حارث بن مسلم تمیمی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد مسلم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے
ہیں اور وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان
سے بطور رازداری کے یہ ارشاد فرمایا کہ جب تم مغرب کی نماز سے فارغ ہوجاؤ اور سلام پھیر دو
(جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔) تو کسی سے بات کئے بغیر سات مرتبہ ”اللّٰهُمَّ أَجِرْنِيْ مِنَ
النَّارِ۔ (اے اللہ مجھے دوزخ سے بچا لیجئے) پڑھ لیا کرو (سات کا عدد اس لئے ارشاد ہوا کہ دوزخ
کے سات دروازے اور درجے ہیں) تم جب اس (دعاء) کو (سات مرتبہ) پڑھو اور اسی رات تمہارا
انتقال ہوجائے تو تمہارے لئے دوزخ سے نجات لکھی جائے گی اور اسی طرح فجر کی نماز کے بعد بھی
(سات مرتبہ اس دعاء کو) پڑھو اور اگر اسی دن تمہارا انتقال ہوجائے تو تمہارے لئے دوزخ سے
نجات لکھی جائے گی۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
عبدالرحمن بن ابی بکرۃ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے
اپنے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ: ابا جان! ہر روز صبح اور شام میں آپ کو یہ دعاء تین
تین مرتبہ پڑھتے ہوئے سنتا ہوں (اس کی کیا وجہ ہے؟) اللّٰهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَدَنِيْ ۔ اللّٰهُمَّ عَافِنِيْ
فِي سَمْعِي. اللّٰهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي. لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ ۔ اے اللہ! میرے بدن کو عافیت سے
رکھئے اے اللہ! آپ میری سماعت میں عافیت دیجئے (کہ میں احکام شریعت کو سن کر عمل کرنے کے
قابل رہوں) الٰہی! مجھے میری بصارت میں عافیت دیجئے (تا کہ میں آپ کی نشانیوں سے عبرت
حاصل کر سکوں)
آپ اس دعا کو تین بار صبح اور تین بار شام پڑھا کرتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: اے میرے
بیٹے میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (صبح اور شام) ان دعاؤں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے تو میں
آپ کی سنت کی پیروی کرنا بے حد پسند کرتا ہوں۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 5090 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف کے آخر میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند کو اس دعا کو
صبح وشام پابندی کی وجہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ مجھے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی بے حد
پسند ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعاؤں اور اعمال خیر کے انجام دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم کی اتباع مقصود ہو، نہ کہ کوئی دنیوی غرض۔ مشکوٰۃ۔
ابان بن عثمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے
والد کو فرماتے ہوئے سنا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو
بندہ ہر روز صبح وشام کے ابتدائی حصہ میں تین مرتبہ یہ دعاء پڑھے: بِسْمِ اللّٰهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ
اس اللہ کے نام سے (میں نے صبح کی اور شام کی) کہ جس کے نام سے زمین و آسمان کی کوئی
چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہی (ہمارے اقوال کو) سننے والا ہے اور (ہمارے احوال کو) جاننے والا
ہے۔
تو کوئی چیز اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی (راوی حدیث) حضرت ابان رضی اللہ عنہ کے (جسم
کے) ایک حصہ پر فالج کا حملہ ہو چکا تھا تو (حدیث کو سننے والا) شخص آپ کو (تعجب سے) دیکھنے لگا تو
حضرت ابان نے اس سے فرمایا: تو مجھے کیا دیکھتا ہے؟ حدیث اسی طرح ہے جیسے کہ میں نے تجھ سے
بیان کی ہے لیکن اس دن میں نے اس دعا کو پڑھ نہ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ میرے اوپر اپنی تقدیر کو
جاری فرما دیں۔
اس کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور ابوداود نے کی ہے۔
اور ابوداود کی روایت میں یہ (اضافہ) ہے جو شام کے وقت اس دعا کو پڑھے
تو) اچانک صبح تک اس کو کوئی بلا نہیں پہنچتی اور جو اس دعا کو صبح کے وقت پڑھے تو شام تک اس کو
