سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ہے اور جس نے میری نافرمانی
کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے امیر کی اطاعت 1کی اس نے میری اطاعت کی۔ اور
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا: (امیر کی بات) سننا اور اس کی اطاعت کرنا مسلمان آدمی پر ضروری ہے اس چیز میں جس کو
وہ پسند کرے اور اس چیز میں جس کو وہ ناپسند کرے جب تک کہ اس کو کسی معصیت کا حکم نہ دیا گیا ہو
پس جب اس کو معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ اس کی بات سننا ہے اور نہ اطاعت کرنا ہے۔ (بخاری
و مسلم)
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا: کسی گناہ میں کوئی اطاعت نہیں یقیناً اطاعت صرف معروف (خیر کے کام) میں ہوتی
ہے۔ (بخاری و مسلم)۔
نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں۔ (شرح السنہ امام
بغویؒ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2957 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1841 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 7144 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1835a (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1839a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Whoever obeys the leader has obeyed me, and whoever disobeys the leader has disobeyed me,
(1) Regarding the saying: "Whoever obeys the leader has obeyed me, and whoever disobeys the leader has disobeyed me," etc.: Scholars unanimously agree on the obligation to obey leaders in matters that do not involve sin, and on the prohibition of obeying them in sin, as stated by Qadi Iyad and others, according to al-Nawawi, as cited by al-Ayni. Al-Nawawi said in al-Marqah: This emphasizes the importance of listening and obeying in all circumstances, as it unites the Muslim community, since discord leads to corruption in their religious and worldly affairs. The exception is in cases of sin, as indicated by the beginning of the hadith and other authenticated hadiths. In al-Tafsir al-Ahmadiyya, it is stated that obedience to leaders is obligatory, but not absolutely; it applies as long as they are just and adhere to the truth. This is because the verse about those in authority follows the verse about fulfilling trusts and judging justly, which some say is directed specifically to rulers. This verse commands people to obey them, but in disputes, matters should be referred to God and the Messenger, indicating that obedience is required only when they adhere to the truth. If they deviate, there is no obedience, as the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "There is no obedience to a created being in disobedience to the Creator."
If it is asked: This seems to contradict your view that it is permissible to accept authority from an unjust ruler, and that rebellion against him is not allowed, nor is an imam removed for immorality or injustice, unlike the view of al-Shafi'i regarding the latter. I say: This is valid only if the ruler can judge justly. If not, it is invalid. We consider it valid when justice is upheld because immorality and injustice became prevalent among leaders and rulers after the Rightly Guided Caliphs. The early Muslims submitted to them, performed Friday and Eid prayers under their authority, and did not see rebellion as permissible. The Companions accepted authority under Muawiya, though Ali was in the right during his time, and the Followers accepted authority under al-Hajjaj, despite his injustice, as stated in al-Hidayah. Although al-Shafi'i held that an imam is removed for immorality, Shafi'i texts state that an imam is not removed for immorality to avoid sparking unrest due to his power, unlike a judge, who is removed for immorality as he lacks such power, as explained in Sharh al-Aqa'id.
The truth is that "those in authority" refers to all who hold authority, whether an imam, leader, ruler, governor, scholar, or jurist, according to the ranks of follower and leader, as the text is general and should not be restricted without specific evidence. It should be noted that the complete caliphate ended with Ali, as per the saying: "The caliphate after me will last thirty years, then it will become a harsh monarchy." However, an incomplete caliphate existed under the Abbasid caliphs. The imamate is absent today due to the lack of its conditions, such as the imam being from Quraysh, which is mostly absent now. However, leadership and governance remain, and we are obligated to follow them in this era based on the general text, not because they are imams or caliphs.
Note 1
قوله
(١) قوله: ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني إلخ: أجمع العلماء على وجوب طاعة الأمراء في غير معصية، وعلى تحريمها في المعصية نقل الإجماع على هذا القاضي عياض وآخرون، قاله النووي كذا قال العيني. وقال في (المرقاة): قال النووي: فيه حث على السمع والطاعة في جميع الأحوال، وسببها اجتماع كلمة المسلمين، فإن الخلاف سبب لفساد أحوالهم في دينهم ودنياهم. ويستثنى من جميع الأحوال حال المعصية لما يستفاد من صدر الحديث، ولما سيأتي في بعض الأحاديث المصححة، انتهى. وقال في (التفسيرات الأحمدية)؛ أن إطاعة الأمراء واجبة لكن لا مطلقًا، بل ما داموا عادلين، وكانوا على الحق؛ وذلك لانه لما كان آية أولى الأمر متصلة بالآية السابقة المذكورة فيها بيان أداء الأمانة والحكم بالعدل، وكان تلك خطابا للؤُلاة خاصة عند البعض، وهذه خطاب بالناس بإطاعتهم، ثم أمر عند النزاع بالرد إلى الله والرسول، علمنا أن وجوب إطاعتهم ما داموا على الحق، وإذا خالفوه فلا إطاعة لهم؛ .لقوله صلي الله عليه وسلم : (لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق).
فإن قيل: هذا يخالف ما هو مذهبكم من أنه يجوز التقلد من السلطان الجائر، ولا يصحُّ الخروج عليه، ولا ينعزل الإمام بالفسق والجور خلافا للشافعي في الأخير من ذلك. قلت: إنما يصحُّ ذلك إذا كان يمكنه القضاء بحق، وأما إذا لم يكن فلا يصحُّ، وإنما حكمنا بصحته في حال القضاء بحق؛ لأنه قد ظهر الفسق وانتشار الجور من الأئمة والأمراء بعد الخلفاء الراشدين، والسلف كانوا ينقادون لهم، ويقيمون الجُمَع والأيعاد بإذنهم، ولا يرون الخروج عليهم؛ لأن الصحابة كانوا يقلدون عن معاوية مع أن الحق كان لعلي في نوبته، والتابعين كانوا يقلدون من حجاج مع أنه كان سلطانا جائرا، كما نص به في (الهداية) على أن المروي عن الشافعي وإن كان انعزاله بالفسق، ولكن المسطور في كُتُب الشافعية: أن الإمام لا ينعزل بالفسق؛ لأن في انعزاله ونصب غيره إثارة الفتنة؛ لما له من الشوكة، بخلاف القاضي فينعزل عنده بالفسق؛ لأنه غير ذي شوكة، كما نص به في (شرح العقائد).
