Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں دعاؤں کی فضیلت اور اس کے استحباب کا بیان ہے) · Chapter 1

(اس کتاب میں دعاؤں کی فضیلت اور اس کے استحباب کا بیان ہے)

35 narrations · In source reading order

Hadith 2681

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3166
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ (سنت الٰہی ہے کہ) ہر نبی کو (اس کی امت کی بھلائی یا مخالفین کی بربادی کے لئے) ایک دعاء کا حق دیا گیا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اور ہر نبی نے دنیا ہی میں اپنی اس دعاء کے کرنے میں جلدی کی (اور ہر نبی کی دعاء قبول ہوتی رہی۔ جیسا کہ حضرت نوح اور حضرت صالح علیہما السلام نے اپنی اپنی نافرمان امت کے لئے بد دعاء کی تو ایک طوفان کے ذریعہ اور دوسری کو صیحہ یعنی چیخ کے ذریعہ ہلاک کردیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ) میں نے اس مقبول دعاء کے حق کو قیامت میں اپنی امت کی شفاعت کے لئے چھپائے (محفوظ) رکھا ہے ان شاء اللہ میری یہ شفاعت میرے ہر امتی کو نصیب ہوگی۔ جو ایمان پر اس حالت میں وفات پائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا تھا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے اور بخاری نے مختصر الفاظ میں اس کی روایت کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the statement of Allah Almighty: "I respond to the invocation of the supplicant when he calls upon Me" [2:186] And His statement: "Call upon Me; I will respond to you" (40:60)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 199a (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6304 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2220 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 2220

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Chapter-heading commentary

Supplications

(1) The statement: "Supplications"—An-Nawawi said: Scholars across all regions and eras unanimously agree on the recommendation of supplication, based on the apparent texts of the Qur’an, Sunnah, and traditions of the prophets (Al-Mirqah)

I respond...

(2) The statement: "I respond..."—The response to supplication means Allah says, "Here I am, My servant," at the time of calling—this is granted to every believer. It does not necessarily mean granting the request, as the verse does not mention this. Lovers who call upon Allah without worldly or religious desires are never deprived, even if they seek nothing but Him. Sometimes, Allah delays the response because He loves to hear His servant’s voice—as Yahya ibn Sa‘id reported seeing in a dream: "O Yahya, I love to hear your voice." Other reasons include lacking conditions for acceptance (halal sustenance, sincerity), or because Allah’s favor is tied to His will. The response may also come as: 1) acceptance of the exact request, 2) averting a calamity, or 3) elevating one’s rank in the Hereafter—as in authentic reports. Alternatively, the word "when" may imply partiality (At-Tafsirat al-Ahmadiyyah)

Chapter-heading commentary

قوله

(۱) قوله: الدعوات: قال النووي: أجمع أهل الفتاوى في الأمصار في جميع الأعصار على استحباب الدعاء، ودليلهم ظواهر القرآن والسنة، والأخبار الواردة عن الأنبياء صلوات الله وسلامه عليهم أجمعين. قاله في «المرقاة».

