتاب الزہد میں کی ہے)۔
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): When Umar (may Allah be pleased with him) came to the Prophet (ﷺ) and said: "We hear some narrations from the Jews that amaze us, do you think we should write some of them?" He (ﷺ) replied: "Are you trying to become like the Jews and Christians? I have brought to you something pure and clear. If Musa (Moses) were alive, he would have no choice but to follow me."
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا
کہ ہم یہود سے چند باتیں سنتے ہیں جو ہم کو پسند آتی ہیں، کیا آپ کی اجازت ہے کہ اس کو قلمبند
کرلیں، ارشاد ہوا: کیا تم یہود و نصاریٰ کی طرح حیران و سرگرداں ہو جس طرح کہ یہود و نصاریٰ
حیران ہوئے ہیں، میں تمہارے پاس روشن، واضح اور پاک و صاف دین لایا ہوں، اگر موسیٰ علیہ
السلام موجود ہوتے تو میری اتباع کے سوا ان کو کوئی چارہ کار نہ ہوتا۔ (اس کی روایت امام احمد نے اور
بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے)۔
Narrated Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever eats what is pure, works according to the Sunnah, and the people are safe from his evil, will enter Paradise." A man said: "O Messenger of Allah, this is rare among the people." He replied: "It will be common in the generations to come."
ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (1) پاک (یعنی حلال) غذا کھائے اور (2) سنت پر عمل کیا کرے
،اور (3) لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا، ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول
اللہ آج ایسے لوگ بہت ہیں، فرمایا: میرے بعد کے زمانوں میں بھی ایسے لوگ رہیں گے۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "You are living in a time where anyone who abandons one-tenth of what he has been commanded will perish, and then there will come a time where anyone who practices one-tenth of what he has been commanded will be saved."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے زمانہ میں ہو کہ اگر تم میں سے کوئی شخص بھی ان باتوں کا دسواں حصہ ترک
کر دے جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو وہ ہلاک ہوگا، پھر ایک زمانہ آئے گا کہ اس زمانہ میں جو شخص
ان باتوں کے دسویں حصہ پر عمل کرے گا جن کا اس کو حکم دیا گیا ہے تو وہ نجات پا لے گا۔ (اس کی
روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Narrated Abu Umama (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "A people will never go astray after having been guided except that they will engage in arguments." Then the Messenger of Allah (ﷺ) recited the verse: "They did not strike it for you except as an argument. Rather, they are a people of dispute." (Az-Zukhruf: 58)
ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو قوم بھی ہدایت پانے کے بعد گمراہ ہوئی ہے وہ صرف دین میں جھگڑنے کی
وجہ سے گمراہ ہوئی ہے، پھر آپ نے (سورۂ زخرف، آیت نمبر:58، پ:25، ع:6، کی) یہ
آیت ﴿مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا ، بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ﴾ تلاوت فرمائی۔
ترجمہ: ان لوگوں نے جو یہ (عجیب مضمون) بیان کیا ہے تو محض جھگڑا کرنے کے لئے بلکہ یہ
لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔ (اس کی روایت امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے)۔
Narrated Anas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) used to say: "Do not make things difficult for yourselves, for Allah will make things difficult for you. A people made things difficult for themselves, so Allah made things difficult for them. That is why their remnants are found in their monasteries and their homes, a form of monasticism they innovated, which We did not prescribe for them."
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
کرتے تھے کہ (دین کے بارے میں) اپنے اوپر سختی نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر سختی کرے گا، چنانچہ ایک
قوم نے اپنے اوپر سختی کر لی تو اللہ نے ان پر اس کو سخت ہی کر دیا، چنانچہ گرجا گھروں میں اور یہود کے
عبادت خانوں میں ان کے باقی ماندہ لوگ ہی تو ہیں کہ انہوں نے رہبانیت (دنیا سے بے تعلقی) کو
خود ایجاد کر لیا جس کو اللہ نے ان پر لازم نہیں کیا تھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے)۔
Narrated Abu Huraira (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Qur'an has descended in five ways: lawful, unlawful, clear, ambiguous, and parables. So, make the lawful lawful and the unlawful unlawful, act upon the clear verses, believe in the ambiguous ones, and take heed from the parables." This is the narration of Al-Masabih, and Al-Bayhaqi narrated it in "Shu'ab al-Iman" with the wording: "Act upon the lawful, avoid the unlawful, and follow the clear."
