Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Indeed, the Lord, glorified and exalted be He, says: 'By My might and majesty, I will not take a servant out of this world whom I intend to forgive until I have exacted from him every sin on his neck through illness in his body or restriction in his provision'"
انس رضی اللہ عنہ سے (یہ حدیث قدسی اسی طرح) مروی ہے، وہ فرماتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جو تمام عالم کا پرورش کرنے والا ہے
پاک ہے اور بڑی شان والا ہے وہ قسم کھا کر اس طرح ارشاد فرماتا ہے (اس سے آئندہ مضمون کی
اہمیت کا اندازہ کرو) وہ ارشاد یوں ہو رہا ہے، میرے عزت وجلال کی قسم جب میں کسی بندہ کو جس
سے میں راضی ہوتا ہوں اور اس کی مغفرت کرنا چاہتا ہوں تو میں اس کو دنیا سے اس وقت تک نہیں
لے جاتا جب تک کہ اس کے جسم میں بیماری دے کر اور اس پر اس کی روزی تنگ کر کے اس کو اس
کے گناہوں سے پاک وصاف نہ کروں (اے وہ شخص جو بیماریوں میں مبتلا ہے یا روزی کی وجہ سے
پریشان ہے، یہ ارشاد سن کر بہت استقلال کے ساتھ برداشت کئے جانا ان سب مصیبتوں کو اللہ کی
مہربانی کا سبب سمجھنا، دنیا چند روزہ ہے ختم ہو جائے گی، ان مصیبتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تجھ سے
راضی اور خوش رہے گا۔ اس حدیث کی روایت ”رزین“ نے کی ہے۔
Abu Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "No fatigue, illness, anxiety, sorrow, harm, or distress befalls a Muslim, even if it be the prick of a thorn, but that Allah expiates some of his sins because of it"
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: (مسلمانو! تم سمجھتے ہوں گے کہ تم کو جو مصیبت اور تکلیف پہنچتی
ہے اس کا کچھ صلہ نہیں ہے! نہیں! نہیں! تم نے جو خدا کا دین قبول کیا ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ
کے پاس تمہاری بڑی قدر ہے سنو!) جس مسلمان کو کسی زخم سے یا پھوڑے پھنسی کی وجہ سے تکلیف ہو
یا اس کو کوئی دائمی مرض ہو گیا ہو جس سے اس کو تکلیف ہوتی رہتی ہے اور طرح طرح کے افکار سے گھل
رہا ہو، یا مرغوب چیز کے نہ ملنے سے رنج ہو، یا کسی سے کوئی ایذا پہنچ رہی ہو یا کسی وجہ سے غمگین ہو
(یا چھوٹی سی چھوٹی مصیبت میں مبتلا ہو مثلاً) کانٹا چبھ گیا ہو، اور کھٹک رہا ہو تو (اے مسلمان یہ نہ سمجھنا
کہ تیری ساری تکالیف رائیگاں جا رہی ہیں نہیں! نہیں! تیری ہر تکلیف کے بدلہ میں) اللہ تعالیٰ
تیرے گناہ مٹا رہے ہیں (تجھ کو گناہوں سے پاک وصاف کر کے دنیا سے لے جانا چاہتے ہیں خوب
سمجھ لے کہ محبوب کی مار میں بھی لذت ملتی ہے یہ سب تکالیف خدا کی طرف سے ہو رہی ہیں سمجھ کر
تجھے ان تکالیف میں لذت لینا چاہئے اگر لذت نہ لے سکے تو یہ تو سمجھنا چاہئے کہ ان سب تکلیفوں کا
مجھے صلہ مل رہا ہے اور گناہ معاف ہو رہے ہیں (تو تجھے صبر کرنا چاہئے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Amir al-Ram (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) mentioned illnesses and said: "When a believer is afflicted with an illness and then Allah restores him to health, it serves as an expiation for his past sins and a reminder for him in the future. As for the hypocrite, when he falls ill and then recovers, he is like a camel that its owners tie and then release, and it does not know why it was tied or why it was released." A man said: "O Messenger of Allah, what are illnesses? By Allah, I have never been ill." The Prophet (ﷺ) said: "Leave us, for you are not one of us"
عامر الرام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیماریوں کا ذکر فرما رہے تھے (اثنائے ذکر میں بیماریوں کی فضیلت اس طرح
بیان فرمائے) کہ جب کوئی مسلمان بیمار ہو جاتا ہے اور بیماریوں کی سختی جھیلنے کے بعد اس کو شفاء
ہو جاتی ہے تو اس بیماری سے اس کے گزشتہ گناہ مٹا دئے جاتے ہیں اور اس کو نصیحت ہوتی ہے، آئندہ
کے لئے (کہ گناہوں کی شامت سے بیماریاں آئی تھیں اللہ کا شکر ہے کہ بیماری سے شفاء ہوگئی اور
گناہ مٹا دئے گئے، آئندہ مجھے گناہ نہ کرنا چاہئے مسلمان کو اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے اس لئے وہ اس
طرح کی نصیحت لیتا ہے) بخلاف منافق کے (کہ اس کو اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں) جب وہ بیمار ہو کر اچھا
ہو جاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے کہ جس کو اس کے مالک نے باندھ کر پھر چھوڑ دیا ہو،
وہ نہیں جانتا کہ اس کو کس لئے باندھا تھا اور کس لئے اس کو چھوڑ دیا) (ایسے ہی منافق کو خبر ہی نہیں کہ
کیوں بیمار کیا گیا اور کیوں شفاء دی گئی، نہ گزشتہ گناہوں پر نادم ہوتا اور نہ آئندہ کے لئے اس کو
نصیحت ہوتی ہے سامعین میں سے) ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آپ بیماری کی
فضیلت تو بیان فرما رہے ہیں مگر) مجھے خبر نہیں کہ بیماری کیا چیز ہے، خدا کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا
(حضور کو کشف نبوت سے معلوم ہوا کہ وہ منافق ہے اس لئے) ارشاد فرمایا: تم ہمارے پاس سے
اٹھ جاؤ، معلوم ہوتا ہے کہ تم مسلمان نہیں ہو (بیماری کی میں نے جو فضیلت بیان کی تم اس کا مذاق اڑا
رہے ہو، مسلمان کی یہ شان نہیں ہوتی۔) اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Yahya ibn Sa'id (may Allah be pleased with him) narrated that a man died during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), and someone said: "How fortunate he is, he died without being afflicted by illness." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Woe to you! How do you know? If Allah had afflicted him with an illness, it might have expiated his sins"
