Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(وہ کتاب جس میں طہارت کے احکام ہیں) · Chapter 9

(یہ باب ہے نجاستوں کے پاک کرنے کے بیان میں)

59 narrations · In source reading order

Hadith 597a

Volume 1

This language is not yet available for this narration.

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1729 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4127 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3613 (unverified) 90% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 4249 (unverified) 78% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 599

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 674
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا کہ جب چمڑے کو دباغت دی جاتی ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت مسلم اور امام محمد نے کی ہے اور امام طحاوی سے بھی اسی طرح مروی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 366a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 600

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 675
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جب مردار جانور کے چمڑے کو دباغت دی جائے اس کے استعمال سے فائدہ اٹھایا جائے۔ (اس کی روایت امام مالک، ابوداؤد اور امام محمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4124 (unverified) 85% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 601

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 676
سلمہ بن المحبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوک میں ایک گھر پر تشریف فرما ہوئے تو اس میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، آپ نے پانی مانگا، گھر والوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مشکیزہ مردہ جانور کے چمڑے کا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دباغت اس کو پاک کرنے والی ہے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور امام طحاوی نے کی ہے اور تلخیص میں مذکور ہے کہ اس کی اسناد صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4125 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 602

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 677
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس چمڑے کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔ (اس کی روایت ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ترمذی، طحاوی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1728 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3609 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 605

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 680
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی ایک بکری مرگئی، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مرگئی ہے یعنی بکری، آپ نے ارشاد فرمایا کیوں تم نے اس کے چمڑے کو نہیں لیا، سودہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ہم کیسے ایسی بکری کے چمڑے کو لے سکتے تھے جو مردار ہوگئی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ انعام کی آیت (پ:8، سورہ انعام، ع18، آیت نمبر:145 میں) (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان لوگوں سے کہو کہ کوئی (ان چیزوں میں سے جن کو تم حرام کہتے ہو) کچھ کھالے تو میری طرف جو وحی آئی ہے اس میں تو میں اس پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت ہو کہ یہ چیزیں بے شک ناپاک ہیں،) اس لئے اگر تم اس کو (یعنی مری ہوئی بکری کے چمڑے کو) دباغت دے دیتے اور اس سے نفع اٹھاتے تو کوئی حرج نہیں تھا۔ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آدمی روانہ کردیا اور کھال کھچوا کر منگالی اور اس کو دباغت دلوا کر اس سے مشکیزہ بنوالیا اور وہ استعمال میں رہا یہاں تک کہ وہ پھٹ گیا۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے، اور امام احمد نے اسناد صحیح سے روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Musnad Ahmad 3027 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 606

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 681
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے چند قریش کے لوگ اپنی ایک مری ہوئی بکری کو جو گدھے کی طرح پھول گئی تھی کھینچتے ہوئے لے جارہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کاش تم اس کے چمڑے کو لے لیتے، ان لوگوں نے جواب دیا کہ وہ مردار ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو پانی اور کیکر پاک کردیتے ہیں (اور یہ بھی دباغت کی ایک قسم ہے)۔ (اس کی روایت امام احمد ابوداؤد اور طحاوی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4126 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 607

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 682
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مردار جانور کے چمڑے کے استعمال سے جب اسے دباغت دی جائے تو فائدہ اٹھاؤ خواہ دباغت مٹی سے دی گئی ہو یا راکھ سے یا نمک سے یا ایسی کسی چیز سے دباغت دی گئی ہو کہ جس سے چمڑے میں صلاحیت پیدا ہوجائے۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)

Note 1

or whatever it is

(1) The phrase "or whatever it is" refers to the tanning process. In "Radd al-Muhtar," it is mentioned that tanning can be done using sunlight or similar methods, referred to as "tanning by judgment." This points to a difference with Imam Shafi'i's opinion, and the indication is that there is no difference between the two types of tanning in their rulings, except for one. According to the "al-Bahr," the only distinction is that if the leather undergoes real tanning, it doesn't return to being impure even if water touches it afterward, which is agreed upon in all narrations. However, for "tanning by judgment," there are two views. The stronger opinion is that it does not return to being impure, as stated in "Qahistani" from the "Mudammirat." The difference in opinion in "Mukharrarat al-Nazil" is limited to cases where the tanning by judgment happens before washing with water; if it happens after washing, then there is no disagreement that the impurity doesn't return.