والحق أن المراد بأولي الأمر كل أولي الحكم، إمامًا كان أو أميرًا، سلطانًا كان أو حاكمًا، عالما كان أو مجتهدا، قاضيًا كان أو مفتيًا على حسب مراتب التابع والمتبوع؛ لأن النص مطلق، فلا يقيد من غير دليل الخصوص، ومما ينبغي أن يعلم أن الخلافة الكاملة قد تمت على علي بمقتضى قوله خلا: (الخلافة بعدي ثلاثون سنة، ثم يصير ملكا عضوضا)، بخلاف الخلافة الناقصة؛ لأنها كانت في الخلفاء العباسية أيضًا، والإمامة قد عدمت أيضًا لفقدان شرطها في زماننا إذ أدناها أن يكون الإمام من أهل قريش، وهو معدوم الآن في أكثر المواضع، ولكن السلطنة والإمارة باقية، وإنما يجب علينا اتباعهم في هذا الزمان بمقتضى أنهم أولوا الأمر، وإطاعتهم واجبة بهذا النص المطلق، لا باعتبار أنهم أئمة أو خلفاء، انتهى ملخصًا.
Note 1
…… یہ خطاب ان کی اطاعت کے لئے عام لوگوں سے ہے اور پھر اختلاف کے وقت اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے ہم یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کی اطاعت جب تک وہ حق پر
رہیں واجب ہے اور جب وہ حق کے خلاف کریں تو ان کی اطاعت نہیں ہوگی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا
ارشاد ہے ”لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ“ (خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہوگی)۔
پس اگر یہ کہا جائے کہ یہ تمہارے مذہب کے خلاف ہے کیونکہ اس میں یہ ہے کہ ظالم بادشاہ کو برداشت کرنا جائز
ہے اور اس کے خلاف بغاوت کرنا درست نہیں ہے اور امیر فسق اور زیادتی کی وجہ سے معزول نہیں ہوگا۔
امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کا اس اخیر مسئلہ میں اختلاف ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس وقت درست ہے جب کہ حق کے ساتھ اس
کے لئے فیصلہ ممکن ہو لیکن جب ایسا ممکن نہ ہو تو درست نہیں۔ اور اس کے سوا نہیں کہ ہم حق کا فیصلہ کرنے کی صورت میں
اس کے صحیح ہونے کا جو حکم لگاتے ہیں وہ اس لئے کہ فسق و فجور اور ظلم و زیادتی، خلفاء راشدین کے بعد ائمہ اور امراء میں
پھیل گئی تھی۔ اور سلف ان کی اطاعت کرتے تھے اور جمعہ و عیدین کی نمازیں ان کی اجازت سے قائم کرتے اور ان
کے خلاف خروج کی رائے نہیں رکھتے تھے کیونکہ صحابہ علیہم الرضوان سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احکام کو بجا لاتے
باوجود اس کے کہ حق سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے دور میں تھا۔ اور تابعین حجاج کے احکام کی تقلید کرتے
باوجود اس کے کہ وہ ظالم بادشاہ تھا جیسا کہ ہدایہ میں صراحت ہے کہ حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو مروی ہے
کہ فسق سے وہ معزول ہو جائے گا لیکن علماء شافعیہ کی کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ فسق کی وجہ سے امیر معزول نہیں ہوگا
کیونکہ اس کے معزول ہونے اور دوسرے کو قائم کرنے میں فتنہ کو بھڑکانا ہے کیونکہ امیر کو قوت حاصل رہتی ہے۔ برخلاف
قاضی کے کہ وہ ان کے پاس فسق کی وجہ سے معزول ہو جائے گا کیونکہ اس کو کوئی طاقت نہیں ہوتی جیسا کہ شرح عقائد میں
اس کی وضاحت ہے اور حق بات یہ ہے کہ ”اولوالامر“ سے مراد وہ سب اشخاص ہیں جن کو تابع اور متبوع کے حسب
مراتب حکومت حاصل ہے چاہے امام ہو یا امیر، سلطان ہو یا حاکم، عالم ہو یا مجتہد، قاضی ہو یا مفتی، کیونکہ نص مطلق ہے
تخصیص کی دلیل کے بغیر اس کو مقید نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ بات جاننا چاہئے کہ خلافت کاملہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر
ختم ہوگئی حضور علیہ والہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق ”الخلافة بعدى ثلاثون سنة ثم يصير ملكا
عضوضا“ (خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی پھر کاٹ کھانے والی حکومت ہوگی)۔
برخلاف خلافت ناقصہ کے، کہ وہ خلفاء عباسیہ میں بھی رہی ہے لیکن امام معدوم ہے۔ اب ہمارے زمانے میں
اس کی شرط کا فقدان ہے کیونکہ اس کی اولیٰ شرط یہ ہے کہ امام اہل قریش سے ہو اور اکثر مقامات میں وہ اب معدوم ہے
لیکن سلطنت اور امارت باقی ہے اور ہم پر ان کی اتباع اس زمانے میں بھی واجب ہے کیونکہ وہ اولوا الامر ہیں اور اولوا الامر
کی اتباع نص کے مطلق ہونے کی بناء پر واجب ہے۔ اس اعتبار سے نہیں کہ وہ ائمہ اور خلفاء ہیں۔
جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ یقیناً امام ڈھال ہے جس کے پیچھے سے
جنگ کی جاتی ہے۔ اور اس کے ذریعہ حفاظت کی جاتی ہے۔ پس اگر وہ امام اللہ کے تقویٰ کا حکم دے
اور عدل سے کام لے تو اس کو اس کی وجہ سے اجر ہے اور اگر اس کے سوا کوئی اور بات کہے تو اس پر اس
کا وبال ہے۔ (متفق علیہ)
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سمع و اطاعت (امیر کی بات سننے اور فرماں برداری کرنے) پر بیعت کی، تنگدستی
اور فراخدستی میں، خوشی اور ناخوشی میں اور ہم پر کسی دوسرے کو ترجیح دینے کی صورت میں بھی اور اس
بات پر بھی کہ ہم صاحب اقتدار سے اقتدار کے بارے میں جھگڑا نہ کریں اور اس بات پر بھی کہ ہم
جہاں کہیں رہیں حق کی بات کہیں اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے
خوف نہ کھائیں۔
ایک روایت میں ہے ”اور اس پر بھی کہ صاحب اقتدار سے اقتدار کے بارے
میں اختلاف نہ کریں مگر یہ کہ تم ان سے ایسا کھلا کفر دیکھو2 جس میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف
سے کوئی دلیل ہو۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 7056 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 7199 (unverified) 88% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1709h (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
...and not to dispute authority with its rightful holders unless you see clear disbelief,
(1) Regarding the saying: "...and not to dispute authority with its rightful holders unless you see clear disbelief," etc.: This means not to challenge the authority of rulers or object to them unless you see clear wrongdoing that you know violates Islamic principles. If you see this, denounce it and uphold the truth wherever you are. However, rebelling against them or fighting them is prohibited by the consensus of Muslims, even if they are immoral or oppressive. The people of the Sunnah agree that a ruler is not removed for immorality to avoid unrest, bloodshed, and division, as the harm of removing him outweighs keeping him. They also agree that leadership cannot be given to a disbeliever. If disbelief or alteration of the Sharia or innovation arises in a ruler, his obedience is nullified, and Muslims must remove him and appoint a just imam if possible. For an innovator, this applies only if they believe they can succeed; otherwise, Muslims should migrate from his land to preserve their faith.