یحییٰ بن سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک صاحب (جو کسی بیماری سے بیمار نہیں تھے) اچانک ان کا انتقال ہو گیا
تو (ان کے انتقال کی کیفیت سن کر) ایک صاحب کہنے لگے: واہ واہ کیا اچھی موت ہے، بیماری سے
کسی قسم کی تکلیف اٹھائے بغیر ان کی موت ہوگئی (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے: بڑے افسوس کی بات ہے، (بغیر بیماری کے مرنے کی تم تعریف کر رہے ہو) تم کو کچھ خبر بھی
ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو کسی بیماری میں مبتلا کرتے تو بیماری کی وجہ سے ان کے گناہ مٹا دئے
جاتے (یہ گناہوں سے پاک ہو کر مرتے، اس نعمت سے یہ محروم رہے، بغیر بیماری کے مرنے میں
تعریف کی کیا بات ہے۔)۔
اس حدیث کی روایت مرسلاً امام مالک نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant's sins become numerous and he has no deeds to expiate them, Allah afflicts him with sorrow to expiate them"
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جب کسی بندہ کے گناہ کثرت سے ہو جاتے
ہیں اور اس کا کوئی ایسا نیک عمل نہیں ہوتا کہ جو اس کے گناہوں کو مٹا دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے
ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ جس سے وہ (پریشانی اور رنج اور فکر و غم) میں مبتلا ہو جاتا ہے یہ
(پریشانی اور رنج اور فکر و غم) اس کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں (اے مسلمان! سن! اللہ تعالیٰ کس طرح
تجھ پر مہربان ہیں، تیرے گناہوں کو مٹا دینے کے لئے کس طرح سامان مہیا کرتے ہیں اے
ناشکرے انسان! تجھے اس کی قدر نہیں، جب تجھ پر پریشانی اور رنج اور فکر و غم آ جاتے ہیں تو تُو اس کی
قدر نہیں کرتا، بلکہ زبان سے یا دل سے، خدائے تعالیٰ کی شکایت کرتا ہے، تجھے خدائے تعالیٰ کا شکر
کرنا چاہئے کہ تیرے گناہوں کے مٹانے کے لئے اسباب مہیا کر دئے ہیں۔) اس حدیث کی
روایت امام احمد نے کی ہے۔
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I visited the Prophet (ﷺ) while he was suffering from a severe fever. I touched him with my hand and said: 'O Messenger of Allah, you are suffering from a severe fever.' The Prophet (ﷺ) said: 'Yes, I suffer as much as two of you would suffer.' I said: 'That is because you have a double reward.' He said: 'Yes,' then he said: 'No Muslim is afflicted with any harm, whether it be an illness or anything else, but that Allah will expiate his sins because of it, just as a tree sheds its leaves'"
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن)
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کو سخت بخار چڑھا ہوا ہے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ لگا کر دیکھا اور عرض کیا یارسول
اللہ آپ کو جب بخار آتا ہے تو بہت سخت بخار آتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: ہاں
مجھے بخار اتنا ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے میں نے عرض کیا کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم
! کیا اس کی وجہ یہ ہے آپ کو دو شخصوں کے برابر بخار دے کر دو گنا اجر و ثواب دیا جاتا ہے؟ تو حضرت
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: ہاں ایسا ہی ہے، پھر حضور نے ارشاد فرمایا (سنو! ابن مسعود! اللہ تعالیٰ
کی مہربانی کیا کہوں تجھے تو دوہرا اجر و ثواب دیتے ہیں مگر) مسلمان کو (اجر و ثواب دینے کے سوا)
جب کسی بیماری کی وجہ سے یا کوئی اور وجہ سے ایذا اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ
اس کے گناہ ایسا جھڑاتے ہیں جیسے خزاں میں (تیزی سے) جھاڑ کے پتے جھڑتے رہتے
ہیں۔ (پتے جھڑنے کے بعد جھاڑ جیسے ہو جاتا ہے) ایسا ہی مسلمان گناہوں کے جھڑنے سے پاک و
صاف ہو جاتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When you visit a sick person, ask him to pray for you, for his supplication is like the supplication of the angels"
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے ہیں کہ: جب تم کسی بیمار کے پاس جاؤ تو بیمار سے کہو کہ: وہ تمہارے
لئے دعاء کرے کیونکہ (بیمار بیماری کی وجہ سے گناہوں سے فرشتوں کی طرح پاک ہو جاتا ہے اور اسی
لئے) فرشتوں کی دعاء کی طرح بیمار کی دعاء بھی قبول ہوتی ہے۔ (ایسی حالت میں تم جب بیمار سے
دعاء کرواؤ گے تو بیمار کی دعاء تمہارے لئے مقبول ہوگی۔)
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When Allah wills good for a servant, He hastens his punishment in this world. And when Allah wills evil for a servant, He withholds his punishment for his sin until he meets Him on the Day of Judgment"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب (کسی بندے کے نیک اعمال اللہ تعالیٰ کو پسند آجاتے ہیں اور وہ
اس سے راضی ہو جاتے ہیں اور) اللہ چاہتے ہیں کہ (آخرت میں) اس بندے کے ساتھ بھلائی کی
جائے (اور آخرت میں اس کو راحت و آرام سے رکھا جائے) تو (اس کے جو گناہ ہیں ان کی) سزا
جلدی کر کے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا ہی میں دے دیتے ہیں (دنیا میں طرح طرح کی پریشانیاں اور
بیماریاں اور رنج دے کر اس کے گناہوں کو مٹا دیکر اس کو پاک و صاف کر کے آخرت میں راحت و
آرام سے رکھتے ہیں) اور جب کسی بندے (کے برے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس سے ناراض
ہو جاتے ہیں اور) اللہ چاہتے ہیں کہ (آخرت میں اس کو اس کے گناہوں کی پوری) پوری سزا دی
جائے تو دنیا میں اس کے گناہوں کی سزا نہیں دیتے (بلکہ راحت و آرام سے دنیا میں رکھتے ہیں