قوله

(۲) قوله : أجيب إلخ : المراد بإجابة الدعوة أن يقول الرب لبيك عبدي، وذلك يكون في أول الوقت حين الدعوة وهو موجودة لكل مؤمن لا أن المراد إعطاء النية وقضاء الحاجة؛ إذ ليس ذلك، ولا سؤاله مذكور في الآية، ألا ترى أن العشاق الذين لا يريدون دينا ولا دنيا يدعون الله تعالى لا مقطوعة ولا ممنوعة، ولا يطلبون منه شيئًا سواه، ولو سلم ذلك، فنقول: إنما يؤخر استجابته؛ لأنه ربما يحبه فيؤخر إعطاء مراده؛ ليدعوه فيسمع صوته، كما روي عن يحيى بن سعيد أنه قال: رأيت رب العزة في المنام، فقلت: يا رب كم أدعوك فلم تستجب دعائي، فقال: يا يحيى ! إني أحب أسمع صوتك. وربما يكون بفقد شرائط القبول، وهي أكل الحلال وصدق المقال، وغير ذلك من الشرائط المعتبرة المذكورة في الأخبار والآثار، أو لأنه فضل والفضل مقيد بالمشيئة على ما قيل : إن الفضل بيده يؤتيه من يشاء أو لأنه إنما يدعو ما هو خير له، ويجوز أن يكون خيريته عند الله تعالى في عدم استجابة دعائه، أو لأن استجابة الدعاء قد يكون بقبول ذلك الدعاء بعينه، وقد يكون برد بلية كانت عليه في الدنيا عوضه، وقد يكون برفع درجته في الآخرة عوضه، كما جاء في الخبر الصحيح أو لأن كلمة «إذا» للإهمال، وهو يلازم الجزئية، هكذا ذكروا . قاله في «التفسيرات الأحمدية».

Note 1

ف: واضح رہے کہ اس حدیث شریف میں ارشاد ہے امت کی بخشش کی دعاء، جب کہ وہ ایمان پر وفات پائیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت پر بڑی شفقت تھی کہ اپنی مقبول اور خاص دعاء کو آپ نے اپنی امت کی شفاعت کے لئے اٹھا رکھی اور مخالفین کی بربادی کے لئے استعمال نہیں فرمائی قربان اس نبی رحیم و کریم پر۔12

Hadith 2682

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3167
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اے اللہ آپ سے میری ایک درخواست ہے کہ (آپ کی شان کریمی سے مجھے امید ہے کہ آپ اس بارے میں مجھے ہرگز ہرگز نا امید نہیں کریں گے یعنی میری درخواست کو ضرور قبول فرمائیں گے) کہ میں تو ایک بشر ہوں (اور بہ تقاضائے بشریت) اگر مجھ سے کسی مومن کو کوئی تکلیف پہنچی ہو کہ میں نے اس کو برا کہا ہو یا لعنت کی ہو یا مارا ہو تو اسی مومن کے حق میں رحمت (اور گناہوں سے) پاکی کا سبب اور قیامت کے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنا دیجئے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 6361 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 2601b (unverified) 65% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

Make it...

(3) The statement: "Make it..."—It is Sunnah for one who curses another to pray for them to compensate (Al-Mirqah)

Note 3

قوله

(۳) قوله: فاجعلها إلخ فالسنة لمن دعا على أحد أن يدعو له جبرا لفعله. قاله في «المرقاة».

Note 1

ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ صدر کی حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کسی مسلمان نے اپنے بھائی کے لئے بد دعا کی ہو تو وہ اس کے لئے نیک دعا کر دے تاکہ اس بد دعا کی تلافی ہو جائے۔12

Hadith 2683

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3168
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اس طرح نہ کہے کہ اے اللہ اگر آپ چاہیں تو مجھے بخش دیجئے! اگر آپ چاہیں تو مجھ پر رحم فرما دیجئے۔ اگر آپ چاہیں تو مجھے روزی دیجئے ۔ چونکہ یہ شک کے کلمات ہیں اس لئے ان الفاظ سے دعاء نہ کرے بلکہ عزم بالجزم یعنی پختہ ارادہ کے ساتھ (اللہ تعالیٰ سے اپنے مقاصد کو) طلب کرے (اور ان کی قبولیت پر یقین رکھے) اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ اور ان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں (وہ جو کرتے ہیں اپنی خوشی اور
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 7477 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Do not say...

(1) The statement: "Do not say..."—An-Nawawi said: The hadith encourages decisiveness in requests and discourages conditioning them on Allah’s will.

Note 1

قوله

(۱) قوله: فلا يقل إلخ : وقال النووي: ومعنى الحديث استحباب الجزم في الطلب وكراهة التعليق على المشيئة.