In Sharh al-Aqa'id, it is stated that there is consensus on the obligation to appoint an imam, as many religious duties depend on it, such as enforcing rulings, implementing penalties, securing borders, equipping armies, collecting charity, subduing oppressors and bandits, establishing Friday and Eid prayers, marrying minors without guardians, and distributing spoils. It is also stated that an imam is not removed for immorality, as infallibility is not a condition for leadership initially or continuously. Al-Shafi'i held that an imam is removed for immorality, as is any judge or leader, because an immoral person is not fit for authority, as he cannot care for others if he neglects himself. According to Abu Hanifa, such a person remains eligible for authority, so an immoral father can marry off his minor daughter. Shafi'i texts state that a judge is removed for immorality, unlike an imam, because removing an imam causes unrest due to his power, unlike a judge.
Note 1
قوله
(١) قوله: وعلى أن لا ننازع الأمر أهله إلا أن ترو كفرًا بواحا إلخ: والمعنى لا تنازعوا وُلاة الأمور في ولايتهم، ولا تعترضوا عليهم إلا أن تروا منهم مُنكَرًا محقَّقًا تعلمونه من قواعد الإسلام، فإذا رأيتم ذلك فأنكروه عليهم، وقوموا بالحق حيثما كنتم، وأما الخروج عليهم وقتالهم فمحرم بإجماع المسلمين، وإن كانوا فَسَقَةً ظالمين، وأجمع أهل السنة على أن السلطان لا ينعزل بالفسق لتهيج الفتن في عزله وإراقة الدماء وتفريق ذات البين، فتكون المفسدة في عزله أكثر منها في بقائه، وأجمعوا على أن الإمامة لا تنعقد لكافر. ولو طرأ عليه الكفر انعزل، وكذا لو ترك إقامة الصلوات والدعاء إليها، وكذا البدعة. قال القاضي: فلو طرأ عليه كفر وتغيير في الشرع أو بدعة، سقطت إطاعته، ووجب على المسلمين خلعه ونصب إمام عادل إن أمكنهم ذلك، ولا يجب في المبتدع إلا إذا ظنوا القدرة عليه، وإلا فيهاجر المسلم عن أرضه إلى غيرها ويفر بدينه.
وفي (شرح العقائد): الإجماع على أن نصب الإمام واجب؛ لأن كثيرا من الواجبات الشرعية يتوقف عليه، كتنفيذ أحكام المسلمين، وإقامة حدودهم، وسد ثغورهم، وتجهيز جيوشهم، وأخذ صدقاتهم، وقهر المتغلبة والمتلصصة وقطاع الطريق، وإقامة الجمعة والأعياد، وتزويج الصغير والصغيرة اللذَّيْنِ لا أولياء لهما، وقسمة الغنائم، ونحو ذلك من الأمور التي لا يتولاها آحاد الأمة. ثم قال: ولا ينعزل الإمام بالفسق؛ لأن العصمة ليست بشرط للإمامة ابتداءً فبقاءً أولى. وعن الشافعي أن الإمام ينعزل بالفسق، وكذا كل قاض وأمير. وأصل المسألة أن الفاسق ليس من أهل الولاية من أهل الولاية عند الشافعي؛ لأنه لا ينظر لنفسه فكيف ينظر لغيره. وعند أبي حنيفة هو من أهل الولاية حتى يصحُّ للأب الفاسق تزويج ابنته الصغيرة، والمسطور في كُتُب الشافعية أن القاضي ينعزل بالفسق بخلاف الإمام، والفرق أن في انعزاله ووجوب نصب غيره إثارة الفتنة لما له من الشوكة بخلاف القاضي. كذا في (المرقاة).