تاکہ) آخرت میں وہ اپنے گناہوں کی پوری پوری سزا پائے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Ata ibn Abi Rabah (may Allah be pleased with him) narrated that Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said to him: "Shall I show you a woman from the people of Paradise?" I said: "Yes." He said: "This black woman came to the Prophet (ﷺ) and said: 'I suffer from epilepsy and I become exposed, so pray to Allah for me.' The Prophet (ﷺ) said: 'If you wish, you can be patient and you will have Paradise, or if you wish, I will pray to Allah to heal you.' She said: 'I will be patient,' then she said: 'But I become exposed, so pray to Allah that I do not become exposed.' So he prayed for her"
عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک
روز) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھ سے فرمائے: کیا عطاء میں تم کو ایک جنتی عورت دکھاؤں
(کیا تم دیکھنا چاہتے ہو؟) میں نے عرض کیا: ضرور دکھائیے تو حضرت ابن عباس فرمائے: دیکھو یہ کالی
جنتی عورت (جنتی) ہے (ایک دفعہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے
عرض کیا تھا: یا رسول اللہ! میں مرگی کی بیماری میں مبتلا ہوں جب مجھے مرگی کا دورہ ہوتا ہے تو میں (بے
ہوش ہو کر گر پڑتی ہوں اور) برہنہ ہو جاتی ہوں (اور اس سے بہت پریشان ہوتی ہوں، کیا کروں اس
مرض سے کیسے نجات ملے گی صرف آپ کی دعا کا بھروسہ ہے، اس لئے عرض کرتی ہوں کہ) آپ
میرے لئے دعا فرمائیں (کہ اس مرض مرگی سے مجھے شفاء ہو جائے تاکہ میں برہنگی سے بچ جاؤں)
یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے سنو! (دنیا چند روزہ ہے) اگر تم اس مرض مرگی پر صبر
کرو گی تو اس کے بدلہ میں تم کو جنت ملے گی اور اگر تم یہ چاہتی ہو کہ میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے
دعا کروں کہ اس مرض مرگی سے تمہیں اللہ تعالیٰ شفاء دیں تو دعا کرتا ہوں (اللہ تعالیٰ شافی ہیں وہ تم
کو شفاء دیدیں گے) اس عورت نے عرض کیا: حضور (میں اس بیماری پر صبر کر کے جنت ہی لینا چاہتی
ہوں صرف اتنا عرض کرتی ہوں کہ) آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ (میں جو اس مرض کی وجہ سے
برہنہ ہو جاتی ہوں یہ نوبت نہ آئے اور) میں برہنہ نہ ہو جاؤں تو حضور اس کے لئے (برہنہ نہ ہونے
کی) دعا فرمائے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abdullah ibn Shakheer (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The son of Adam is represented alongside ninety-nine calamities. If the calamities miss him, he will fall into old age until he dies"
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک دن) ارشاد فرمائے کہ: انسان (کی زندگی بھی عجیب زندگی ہے کہنے کو تو
اشرف المخلوقات ہے مگر) کثرت سے مہلک بلاؤں میں گھرا ہوا ہے جن میں سے ہر ایک موت کا
سبب ہوتی ہے (اگر ایک بلاء سے بچ گیا ہو تو کیا ہوا دوسری بلاء میں گرفتار ہو جاتا ہے، پھر کسی نہ کسی
بلاء کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتا ہے) اگر ان تمام بلاؤں سے بچ کر نکل بھی گیا تو بڑھاپے میں
پھنس جاتا ہے (جو ساری بلاؤں کا جامع ہے۔) اور پھر بڑھاپا ایک دن انسان کو موت تک پہنچا کر
رہتا ہے (اے غافل انسان دیکھ یہ تیری زندگی کا خلاصہ ہے کب تک تو غفلت میں رہے گا، ہر وقت تو
موت کے لئے تیار رہ اور ہمیشہ سفر آخرت کی تیاری میں لگا رہ۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Ka'b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The example of a believer is like a tender plant. The wind bends it sometimes and straightens it at other times until its time comes. And the example of a hypocrite is like a sturdy cedar tree that remains firm until it is uprooted all at once"
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: مسلمان کی مثال ایسی ہے جیسے (دھان کا) تروتازہ کھیت جس کی
ہوائیں جھونکے دیتی رہتی ہیں، کبھی گرا دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ وہ خشک
ہو جاتا ہے (ایسے ہی مسلمان کہ اس پر حوادثات اور طرح طرح کی بیماریاں آتی رہتی ہیں، تا کہ اس کو
گناہوں سے پاک کریں، کبھی بیمار پڑ جاتا ہے اور کبھی تندرست ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے، ایسا ہوتے
ہوتے اس کی موت آ جاتی ہے۔ اور منافق کی مثال ایسی ہے جیسے صنوبر کا درخت جو اپنی جڑ پر قائم رہتا
ہے، ہوائیں اس کو اِدھر اُدھر نہیں جھکا سکتیں اور (آخر کار جب گرتا ہے تو) ایک دم جڑ سے اکھڑ کر
گر جاتا ہے (ایسا ہی منافق اکثر تندرست رہتا ہے، بیماریاں اس کو کم آتی ہیں، اس وجہ سے وہ
گناہوں سے پاک نہیں ہوتا ہے اور آخر کار اس پر ایک دم موت کا حملہ ہوتا ہے اور وہ مر جاتا
ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The example of a believer is like a plant that the wind keeps bending, and the believer continues to face trials. The example of a hypocrite is like a cedar tree that does not shake until it is uprooted"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کھیتی، کہ ہوائیں اس کو اِدھر اُدھر
جھونکے دیتی رہتی ہیں (کبھی گرا دیتی ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتی ہیں) ایسے ہی مسلمان پر بھی تکلیفیں
اور بیماریاں آتی رہتی ہیں (تاکہ اس کو گناہوں سے پاک کریں) اور منافق کی مثال ایسی ہے جیسے
صنوبر کا درخت جو اِدھر اُدھر ہلتا ہی نہیں، یہاں تک کہ کاٹ دیا جاتا ہے۔ (تو گر پڑتا ہے ایسا ہی
منافق اکثر تندرست رہتا ہے اور جب موت آتی ہے تو اچانک مر جاتا ہے، اسی وجہ سے اپنے
گناہوں سے دنیا میں پاک نہیں ہوتا اور آخرت میں اپنے گناہوں کی پوری پوری سزا پاتا ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ
(اوروں کو بھی بیماری آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی بیماری آتی تھی مگر) میں کسی کو