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کا نزول پانچ طرح پر ہوا ہے (1) حلال (2) حرام (3) محکم (4) متشابہ
(5) اور امثال۔ حلال کو حلال سمجھو اور حرام کو حرام، محکم آیتوں پر عمل کرو، اور متشابہ آیتوں پر ایمان لاؤ، اور
امثال (یعنی گزری ہوئی امتوں کے قصوں) سے عبرت حاصل کرو (یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور بیہقی نے
شعب الایمان میں جو روایت کی ہے وہ یہ ہے کہ حلال پر عمل کرو اور حرام سے بچو اور محکم کی اتباع کرو)۔
ف: محکم سے مراد قرآن کی ایسی آیتیں ہیں جن کے معنوں میں کوئی اشتباہ نہ ہو جیسے
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّكٰوةَ﴾ (نماز پابندی سے باقاعدہ پڑھا کرو اور زکات ادا کرتے
رہو) (سورہ بقرہ، پ:1، ع:5، آیت نمبر:43)۔
اور متشابہ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کے معنی خوب واضح نہ ہوں اور ان کے کئی معنی ہوسکتے ہیں،
جیسے ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ (تمہارا پروردگار آیا) (سورہ فجر، پ:30، ع:1، آیت نمبر:22) وغیرہ۔12
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "There are three types of matters: a matter whose right is clear, so follow it; a matter whose wrong is clear, so avoid it; and a matter about which there is disagreement, so leave it to Allah, the Almighty."
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حکم تین طرح کے ہیں: (1) وہ حکم جس کی ہدایت ظاہر ہے تو اس کی پیروی کیا
کرو (جیسے نماز و زکات کا حکم) (2) وہ حکم جس کی گمراہی ظاہر ہے تو اس سے بچتے رہو (جیسے زنا)
(3) وہ حکم جس میں اختلاف کیا گیا ہے تو اس کو اللہ عزوجل کے سپرد کردو (جیسے قیامت کے دن کا
تعین) وغیرہ۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Narrated Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Satan is like a wolf to the human being, just as a wolf is to the sheep. He takes the stray, the isolated, and the weak. Beware of the paths of misguidance, and adhere to the community and the common folk."
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کا ایسا بھیڑیا ہے جس طرح بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے کہ وہ
اکیلی دور رہنے والی اور کنارے پر چرنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے تو تم شاہراہ اسلام کو چھوڑ کر گمراہی کی
گھاٹیوں سے بچو، اور تم لازم کر لو جماعت کو اور جمہور کو (یعنی چھوٹے چھوٹے فرقوں میں نہ بٹ
جاؤ)۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Narrated Abu Dharr (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever separates from the congregation by a handspan has removed the yoke of Islam from his neck."
ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت بھی جماعت سے جدا ہو جائے تو اس نے اسلام کا طوق اپنی
گردن سے اتار دیا۔ (اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے)۔
Narrated Malik ibn Anas (may Allah be pleased with him) as a mursal report: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "I have left among you two matters, as long as you hold fast to them, you will never go astray: the Book of Allah and the Sunnah of His Messenger." [Narrated in "Al-Muwatta."
مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بطور مرسل روایت ہے انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں ایسی دو باتیں چھوڑ رہا ہوں، جب تک تم ان پر عمل کرتے
رہو گے گمراہ نہ ہو گے (1) ایک اللہ کی کتاب (2) دوسرے اس کے رسول کی سنت۔ (اس کی روایت
موطا میں اسی طرح ہے۔)
Narrated Ghudayfah ibn al-Harith al-Thamali (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "No people have innovated a bid'ah (innovation) except that something similar to it is removed from the Sunnah. So adhering to the Sunnah is better than innovating a bid'ah."