Note 1
2قوله: وعلى ان لا ننازع الامر اهله الا ان تروا كفرا بواحا الخ (ہم صاحب اقتدار سے اقتدار
کے بارے میں اختلاف نہ کریں مگر یہ کہ تم ان سے ایسا کھلا کفر دیکھو) اس ارشاد گرامی کے معنی یہ ہیں کہ حاکموں سے ان
کے اقتدار میں جھگڑا مت کرو۔ اور ان پر اعتراض مت کرو۔ مگر جب تم ان سے اسلامی قواعد کے مطابق یقینی طور پر کسی
برائی کو دیکھو تو تب ان کو اس کی برائی بتاؤ اور تم جہاں کہیں رہو حق کو قائم کرو۔
اب رہا ان کے خلاف خروج کرنا اور ان سے جنگ کرنا بالاتفاق حرام ہے اگرچہ وہ فاسق اور ظالم ہوں۔ اور
اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بادشاہ فسق کی وجہ سے معزول نہیں ہوتا کیونکہ اس کو معزول کرنے میں فتنے بھڑکتے
ہیں اور خون خرابہ ہوتا ہے اور آپس میں تفرقہ پڑتا ہے اس لئے کہ اس کو معزول کرنے میں اس کے باقی رہنے سے بڑھ کر
فساد ہوتا ہے اور اس بات پر اتفاق ہے کہ امامت (حکومت) کافر کے لئے منعقد نہیں ہوتی اور اگر اس سے کفر سرزد
ہو جائے تو وہ معزول ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر وہ نمازوں کو قائم کرنے اور نمازوں کی طرف دعوت دینے کو چھوڑ دے۔
اسی طرح بدعتوں کی وجہ سے (وہ معزول ہو جائے گا) قاضی نے فرمایا: اگر اس پر کفر طاری ہو جائے یا شریعت میں کوئی
تبدیلی کر لے یا بدعت آ جائے (یعنی ہو جائے) تو اس کی اطاعت ختم ہو جائے گی اور اگر ممکن ہو تو اس کو ہٹانا اور امام عادل
کو مقرر کرنا مسلمانوں پر واجب ہو جائے گا اور بدعی امیر کے بارے میں اگر مسلمانوں کو یہ اندازہ ہو کہ اس کو ہٹانے کی
قدرت ہے تو ہٹانا واجب ہے ورنہ مسلمان اپنے دین کی خاطر اس کی زمین سے دوسری طرف ہجرت کر کے چلے جائیں۔
اور شرح عقائد میں اس بات پر اجماع ہے کہ امام کو مقرر کرنا واجب ہے کیونکہ بہت سے شرعی واجبات اس پر موقوف
ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کے واجبات اس پر موقوف ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کے احکام کو نافذ کرنا اور حدود قائم کرنا اور ملک کی
سرحدوں کی حفاظت کرنا اور مسلمان فوج کو تیار کرنا اور مسلمانوں سے صدقات، زکوٰۃ وغیرہ لینا اور باغیوں، چوروں، لٹیروں کو
دبانا، جمعہ اور عیدین کو قائم کرنا، چھوٹے بچے، بچیوں کی شادی کرنا جن کے کوئی سرپرست نہیں اور مال غنیمت تقسیم کرنا اور اس
جیسے بہت سے وہ امور جن کو امت کے افراد الگ الگ انجام نہیں دے سکتے۔ پھر انھوں (صاحب شرح عقائد) نے یہ کہا:
امام فسق کی وجہ سے معزول نہیں ہوگا کیونکہ امامت کے لئے عصمت ابتداء ہی میں شرط نہیں ہے لہٰذا امامت پر باقی رہنے کے
لئے بدرجہ اولیٰ شرط نہیں ہوگی۔ اور حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ فسق کی وجہ امام معزول ہو جائے گا۔ اور اسی
طرح قاضی اور امیر بھی (فسق کی وجہ سے معزول ہو جائیں گے (اصل مسئلہ امام شافعی رحمہ اللہ کے پاس یہ ہے کہ فاسق اہل
ولایت یعنی اقتداری صلاحیت نہیں رکھتا کیونکہ جب وہ اپنا خیال نہیں کرتا تو دوسروں کا کیا خیال رکھے گا۔
اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے پاس فاسق اہل ولایت سے ہے یہاں تک کہ فاسق باپ کو اپنی چھوٹی
بچی کی شادی کرانے کا حق حاصل ہے اور شافعی کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ قاضی فسق سے معزول ہو جاتا ہے برخلاف
امام کے (یعنی وہ فسق سے معزول نہیں ہوتا) اور اس (امام) کے معزول ہونے اور دوسرے کو امام مقرر کرنے میں فرق یہ
ہے کہ اس کے اقتدار کی وجہ سے فتنہ بھڑکتا ہے برخلاف قاضی کے۔ (مرقات)
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا! تمہارے امام وہ ہیں جن کو تم چاہتے ہو اور جو تم کو چاہتے ہیں اور تم
ان کے لئے دعا کرتے ہو اور وہ تمہارے لئے دعا کرتے ہوں۔ تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن
سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں اور تم ان پر لعنت کرتے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے
ہیں۔
ہم نے عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ تو کیا ہم اس وقت ان کو ہٹا نہ دیں؟“
آپ ﷺ نے فرمایا! نہیں جب تک کہ وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں۔ نہیں، جب تک کہ وہ تم
میں نماز قائم کرتے رہیں۔ یاد رکھو: جس آدمی پر کوئی حاکم مقرر کر دیا جائے اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی کی کوئی چیز دیکھے تو وہ ناپسند کرے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام کو جسے وہ کر رہا اور ہرگز
اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچ لے۔ (مسلم)
سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا: تم پر ایسے امراء (حکمران) ہوں گے جن میں تم معروف و منکر کو دیکھو گے پس جو شخص
انکار کرے تو وہ بری الذمہ ہو گیا اور جو ناپسند کرے تو وہ محفوظ رہا البتہ جو راضی رہا اور موافقت کر لیا تو
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔ یعنی جو آدمی
اپنے دل سے ناپسند کرے اور دل سے انکار کرے۔ (مسلم)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا تم لوگ میرے بعد ترجیحات (حق تلفی) اور ایسے امور جن کو تم منکر
جانتے ہو دیکھو گے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے
فرمایا تم ان کو ان کا حق دو اور اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگو۔ (متفق علیہ)
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سلمہ بن یزید جعفیؓ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کرتے ہوئے کہا یا نبی اللہﷺ آپ کیا فرماتے ہیں اگر
ہم پر ایسے امراء قائم ہو جائیں جو ہم سے اپنا حق مانگیں اور ہم سے ہمارا حق روک دیں تو آپ کیا حکم
فرماتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا ان کی باتیں سنو اور اطاعت کرو۔ اس کے سوا نہیں کہ ان پر وہ چیز
واجب ہے جس کی ذمہ داری وہ اٹھائے ہیں اور تم پر وہ واجب ہے جس کی تم نے ذمہ داری اٹھائی
ہے۔ (مسلم)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا بنی اسرائیل پر ان کے انبیاء علیہم السلام حکومت کیا کرتے تھے جب کوئی نبی انتقال
کر جاتے تو دوسرے نبی ان کے جانشین ہو جاتے اور بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے بلکہ عنقریب
خلفاء ہوں گے پس وہ بکثرت ہوں گے صحابہؓ نے عرض کیا آپﷺ ہم کو کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپﷺ
نے فرمایا پس تم پہلے جس سے بیعت 3 کئے ہو اس کو پورا کرو وہی پہلا خلیفہ مستحق ہے اور انکو ان کا حق
دیدو۔ پس بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا اس چیز کے بارے میں جس میں وہ ان کو حاکم بنایا۔
(متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 3455 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1842a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Fulfill the pledge to the first, then the first,
(1) Regarding the saying: "Fulfill the pledge to the first, then the first," etc.: This means that if a caliph is pledged allegiance after another, the pledge to the first is valid and must be fulfilled, while the pledge to the second is invalid and fulfilling it is prohibited. Scholars agree that it is not permissible to appoint two caliphs at the same time, whether the Muslim lands are vast or not, as stated by al-Nawawi in Sharh Aqa'id al-Nasafi.