نہیں دیکھتی کہ اس کو بیماری میں درد اور تکلیف اتنی ہوتی ہو جتنی کہ تکلیف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو ہوتی تھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیماری میں درد و تکلیف ہر شخص کے درد و تکلیف
سے زیادہ ہوتی تھی، تاکہ آپ کے مراتب عالیہ میں آپ کی حیثیت کے مطابق ترقی ہو۔ اس سے
معلوم ہوا کہ بیماری میں جو درد و تکلیف ہوتی ہے، اس سے اس کی حیثیت کے موافق اس کے مراتب
و درجات میں ترقی ہوتی ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "The Prophet (ﷺ) passed away between my chest and chin, so I do not dislike the severity of death for anyone after the Prophet (ﷺ)"
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کو وفات کے وقت جو سکرات کی تکلیف ہوئی تھی مجھ سے
زیادہ کسی کو اس کی خبر نہیں ہوئی اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات میری ہنسلی کی
ہڈی اور ٹھوڑی کے درمیان میں ہوئی (کیوں کہ آپ میرے سینہ پر ٹیکہ دئے ہوئے تھے میں سمجھتی
تھی کہ سکرات کی تکلیف گناہوں کے سبب سے ہوا کرتی ہے جب سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے سکرات کی تکلیف دیکھی ہوں میرا وہ خیال باقی نہ رہا اور) میں کسی کے سکرات کی تکلیف
کو بُرا نہیں سمجھتی۔ (کیونکہ سکرات کی تکلیف مراتب و درجات کی ترقی کے لئے بھی ہوتی ہے جیسے
حضور کو سکرات کی تکلیف مراتب اور درجات کی ترقی کے لئے ہوئی تھی۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "I do not envy anyone for an easy death after what I saw of the severity of the death of the Messenger of Allah (ﷺ)"
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ (پہلے میں آرزو کرتی تھی کہ موت آسان ہو اور جان کنی کی سختی نہ ہو کہ شاید یہ بری علامت ہے
لیکن جب میں نے دیکھا کہ حضور پر بھی موت کی سختی اور جان کنی ہوئی ہے تو میں نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی
بری علامت نہیں ہے اسی لئے) میں کسی کی آسان موت پر رشک نہیں کرتی جب کہ میں دیکھ چکی
ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی موت کی سختی گزر چکی ہے۔
اس کی روایت ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "I saw the Prophet (ﷺ) at the time of his death. He had a cup of water with him, and he dipped his hand into it, wiped his face, and said: 'O Allah, help me through the pangs of death and the agony of death'"
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے جا رہے تھے تو میں دیکھتی کہ حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ میں پانی رکھا ہوا تھا اور آپ اس پیالہ میں ہاتھ ڈال کر پانی لے کر
اپنے چہرہ مبارک پر مل رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اَللّٰهُمَّ اَعِنِّيْ عَلٰى مُنْكَرَاتِ الْمَوْتِ
اے اللہ! موت کی سختیوں پر اور موت کی بے ہوشی پر میری مدد فرمائیے (کہ یہ بہت نازک
وقت ہے توجہ الی اللہ میں کچھ فرق نہ آئے بلکہ توجہ الی اللہ کامل ہو جائے۔ مسئلہ: اس سکرات کی سختیوں کو
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 978 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sunan Ibn Majah 1623 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
سنت سمجھ کر برداشت کیا کرنا، اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش رہ کر دنیا سے جانا اور
توجہ الی اللہ میں کچھ فرق نہ آنے دینا۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The greatness of the reward is with the greatness of the trial. Indeed, when Allah loves a people, He tests them. Whoever is content, then for him is contentment, and whoever is displeased, then for him is displeasure"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اجر و ثواب کا اندازہ مصیبت اور بلاء سے ہوتا ہے) جس قدر مصیبت
اور بلاء بڑی ہوگی اجر و ثواب بھی اسی قدر بڑا ملے گا، جس سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوتی ہے ان پر (ہی)
بلا اور مصیبت بھیجتے ہیں (یہ تفصیل مرقات اور اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے) (اور جن سے اللہ تعالیٰ
ناراض رہتے ہیں ان پر بھی بلا اور مصیبت بھیجتے ہیں، بلا اور مصیبت تو دونوں پر آتے ہیں، یہ نہیں
معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کو کس سے محبت ہے اور وہ کس سے ناراض ہیں، نتیجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ)
اگر بندہ (بلا اور مصیبت سے) راضی (برضا الٰہی) رہا تو اس کے لئے (اللہ تعالیٰ کی) خوشنودی ہے
(اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بندہ سے محبت ہے اور بندہ کو بھی اللہ تعالیٰ سے محبت ہے اور
محبت کی ہی علامت ہے کہ محبوب سے اگر بلا اور مصیبت پہنچے تو راضی اور خوش رہتا ہے اس لئے
محبت کرنے والا بندہ بلا اور مصیبت میں اللہ سے راضی اور خوش ہے) اگر (کسی بندہ کو بلا اور
مصیبت پہنچے اور وہ (اللہ تعالیٰ سے) ناراض رہے تو (معلوم ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ (بھی) اس
سے ناراض ہیں (اس لئے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی بلا اور مصیبت سے ناراض ہے، اللہ تعالیٰ کو اس سے
محبت نہیں ہے، اس لئے اس بندہ کو بھی اللہ سے محبت نہیں ہے، اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی
بلا اور مصیبت سے ناراض ہے اور اس کو برا سمجھ رہا ہے۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The believer will continue to be tested in his soul, wealth, and children until he meets Allah without any sin"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: مسلمان مرد اور مسلمان عورت پر ہمیشہ بلائیں آتی رہتی ہیں خود
اس پر (بلائیں اس طرح آتی ہیں کہ طرح طرح کے درد اور بیماریوں میں اور طرح طرح کے
ایذاؤں میں مبتلا ہو جاتا ہے) اسی طرح اس کے مال پر بھی (بلائیں آتی رہتی ہیں، کبھی مال ضائع