Note 1

مرضی سے ہی کرتے ہیں۔ دعا کرتے وقت شک کے الفاظ کو استعمال کرنا بے پرواہی کو ظاہر کرتا ہے۔ غلام کو تو یہ چاہئے کہ اپنے آقا سے گڑگڑا کر مانگے۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔12

Hadith 2684

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3169
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اس طرح نہ کہے کہ: اے اللہ اگر آپ چاہیں تو مجھے بخش دیجئے بلکہ یقین کے ساتھ دعا کرے اور پوری رغبت اور زاری کے ساتھ دعا کرے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کسی چیز کا دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے جبکہ وہ دینا چاہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2679b (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2685

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3170
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اپنی دعا کی مقبولیت کا یقین رکھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہو (اللہ تعالیٰ تمہاری دعا ضرور قبول فرمائیں گے) اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ ایسی دعا کو قبول نہیں فرماتے ہیں جو (بغیر اخلاص) کے غفلت والے دل اور بے پرواہی کے ساتھ کی جائے (کہ جس میں دلجمعی نہ ہو)۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3479 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2241 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 2241

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 2

From a heedless heart

(2) The statement: "From a heedless heart"—If one supplicates absentmindedly, it is still better than not supplicating—especially if done with tenderness or if unable to focus. As in Fatawa Qadi Khan (Al-‘Alamgiriyyah)

Note 2

قوله

(۲) قوله: من قلب غافل إلخ رجل دعا بدعاء وقلبه ساه، فإن كان دعاؤه على الرقة فهو أفضل، وكذا لو كان لا يمكنه أن يدعو إلا وهو ساه، فالدعاء أفضل من ترك الدعاء. كذا في فتاواى قاضي خان. قاله في العالمگيرية».

Note 1

ف: فتاویٰ عالمگیریہ میں فتاویٰ قاضی خاں کے حوالہ سے لکھا ہے: افضل یہ ہے کہ دعا کو رقت اور دلجمعی کے ساتھ کرے اگر دل جمعی نہ بھی ہو تو بھی افضل یہ ہے کہ دعا کرنے کو ترک نہ کرے بلکہ دعا کرتا رہے۔ اہ۔ مرقات میں لکھا ہے کہ دعا کے لئے ان اوقات اور ان مقامات کو تلاش کرنا چاہئے جن میں مقبولیت دعا کے مواقع مہیا رہتے ہیں۔12

Hadith 2686

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3171
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: بندہ کی دعاء ہمیشہ قبول کی جاتی ہے۔ بشرطیکہ وہ کسی گناہ کے یا رشتہ توڑنے کی دعاء نہ کرے (مثلاً یوں کہے کہ اے اللہ میرے اور میرے باپ میں جدائی ڈال دے) اور دعاء کے قبول کرنے میں جلد بازی نہ کرے۔ عرض کیا گیا: یارسول اللہ ﷺ! دعاء میں جلد بازی کیا ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (دعاء میں جلد بازی یہ ہے کہ دعاء کرنے والا) یہ کہے کہ میں نے بار بار دعاء کی مگر قبول نہیں ہوئی اور مایوس ہو کر بیٹھ جائے اور دعاء کرنا چھوڑ دے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2735c (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 3

As long as he does not become impatient,

(3) The statement: "As long as he does not become impatient," etc. Al-Nawawi said: "This indicates that one should persist in supplication and not consider the response delayed." Al-Kirmani said: "Here, the condition for the supplication being answered is the absence of haste and refraining from saying, ‘I supplicated but was not answered.’" This is mentioned in ‘Umadat al-Qari. Ali al-Qari said: "The response comes in different forms: either granting exactly what was asked at the desired time, delaying it for a wisdom that necessitates postponement, warding off an equivalent evil, giving something better than what was requested, or storing its reward for a day when the supplicant will be in greater need of it."