Note 1

قوله

(۱) قوله : أو ما كان : وقال في رد المحتار: ولو بشمس أي ونحوه من الدباغ الحكمي. وأشار به إلى خلاف الإمام الشافعي، وإلى أنه لا فرق بين نوعي الدباغة في سائر الأحكام. قال في البحر»: إلا في حكم واحد، وهو أنه لو أصابه الماء بعد الدباغ الحقيقي لا يعود نجسا باتفاق الروايات، وبعد الحكمي فيه روايتان. اهـ والأصح عدم العود، قهستاني» عن «المضمرات». وقيد الخلاف في مختارات النازل بما إذا دبغ بالحكمي قبل الغسل بالماء، قال: فلو بعده لا تعود نجاسته اتفاقا.

Note 1

ف: چمڑے سے اس کی بدبو اور ناپاک رطوبتوں کے دور کرنے کو دباغت کہتے ہیں، واضح رہے کہ دباغت کی دو قسمیں ہیں (1) حقیقی (2) حکمی۔ دباغت حقیقی یہ ہے کہ چمڑے کو دواؤں کے ذریعہ مثلاً نمک، انار کے چھلکے، مازو اور کیکر یعنی ببول کے پتوں سے پاک کیا جائے، اور دباغت حکمی یہ ہے کہ چمڑے کو دھوپ میں اس طرح تپایا جائے یا مٹی اور راکھ میں اس طرح روندا جائے کہ اس کی بدبو اور رطوبت دور ہوجائے۔ دباغت حقیقی سے چمڑا ہمیشہ کے لئے پاک ہوجاتا ہے اور اس کی نجاست پھر عود نہیں کرتی البتہ دباغت حکمی میں اختلاف ہے اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ سے دو روایتیں منقول ہیں: ایک یہ کہ نجس رطوبت پانی کی تری کی وجہ سے عود کر جائے گی تو چمڑا پھر نجس ہوجاتا ہے، دوسری روایت یہ ہے کہ دباغت حکمی کے بعد چمڑا دوبارہ پانی میں تر ہوجائے اور رطوبت ظاہر ہوجائے تو یہ رطوبت جو ظاہر ہوئی ہے اصلی پہلے کی رطوبت نہیں ہے کیوں کہ چمڑے کی اصلی رطوبت دھوپ یا مٹی یا راکھ سے جاچکی تھی اس وجہ سے چمڑے کو نجس نہیں قرار دیا جاسکتا اور اسی دوسرے قول پر (جس سے چمڑے کا پاک رہنا ثابت ہوتا ہے) فتویٰ ہے۔ (شرح وقایہ، عمدۃ الرعایہ، غیاث اللغات۔) البتہ ”مختارات النوازل“ میں یہ صراحت ہے کہ دباغت حکمی میں اگر چمڑے کو دباغت سے پہلے پانی سے دھولیا جائے اور پھر دھوپ یا مٹی یا راکھ کے ذریعہ دباغت دی جائے تو چمڑے کی نجاست بالاتفاق عود نہیں کرے گی اور یہ دباغت حکمی دباغت حقیقی کے مثل ہوجائے گی۔ 12

Hadith 608

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 683
ابراہیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہر ایسی چیز جو چمڑے کو خراب ہونے سے روک دے تو یہی اس کے لئے دباغت ہے۔ (اس کی روایت امام محمد نے کتاب الآثار میں کی ہے۔)

Hadith 609

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 684
عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردہ جانور کے صرف گوشت کو حرام قرار دیا ہے مگر چمڑا (جس کو دباغت دی گئی ہو) بال اور اون ان سب کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)

Hadith 610

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 685
عبیداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (سورہ انعام، آیت نمبر:145، پ:8 ،ع:18 کی اس آیت کو) ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ﴿قُلْ لَّا أَجِدُ فِىْ مَا أُوْحِىَ إِلَىَّ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ان لوگوں سے کہو کہ کوئی ان چیزوں میں سے جن کو تم حرام کئے ہو کچھ کھالے تو میری طرف جو وحی آئی ہے اس میں تو میں اس پر تو کوئی چیز حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ وہ چیز مردار ہو یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں بیشک ناپاک ہیں،) واضح رہے کہ مردہ جانور کی ہر چیز حلال ہے مگر اس کو کھانا حرام ہے تو چمڑا، سینگ، بال، اون، دانت اور ہڈی یہ سب حلال ہیں، اس لئے کہ ان چیزوں کو ذبح سے کوئی تعلق نہیں ہے، (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔)