ہو جاتا ہے اور کبھی اس میں نقصان آ جاتا ہے) اور اس کے اولاد پر بھی (بلائیں آتی رہتی ہیں، کبھی
اولاد بیمار ہو جاتی ہے اور کبھی ہلاک ہو جاتی ہے جس سے اس کو سخت صدمہ پہنچتا ہے، مسلمانو! یہ نہ
سمجھنا کہ ان سب بلاؤں سے تم کو کچھ فائدہ نہیں، اس سے بڑھ کر اور کیا فائدہ ہونا چاہئے کہ ان
بلاؤں کی وجہ سے تمہارے گناہ مٹائے جاتے ہیں، اسی طرح گناہ مٹتے رہتے ہیں پھر) جب
(تمہاری) موت آ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے سامنے گناہوں سے پاک و صاف ہو کر جاتے ہیں۔ (تو
ساری بلائیں اور مصیبتیں دیکھنے میں تو بلائیں اور مصیبتیں ہیں، حقیقت میں نعمت ہیں کہ تم کو گناہوں
سے پاک و صاف اور ستھرا کر کے دنیا سے لے جاتے ہیں۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے اور امام مالک نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔
Muhammad ibn Khalid al-Sulami reported from his father, from his grandfather (may Allah be pleased with him), that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant is destined for a rank by Allah that he cannot attain through his deeds, Allah tests him in his body, wealth, or children, then grants him patience until he reaches the rank destined for him by Allah"
محمد بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں، ان کے دادا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں (کہ اللہ
تعالیٰ کے فضل سے اور ایمان کی وجہ سے مسلمان داخل جنت ہوتا ہے، کافر کو ایمان نہ ہونے کی وجہ
سے دخول جنت نہ ہوگا، اسلام پر ہمیشہ قائم رہنے کی نیت کی وجہ سے مسلمان کو جنت میں ہمیشہ رکھیں
گے۔ جیسے کافر کو کفر پر ہمیشہ قائم رہنے کی نیت کی وجہ سے ہمیشہ دوزخ میں رکھیں گے اور جنت کے
مراتب و درجات، اعمال نیک کی وجہ سے ملتے ہیں) اگر کوئی بندہ ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ
عالی جنت میں دینا چاہتے ہیں لیکن اس بندہ کے اعمال صالحہ اس درجہ کو حاصل کرنے کے لئے کافی
نہیں ہیں تو اس بندہ کو اللہ تعالیٰ جسمانی مصیبت (یعنی بیماریاں دے دیتے ہیں) یا اس کے مال میں طرح
طرح سے خسارے اور نقصان آتے ہیں یا اس کی اولاد کو بیماریوں میں مبتلا کرتے ہیں (یا اولاد ہلاک
ہونے سے رنج دیتے ہیں) پھر ان ساری مصیبتوں پر صبر کرنے کی اس کو توفیق دیتے ہیں اور (ان
تمام مصیبتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے) اس مرتبہ عالیہ پر (جو اس کے لئے مقرر ہوا ہے) جس کو وہ
(اعمال صالحہ کے ذریعہ سے) حاصل نہیں کر سکتا تھا (ان مصیبتوں پر صبر کرنے کی وجہ سے) اس درجہ
عالی پر اس کو پہنچا دیتے ہیں۔ اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "On the Day of Judgment, the people of ease will wish, when they see the reward given to those who endured trials, that their skins had been cut with scissors in the world"
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں (قیامت میں یہ بھی ایک عجیب منظر ہوگا کہ مصیبت زدہ جو دنیا میں
مصیبتوں اور بلاؤں میں مبتلا تھے اور ان پر صبر کئے تھے جب وہ میدان قیامت میں آئیں گے اور ان
کی مصیبت و بلاء پر دنیا میں صبر کرنے کی وجہ سے جو ثواب و اجر ان کو دیا جائے گا) دنیا میں عافیت اور
راحت و آرام میں جو رہنے والے تھے (ان) مصیبت زدہ لوگوں کو کثرت سے اجر و ثواب ملتا ہوا
دیکھ کر بڑی حسرت سے آرزو کریں گے، کاش (ہم پر بھی دنیا میں مصیبت اور بلائیں آتیں، یہاں
تک کہ ہمارا چمڑا دنیا میں قینچیوں سے کترا جاتا (عافیت میں رہنے سے، بہت بہتر ہوتا تاکہ ہم کو بھی
ایسا ہی اجر و ثواب ملتا جیسے ان مصیبت زدہ لوگوں کو اجر و ثواب مل رہا ہے۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Sa'd (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (ﷺ) was asked: "Which people are tested the most severely?" He said: "The prophets, then the next best, then the next best. A person is tested according to his level of faith. If his faith is strong, his trial is severe, and if his faith is weak, his trial is light. A person will continue to be tested until he walks on the earth without any sin"
سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا، یا رسول اللہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخت کس کی آزمائش ہوتی
ہے؟ حضور فرمائے سب سے زیادہ آزمائش پیغمبروں کی ہوتی ہے (اس لئے کہ پیغمبروں کا یقین کامل
ہوتا ہے آزمائش سے وہ ڈگمگا نہیں سکتے ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ پیغمبروں کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ
سے محبت ہوتی ہے اسی لئے آزمائش کو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر بلاء اور مصیبت سے ایسی
لذت لیتے ہیں جیسے اور لوگ نعمتوں سے لذت لیتے ہیں اور جاہلوں کے عقائد کی حفاظت کے لئے
بھی پیغمبروں کو سخت مصیبت سے آزماتے ہیں تاکہ وہ لوگ پیغمبروں کو اللہ ہی نہ سمجھ لیں) پھر پیغمبروں
کے بعد سخت آزمائش ان کے درجہ سے قریب والوں (یعنی اولیاء و صالحین اور علماء عاملین) کی ہوتی
ہے، (اس لئے کہ پیغمبروں کے بعد ان حضرات کو یقین اور محبت الٰہی سب سے زیادہ ہوتی ہے اسی
لئے پیغمبروں کے بعد ان کی سب سے زیادہ آزمائش ہوتی ہے) پھر جو ان کے بعد (یقین اور محبت
الٰہی میں) ان کے مشابہ ہوتے ہیں (ان کے درجہ اور مرتبہ کے مطابق) ان کی سخت آزمائش کی جاتی
ہے (خلاصہ یہ ہے کہ) انسان کو اس کی دینداری کے لحاظ سے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے، اگر وہ
اپنی دینداری میں پکا اور مضبوط ہے تو اس پر جو مصیبت آتی ہے وہ بھی بڑی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ
اپنی دینداری میں ویسا پختہ اور مضبوط نہیں ہے تو اس پر جو مصیبت اور بلاء آتی ہے وہ بھی معمولی اور