Note 1
قوله
(١) قوله: بيعة الأول فالأول إلخ: ومعنى هذا الحديث: إذ بويع لخليفة بعد خليفة، فبيعة الأول صحيحة يجب الوفاء بها، وبيعة الثاني باطلة يحرم الوفاء بها، واتفق العلماء على أنه لا يجوز أن يُعقَد لخليفتين في عصر واحد، سواء اتسعتٍ دار الإسلام أم لا، قاله النووي. كذا في (شرح عقائد النسفي).
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا: جب دو خلیفہ 4 کے لئے بیعت کی جائے گی تو ان دونوں میں سے آخری کو قتل
کر دو۔ (مسلم)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1853 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
If two caliphs are pledged allegiance,
(1) Regarding the saying: "If two caliphs are pledged allegiance," etc.: This indicates that it is not permissible to pledge obedience to two caliphs, as agreed upon by consensus, according to al-Nawawi.
Note 1
١) قوله: إذا بويع لخليفتين إلخ: فيه أنه لا يجوز عقد الإطاعة لخليفتين، نقل الإجماع فيه، قاله النووي.
سیدنا عرفجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب تم میں مسلسل فتنے ہی فتنے رونما ہوں گے پس جو شخص اس امت کے
معاملہ میں جب کہ وہ متحد ہے پھوٹ ڈالنا چاہے تو تم اس کو تلوار سے مارو خواہ وہ کوئی ہو۔ (مسلم)
ان ہی (عرفجۃؓ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
فرماتے ہوئے سنا ہے تمہارے پاس ایسے وقت جب کہ تمہارا معاملہ کسی ایک آدمی پر متحد ہے کوئی شخص تمہارے
اتحاد میں رخنہ تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنے کے لئے آئے تو تم اس کو قتل کر ڈالو۔ (مسلم)
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی امام سے بیعت کرے، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے اور اپنے
دل کا پھل (یعنی خالص) دے تو وہ جس قدر ہوسکے اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی دوسرا اس سے
جھگڑا کرے (چھین لینا چاہے) تو تم اس دوسرے کی گردن اڑا دو (جب کہ وہ اس کے سوا کسی اور
طریقہ سے باز نہ آئے)۔ (مسلم)
ام الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا اگر تم پر ناک کان کٹا غلام کو امیر 5 بنا دیا جائے جو اللہ کی کتاب سے تمہاری قیادت کرتا ہے تو
تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ (مسلم)
(1) Regarding the saying: "If a mutilated slave is appointed over you," etc.: This means to listen and obey the leader, even if he is of low lineage, such as a black slave with severed limbs; his obedience is obligatory. A slave may become a leader if appointed by an imam or if he gains control through power and followers. However, appointing a slave as a leader is not permissible by choice, as freedom is a condition, according to al-Nawawi. Thus, it is stated in al-Durr al-Mukhtar and Radd al-Mukhtar: The authority of a usurper is valid due to necessity to prevent unrest, and as per the saying: "Listen and obey, even if a mutilated Abyssinian slave is appointed over you."
Note 1
قوله
(١) قوله: إن أمر عليكم عبد مجدع إلخ: أي أسمع وأطع للأمير، وإن كان دني النسب حتى لو كان عبدا أسود مقطوع الأطراف فطاعته واجبة، ويتصور إمارة العبد إذا ولَّاه بعض الأئمة أو يغلب على البلاد بشوكته وأتباعه، ولا يجوز ابتداءً عقد الولاية له مع الاختيار، بل شرطها الحرية، قاله النووي، ولذلك قال في (الدر المختار) و(رد المختار): وتصح سلطنة متغلب للضرورة، وهي دفع الفتنة، ولقوله عليه السلام: (أسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع).
سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے فرمایا تم (حاکم کی بات) سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کہ تم پر حبشی غلام حاکم بنا دیا جائے 6۔ جس کا سر
کشمش کے دانہ جیسا ہو۔ (بخاری)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 7142 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 2
Even if an Abyssinian slave whose head is like a raisin,
(2) Regarding the saying: "Even if an Abyssinian slave whose head is like a raisin," etc.: This refers to an Abyssinian slave appointed by the supreme imam over the people, not as the supreme imam himself, as imams must be from Quraysh. It is said to be an exaggeration to emphasize obedience and prohibit division or opposition, as stated in al-Marqah.