اچانک کوئی مصیبت نہیں پہنچتی۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص صبح کے وقت (سورۃ روم، آیت نمبر: 17/19 کو)
تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو صبح کے وقت اور شام کے وقت بھی اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں
میں اور زمین میں اور نیز سہ پہر کے وقت اور دوپہر کے وقت بھی (اس کی پاکی بیان کرو) وہی زندہ کو
مردہ سے نکالتا ہے اور وہی مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور وہی زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا
ہے اور تم (قیامت کے روز قبروں سے) اسی طرح نکالے جاؤ گے۔
تو اس کو (ان آیتوں کے تلاوت کی وجہ سے اس کے دن کے مقررہ اوراد و وظائف چھوٹ گئے
ہوں تو) ان کا ثواب مل جائے گا اور وہ اپنے فوت شدہ اوراد کے ثواب سے محروم نہ ہوگا) اور (اسی
طرح) جس نے شام کے وقت ان (آیتوں) کی تلاوت کی تو اس کو بھی رات کے فوت شدہ (اوراد و
وظائف کا ثواب مل جائے گا۔ اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص صبح ان (کلمات) کو پڑھے:
عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ۔ یا الٰہی! ہم نے صبح کی اس حال میں کہ گواہ کرتے ہیں آپ کو آپ کے
حاملین عرش کو اور گواہ کرتے ہیں آپ کے فرشتوں کو اور آپ کی ساری مخلوقات کو کہ بیشک آپ ہی
اللہ ہیں آپ کے سوائے کوئی معبود نہیں آپ کے (ذات، صفات اور افعال) میں کوئی شریک نہیں
اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے بندے اور آپ کے رسول ہیں۔
تو (ان کلمات کی برکت سے) اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ (صغیرہ) کو جو اس دن میں ہوئے
ہوں بخش دیتے ہیں اور (اسی طرح) اگر وہ ان (کلمات) کو شام کے وقت پڑھے تو اس کے وہ گناہ
(صغیرہ) جو اس رات میں ہوئے ہوں اللہ تعالیٰ ان کو بھی بخش دیتے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی اور
ابوداود نے کی ہے۔
عبداللہ بن غنام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص صبح کے وقت (ان کلمات کو) پڑھ لے: ”اللّٰهُمَّ مَا
یا الٰہی! (دینی و دنیوی) جو نعمتیں مجھے یا تیری مخلوق میں کسی کو ملی ہیں وہ آپ ہی اکیلے کی طرف
سے ہیں، آپ کا کوئی شریک نہیں، پس آپ ہی کے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور آپ ہی کے لئے ہر
قسم کا شکر ہے۔
تو اس نے اپنے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور اسی طرح جو کوئی شام کے وقت یہ دعاء پڑھے تو
اس نے اپنی اس رات کا شکر ادا کر دیا۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 5073 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
واضح ہو کہ شام کے وقت جب یہ دعاء پڑھی جائے تو ”مَا أَصْبَحَ“ کی بجائے ”مَا أَمْسَى
“ پڑھیں۔
حاشیہ مشکاۃ میں لمعات کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت داود علیہ السلام نے عرض کیا رب
العزت! آپ کی نعمتیں مجھ پر بے شمار ہیں میں کس طرح ان کا شکر ادا کروں، ارشاد ہوا کہ جب تم نے
یہ جان لیا کہ ساری نعمتیں میری ہی طرف سے ہیں تو تم نے میرا شکر ادا کر دیا۔12
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (دعائیہ) کلمات کو صبح اور شام کبھی نہیں چھوڑا (یعنی صبح و شام پابندی سے
پڑھا کرتے تھے:
یا الٰہی ! میں آپ سے آخرت اور دنیا میں عافیت چاہتا ہوں۔ یا الٰہی ! میں آپ سے (اپنے
گناہوں کی) معافی اور اپنے دین اور اپنی دنیا اور اہل اور اپنے مال میں سلامتی چاہتا ہوں۔ یا الٰہی
! آپ میرے عیبوں کو چھپا دیجئے اور خطرات سے محفوظ رکھئے۔ یا الٰہی ! آپ میرے آگے پیچھے،
داہنے بائیں اور اوپر سے میری حفاظت فرمائیے۔ اور میں آپ کی عظمت کی پناہ لیتا ہوں؛ اس بات
سے کہ میں اپنے نیچے سے ہلاک کر دیا جاؤں زمینی بلاؤں سے (یعنی زلزلہ وغیرہ سے میری ہلاکت نہ
ہو)۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
And when he woke up
(1) The statement: "And when he woke up" etc. One should wake up remembering Allah and resolving to be pious, avoiding what Allah has forbidden, and intending not to wrong any of Allah's servants. As mentioned in Al-Ghara'ib. This is stated in Al-'Alamgiriyyah.