آسان رہتی ہے (تاکہ سخت مصیبت کی وجہ سے بے صبری نہ کرے اور بے دین نہ ہو جائے) اور
مصائب و آفات میں مبتلا رہنے کا سلسلہ باقی رہتا ہے، یہاں تک وہ بلائیں اور مصیبتیں انسان کے
گناہوں کو مٹاتی رہتی ہیں، پھر تو وہ گناہوں سے پاک ہو کر) زمین پر (اس طرح) چلنے لگتا ہے کہ
(گویا) اس پر کوئی گناہ ہی نہیں (پھر جب وہ خدا سے ملتا ہے تو اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا، اے
مصیبت زدہ مسلمان! دیکھ! تجھ پر اللہ تعالیٰ کس قدر مہربان ہیں، اس طرح کی مصیبت تجھ پر نازل
کر کے تجھ کو گناہوں سے پاک کرتے ہیں اور دنیا سے تجھے پاک کر کے لے جاتے ہیں تو تجھے چاہئے
کہ بلاؤں اور مصیبتوں سے نہ گھبرائے اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھ کر بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کئے
جا، اور اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش رہ) اس حدیث کی روایت ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) visited Umm al-Sa'ib and said: "Why are you shivering?" She said: "It is the fever. May Allah not bless it." The Prophet (ﷺ) said: "Do not curse the fever, for it removes the sins of the children of Adam just as the bellows remove impurities from iron"
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (ایک دفعہ) ام السائب کے پاس تشریف لائے اور فرمائے (ام السائب تمہیں کیا ہوا
ہے) تم کیوں کانپ رہی ہو، ام السائب نے عرض کیا: حضور موئے بخار کا ستیاناس ہو (یہ بہت
تکلیف دے رہا ہے) حضور نے فرمایا (ارے! ارے!) بخار کو ایسا برا مت بولو (تم جانتی نہیں بخار
بھی انسان کے لئے ایک نعمت ہے، انسان کے گناہوں کو بخار جلا کر ایسا صاف کر دیتا ہے جیسے لوہار کی
بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کر کے صاف کر دیتی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that fever was mentioned in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), and a man cursed it. The Prophet (ﷺ) said: "Do not curse it, for it removes sins just as fire removes impurities from iron"
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بخار کا ذکر کیا گیا، حاضرین میں سے ایک صاحب بخار کو برا کہنے
لگے (سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے: بخار کو برا نہ کہو اس لئے کہ بخار گناہوں کو دور
کر کے (انسان کو) ایسا پاک و صاف کر دیتا ہے جیسے آگ لوہے کے زنگ کو (جلا کر) لوہے کو پاک
کر دیتی ہے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
Ali ibn Zayd reported from Umayyah that she asked Aisha (may Allah be pleased with her) about the verse: "Whether you show what is within yourselves or conceal it, Allah will bring you to account for it" (Qur'an 2:284) and about the verse: "Whoever does evil will be recompensed for it" (Qur'an 4:123). Aisha said: "No one asked me about this since I asked the Messenger of Allah (ﷺ). He said: 'This is about the servant being tested with fever, calamity, or even losing a commodity he places in his pocket, until Allah forgives the servant's sins as pure gold is purified in the furnace'"
علی بن زید رضی اللہ عنہ، امیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، امیہ رضی
اللہ عنہا نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے:
بقرہ، ع:40، آیت نمبر:284) جو کچھ تمہارے دلوں میں ہو اگر تم اس کو ظاہر کر دو یا دلوں میں چھپا ہوا
رکھو ہر ایک کا تم سے اللہ تعالیٰ حساب لیں گے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2991 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ آخرت میں دل میں چھپے ہوئے گناہوں کے خطرات اور
برے خیالات کا بھی حساب لیا جائے گا، اس سے بچنا بہت مشکل ہے) ایسا ہی دوسری آیت: ”مَنْ
يَعْمَلْ سُوْءًا يُجْزَ بِهٖ“۔ (سورۃ نساء، پ:5، ع:18، آیت نمبر:123)
دنیا میں جو کچھ برائی کی جائے گی (صغیرہ ہو یا کبیرہ ظاہر میں کئے ہوں یا چھپ کر آخرت میں)
اس کی سزا دی جائے گی (اس سے بھی بچنا بہت مشکل ہے)۔
یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ (جیسا تم کو ان آیتوں کے مفہوم کے بارے
میں شبہ ہوا ہے مجھے بھی اس کے متعلق شبہ ہوا تھا اور) میں نے اس کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم
سے دریافت کیا تھا (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے متعلق مجھے جو جواب دئے تھے اس سے مجھے
تسکین ہوگئی تھی) اس وقت سے آج تک کوئی مجھ سے ان آیتوں کے متعلق (ایسا شبہ) دریافت نہیں
کیا (آج تم ہی ہو کہ ان آیتوں کے متعلق اپنے شبہ کو مجھ سے دریافت کر رہی ہو، جو جواب مجھ کو حضور
صلی اللہ علیہ وسلم دئے تھے وہ جواب میں تم کو سناتی ہوں سنو! ان دونوں آیتوں کا مصداق تم سمجھ رہی
ہو کہ آخرت میں ہوگا، نہیں گناہوں کے) جو خطرات تمہارے دل میں گزرتے ہیں یا چھوٹی بڑی جو
برائی تم کرتے ہو، اس کا بدلہ دنیا ہی میں اس طرح دیا جائے گا کہ بیماریوں میں بخار میں تکلیف و رنج
میں مبتلا ہوں گے یا کوئی چیز تم نے جیب میں رکھی تھی (اس کو کسی نے چرا لیا) کہیں گر گئی اس سے جو
رنج ہوگا ان سب کی وجہ سے (دل میں گناہوں کے جو خطرات ہیں، یا چھوٹے بڑے جو گناہ ہیں وہ
سب ان مذکورہ پریشانیوں سے دنیا ہی میں مٹائے جاتے ہیں اور مذکورہ آیتوں کے جو مصداق ہیں)
ان کو ایسا پاک کیا جاتا ہے جیسے خالص سرخ سونا بھٹی سے صاف ہو کر نکلتا ہے۔ (خلاصہ یہ ہے کہ تم
سمجھ رہی ہو کہ آخرت میں ان گناہوں کی سزا دی جائے گی، نہیں بلکہ دنیا ہی میں ان کی سزا دے کر
پاک و صاف کر دیتے ہیں اور دونوں آیتوں سے یہی مراد ہے۔)