Hadith 612

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 687
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج میں جمرات پر کنکریاں پھینکنے سے فارغ ہوئے تو اپنی قربانی کے اونٹ کو ذبح فرمایا اس کے بعد اپنے سر مونڈھنے والے کو سر کی سیدھی جانب دی اس نے اس کو مونڈھ دیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدھے جانب کے بال ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دئے اس کے بعد بائیں جانب مونڈھنے کے لئے دئے تو مونڈھنے والے نے مونڈھ دیا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان بالوں کو لوگوں میں تقسیم کردو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 912 (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور صاحب عنایہ اور ملا علی قاری رحمہ اللہ نے وضاحت کی ہے کہ اس حدیث میں آدمی کے بال کے پاک ہونے پر دلیل ہے۔

Hadith 613

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 688
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں کے پہننے اور ان پر سوار ہونے سے ممانعت فرمائی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4131 (unverified) 86% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 4253 (unverified) 80% confidence · Validation similarity: 0.517

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The Messenger of Allah ﷺ prohibited wearing the skins of wild animals...

(1) Regarding the statement: "The Messenger of Allah ﷺ prohibited wearing the skins of wild animals..." This prohibition is considered one of the haram (forbidden) acts according to Imam al-Shafi'i. This is because using such skins before tanning is not allowed, as they are impure. After tanning, if the skin still has hair, it is also considered impure because, according to al-Shafi'i, the tanning does not purify the hair since tanning does not alter the state of the hair. Alternatively, some scholars view this prohibition as one of discouragement (tanzih) according to Imam Abu Hanifa. This is because, for him, hair is pure. He also argued that wearing the skins of wild animals and riding on them is a practice of tyrants, non-Arabs, and the wealthy, which is not appropriate for righteous people, hence it is disliked but not prohibited. Imam Abu Hanifa's opinion on wearing the skins of wild animals, including fox fur, is based on the view that such skins, when tanned, are not impure. In his view, the purification of the animal is achieved by its slaughter, and the tanning process can be regarded as a form of ritual purification. He also mentioned that the skins of all wild animals, once properly tanned, may be used to make items like saddles or prayer mats. This is stated in Al-Mabsoot and Al-Muhit by Imam Abu Hanifa.

Note 1

قوله

(۱) قوله : نهى رسول الله ﷺ عن لبس جلود السباع إلخ : هذا النهي نهي تحريم عند الشافعي؛ لأن استعمالها إما قبل الدباغ فلا يجوز؛ لأنها نجسة. وإما بعده فإن كان عليه الشعر فهي أيضًا نجسة؛ لأن الشعر لا يطهر بالدباغ عنده؛ لأن الدباغ لا يغير الشعر عن حاله، أو النهي نهي تنزيه. هذا عند أبي حنيفة؛ لأن الشعر طاهر عنده، فإن لبس جلود السباع والركوب عليها من دأب الجبابرة والأعاجم وعمل المترفين، فلا يليق بأهل الصلاح، ويكره، أخذته من المرقاة». ولعدم نجاستها قال في العالمكيرية»: عن أبي حنيفة الله لا بأس بلبس قلنسوة الثعالب، كذا في المبسوط». وعن أبي حنيفة الله أنه قال: لا بأس بالفرو من السباع كلها، وغير ذلك من الميتة المدبوغة والمذكاة، وقال: ذكاتها دباغها، كذا في المحيط». ولا بأس بجلود النمر والسباع كلها إذا دبغت أن يجعل منها مصلّى أو ميسرة السرج، كذا في «الملتقط».