زیاد بن کسیب عدویؓ سے روایت ہے کہ میں ابو بکرہؓ کے ساتھ ابن عامر کے
منبر کے قریب تھا اور وہ خطبہ دے رہا تھا۔ اور اس پر باریک کپڑے تھے تو ابو بلالؒ نے کہا ہمارے
امیر کو دیکھو فاسقوں کے کپڑے پہنتا ہے تو ابو بکرہؓ نے فرمایا خاموش رہو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی زمین میں اللہ کے (مقرر کردہ) سلطان کی اہانت
کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی اہانت کرے گا۔ (ترمذی۔ اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب
ہے)
سیدنا ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا سب سے فضیلت والا جہاد اس آدمی کا ہے جس نے ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات
کہی۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ)
اور امام احمد و نسائی نے طارق بن شہاب سے اس کی روایت کی ہے۔
سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ بزرگ و برتر کے سایہ کے طرف
سبقت کرنے والے کون ہیں؟ صحابہؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق دیا جاتا ہے تو اس کو قبول کرتے ہیں اور
جب ان سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ خرچ کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے وہی حکم دیتے ہیں جو وہ اپنے
نفس کے لئے حکم دیتے ہیں۔ (امام احمد)
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے سمع و طاعت کی بیعت کرتے تو آپ ﷺ ہم سے فرماتے ”فيما استطعتم“ ”ان میں
جن کی تم استطاعت رکھتے ہو۔ (متفق علیہ)
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا تمہارا ان امراء کے ساتھ کیسا معاملہ ہوگا جو میرے بعد ہوں گے۔ اس مالِ فَیٔ میں
اپنے آپ کو ترجیح دیں گے تو میں نے عرض کیا آپ ملاحظہ فرمائیں قسم ہے اس ذات کی جس نے
آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے کندھے پر تلوار رکھوں گا پھر اس سے ضرب لگاؤں گا۔ پھر
اس سے ماروں گا۔ یہاں تک کہ میں آپ ﷺ سے ملاقات کروں گا تو آپ نے ارشاد فرمایا کیا میں
تم کو اس سے بھی بہتر بات نہ بتلاؤں؟ تم صبر کرو یہاں تک کہ تم مجھ سے ملاقات کرو۔ (ابوداؤد)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی امیر سے ایسی چیز دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے تو وہ صبر کرے کیونکہ جو
کوئی آدمی جماعت سے بالشت بھر الگ ہو کر انتقال کرے گا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
(متفق علیہ)
سیدنا حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جماعت کا، سمع کا، طاعت کا، ہجرت اور
اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کا اور یقیناً جو کوئی آدمی جماعت سے بالشت بھر بھی نکل جائے تو وہ اپنی
گردن سے اسلام کا پٹہ نکال دیا مگر یہ کہ پھر وہ واپس آ جائے اور جو آدمی جاہلیت کی پکار کی طرح
پکارے تو وہ دوزخ کی جماعت میں سے ہے۔ اگرچیکہ وہ روزہ رکھے نماز پڑھے اور دعویٰ کرے کہ
وہ مسلمان ہے۔ (امام احمد، ترمذی)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی اطاعت سے نکل جائے اور جماعت سے
الگ ہو جائے اور انتقال کر جائے تو جاہلیت کی موت مرے گا۔ اور جو آدمی کسی اندھے جھنڈے کے
تحت (یعنی جس کا حق ہونا ظاہر نہ ہو) لڑے عصبیت کے لئے غصہ ہوتے ہوئے یا عصبیت کے لئے
بلاتے ہوئے یا عصبیت کی بناء پر مدد کرتے ہوئے اور وہ مارا جائے تو یہ جاہلیت کے مارے جانے کی
طرح ہے۔ جو آدمی میری امت کے خلاف ایک تلوار لے کر اس کے اچھے اور برے لوگوں کو مارے
اور اس میں سے مومن کی پرواہ نہ کرے اور کسی عہد والے کے عہد کو پورا نہ کرے تو وہ مجھ سے نہیں ہے
اور میں اس سے نہیں ہوں۔ (مسلم)
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی (امیر کی) اطاعت سے اپنا ہاتھ الگ کرے تو
قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوگی اور جو آدمی
انتقال کر جائے اور اس کے گلے میں بیعت نہ ہو (امیر کی) تو اس کی موت جاہلیت کی موت کی طرح
ہے۔ (مسلم)
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اقتدار کا سوال مت کرو کیونکہ اگر وہ تم کو مانگنے سے مل جائے تو تم
اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور اگر وہ تم کو بغیر مانگے مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے
گی۔ (متفق علیہ)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا تم عنقریب حکومت اور اقتدار کی حرص کرو گے اور یہ قیامت کے دن تمہارے لئے
شرمندگی ہوگی۔ پس حکومت کتنی اچھی دودھ پلانے والی ہے اور کتنی بری دودھ چھڑانے والی ہے۔
(بخاری)
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ ﷺ کیا آپ مجھے گورنر نہیں بنائیں گے؟ ابوذر نے کہا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا
دست (شفقت) میرے مونڈھے پر مارا پھر فرمایا: اے ابوذر تم کمزور ہو اور بے شک یہ ایک امانت
ہے اور قیامت کے دن یہ ایک رسوائی ہے اور شرمندگی (کا سبب) ہے مگر وہ آدمی جو اس کو اس کے حق
کے ساتھ لے اور اس حق کو ادا کرے جو اس کے ذمہ اس سے متعلق ہے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا اے ابوذر میں تم کو
ضعیف دیکھ رہا ہوں اور میں تمہارے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں
پر ہرگز امیر نہ بننا اور نہ کسی یتیم کے مال کے ذمہ دار بننا۔ (مسلم)
سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے چھ دن تک فرمایا: اے ابوذر تم اس چیز کو یاد رکھو جو اس کے بعد تم سے کہی جائے گی‘‘ پس
جب ساتواں دن آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تم کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں تمہارے
اندرونی اور علانیہ معاملہ میں اور جب تم سے کوئی برائی سرزد ہو جائے تو اچھا کام بھی کرو۔ اور کسی سے
کوئی چیز مت مانگو اگرچہ تمہارا چابک (کوڑا) گر جائے اور کسی کی امانت مت رکھو اور دو آدمیوں
کے درمیان فیصلہ مت دو۔ (احمد)
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے دو چچازاد
بھائی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو ان دو میں سے ایک نے کہا: یا رسول اللہ
ﷺ ہم کو حاکم بنا دیجئے اس میں سے کسی چیز پر جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اقتدار دیا ہے۔ اور
دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم ہم کو وزری پر کسی ایسے کو مقرر نہیں کرتے
جو اس کو مانگے اور نہ کسی ایسے کو جو اس کی حرص رکھے۔
اور ایک روایت میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہم ہمارے کسی کام پر ایسے شخص
کو گورنر نہیں بناتے جو اس کو چاہتا ہے۔ (متفق علیہ)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے بہتر تم اس آدمی کو پاؤ گے جو ان میں اس اقتدار کو سب سے زیادہ
ناپسند کرنے والا ہو یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہو جائے۔ (متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سنو! تم میں کا ہر آدمی نگہبان و ذمہ دار ہے اور تم میں کا ہر ایک اپنے ماتحت
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس جو امام لوگوں پر نگہبان ہے اس سے اس کی رعایا کے بارے میں
پوچھا جائے گا اور آدمی اپنے گھر والوں پر نگہبان ہے تو اس سے اس کے ماتحت کے بارے میں پوچھا
جائے گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر نگہبان ہے تو اس سے ان کے بارے میں