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صاحبزادی سے روایت ہے کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو سکھلائے کہ جب تم صبح کرو تو یہ دعاء پڑھا کرو۔
میں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہوں اس کی تعریف کے ساتھ، اور (حمد و ثنا بیان کرنے کی) قوت
اللہ تعالیٰ کی (مدد سے) ہی ہے۔ جو اللہ چاہیں وہی ہوتا ہے اور جو اللہ نہ چاہیں وہ نہیں ہوتا۔ میرا یقین
ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو علم سے گھیرے ہوئے ہیں۔
پس جو شخص ان (کلمات) کو صبح کے وقت پڑھ لیا کرے تو وہ (بلاؤں اور خطاؤں سے) شام
تک محفوظ رہتا ہے۔ اور (اسی طرح) جو شخص شام کے وقت ان (کلمات) کو پڑھ لے تو صبح تک
(بلاؤں اور خطاؤں سے) محفوظ رہتا ہے۔
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو مسلمان بندہ صبح اور شام (اس دعاء کو) تین مرتبہ پڑھا
راضی ہوں میں اس بات پر کہ اللہ (میرے) رب ہیں اسلام (میرا) دین ہے اور حضور محمد صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (میرے) نبی ہیں تو اللہ تعالیٰ پر لازم ہوگا کہ قیامت کے دن اس کو اپنے فضل وکرم
سے (اتنا ثواب دیں کہ) وہ راضی ہوجائے۔
اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
حضرت ابوعیاش (زید بن صامت انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جو شخص صبح کے وقت یہ کہے:
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہی اسی کی ہے اور ہر قسم کی
تعریف بھی اسی کے لئے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ تو ایسے شخص کے لئے حضرت اسماعیل علیہ
السلام کی اولاد سے (اگر کوئی غلام بنایا گیا اور اس کو آزاد کردیا جائے تو) ایک غلام آزاد کرنے کے
برابر ثواب ملتا ہے اور (اس کے علاوہ) اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دس برائیاں دور کی
جاتی ہیں اور اس کے دس درجے بلند کئے جاتے ہیں اور شام ہونے تک وہ شیطان (کے شر) سے
حفاظت میں رہتا ہے۔ اور جس نے ان (کلمات) کو شام کے وقت کہا تو وہ بھی (اسی اجر و ثواب کا
مستحق ہوگا اور وہ اللہ کی حفاظت میں) صبح ہونے تک رہے گا۔
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو وہ عرض کیا: یا رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابوعیاش آپ سے (کلمۂ توحید پڑھنے والے کی فضیلت میں) کثیر اجر و ثواب بیان کرتے
ہیں تو آپ نے فرمایا کہ: ابوعیاش نے سچ کہا ہے (اس کی ایسی ہی فضیلت ہے)۔
اس حدیث کی روایت ابوداود اور ابن ماجہ سے ہے۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب شام ہوتی
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علیہ رات کے استقبال میں یوں فرماتے:
ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے (بھی) شام کی اور ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں بادشاہت اسی کی ہے اور تعریف کے
لائق وہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یا الٰہی! میں آپ سے اس رات کی بھلائی اور اس میں جو
بھلائی واقع ہونے والی ہے وہ مانگتا ہوں اور آپ کی پناہ میں آتا ہوں اس رات کی برائی سے اور اس
برائی سے جو اس رات میں واقع ہونے والی ہے۔ یا الٰہی! میں آپ کی حفاظت میں آتا ہوں سستی،
بڑھاپے، بوڑھے پن کی برائی، دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے۔
اور جب صبح ہوتی تو (صبح کے استقبال میں ”أَمْسَيْنَا“ یا ”وَأَمْسَى الْمُلْكُ“ کے
بجائے) یوں فرماتے ہیں: ”أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ“ ہم نے صبح کی اور خدا کی ساری کائنات
نے (بھی) صبح کی (اور اس کے بعد آپ یہی دعا آخر تک پڑھتے)
اور ایک روایت میں اتنا اور اضافہ ہے:
اے میرے پروردگار! میں آپ کی امان میں آتا ہوں دوزخ کے عذاب سے اور قبر کے
عذاب سے بھی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
صبح کے وقت اس دعاء کے ان درمیانی الفاظ کو اس طرح پڑھتے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2723a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
قوله
(۱)قوله: وإذا أصبح إلخ ويستيقظ ذاكرا الله تعالى، وعازما على التقوى عما حرم الله تعالى عليه، وناويا أن لا يظلم أحدا من عباد الله كذا في الغرائب. قاله في العالمكيرية».