Note 1

ف: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں کے پہننے اور ان پر سوار ہونے سے ممانعت فرمائی ہے، اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ یہ بھی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس نہی تحریمی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ درندوں کے چمڑوں کا استعمال دباغت کے قبل جائز نہیں، اس لئے کہ وہ نجس ہیں۔ اب رہا یہ کہ دباغت کے بعد کیا کیا جائے؟ اگر درندوں کے چمڑوں پر بال ہوں تو وہ چمڑے بھی نجس ہیں، اس لئے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بالوں کو دباغت دینے سے بال پاک نہیں ہوتے کیونکہ دباغت سے بالوں کی اصلی حالت نہیں بدلتی، اس حدیث میں جو نہی وارد ہے اس سے نہی تنزیہی مراد ہے اور یہ مسلک امام ابوحنیفہؒ کا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ بال امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاس پاک ہیں اور حدیث میں نہی اس لئے آئی ہے کہ درندوں کے چمڑوں کو پہننا اور ان کے چمڑوں پر سوار ہونا سرکش لوگوں اور عجمی کفار اور عیش پرستوں کا دستور ہے لہذا نیک لوگوں کے لئے ان کا استعمال مناسب نہیں، اس لئے کہ وہ تنزیہی ہے۔ (میں نے اس مضمون کو مرقات سے اخذ کیا ہے۔) درندوں کے چمڑوں کے ناپاک نہ ہونے کے متعلق عالمگیر یہ میں وضاحت ہے کہ ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے اس طرح منقول ہے کہ لومڑیوں کے چمڑوں کی ٹوپی کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں اور مبسوط میں بھی اسی طرح مذکور ہے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے درندوں کے پوستین اور دیگر مردار جانوروں کے دباغت دئے ہوئے چمڑوں اور اسی طرح ذبح کئے ہوئے جانوروں کے چمڑوں کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں اگرچہ کہ ان کو دباغت نہ دی گئی ہو اس لئے کہ ان کا ذبح کرنا ہی دباغت دینا ہے۔ چنانچہ محیط میں یہی مذکور ہے، نیز تیدوے اور دوسرے درندوں کے چمڑوں کے استعمال میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے، بشرطیکہ ان کو دباغت دی جائے پھر ان سے جانماز یا زین کا چار جامہ بنایا جائے، یہ ملتقط میں مذکور ہے۔ 12

Hadith 614

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 689
ابوالملیح بن اسامۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اپنے والد اسامۃ رضی اللہ عنہ، کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے) اور ترمذی اور دارمی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درندوں کے چمڑوں کو بطور فرش استعمال کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4132 (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 615

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 690
ابوالملیح رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے درندوں کے چمڑوں کی قیمت لینے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1271 (unverified) 65% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He disliked the price of the skins of wild animals,

(1) Regarding the statement: "He disliked the price of the skins of wild animals," Al-Mazhar explained that this was before the tanning due to their impurity. However, after tanning, there is no dislike. In the Fatawa Qazi Khan, it is mentioned that the sale of the skins of dead animals is invalid if they are not slaughtered or tanned. This is also mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: كره ثمن جلود السباع: قال المظهر ذلك قبل الدباغ لنجاستها، أما بعده فلا كراهة. وفي فتاوى قاضي خان» أن بيع جلود الميتات باطل، إذا لم تكن مذبوحة أو مدبوغة. كذا في «المرقاة».

Note 1

ف: ابو الملیح رضی اللہ عنہ نے درندوں کے چمڑوں کی قیمت کے استعمال کو مکروہ کہا ہے، اس بارے میں مظہر نے کہا ہے کہ قیمت کا لینا اس وقت مکروہ ہوگا کہ چمڑے کی دباغت نہ ہوئی ہو، اس لئے کہ قبل دباغت چمڑا نجس رہتا ہے لیکن دباغت کے بعد اس کو فروخت کر کے قیمت کا حاصل کرنا مکروہ نہیں ہے، اور فتاوائے قاضی خان میں صراحت ہے کہ مردہ جانوروں کے چمڑوں کا فروخت کرنا باطل اور ناجائز ہے بشرطیکہ وہ جانور ذبح کئے ہوئے نہ ہوں، یا ان کے چمڑوں کو دباغت نہ ہوئی ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)

Hadith 618

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 693
یحییٰ بن عتیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حسن بصری رضی اللہ عنہ کو تیندوے کی کھال کی زین پر سوار دیکھا ہے اور محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ کو بھی تیندوے کی کھال کی زین پر سوار دیکھا۔ (3) ان تینوں حدیثوں کی روایت امام طحاوی نے مشکل الآثار میں کی ہے۔

[Narrated by Al-Tahawi in Mushkil al-Athar]

Hadith 619

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 694
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم زمین پر ننگے پیر چل کر آنے سے دوبارہ وضوء نہیں کرتے تھے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 143 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ راستہ کا کیچڑ عموم بلویٰ کی وجہ سے معاف ہے۔12

Hadith 620

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 695Noor 696
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پیشاب (کی چھینٹوں سے) احتیاط کیا کرو، اس لئے کہ اکثر عذاب قبر اسی سے ہوتا ہے۔ (اس کی روایت حاکم نے کی ہے،) اور حاکم نے وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کے شروط کے موافق صحیح ہے اور بزار نے اسی طرح روایت کی ہے اور دارقطنی نے بھی اس کو روایت کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اور حاکم کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک نیک صحابی کے دفن سے فارغ ہو کر جو عذاب قبر میں مبتلا ہوئے تھے ان صحابی کی بیوی کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے ان صحابی کے اعمال کے متعلق دریافت فرمایا تو ان کی بیوی نے جواب دیا کہ وہ بکریاں چرایا کرتے تھے اور ان کے پیشاب سے پرہیز نہیں کرتے تھے تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، پیشاب سے بچا کرو کیوں کہ عموماً عذاب قبر اسی سے ہوتا ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور تمام محدثین نے اس حدیث کی صحت پر اتفاق کیا ہے۔
Commentary and footnotes (3)