غُضَیْفُ بْنُ حَارِثٍ ثُمَالِی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کبھی کسی قوم نے دین میں نئی بات نکال لی تو اتنی ہی سنت اٹھالی جاتی
ہے، لہذا سنت پر عمل کرنا بدعت کے ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے)۔
Narrated Hassan (may Allah be pleased with him): "No people have innovated a bid'ah in their religion except that Allah removes something of the Sunnah similar to it, and then does not restore it to them until the Day of Judgment."
حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب کبھی کسی قوم نے
اپنے دین میں نئی بات ایجاد کرلی تو اللہ اتنی سنت ان سے اٹھا لیتے ہیں، جس کو پھر قیامت تک ان کے
پاس واپس نہیں فرماتے۔ (دارمی نے اس کی روایت کی ہے)۔
ابراہیم بن میسرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی بدعتی کی تعظیم کی تو اس نے اسلام کے ڈھا دینے میں مدد کی۔ (امام
بیہقی نے شعب الایمان میں اس کی روایت بطور ارسال کی ہے)۔
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with him): "Whoever learns the Book of Allah, then follows what is in it, Allah will guide him from misguidance in this world, and protect him from the evil reckoning on the Day of Judgment." In another narration, he said: "Whoever follows the Book of Allah will not go astray in this world nor will he be miserable in the Hereafter," then he recited the verse: {And whoever follows My guidance will not go astray and will not be miserable} (Taha: 123).
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی
کتاب کی تعلیم پائی پھر اس کے احکام کی تعمیل کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کو گمراہی سے بچائیں گے اور
قیامت میں اس کو بُرے حساب سے محفوظ رکھیں گے۔
اور ایک دوسری روایت میں (ایسا بھی) آیا ہے کہ جس نے اللہ کی کتاب کی پیروی کی
تو وہ دنیا میں گمراہ نہ ہوگا اور آخرت میں بدنصیب نہ ہوگا پھر آپ نے (سورہ طہ، آیت نمبر: 123، پ:
16، ع: 7 کی) یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ﴾۔
(ترجمہ: تم میں جو کوئی میری اس ہدایت یعنی قرآن اور سنت کا اتباع کرے تو وہ نہ دنیا میں گمراہ
ہوگا اور نہ آخرت میں بدنصیب۔ (اس کی روایت رزین نے کی ہے۔)
Narrated Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Allah has set forth a parable of a straight path. On both sides of the path, there are two walls, and within them are open doors with curtains hanging over them. At the head of the path, there is a caller who says: 'Stay straight on the path and do not deviate.' Above that, there is another caller who calls: 'Whenever a servant is about to open one of these doors, he is warned: 'Woe to you! Do not open it, for if you open it, you will enter.'" Then the Messenger of Allah (ﷺ) explained: "The path is Islam, the open doors represent the prohibitions of Allah, the curtains are the limits set by Allah, the caller at the head of the path is the Qur'an, and the caller from above is the admonisher of Allah in the heart of every believer."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی ایک مثال اس طرح بیان کی ہے کہ ایک سیدھی راہ
ہے، اور اس کے ہر دو جانب دو دیواریں ہیں، جس میں دروازے کھلے ہوئے ہیں اور دروازوں پر
پردے لٹکے ہوئے ہیں، سر راہ ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ سیدھی راہ پر قائم رہو، اور ٹیڑھی راہ نہ چلو
(یعنی دائیں اور بائیں جو دروازے ہیں ان کا رخ نہ کرو) اور اس سیدھے راستے پر ایک اور پکارنے
والا یہ بھی پکار رہا ہے، جب بھی بندہ ان دروازوں میں سے کسی کو کھولنا چاہتا ہے (وہی پکارنے والا کہتا
ہے) افسوس اس کو نہ کھول، اگر تو اس کو کھول دے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا۔ پھر اس کی آپ نے تفسیر
یوں فرمائی اور فرمایا کہ صراط سے مراد اسلام ہے، اور کھلے دروازے اللہ کے محارم (یعنی حرام کردہ چیزیں)
ہیں اور لٹکے ہوئے پردے اللہ کے حدود ہیں، راستہ پر کھڑا ہو کر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر جو
دوسرا پکارنے والا ہے وہ اللہ کا واعظ ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے (جو ہر برائی کے وقت اس کو اس سے
روکتا ہے مگر یہ اس کی سن کر اس میں مبتلا ہوجاتا ہے)۔ (اس کی روایت ”رزین“ نے کی ہے)۔
اور امام احمد اور امام بیہقی نے ”شعب الایمان“ میں حضرت نواس بن سمعان
سے اس کی روایت کی ہے اور ترمذی میں اسی کا اختصار ہے۔
Narrated Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him): "Whoever seeks to follow a good example should follow those who have passed away, for the living are not safe from trials. Those who were companions of Muhammad (ﷺ) were the best of this nation: they had the purest hearts, the deepest knowledge, and the least affectation. Allah chose them for the companionship of His Prophet and for the establishment of His religion. Recognize their virtue, follow their example, and cling to as much as you can of their character and way of life, for they were on the straight path."
ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جو شخص کسی
طریقہ پر چلنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ ان لوگوں کے طریقہ پر چلے جو اس دنیا سے گزر گئے ہیں
کیوں کہ زندہ شخص کا فتنہ سے بچنا دشوار ہے، اور یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) ہیں
جو اس امت میں افضل تھے، جن کے دل نہایت نیک اور جن کا علم بہت وسیع تھا اور جو تکلف سے دور
تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و رفاقت اور دین کے قیام کے لئے منتخب
فرمایا تھا، ان کی فضیلت کو سمجھو، ان کے نقش قدم پر چلو اور جس قدر ہوسکے ان کے اخلاق و سیرت کو
اختیار کرو کہ وہ حضرات راہ راست اور ہدایت مستقیم پر تھے۔ (اس کی روایت رزین نے کی ہے)۔
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) brought a copy of the Torah to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: "O Messenger of Allah, this is a copy of the Torah." The Prophet (ﷺ) remained silent, and his face began to change. Abu Bakr (may Allah be pleased with him) said: "May your mother grieve for you! Do you not see what is happening on the face of the Messenger of Allah?" Umar (may Allah be pleased with him) then looked at the face of the Prophet (ﷺ) and said: "I seek refuge in Allah from His anger and the anger of His Messenger. We are pleased with Allah as our Lord, with Islam as our religion, and with Muhammad as our Prophet." The Prophet (ﷺ) then said: "By Him in Whose hand is the soul of Muhammad, if you had followed Moses and left me, you would have gone astray from the right path. And if Moses were alive and had reached my prophethood, he would have certainly followed me."
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ عمر بن الخطاب رضی اللہ
تعالیٰ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لے جا کر حاضر ہوئے اور عرض
کیا: یا رسول اللہ! یہ تورات کا ایک نسخہ ہے تو آپ نے سکوت فرمایا، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو پڑھنا
شروع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (غصہ سے) متغیر ہو رہا تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ
عنہ نے فرمایا: اے عمر (رضی اللہ عنہ) تجھ پر ہے ”ثَكَلَتْكَ الثَّوَاكِلُ“ (یہ جملہ مقام تعجب میں کہا
جاتا ہے) کیا تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کے تغیر کو نہیں دیکھ رہے ہو؟ عمر رضی اللہ
عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو دیکھا اور کہا میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں، اس
کے غضب سے اور اس کے رسول کے غضب سے، ہم اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے
پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس
ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، اگر موسیٰ علیہ السلام تم میں
ظاہر ہوتے اور تم ان کی پیروی کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے تو تم راہ راست سے گمراہ ہو جاتے اور اگر
موسیٰ علیہ السلام موجود ہوتے اور میری نبوت کو پاتے تو وہ بھی صرف میری پیروی کرتے (اس کی
روایت دارمی نے کی ہے)۔
Narrated Jabir (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (ﷺ) said: "My words do not abrogate the words of Allah, and the words of Allah abrogate my words, and the words of Allah abrogate some of each other." [Narrated by al-Daraqutni]
The scholar in "Al-Lam'aat" explained that according to the Hanafi school, this hadith refers to words that are opinions or ijtihad of the Prophet (ﷺ), not the Qur'an itself. The concept of abrogation here does not necessarily apply to the Qur'an alone but also to the prophetic sayings in the context of legal rulings.