Note 3

قوله

(۳) قوله: ما لم يستعجل إلخ وقال النووي: ففيه أنه ينبغي إدامة الدعاء، ولا يستبطئ الإجابة، وقال الكرماني: هنا شرط الاستجابة عدم العجلة وعدم القول أي قوله: دعوت فلم يستجب لي». قاله في عمدة القاري». وقال علي القاري: إن الإجابة على أنواع منها تحصيل عين المطلوب في الوقت المطلوب، ومنها وجوده في وقت آخر لحكمة اقتضت تأخيره، ومنها دفع شر بدله أو إعطاء خير آخر خير من مطلوبه، ومنها ادخاره ليوم يكون أحوج إلى ثوابه.

Hadith 2687

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3172
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: بددعاء نہ کیا کرو نہ اپنی جانوں کے لئے نہ اپنی اولاد کے لئے اور نہ اپنے اموال کے لئے کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ تمہاری یہ بددعاء ایسے وقت میں ہوجائے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاء قبول کرتے ہیں (اگر تمہاری بددعاء اس وقت واقع ہو تو) یہ بھی قبول کر لی جائے گی۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 3009 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس سے معلوم ہوا کہ بعض نادان غصہ اور مصیبت کے وقت جو بددعاء کرتے ہیں وہ درست نہیں ہے اس لئے کہ اس سے خود ان کو پریشانی لاحق ہوتی ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔

Hadith 2688

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3173
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی۔ ”وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ“ (سورہ مومن، آیت نمبر:60) (تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاء قبول کروں گا)۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1479 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3372 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3828 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2230 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 2230

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دعاء مامور بہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دعاء کرنے کا حکم دیا ہے اور جس چیز کا حکم دیا جاتا ہے اس کا بجا لانا عبادت ہے لہذا دعاء عبادت ٹھہری۔ مرقات12

Hadith 2689

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3174
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: دعاء عبادت کا مغز اور خلاصہ ہے (اس لئے کہ عبادت کی حقیقت اللہ تعالیٰ کے آگے ذلت اور زاری کا اظہار ہے اور یہ دعاء میں بدرجۂ اتم حاصل ہے اسی لئے دعاء کو عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3371 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2230 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 2230

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2690

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3175
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (اذکار میں) اللہ تعالیٰ کے پاس دعاء سے بڑھ کر کوئی چیز افضل نہیں ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3370 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 3829 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2236 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 2236

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2691

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3176
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے کہ (قضاء معلق) کو کوئی چیز بجز دعاء کے نہیں بدل سکتی اور بجز نیکی کے عمر کو کوئی چیز نہیں بڑھا سکتی۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2139 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2233 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 2233

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2692

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3177Noor 3178
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ دعاء ایسی بلاء (کے رفع کرنے) میں نفع بخش ہے جو نازل ہوئی ہو اور ایسی مصیبت کے (دفع کرنے میں بھی) فائدہ مند ہے جو ابھی نازل نہیں ہوئی ہو۔ پس اے اللہ کے بندو! دعاء کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور امام احمد نے اس کی روایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3548 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ قضاء کی دو قسمیں ہیں: ایک معلق اور دوسرے محکم۔ قضاء معلق یہ ہے کہ کسی چیز سے مشروط ہوتی ہے مثلاً لوح محفوظ میں اسی طرح لکھا ہوا ہوتا ہے کہ اگر فلاں شخص حج نہ کرے یا جہاد نہ کرے تو اس کی عمر چالیس برس ہوگی۔ اور اگر حج یا جہاد کرے تو اس کی عمر ساٹھ برس کی ہوگی۔ تو ایسی قضاء تو دعاء سے بدل جاتی ہے اور مصیبت ٹل جاتی ہے قضاء کی دوسری قسم قضاء مبرم ہے اور یہ ایسی قضاء ہے جو بدلتی نہ ہو لیکن دعاء سے صبر اور اطمینان حاصل ہوتا ہے اور مصیبت گراں نہیں معلوم ہوتی۔ بلکہ مصیبت اور بلاء میں ایسی لذت حاصل کرتے ہیں جیسے اہل دنیا نعمتوں سے لطف حاصل کرتے ہیں علاوہ ازیں انسان کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کون سی قضاء معلق ہے اور کون سی مبرم اس لئے اس کو ہر حالت میں دعاء کرتے رہنا چاہئے۔ 12