پوچھا جائے گا اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال پر نگہبان ہے اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا
جائے گا سنو تم میں ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت کے بارے میں
پوچھا جائے گا۔ (متفق علیہ)
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدترین حاکم وہ ہیں جو ظلم کرنے والے
ہیں۔ (مسلم)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Regarding the saying: "Whoever obeys the leader has obeyed me, and whoever disobeys the leader has disobeyed me," etc.: Scholars unanimously agree on the obligation to obey leaders in matters that do not involve sin, and on the prohibition of obeying them in sin, as stated by Qadi Iyad and others, according to al-Nawawi, as cited by al-Ayni. Al-Nawawi said in al-Marqah: This emphasizes the importance of listening and obeying in all circumstances, as it unites the Muslim community, since discord leads to corruption in their religious and worldly affairs. The exception is in cases of sin, as indicated by the beginning of the hadith and other authenticated hadiths. In al-Tafsir al-Ahmadiyya, it is stated that obedience to leaders is obligatory, but not absolutely; it applies as long as they are just and adhere to the truth. This is because the verse about those in authority follows the verse about fulfilling trusts and judging justly, which some say is directed specifically to rulers. This verse commands people to obey them, but in disputes, matters should be referred to God and the Messenger, indicating that obedience is required only when they adhere to the truth. If they deviate, there is no obedience, as the Prophet, peace and blessings be upon him, said: "There is no obedience to a created being in disobedience to the Creator." If it is asked: This seems to contradict your view that it is permissible to accept authority from an unjust ruler, and that rebellion against him is not allowed, nor is an imam removed for immorality or injustice, unlike the view of al-Shafi'i regarding the latter. I say: This is valid only if the ruler can judge justly. If not, it is invalid. We consider it valid when justice is upheld because immorality and injustice became prevalent among leaders and rulers after the Rightly Guided Caliphs. The early Muslims submitted to them, performed Friday and Eid prayers under their authority, and did not see rebellion as permissible. The Companions accepted authority under Muawiya, though Ali was in the right during his time, and the Followers accepted authority under al-Hajjaj, despite his injustice, as stated in al-Hidayah. Although al-Shafi'i held that an imam is removed for immorality, Shafi'i texts state that an imam is not removed for immorality to avoid sparking unrest due to his power, unlike a judge, who is removed for immorality as he lacks such power, as explained in Sharh al-Aqa'id. The truth is that "those in authority" refers to all who hold authority, whether an imam, leader, ruler, governor, scholar, or jurist, according to the ranks of follower and leader, as the text is general and should not be restricted without specific evidence. It should be noted that the complete caliphate ended with Ali, as per the saying: "The caliphate after me will last thirty years, then it will become a harsh monarchy." However, an incomplete caliphate existed under the Abbasid caliphs. The imamate is absent today due to the lack of its conditions, such as the imam being from Quraysh, which is mostly absent now. However, leadership and governance remain, and we are obligated to follow them in this era based on the general text, not because they are imams or caliphs.
Note 1
(١) قوله: ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني إلخ: أجمع العلماء على وجوب طاعة الأمراء في غير معصية، وعلى تحريمها في المعصية نقل الإجماع على هذا القاضي عياض وآخرون، قاله النووي كذا قال العيني. وقال في (المرقاة): قال النووي: فيه حث على السمع والطاعة في جميع الأحوال، وسببها اجتماع كلمة المسلمين، فإن الخلاف سبب لفساد أحوالهم في دينهم ودنياهم. ويستثنى من جميع الأحوال حال المعصية لما يستفاد من صدر الحديث، ولما سيأتي في بعض الأحاديث المصححة، انتهى. وقال في (التفسيرات الأحمدية)؛ أن إطاعة الأمراء واجبة لكن لا مطلقًا، بل ما داموا عادلين، وكانوا على الحق؛ وذلك لانه لما كان آية أولى الأمر متصلة بالآية السابقة المذكورة فيها بيان أداء الأمانة والحكم بالعدل، وكان تلك خطابا للؤُلاة خاصة عند البعض، وهذه خطاب بالناس بإطاعتهم، ثم أمر عند النزاع بالرد إلى الله والرسول، علمنا أن وجوب إطاعتهم ما داموا على الحق، وإذا خالفوه فلا إطاعة لهم؛ .لقوله صلي الله عليه وسلم : (لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق). فإن قيل: هذا يخالف ما هو مذهبكم من أنه يجوز التقلد من السلطان الجائر، ولا يصحُّ الخروج عليه، ولا ينعزل الإمام بالفسق والجور خلافا للشافعي في الأخير من ذلك. قلت: إنما يصحُّ ذلك إذا كان يمكنه القضاء بحق، وأما إذا لم يكن فلا يصحُّ، وإنما حكمنا بصحته في حال القضاء بحق؛ لأنه قد ظهر الفسق وانتشار الجور من الأئمة والأمراء بعد الخلفاء الراشدين، والسلف كانوا ينقادون لهم، ويقيمون الجُمَع والأيعاد بإذنهم، ولا يرون الخروج عليهم؛ لأن الصحابة كانوا يقلدون عن معاوية مع أن الحق كان لعلي في نوبته، والتابعين كانوا يقلدون من حجاج مع أنه كان سلطانا جائرا، كما نص به في (الهداية) على أن المروي عن الشافعي وإن كان انعزاله بالفسق، ولكن المسطور في كُتُب الشافعية: أن الإمام لا ينعزل بالفسق؛ لأن في انعزاله ونصب غيره إثارة الفتنة؛ لما له من الشوكة، بخلاف القاضي فينعزل عنده بالفسق؛ لأنه غير ذي شوكة، كما نص به في (شرح العقائد). والحق أن المراد بأولي الأمر كل أولي الحكم، إمامًا كان أو أميرًا، سلطانًا كان أو حاكمًا، عالما كان أو مجتهدا، قاضيًا كان أو مفتيًا على حسب مراتب التابع والمتبوع؛ لأن النص مطلق، فلا يقيد من غير دليل الخصوص، ومما ينبغي أن يعلم أن الخلافة الكاملة قد تمت على علي بمقتضى قوله خلا: (الخلافة بعدي ثلاثون سنة، ثم يصير ملكا عضوضا)، بخلاف الخلافة الناقصة؛ لأنها كانت في الخلفاء العباسية أيضًا، والإمامة قد عدمت أيضًا لفقدان شرطها في زماننا إذ أدناها أن يكون الإمام من أهل قريش، وهو معدوم الآن في أكثر المواضع، ولكن السلطنة والإمارة باقية، وإنما يجب علينا اتباعهم في هذا الزمان بمقتضى أنهم أولوا الأمر، وإطاعتهم واجبة بهذا النص المطلق، لا باعتبار أنهم أئمة أو خلفاء، انتهى ملخصًا.