The discussion you've shared elaborates on the concept of abrogation (نسخ) in Islamic jurisprudence, particularly with reference to the Qur'an and the Sunnah (Prophet’s sayings). It explains that both the Qur'an and the Sunnah can abrogate each other, and there are four possible combinations of abrogation: Qur'an abrogating the Qur'an, Sunnah abrogating the Sunnah, Qur'an abrogating Sunnah, and Sunnah abrogating Qur'an. This is a point of difference with the Shafi'i school, which holds that only the Qur'an can abrogate the Qur'an, and only the Sunnah can abrogate the Sunnah.
The hadith "My words do not abrogate the words of Allah" refers to the Prophet (ﷺ) mentioning his personal opinions or ijtihad (reasoning). These personal opinions are not considered as abrogating the Qur'an, but the Sunnah, when firmly established by revelation, can abrogate certain verses of the Qur'an.
Examples of abrogation include the direction of prayer (Qibla), where initially the Prophet directed prayers towards Jerusalem but later the Qur'an abrogated that ruling, directing prayers towards Makkah. Another example is the changing ruling on visiting graves, where the Prophet initially prohibited it but later permitted it.
The conversation also touches on how the Sunnah and Qur'an work together, with the Prophet’s words and actions complementing the Qur’an, sometimes explaining it in greater detail or abrogating or modifying certain earlier laws.
There is also a clarification on the issue of prostration (Sujood). The original practice of prostrating to Adam (عليه السلام) by the angels was for honor, not worship. Later, this practice was abrogated, and a new rule was established where, if prostration was to occur, it would be for a wife to show respect and honor to her husband.
This discussion highlights the depth of Islamic legal thought, where rulings evolve over time based on both the Qur'an and Sunnah, ensuring they suit the changing circumstances of society.
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا لیکن اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے۔ (اس کی
روایت دارقطنی نے کی ہے)۔
(1) قوله: كلامي لا ينسخ كلام الله إلخ إنما يجوز النسخ بالكتاب والسنة متفقا ومختلفًا، فيجوز نسخ الكتاب بالكتاب والسنة، وكذا يجوز نسخ السنة بالسنة والكتاب، فهي أربع صور عندنا أي نسخ الكتاب بالكتاب، ونسخ السنة بالسنة، ونسخ الكتاب بالسنة، ونسخ السنة بالكتاب، خلافًا للشافعي في المختلف، فلا يجوز عنده إلا نسخ الكتاب بالكتاب والسنة بالسنة. قلنا: لما كان النسخ بيان مدة الحكم المطلق، جاز أن يبيّن الله مدة كلام رسوله، أو رسوله مدة كلام ربه.
وقوله : «كلامي لا ينسخ كلام الله يؤيد ظاهرا مذهب الشافعي، ولكن المراد به ما أقوله اجتهادا أو رأيا، هذا كلامه لا ينسخ كلام الله، وغيره من الأحاديث الثابتة بالوحي يكون ناسخًا للكتاب، ويؤيده قوله : كنسخ القرآن في الحديث الآتي على معنى نسخ الأحاديث القرآن بإضافة المصدر إلى المفعول، فمثاله: نسخ الوصية للوالدين والأقربين بقوله (عليه السلام): لا وصية لوارث. وأجيب بأن الناسخ إنما هو آية الميراث، وفيه بحث؛ إذ الكلام في الوصية لا في مقدار الموصى به. ومن هذا القبيل قوله (عليه السلام): نحن معاشر الأنبياء لا نورث. هذا هو النوع الأول.