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No calamity befalls a servant, whether minor or major, except due to a sin, and what Allah forgives is greater." Then he recited: "Whatever misfortune befalls you is because of what your hands have earned, and He pardons much" (Qur'an 42:30)
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: بندہ کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی نہ کسی گناہ کی وجہ
سے پہنچتی ہے (اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس مصیبت کی وجہ سے بندہ کے گناہوں کو مٹا دیں،
مصیبت گو تم کو ناگوار معلوم ہوتی ہے مگر وہ تمہارے فائدہ کے لئے تم کو دی جاتی ہے تاکہ تم گناہوں
سے پاک و صاف ہو جاؤ، یوں نہ سمجھنا کہ تمہارے گناہوں کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ مصیبت بھیج
رہے ہیں بلکہ کچھ گناہ تو مصیبت کی وجہ سے مٹاتے ہیں اور باقی) اکثر گناہ اپنے فضل و کرم سے
معاف کر دیتے ہیں (اگر سب گناہوں کے لحاظ سے مصیبت بھیجتے تو تم اس کی برداشت نہیں کر سکتے
تھے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ کچھ گناہ مصیبت سے مٹاتے ہیں باقی اپنے فضل و کرم سے معاف
فرما دیتے ہیں، اس طرح بندہ کو پاک و صاف کر کے دنیا سے لے جاتے ہیں، اس کی تائید میں) حضور
صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت تلاوت فرمائے: ”وَمَا أَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ
وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ“. (سورہ شوریٰ، پ:25، ع:4، آیت نمبر:30)
لوگو! جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے وہ تمہاری ہی گناہوں کی وجہ سے پہنچتی ہے۔
(اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو مصیبتوں کی وجہ سے گناہوں سے پاک و صاف کر دیں) باقی
بہت سے گناہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے معاف کر دیتے ہیں (اگر سب گناہوں کی وجہ
سے مصیبت اتارتے تو تم اس کی تاب نہ لا سکتے اس لئے)، بہت سے گناہ (اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم
سے معاف فرما دیتے ہیں۔) اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Thawban (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you is afflicted with fever, then fever is a piece of the Fire. Let him extinguish it with water by standing in a flowing river, facing the current, and saying: 'In the name of Allah, O Allah, cure Your servant and confirm the truth of Your Messenger.' This should be done after the Fajr prayer before sunrise. He should immerse himself three times for three days. If he is not cured in three days, then five, and if not in five, then seven, and if not in seven, then nine. It rarely exceeds nine days, by the permission of Allah, the Exalted"
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں تم میں سے جب کسی کو بخار آجائے تو بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے وہ اس کو
(ٹھنڈے) پانی سے بجھا دے (ٹھنڈے پانی سے بخار کو کس طرح بجھانا چاہئے اس کا طریقہ اس
طرح ارشاد ہو رہا ہے) کہ نہر جاری میں اس کی آمد یعنی بہاؤ کی طرف رُخ کر کے کھڑا ہو، (شاید کسی
وہمی کو اس علاج سے شبہ ہو اس کا وہم دور کرنے کے لئے یہ دعاء سکھائی گئی ہے کہ) پھر یہ دعاء پڑھے:
اللہ کے نام سے میں یہ علاج شروع کرتا ہوں، الٰہی آپ مجھے بخار سے شفاء دیجئے آپ کے
رسول جو فرمائے ہیں اس کو سچ کر دکھلائیے (اور وہمیوں کے وہم کو باطل کر دیجئے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 2084 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(علاج کی تفصیل یہ ہے کہ) (1) یہ عمل صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے قبل کرے اور نہر
میں 3 غوطے لگائے اور تین دن تک اسی طرح عمل جاری رکھے اگر تین دن کے اس عمل سے بخار دور
نہ ہو تو پانچ دن تک ایسے ہی نہر میں غوطے لگاتا جائے اگر پانچ دن کے اس عمل سے بخار دور نہ ہو تو
سات دن تک اسی طرح عمل کرتا رہے اور اگر سات دن کے غسل سے بھی بخار کم نہ ہو تو نو دن تک اسی
طرح عمل کرتا رہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالباً بخار نو دن تک یہ عمل کرنے سے رک جائے گا اور پھر
نہ آئے گا (اگر ڈاکٹری علاج نکلنے سے پہلے یونانی طبیبوں کے عہد میں سخت بخار کے وقت یہ کہا جاتا
تھا کہ سر پر پانی کی پٹی یا برف کی پٹی رکھو تو اس وقت حدیث میں جو گفتگو ہو رہی ہے ویسی ہی اس
وقت بھی چہ میگوئیاں ہوتیں مگر اب ڈاکٹری تجربہ سے معلوم ہوا کہ ہر قسم کے بخار کے شدت کے وقت
پانی کی یا برف کی پٹی رکھی جائے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ بیحد فائدہ ہوتا ہے ایسا ہی نور نبوت سے
مذکورہ جو علاج بتایا گیا ہے اس میں نا تجربہ کار طرح طرح کے شک پیدا کرتے ہیں اگر کوئی یہ عمل
کرے اس کا فائدہ خود اس کو معلوم ہو جائے گا۔) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
(مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے عنایات اور سرفرازیاں جو تم پر ہیں ان کا اس سے اندازہ کرو۔)
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant falls ill or travels, he is rewarded for the deeds he used to do while healthy and at home"
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد
فرمائے ہیں: کوئی مسلمان صحت اور تندرستی کے زمانہ میں جو عبادات ادا کرتا تھا (نوافل اور وظائف
پڑھا کرتا تھا بیماری کے زمانہ میں گو ان کو ادا نہیں کر سکتا، مگر صحت کے زمانہ میں جو اوراد و وظائف
پڑھے جاتے تھے) ان کا ثواب اس کو ضرور ملتا رہے گا (اس میں کچھ کمی نہیں ہوگی اگر چیکہ بیماری کی
وجہ ان اوراد و وظائف کو جاری نہ رکھ سکا ہے) ایسا ہی وطن میں جب مقیم تھا اور جو عبادات (و وظائف
اور نوافل پڑھا کرتا تھا سفر میں اتنا پڑھنا نہیں ہو سکتا ہے مگر اقامت کی حالت میں جو عبادات نوافل