Note 1
…… یہ خطاب ان کی اطاعت کے لئے عام لوگوں سے ہے اور پھر اختلاف کے وقت اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے ہم یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان کی اطاعت جب تک وہ حق پر رہیں واجب ہے اور جب وہ حق کے خلاف کریں تو ان کی اطاعت نہیں ہوگی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ”لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوْقٍ فِيْ مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ“ (خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہوگی)۔ پس اگر یہ کہا جائے کہ یہ تمہارے مذہب کے خلاف ہے کیونکہ اس میں یہ ہے کہ ظالم بادشاہ کو برداشت کرنا جائز ہے اور اس کے خلاف بغاوت کرنا درست نہیں ہے اور امیر فسق اور زیادتی کی وجہ سے معزول نہیں ہوگا۔ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کا اس اخیر مسئلہ میں اختلاف ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس وقت درست ہے جب کہ حق کے ساتھ اس کے لئے فیصلہ ممکن ہو لیکن جب ایسا ممکن نہ ہو تو درست نہیں۔ اور اس کے سوا نہیں کہ ہم حق کا فیصلہ کرنے کی صورت میں اس کے صحیح ہونے کا جو حکم لگاتے ہیں وہ اس لئے کہ فسق و فجور اور ظلم و زیادتی، خلفاء راشدین کے بعد ائمہ اور امراء میں پھیل گئی تھی۔ اور سلف ان کی اطاعت کرتے تھے اور جمعہ و عیدین کی نمازیں ان کی اجازت سے قائم کرتے اور ان کے خلاف خروج کی رائے نہیں رکھتے تھے کیونکہ صحابہ علیہم الرضوان سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے احکام کو بجا لاتے باوجود اس کے کہ حق سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے دور میں تھا۔ اور تابعین حجاج کے احکام کی تقلید کرتے باوجود اس کے کہ وہ ظالم بادشاہ تھا جیسا کہ ہدایہ میں صراحت ہے کہ حضرت امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو مروی ہے کہ فسق سے وہ معزول ہو جائے گا لیکن علماء شافعیہ کی کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ فسق کی وجہ سے امیر معزول نہیں ہوگا کیونکہ اس کے معزول ہونے اور دوسرے کو قائم کرنے میں فتنہ کو بھڑکانا ہے کیونکہ امیر کو قوت حاصل رہتی ہے۔ برخلاف قاضی کے کہ وہ ان کے پاس فسق کی وجہ سے معزول ہو جائے گا کیونکہ اس کو کوئی طاقت نہیں ہوتی جیسا کہ شرح عقائد میں اس کی وضاحت ہے اور حق بات یہ ہے کہ ”اولوالامر“ سے مراد وہ سب اشخاص ہیں جن کو تابع اور متبوع کے حسب مراتب حکومت حاصل ہے چاہے امام ہو یا امیر، سلطان ہو یا حاکم، عالم ہو یا مجتہد، قاضی ہو یا مفتی، کیونکہ نص مطلق ہے تخصیص کی دلیل کے بغیر اس کو مقید نہیں کیا جاسکتا۔ اور یہ بات جاننا چاہئے کہ خلافت کاملہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ختم ہوگئی حضور علیہ والہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق ”الخلافة بعدى ثلاثون سنة ثم يصير ملكا عضوضا“ (خلافت میرے بعد تیس سال ہوگی پھر کاٹ کھانے والی حکومت ہوگی)۔ برخلاف خلافت ناقصہ کے، کہ وہ خلفاء عباسیہ میں بھی رہی ہے لیکن امام معدوم ہے۔ اب ہمارے زمانے میں اس کی شرط کا فقدان ہے کیونکہ اس کی اولیٰ شرط یہ ہے کہ امام اہل قریش سے ہو اور اکثر مقامات میں وہ اب معدوم ہے لیکن سلطنت اور امارت باقی ہے اور ہم پر ان کی اتباع اس زمانے میں بھی واجب ہے کیونکہ وہ اولوا الامر ہیں اور اولوا الامر کی اتباع نص کے مطلق ہونے کی بناء پر واجب ہے۔ اس اعتبار سے نہیں کہ وہ ائمہ اور خلفاء ہیں۔ جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ یقیناً امام ڈھال ہے جس کے پیچھے سے جنگ کی جاتی ہے۔ اور اس کے ذریعہ حفاظت کی جاتی ہے۔ پس اگر وہ امام اللہ کے تقویٰ کا حکم دے اور عدل سے کام لے تو اس کو اس کی وجہ سے اجر ہے اور اگر اس کے سوا کوئی اور بات کہے تو اس پر اس کا وبال ہے۔ (متفق علیہ)