15/3350۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شام ہوتی تو (رات کے استقبال میں) یوں فرماتے:
(اس کا ترجمہ پہلی حدیث میں گزر چکا ہے)
اور جب صبح ہوتی تو (صبح کے استقبال میں) آپ یوں فرماتے:
أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ (اور اس کے بعد آپ یہی دعا آخر تک پڑھتے)
اس کی روایت ابوداود نے کی ہے۔ اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو اس کو چاہیے کہ (صبح کے استقبال میں)
ہم نے صبح کی اور ساری کائنات نے (بھی) صبح کی اللہ رب العالمین کے لئے، یا الٰہی! میں
اس دن کی بھلائی، اس میں (مقاصد پر) کامیابی اور (دشمن پر) غلبہ اور (علم و عمل کی) روشنی اور اس
کی برکت (یعنی حلال روزی) اور اس کی ہدایت (یعنی خیر پر استقامت) مانگتا ہوں۔ اور اس دن
میں جو برائی ہے اور اس کے بعد جو برائی آنے والی ہے (ان سے) میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
پھر جب وہ شام کرے تو اسی طرح یہی دعا پڑھے (البتہ شام کے وقت جب یہ دعا پڑھے
تو أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ کی بجائے أَمْسَيْنَا وَ أَمْسَى الْمُلْكُ سے شروع کرے اور
هٰذَا الْيَوْمَ کی بجائے هٰذَا اللَّيْلَ پڑھے )
حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صبح ہوتی تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاء پڑھا کرتے تھے:
ہم نے اور ساری کائنات نے اللہ تعالیٰ کے لئے صبح کی، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لئے ہے
بزرگی ذات کی اور بڑائی صفات کی اللہ ہی کو ہے۔ اور مخلوقات اور ان پر تصرف، اور رات اور دن اور
ان دونوں میں جو چیزیں واقع ہیں (جیسے سردی اور گرمی) سب اللہ ہی کی ہیں۔
یا الٰہی! اس دن کی ابتداء کو (دینی اور دنیوی) بھلائی کا اور اس کے درمیان کو (دارین کے
مقاصد میں) کامیابی اور اس کے آخر کو (حسن خاتمہ) اور نجات کا ذریعہ بنا دیجئے اے رحم کرنے
والوں میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے۔
اس (حدیث) کو امام نووی نے ابن السنی کی روایت سے کتاب الاذکار میں بیان کیا ہے۔
ف: واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعاء کے آخر میں ”يَا اَرْحَمَ
الرَّاحِمِيْنَ“ اس لئے فرمایا کہ اس سے دعاء جلد قبول ہوتی ہے۔ مرقات 12
حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت یوں فرمایا کرتے تھے:
ہم نے دین فطرت یعنی اسلام پر اور کلمہ توحید پر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر
اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام حنیف کے طریقہ پر صبح کی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام
سارے ادیان باطلہ سے بیزار اور دین حق پر قائم اور شرک کرنے والوں میں نہ تھے۔
اس کی روایت امام احمد اور دارمی نے کی ہے۔
اور صاحب السلاح نے کہا ہے کہ اس حدیث کی تخریج امام نسائی نے کئی
طریقوں سے کی ہے اور ان کی سند کے راوی صحیح کے راوی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوتی
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرمایا کرتے تھے:
یا الٰہی! (آپ کی حفاظت میں) ہم نے صبح کی ہے اور (آپ ہی کی حفاظت میں) ہم شام
کریں گے، اور (آپ ہی کے اسم محیی) ہم زندہ ہیں اور آپ ہی کے (اسم ممیت سے) ہم مریں گے
اور آپ ہی (کے حکم سے) آپ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
اور جب شام ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں فرماتے:
یا الٰہی! (آپ ہی کی حفاظت میں) ہم نے شام کی اور آپ ہی کی حفاظت میں صبح کریں گے
اور آپ ہی سے ہم زندہ ہیں اور آپ ہی سے ہم مریں گے اور (قیامت کے دن) آپ ہی کی طرف
اٹھنے والے ہیں۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر
رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے ایک
ایسی دعا کا حکم دیجئے جس کو میں صبح اور شام (بطور وظیفہ) پڑھا کروں (یہ سن کر) آپ نے ارشاد
فرمایا تم یہ وظیفہ پڑھا کرو: ’’اللّٰهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ
اے اللہ! (مخلوق سے جو چیزیں) پوشیدہ (ہیں) اور جو (ان پر) ظاہر ہیں ان سب کا جاننے