والنوع الثاني: وكلام الله ينسخ كلامي، وهذا يؤيد مذهب أبي حنيفة في الجواز، خلافًا للشافعي. ومثاله: نسخ التوجه إلى بيت المقدس؛ فإنه ﷺ كان متوجها إلى الكعبة، ثم تحوّل إلى بيت المقدس بالسنة، ثم نسخ بقوله تعالى: {فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} (البقرة: ١٤٤).
والنوع الثالث: «وكلام الله ينسخ بعضه بعضا»، وهذا لا خلاف فيه، كآيات المسالمة بآيات القتال.
بقي في الحديث قسم رابع، وهو نسخ السنة بالسنة، وجوازه متفق عليه. مثاله: كنت نهيتكم عن زيارة القبور، ألا فزوروها.
فاجتمع في هذا الحديث الناسخ والمنسوخ، وهو مستفاد من الحديث الآتي، وهو قوله : «أحاديثنا ينسخ بعضها بعضًا». التقطته من «نور الأنوار» و«قمر الأقمار» و«اللمعات» و «المرقاة».
وقال في «رد المحتار»: اختلفوا في سجود الملائكة، قيل: كان لله تعالى، والتوجه إلى آدم للتشريف كاستقبال الكعبة، وقيل: بل لآدم على وجه التحية والإكرام، ثم نسخ بقوله (عليه السلام) : لو أمرت أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها. «التاتارخانية».
قال في «تبيين المحارم»: والصحيح الثاني، ولم يكن عبادة له، بل تحِيَّةً وإكرامًا، ولذا امتنع عنه إبليس، وكان جائزا فيما مضى، كما في قصة يوسف. قال أبو منصور الماتريدي: وفيه دليل على نسخ الكتاب بالسنة.
Note 1
ف(1): شیخ لمعی شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لمعات میں لکھا ہے کہ حنفیہ کے
نزدیک ثابت ہے کہ حدیث بھی کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے، لہذا اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کے ارشاد کلامی (میرے کلام) سے مراد وہ قول ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر وحی کے
اپنے اجتہاد اور رائے سے کہا ہے یعنی میرا ایسا کلام کلام اللہ کا ناسخ نہیں ہوتا۔
البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كنسخ القرآن“ جواز اس کے بعد والی حدیث میں
مذکور ہے اگر اس کے معنی مصدری کو مفعول کی طرف مضاف کر دیں تو اس معنی کے لحاظ سے حدیث کا ناسخ
قرآن ہونا ثابت ہوتا ہے اور اس صورت میں ”كنسخ القرآن“ کے معنی ”كنسخ الأحاديثِ
القرآنَ“ یعنی ”احادیث کا قرآن کو منسوخ کرنا ہوں گے“۔12
ف(2):(1) پہلی یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو (2) دوسرے یہ کہ ایک سنت کی
تنسیخ دوسری سنت سے ہو (3) تیسرے یہ کہ کتاب اللہ کی تنسیخ، سنت سے ہو (4) چوتھے یہ کہ سنت کی
تنسیخ، کتاب اللہ سے ہو۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے مختلف فیہ صورت میں اختلاف کیا ہے، لہذا ان کے پاس دو ہی صورتیں
نسخ کی جائز ہوں گی: (1) ایک یہ کہ کتاب اللہ کی ایک آیت، کتاب اللہ کی دوسری آیت کو منسوخ کر دے
(2) دوسری صورت نسخ کی یہ ہوگی کہ ایک حدیث کے ذریعہ سے دوسری حدیث منسوخ قرار پائے۔
احناف کی دلیل یہ ہے چونکہ نسخ کے معنی حکم مطلق کی مدت کو بیان کرنا ہے کہ اس حکم کی مدت اتنی
تھی پس یہ جائز ہے کہ اللہ اپنے رسول کے کلام کی مدت بیان فرما دیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اپنے رب کے کلام کی مدت بیان کر دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ”كَلَامِي لَا يَنْسَخُ
كَلَامَ اللّٰهِ“ (میرا کلام، کلام اللہ کو منسوخ نہیں کرتا) گو مذہب امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی بظاہر تائید کرتا
ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہ منشاء ہے کہ جس چیز کو آپ بغیر وحی بطور اجتہاد یا
بطور رائے فرمائے ہوں وہ ناسخ قرآن نہیں ہے لیکن وہ احادیث جو وحی کے ذریعہ سے ثابت ہوئے ہیں
وہ کتاب اللہ کی ناسخ ہوتی ہے اور اس کی تائید ارشاد نبوی ”تنسخ القرآن“ سے ہوتی ہے۔