Unnumbered commentary

He used to tend to the sheep

The statement "He used to tend to the sheep" indicates the abrogation of the ruling in the hadith of the two men from the tribe of Urayni. The indication that the hadith of the Urayni tribe is abrogated by this narration is that the mutilation mentioned in the hadith of the Urayni tribe has been abrogated by consensus, as it was a practice in the early days of Islam. This is mentioned in "Nur al-Anwar."

Note 1

قوله

(۱) قوله: كان يرعى الغنم فيه دلالة على نسخ حكم حديث العرينيين، والذي يدل على كون حديث العرينيين منسوخا بهذا الحديث: أن المثلة التي تضمنها حديث العرينيين منسوخة بالاتفاق؛ لأنها كانت في ابتداء الإسلام. قاله في «نور الأنوار».

Note 1

ف: یہ حدیث دراصل حدیث ”عُرَيْنِيِّين“ کے اس جزو کی ناسخ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عرینہ کو اونٹوں کے پیشاب کے پینے کی اجازت دی تھی اور ”عُرَيْنِيِّين“ کا واقعہ اس طرح پیش آیا تھا۔ وادی عرینہ کے چند لوگ جب مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو ان کو آب و ہوا موافق نہ آئی جس سے ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور ان کے پیٹ پھول گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ صدقہ کے اونٹوں کی جگہ چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا کریں، اس طریقہ سے جب ان کو صحت حاصل ہوگئی تو سب کے سب مرتد ہوگئے اور چرواہوں کو قتل کر ڈالا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تلاش میں ایک جماعت روانہ فرمائی اور اس جماعت نے ان لوگوں کو گرفتار کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر کردیا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئے جائیں اور آنکھوں میں سلائی پھیر دی جائے اور ان کو دھوپ میں چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائیں۔ ”عُرَیْنِیِّینَ“ کی اس حدیث سے دو چیزیں ثابت ہو رہی ہیں، ایک تو مثلہ کرنے کی اجازت اور دوسرے وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کے پیشاب کے پاک ہونے اور پینے کا ثبوت، اہل عرینہ کے واقعہ کے پہلے جز ء، مثلہ کرنے کا حکم بالاتفاق منسوخ ہے حدیث ”عُرَیْنِیِّینَ“ کا ایک جز ء یعنی مثلہ کرنے کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا جو بالاتفاق منسوخ ہوگیا، اب رہا دوسرا جز ء یعنی وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کے پیشاب کا پینا اور اس کا پاک ہونا تو حدیث ”عُرَیْنِیِّینَ“ کا یہ دوسرا جز ء بھی ان دونوں حدیثوں سے منسوخ ہے ایک تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ الصدر حدیث (اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ“) پیشاب سے بچو چونکہ بالعموم عذاب قبر اسی سے ہوتا ہے۔ اور دوسرے حاکم کی وہ حدیث جس کی صحت پر سب محدثین متفق ہیں اور جس کے الفاظ یہ ہیں: ( كَانَ يَرْعَى الْغَنَمَ وَلَا يَتَنَزَّهُ مِنْ بَوْلِهِ فَحِينَئِذٍ قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : اِسْتَنْزِهُوا مِنَ الْبَوْلِ فَإِنَّ عَامَّةَ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنْهُ“)۔ وہ صحابی بکریاں چرایا کرتے اور بکریوں کے پیشاب سے نہیں بچتے تھے تو اس پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پیشاب سے بچو کیونکہ اکثر عذاب قبر پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔) تو یہ دونوں حدیثیں حدیث عُرَنیین کے دوسرے جز جو گوشت کھائے جانے والے جانوروں کے پیشاب کے پینے اور ان کے پاک سے متعلق ہے ناسخ ہیں۔ الغرض ثابت ہو گیا کہ مثلہ کرنا حرام ہے اور وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب ناپاک ہے اور ان کے پیشاب کا پینا بھی حرام ہے۔ (نورالانوار، قمرالاقمار)12۔