والا، بغیر کسی نمونے کے) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا! اے ہر چیز کے رب اور مالک میں
گواہی دیتا ہوں کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں میں اپنے نفس کے شرارتوں سے شیطان کے وسوسوں
سے اور اس کے شرک کروانے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
تم اس دعا کو صبح اور شام اور سوتے وقت (بستر پر) پڑھا کرو۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد
اور دارمی نے کی ہے۔
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جب کوئی مسلمان (بستر پر) سوتے وقت (لیٹے
ہوئے) قرآن کی کوئی سورت پڑھتا رہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو (اس کی نگہبانی کے لئے) متعین
فرما دیتے ہیں تا کہ کوئی ضرر پہنچانے والی چیز اس کے قریب نہ آئے۔ یہاں تک کہ وہ نیند سے بیدار
ہو جائے خواہ وہ (نیند سے) جب کبھی بیدار ہو۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابو ازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب رات میں بستر پر سونے کے لئے تشریف رکھتے تو یہ دعاء پڑھتے:
میں اللہ ہی کے نام سے (سوتا ہوں) اور اسی کے لئے اپنا پہلو (بستر پر) رکھتا ہوں۔ یا الٰہی!
آپ میرے گناہوں کو بخش دیجئے اور میرے شیطان کو دور کر دیجئے اور میرے نفس کو (حقوق العباد
سے) آزاد کر دیجئے اور مجھے آپ ملا اعلیٰ یعنی مقربین میں شامل فرما دیجئے۔
اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب رات میں بستر میں سونے کے لئے تشریف رکھتے تو یہ دعاء پڑھتے:
تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو میرے لئے کافی ہوگیا اور جس نے مجھے پناہ
دی، مجھے کھلایا اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان فرمایا اور مجھے حاجت سے بڑھ کر دیا اور جس نے
مجھے (ہر قسم کی نعمتیں) دیں اور کثرت سے دیں (اس لئے) ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، اے اللہ!
اے ہر چیز کے پروردگار اور اس کے مالک! اور اے ہر چیز کے معبود! میں دوزخ سے آپ کی پناہ
میں آتا ہوں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (رات میں بستر پر) سوتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے:۔
یا الٰہی! میں آپ کی ذاتِ کریم اور آپ کے کامل کلمات یعنی آپ کے اسماء اور صفات کی پناہ
میں آتا ہوں ہر اس چیز کی برائی سے جس کی پیشانی آپ کے قبضہ (اور قدرت) میں ہے۔ یا الٰہی!
قرض کو اور گناہ کو آپ ہی دور فرماتے ہیں۔ یا اللہ! آپ کے لشکر کو شکست نہیں ہوتی اور آپ کا وعدہ
خلاف نہیں ہوتا اور دولت مندوں کو اس کی دولت (آپ کے عذاب سے) نہیں بچا سکتی (صرف
آپ کا فضل اور رحمت بچا سکتی ہے اس لئے) میں آپ کی تعریف کے ساتھ آپ کی پاکی بیان کرتا
ہوں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات میں جب (بستر پر) سونے لگتے تو اپنا (سیدھا) ہاتھ اپنے (سیدھے)
رخسار کے نیچے رکھتے پھر یہ دعا پڑھتے:
یا الٰہی! آپ کے نام سے مرتا ہوں اور جیتا ہوں یعنی سوتا ہوں اور جاگتا ہوں۔
اور جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تو یوں فرماتے:
یعنی تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہم کو مارنے کے بعد جلایا یعنی سونے کے بعد
جگایا اور اس کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اور مسلم نے اس کی روایت حضرت براء رضی اللہ عنہ سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6312 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2711a (unverified) 83% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
He would place his hand under his cheek
(1) The statement: "He would place his hand under his cheek" - In Al-'Alamgiriyyah it is mentioned that it is recommended for a person to sleep in a state of purity, lying on his right side facing the qiblah for a while, then turning to his left side. As mentioned in As-Sirajiyyah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: وضع يده تحت خده وقال في العالمگيرية ويتوسد كفه اليمنى تحت خده، ويذكر أنه سيضطجع في اللحد كذا وحيدا ليس معه إلا الأعمال.