اس حدیث کے بعد والی حدیث (حدیث نمبر:201)(اِنَّ اَحَادِيْثَنَا يَنْسَخُ الخ) کا مطلب
یہ ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احادیث بعض احادیث کو اسی طرح منسوخ کر دیتی ہیں جس
طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض احادیث بعض قرآن کو منسوخ کرتی ہیں، تنسخ القرآن
میں (نسخ) مصدر کی اضافت قرآن کی جانب ہے، جو مفعول ہے اور فاعل ”احادیث“ ہے یعنی حدیث کو
قرآن کے لئے ناسخ کہا جائے گا۔
نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث سے کتاب اللہ کے منسوخ ہونے کی مثال یہ ہے: والدین اور
قرابت داروں کے لئے وصیت کا حکم قرآنی حکم تھا جو حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ“
(وارث کے لئے وصیت نہیں کرنا چاہئے) سے منسوخ ہو گیا، اس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اس حدیث سے
وصیت والی آیت کو جو منسوخ قرار دیا جا رہا ہے اس کی ناسخ تو دراصل آیت میراث ہے نہ کہ یہ حدیث، اس
کا جواب یہ ہے کہ منسوخ آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہے نہ کہ ورثاء کی مقدار میراث کا، تو آیت میراث
ایسی آیت کی ناسخ قرار نہیں پا سکتی جس آیت میں صرف وصیت کا ذکر ہو، البتہ وہی حدیث جس میں صرف
وصیت کا ذکر ہے منسوخ آیت کی ناسخ ہو سکتی ہے۔
اس کی دوسری مثال قول نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”نَحْنُ مَعَاشِرُ الْاَنْبِيَاءِ لَا نُوْرَثُ“ ہے (ہم
انبیاء کی جماعت کسی کو وارث نہیں بناتے) یہ حدیث بھی آیت میراث کے ایک خاص حصہ کی جو نبیوں
سے متعلق ہے ناسخ ہوتی ہے اور باقی آیت اپنے حال پر رہے گی، اس دوسری مثال سے بھی حدیث کا
کلام اللہ کے لئے ناسخ ہونا ثابت ہوتا ہے، واضح باد ہو کہ یہ نسخ کی پہلی قسم یعنی حدیث کے ناسخ قرآن
ہونے کی مثالیں ہیں۔
نسخ کی دوسری قسم ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ كَلَامِيْ“ ہے یعنی اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ
کرتا ہے اور اس سے مذہب حنفی کی تائید ہوتی ہے اور نسخ کی اس دوسری قسم کی مثال یہ ہے: بیت
المقدس کی جانب رُخ کرنے کا حکم یوں منسوخ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی جانب رُخ کر کے نماز
اداء فرماتے تھے بعد ازاں بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز پڑھنے لگے اور اس پر قرآن کا کوئی حکم
موجود نہیں تھا اور پھر یہ عمل قول باری تعالیٰ ﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾ (آپ اپنے
رخ کو مسجد حرام کی جانب کر دیجئے) (سورہ بقرہ، پ:2، ع:17، آیت نمبر:144) سے منسوخ ہوا۔
نسخ کی تیسری قسم کی مثال ”وَكَلَامُ اللّٰهِ يَنْسَخُ بَعْضُهُ بَعْضًا“ (کلام اللہ کی بعض آیتیں
بعض آیات کو منسوخ کر دیتی ہیں) اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں اور اس کی مثال صلح کی آیات ہیں
جو جہاد کی آیتوں سے منسوخ ہو گئیں۔
اب رہ گئی چوتھی قسم، وہ نَسْخُ السُّنَّةِ بِالسُّنَّةِ ہے یعنی ایک حدیث سے دوسری حدیث منسوخ
پائے اور اس کے جائز ہونے پر سب کا اتفاق ہے۔ اس کی مثال حدیث شریف: ”كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ
زِيَارَةِ الْقُبُورِ اَلَا فَزُورُوهَا“ ہے (یعنی میں نے تم کو زیارت قبور کی ممانعت کی تھی اب زیارت کیا
کرو) اس حدیث شریف میں ناسخ اور منسوخ دونوں جمع ہیں، اور حدیث ”إِنَّ أَحَادِيثَنَا يَنْسَخُ بَعْضُهُ
بَعْضًا۔“ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حدیثیں ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں۔ (یہ مضامین نور
الانوار، قمر الاقمار، لمعات اور مرقات سے اخذ کئے گئے ہیں)۔12