Hadith 2693

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3179
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب کوئی بندہ دعاء کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے دیتے ہیں جس کو وہ مانگتا ہے (اگر وہ اس کے مقدر میں ہے یا اس میں اس کی بھلائی ہے) یا پھر وہ چیز اس کے مقدر میں نہیں ہے یا اس میں اس کی بھلائی نہیں ہے) تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس سے اس کے کسی ایسے رنج یا بلاء کو دور کردیتے ہیں (جس سے اس کو اتنی ہی اور خوشی حاصل ہو جاتی ہے جو اس کے دعاء کے قبول ہونے پر حاصل ہوسکتی تھی) بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا رشتہ توڑنے کی دعاء نہ کرے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3381 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2694

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3180
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جب کوئی مسلمان کوئی دعا کرے اور اس دعا میں کسی گناہ یا رشتہ توڑنے کی طلب نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس دعا کے بدلہ میں ان تینوں چیزوں میں سے کوئی ایک چیز عطا کر دیتے ہیں: (1) یا تو اس کی دعا قبول فرما کر اسی دنیا میں اس کے مقصد کی تکمیل فرما دیتے ہیں۔ (2) یا اس کے بدلے میں اس کے لئے آخرت میں ذخیرہ بنا دیتے ہیں۔ (جو آخرت میں اس کے کام آئے گا)۔ (3) یا پھر اس کے بدلہ میں اس کے کسی ایسے رنج یا بلا کو دور کر دیتے ہیں۔ (جس سے اس کو اتنی ہی راحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جو اس کی دعا قبول ہونے پر ہو سکتی تھی۔ (یہ سن کر) صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! جب دعا سے اتنے بڑے فوائد ہیں اور دعا کرنے والا ہر حیثیت میں بامراد رہتا ہے تو ہم کثرت سے دعا کریں گے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم (جتنی دعا ئیں کرو گے) اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ دینے والا پاؤ گے (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانے ختم نہیں ہوتے اور اس کی دَین کا کوئی ٹھکانا نہیں! اور تم زیادہ سے زیادہ مانگ کر اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2259 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Musnad Ahmad 11133 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 2259

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2695

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3181
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کو مانگو (اس لئے کہ وہ بڑے کریم منعم وہاب اور غنی ہیں) اور اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان سے مانگا جائے اور بہترین عبادت یہ ہے کہ (بلاء اور مصیبت کی غیروں سے شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ سے) بلاء کے دفع ہونے کا انتظار کیا جائے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3571 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2696

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3182
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال اور دعاء نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں (اس لئے کہ سوال اور دعاء کا چھوڑ دینا تکبر اور استغناء ہے جو بندگی کے منافی ہے)۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3373 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2697

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3183
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: تم میں سے جس کے لئے دعاء کا دروازہ کھل جائے (یعنی اس کو دعاء کی توفیق ملے) تو گویا اس کے لئے رحمت کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ (کہ کبھی تو یعنی اس کا مقصد دنیا ہی میں پورا ہو جاتا ہے یا اس کے بدلہ میں دنیا کی کوئی مصیبت دفع ہو جاتی ہے یا پھر اس کے لئے دعاء ذخیرہ آخرت بنادی جاتی ہے) اور عافیت (یعنی ایمان کی سلامتی اور دنیا کی بھلائی) کا مانگنا اللہ تعالیٰ کے پاس تمام سوالوں سے زیادہ پسند ہے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3548 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2698

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3184
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعاء قبول فرمائے تو اس کو چاہئے کہ فراخی اور خوش حالی میں کثرت سے دعاء کیا کرے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3382 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2699