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے (سیدھے) ہاتھ کو اپنے سر کے نیچے رکھتے پھر یہ (دعا)
پڑھتے: اَللّٰهُمَّ قِنِىْ عَذَابَكَ، يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ (”تَجْمَعُ“ کی بجائے ”تَبْعَثُ“)(جس
دن آپ اپنے بندوں کو اٹھائیں گے) بھی آیا ہے۔
یا الٰہی! آپ مجھے (اس دن کے) عذاب سے بچایئے جس دن آپ اپنے بندوں کو جمع کریں
گے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور امام احمد نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنے سیدھے ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے پھر یہ
دعا، تین(3) بار پڑھتے: اللّٰهُمَّ قِنِى عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ.
یا الٰہی! آپ مجھے (اس دن کے) عذاب سے بچائیے جس دن آپ اپنے بندوں کو اٹھائیں
گے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص سوتے وقت اپنے بستر پر یہ (استغفار) تین بار پڑھے:
میں اللہ تعالیٰ سے (اپنے گناہوں کی) بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ
جاوید اور وہی (کارخانۂ عالم کا) سنبھالنے والا ہے اور میں اسی کی طرف رجوع ہوں۔
تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں اگرچہ وہ گناہ سمندر کے جھاگ کے
برابر یا عالج جنگل کی ریت کی گنتی برابر یا درختوں کے پتوں یا دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر
ہوں۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن
الولید رضی اللہ عنہ نے (اپنے بارے میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی اور عرض کیا
: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں بے خوابی کی وجہ سے رات میں سو نہیں سکتا ہوں تو حضرت نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم بستر پر سونے کے لئے جاؤ تو یہ دعاء پڑھا کرو:
”یا الٰہی! اے ساتوں آسمانوں اور ان چیزوں کے رب جس پر (آسمان) سایہ کئے ہوئے
ہیں اور زمینوں کے اور ان چیزوں کے رب جن کو (زمینیں) اٹھا رہی ہیں اور اے شیطانوں کے اور
ان کے رب جن کو (شیطانوں نے) گمراہ کیا ہے۔ آپ اپنی تمام مخلوقات کی برائی سے میرے لئے
پناہ دینے والے بن جائیے کہ ان میں سے کوئی مجھ پر زیادتی یا ظلم کرے! جو تیری پناہ میں ہو وہ
غالب ہے اور آپ کی تعریف بلند و بالا ہے آپ کے سوا کوئی معبود نہیں اور معبود (حقیقی) تو آپ ہی
ہیں۔“ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور حصن میں ہے کہ طبرانی نے اس کی روایت معجم اوسط میں کی ہے اور ابن ابی
شیبہ نے بھی اس طرح روایت کی ہے مگر ان کی روایت میں ”وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ
“ کے بجائے ”تَبَارَكَ اسْمُكَ“ ہے۔
حضرت میرک نے فرمایا کہ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں بھی روایت کیا ہے
اور اس میں یہ الفاظ ہیں: عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی سونے کے لئے (بستر پر) جائے تو اس کو
چاہئے کہ وہ اپنا بستر اپنی تہ بند کے اندرونی کنارہ سے جھٹک لے اس لئے کہ وہ نہیں جانتا ہے کہ اس
کے غیاب میں اس (بستر) پر کیا پڑا ہے (لیٹنے کے بعد) پھر یہ دعاء پڑھے:
اے میرے رب ! میں نے آپ کے نام سے اپنا پہلو (بستر پر) رکھا ہے اور آپ ہی (کے
نام) سے اس کو اٹھاؤں گا۔ اگر آپ (اسی حالت میں) میری جان قبض کر دیں تو اس پر رحم فرمائیے
اور اگر آپ نے اس کو چھوڑ دیا یعنی زندہ رکھا تو آپ اس کی ایسی حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے
نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
ایک اور روایت میں یوں ہے کہ وہ اپنے سیدھے کروٹ پر لیٹے پھر وہی اوپر
کی دعا پڑھے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ وہ اپنے بستر کو اپنے کپڑے کے کنارے
سے تین مرتبہ جھٹکے اور ایک روایت میں دعاء میں ”فَارْحَمْهَا“ کے بجائے ”فَاغْفِرْلَهَا“ (تو اس کو
بخش دے) آیا ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6320 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2714a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 2
Then let him lie on his right side
(2) The statement: "Then let him lie on his right side" - In Al-'Alamgiriyyah it is recommended that a person sleep in a state of purity, lie on his right side facing the qiblah for a while, then turn to his left side. As mentioned in As-Sirajiyyah.