ردالمحتار میں لکھا ہے کہ فرشتوں کے سجدہ کے بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے، ایک قول یہ
ہے کہ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی جانب صرف رخ اور توجہ تھی، اور رخ
کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس سے حضرت آدم علیہ السلام کی بزرگی ثابت ہو، اور یہ حکم کعبہ کی
طرف رخ کرنے کی طرح ہے اور دوم قول یہ ہے کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ تعظیمی
کیا لیکن یہ سجدہ تعظیمی کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ
لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہے (یعنی اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ
کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے) (ماخوذ از تاتار خانیہ۔)
تبیین المحارم میں صراحت کی گئی ہے کہ فرشتوں کا سجدۂ آدم علیہ السلام کو بطور عبادت نہ تھا بلکہ
سجدۂ تعظیمی و توقیری تھا اور اسی لئے سجدہ سے ابلیس نے انکار کیا اور یہ سجدہ تعظیمی پہلے زمانہ میں جائز
تھا، چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کے والدین اور بھائیوں کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا سجدہ تعظیمی تھا۔
امام ابو منصور ماتریدی رحمة اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ قرآن میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت
یوسف علیہ السلام کے قصوں میں سجدہ تعظیمی کا جو جواز معلوم ہوتا تھا وہ مذکور الصدر حدیث ”لَوْ أَمَرْتُ
أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا“ سے منسوخ ہوگیا۔ اس سے ظاہر
ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کو منسوخ کرسکتی ہے۔12
Ibn Umar (may Allah be pleased with both of them) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, some of our sayings abrogate others, just as the Qur'an abrogates itself."
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا کہ میری بعض حدیثیں بعض کو منسوخ کردیتی ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح میری حدیثیں
قرآن کو منسوخ کردیتی ہیں۔ (اس کی روایت دار قطنی نے کی ہے)۔
Abu Tha'labah Al-Khushani (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, Allah has prescribed obligations, so do not neglect them. He has set limits, so do not transgress them. He has forbidden certain things, so do not violate them. And He has remained silent about some matters out of mercy and not forgetfulness, so do not probe into them."
ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کئی فرائض فرض کئے ہیں بس تم ان کو ضائع نہ کرو، اور کئی چیزیں
حرام کی ہیں ان کا ارتکاب نہ کرو اور چند حدود مقرر فرمائے ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، اور چند باتوں کے
بارے میں بلا کسی بھول کے سکوت فرمایا ہے، ان میں کرید نہ کرو۔ (دار قطنی نے اس کی روایت کی ہے)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: محکم سے مراد قرآن کی ایسی آیتیں ہیں جن کے معنوں میں کوئی اشتباہ نہ ہو جیسے ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّكٰوةَ﴾ (نماز پابندی سے باقاعدہ پڑھا کرو اور زکات ادا کرتے رہو) (سورہ بقرہ، پ:1، ع:5، آیت نمبر:43)۔ اور متشابہ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کے معنی خوب واضح نہ ہوں اور ان کے کئی معنی ہوسکتے ہیں، جیسے ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ (تمہارا پروردگار آیا) (سورہ فجر، پ:30، ع:1، آیت نمبر:22) وغیرہ۔12