ادا کرتا تھا سفر میں ان سب کا ثواب اس کو ملتا رہے گا (اگرچہ وہ سفری حالت میں ہونے سے ان کو
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2996 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ادا نہیں کر سکتا (ایسا ہی جوانی کی حالت میں جو عبادات نوافل اور وظائف پڑھا کرتا تھا
ضعیفی (مرقات میں یہ روایت مذکور ہے۔12) اور بڑھاپے میں اتنے عبادات اور وظائف نہیں
ہو سکتے ہیں مگر جوانی میں عبادات اور وظائف پڑھنے کا جو ثواب ملتا ہے وہ برابر ملتا رہے گا، گو
بڑھاپے میں ان کو اداء نہ کر سکے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a servant is engaged in a good act of worship and then falls ill, the angel assigned to him is told: 'Record for him the same deeds he used to do when he was healthy until I release him or take him to Me'"
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کوئی مسلمان صحت اور تندرستی کے زمانہ میں عبادات
(نوافل اور وظائف کا پابند تھا، پھر ہو گیا وہ بیمار (بیماری میں بیماری کی وجہ سے حسب عادات
عبادات، نوافل اور وظائف اداء نہیں ہو رہے ہیں، ان کا اس کو صدمہ ہے) نیکیوں کے لکھنے والے
فرشتہ کو اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ میرا بندہ بیماری کی وجہ سے عبادات اور نوافل اور وظائف کو نہیں اداء
کر رہا ہے مگر تم اس کے نیک اعمال کے ثواب اسی طرح لکھا کرو جس طرح اس کی صحت کے زمانہ
میں نیک اعمال کے ثواب کو لکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ میں اس کو صحت دیدوں یا موت دے کر اس
کو اپنے پاس بلالوں۔
اس کی روایت شرح السنہ میں کی گئی ہے۔
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "When a Muslim is afflicted with a trial in his body, the angel assigned to him is told: 'Record for him the good deeds he used to do. If he recovers, he is cleansed and purified, and if he dies, he is forgiven and shown mercy'"
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کسی مسلمان کے جسم میں کوئی مرض پیدا ہو جاتا ہے تو (اس کے
نیکیاں لکھنے والے) فرشتہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ (یہ مسلمان جو اب بیمار ہو گیا ہے اس کے نامہ اعمال
میں) وہ سب نیک اعمال جن کو وہ صحت کے زمانہ میں کرتا تھا (گو ان کو اب نہیں کر رہا ہے) تم برابر
اس کے نیک اعمال کو لکھتے جاؤ پھر جب اس بیمار کو شفاء ہو جاتی ہے تو بیماری کی وجہ سے سارے
گناہوں سے پاک و صاف کر دیا جاتا ہے (پھر نیکیوں کا ثواب اس کو علیحدہ ملتا رہتا ہے) اگر اس کو
موت آ گئی تو گناہوں سے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر نازل ہوتی رہتی
ہے۔ (دیکھا آپ نے بیماری بھی اللہ تعالیٰ کا ایک فضل و کرم ہے بغیر کئے کے نیک عمل ملے اور گناہ
بھی معاف ہو گئے اور اللہ کی رحمت شامل حال رہی، یہ ہے بیماری جس کی یہ فضیلت ہے۔)
اس حدیث کی روایت شرح السنہ میں کی گئی ہے۔
Shaddad ibn Aws and al-Sunabihi (may Allah be pleased with them) reported that they visited a sick man and asked him: "How are you feeling?" He replied: "I am feeling well by the grace of Allah." Shaddad said: "Be glad, for your sins are being expiated and your faults are being removed. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Allah, the Exalted, says: If I afflict a believing servant of Mine and he praises Me for the affliction, he will rise from his bed as sinless as the day his mother gave birth to him. The Lord, Blessed and Exalted, says: I have restrained My servant and tested him, so continue to record for him the deeds you used to record for him when he was healthy'"
شداد بن اوس اور ضحاک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ دونوں حضرات
ایک بیماری بیمار پرسی کے لئے گئے تھے وہاں جا کر اس بیمار سے دریافت کئے: کہو صاحب مزاج کیسا
ہے؟ تو بیمار نے کہا: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ) خدا کے فضل و کرم سے اچھا ہوں (یہ سن کر) شداد رضی اللہ عنہ
فرمائے سنو! تم کو ایک خوشخبری سناتا ہوں (باوجود بیمار ہونے کے تم جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کئے، اس
سے) تمہارے گناہ مٹائے گئے اور (عبادات میں) تم سے جو کوتاہیاں (ہوئے تھے وہ سب)
معاف کئے گئے (یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ) میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے (یہ حدیث قدسی) سنا ہوں آپ ارشاد فرما رہے تھے کہ اللہ بزرگ و برتر کا ارشاد ہے کہ جب
میں اپنے بندوں میں سے کسی بندۂ مومن کو کسی بیماری میں مبتلا کر دیتا ہوں اور وہ (بجائے جزع و فزع
اور شکوہ شکایت کرنے کے) میرا شکر ادا کرتا ہے تو جب وہ صحت یاب ہو کر اپنے بستر سے اٹھتا ہے تو
گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہوتا ہے جیسا کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے وقت گناہوں
سے پاک و صاف تھا (صرف گناہ ہی نہیں مٹائے جاتے ہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ (اپنے فضل و کرم سے
نیکیاں لکھنے والے فرشتے کو) حکم دیتے ہیں کہ میرے اس بندے کو میں نے ہی بیمار کیا تھا تم میرے
بندے کے (نامۂ اعمال میں اس کی صحت کے زمانہ میں جب وہ نیکیاں کرتا تھا نیکیاں لکھتے تھے، اب
بیماری کے زمانہ میں اس سے نیکیاں نہیں ہو سکتی ہیں تو بغیر نیکیاں کئے کے) نیکیاں کرنے کا ثواب
(بلا کسی کمی کے اس کے نامۂ اعمال میں) لکھتے جاؤ- (جب تک وہ تندرست ہو کر نیکیاں کرنا شروع
نہ کر دے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
سنت سمجھ کر برداشت کیا کرنا، اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش رہ کر دنیا سے جانا اور توجہ الی اللہ میں کچھ فرق نہ آنے دینا۔) اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