Note 1
قوله
(۱)قوله : ثم ليضطجع على شقه الأيمن في العالمكيرية ويستحب أن ينام الرجل طاهرا، ويضطجع على شقه الأيمن مستقبل القبلة ساعة، ثم ينام على يساره. كذا في السراجية.
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم جب بستر پر سونے کو تشریف لے جاتے تو اپنے سیدھی کروٹ پر لیٹتے پھر یہ دعاء پڑھتے:
یا الٰہی! میں نے اپنی ذات کو تیرے سپرد کر دیا اور اپنا رخ (اور خیال) آپ ہی کی طرف کر لیا
اور میں نے اپنے تمام کام (ظاہری و باطنی) سب آپ کے حوالے کر دیئے اور (ثواب کی) امید اور
(عذاب) کے ڈر سے میں نے آپ ہی پر بھروسہ کیا ہے آپ کے سوا کوئی اور پناہ اور نجات کی جگہ
نہیں اور میں آپ کی نازل کردہ کتاب (قرآن) پر اور آپ کے بھیجے ہوئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) پر ایمان لایا ہوں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جو ان کلمات کو
(سوتے وقت) پڑھے اور اسی رات مر جائے تو وہ اسلام پر مرے گا۔
اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا اے فلاں شخص جب تم (رات میں سونے
کے لئے) بستر پر جاؤ تو نماز پڑھنے کی طرح وضو کرو پھر اپنی سیدھی کروٹ پر لیٹ کر یہ دعا، پڑھو:
اَللّٰهُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِيْ اِلَيْكَ سے اَرْسَلْتَ تک۔ یعنی مذکورہ بالا پوری دعا، پڑھے (پھر)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تم اسی رات کو انتقال کر جاؤ تو تم اسلام پر مرو گے اور اگر صبح کو
(زندہ) اٹھو گے تو بھلائی پاؤ گے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 247 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2710a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 3
Perform ablution
(3) The statement: "Perform ablution" - Ibn Battal said that ablution before sleep is recommended and encouraged. As mentioned in 'Umdat al-Qari. And in Ad-Durr al-Mukhtar: "It is Sunnah for sleeping."
Note 2
قوله
(۲) قوله : فتوضأ إلخ : قال ابن بطال فيه أن الوضوء عند النوم مندوب إليه مرغوب فيه. قاله في عمدة القارئ». وقال في الدر المختار: وسنة للنوم.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(رات میں سونے کے لئے) جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے:
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا اور ہمارے لئے کافی ہو
گیا اور ہمیں ٹھکانا دیا ایسے کتنے ہیں جن کا نہ تو کوئی کفیل ہے نہ ٹھکانا دینے والا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ (رات میں) بستر پر سونے کے لئے تشریف لے
جاتے ہیں تو یہ دعا پڑھتے:
اے اللہ! اے آسمانوں کے رب! زمین کے رب اے ہر چیز کے رب! اے دانہ! اور گٹھلی
کے پھاڑنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے ہر شریر کی برائی سے جس کی
پیشانی کے بال آپ کے اختیار میں ہیں، میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں سب سے پہلے آپ اور آپ
سے پہلے کوئی نہیں، اور آپ ہی سب سے آخر ہیں اور آپ کے بعد کوئی نہیں اور آپ ہی ظاہر ہیں
اور آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں! اور آپ ہی پوشیدہ ہیں اور آپ سے بڑھ کر پوشیدہ کوئی چیز نہیں۔
آپ میرے قرضہ (حقوق اللہ اور حقوق العباد) کو ادا کر دیجئے اور مجھے (ہر قسم کے) فقر سے
بے نیاز کر دیجئے۔ اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے اور مسلم نے بھی اس کی
روایت تھوڑے اختلاف کے ساتھ کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف کے آخر میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے فرزند کو اس دعا کو صبح وشام پابندی کی وجہ دریافت کرنے پر فرمایا کہ مجھے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی بے حد پسند ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعاؤں اور اعمال خیر کے انجام دینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اتباع مقصود ہو، نہ کہ کوئی دنیوی غرض۔ مشکوٰۃ۔