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3185Noor 3186
مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال اور دعاء کرو تو اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر دعاء کیا کرو اس طرح کہ ہتھیلیوں کا رخ آسمان کی طرف رہے اور ہاتھوں کو الٹے رکھ کر دعاء مت مانگو (اس طرح کہ ہاتھوں کی پیٹھ آسمان کی طرف ہو جائے)۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ سے (ہتھیلیوں کا رخ آسمان کی طرف رکھ کر) ہاتھوں کو پھیلا ہوا رکھ کر دعاء کیا کرو اور (ہتھیلیوں کی پیٹھ آسمان کی طرف رکھ کر) دعاء نہ کیا کرو اور دعاء سے فارغ ہو کر ہتھیلیوں کو اپنے چہروں پر پھیر لیا کرو۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1486 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1485 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

With the palms of your hands,

(1) The statement: "With the palms of your hands," etc. It is preferable in supplication to extend both hands with a gap between them, without placing one hand over the other. If one is in a state of difficulty or extreme cold, pointing with the index finger suffices in place of extending the hands. Muhammad ibn al-Hanafiyyah said: "Supplication is of four types: supplication of desire, supplication of fear, supplication of humility, and silent supplication. In the supplication of desire, one turns the palms upward; in the supplication of fear, one turns the backs of the hands toward the face like one seeking refuge from harm; in the supplication of humility, one folds the little and ring fingers, circles the thumb and middle finger, and points with the index finger. Silent supplication is what one does inwardly." This is mentioned in Majmu’ al-Fatawa, quoting from Sharh al-Sarakhsi for Mukhtasar al-Hakim al-Shahid in the chapter on obligatory prayer. As mentioned in al-‘Alamgiriyyah.

Note 1

قوله

(۱)قوله: ببطون أكفكم إلخ والأفضل في الدعاء أن يبسط كفيه بينهما فرجة، وإن قلت ولا يضع إحدى يديه على الأخرى، فإن كان في وقت عذر أو برد شديد، فأشار بالمسبحة قام مقام بسط كفّيه، وعن محمد بن الحنفية قال: الدعاء أربعة: دعاء رغبة، ودعاء رهبة، ودعاء تضرع، ودعاء خفية. ففي دعاء الرغبة يجعل بطون كفيه نحو السماء، وفي دعاء الرهبة يجعل ظهر كفيه إلى وجهه كالمستغيث من الشر، وفي دعاء التضرع يعقد الخنصر والبنصر، ويحلق الإبهام والوسطى، ويشير السبابة. ودعاء الخفية ما يفعله المرء في نفسه كذا في مجموع الفتاوى ناقلا عن شرحالسرخسي لمختصر الحاكم الشهيد في باب قيام الفريضة». كذا في العالمكيرية».

Note 1

ف: فتاویٰ عالمگیریہ میں ”مجموع الفتاویٰ“ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حضرت محمد بن الحنفیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دعاء کی چار قسمیں ہیں: (1) دعائے رغبت (2) دعائے رہبت (3) دعائے تضرع (4) دعائے خفیہ۔ (1) ”دعائے رغبت“: بندہ کے اپنے حصول مقاصد کے لئے عموماً جو دعا کی جاتی ہے اس کو ”دعائے رغبت“ کہتے ہیں۔ اس دعاء کے کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دعاء کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کا رخ آسمان کی طرف کیا جائے جیسا کہ صدر کی حدیث میں مذکور ہے اور افضل یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو پھیلا کر اس طرح رکھیں کہ آپس میں مل نہ جائیں اور ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رہے۔ اور دونوں ہاتھ سینہ کے مقابل رہیں۔ (2) ”دعائے رہبت“ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے کسی شر اور بلاء سے دفع کرنے کے لئے استغاثہ کرے۔ اس دعاء کے کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس طرح انسان دشمن سے بچنے کے لئے اپنے ہاتھوں کی پیٹھ کو اپنے چہرہ کی طرف کر لیتا ہے اسی طرح دعاء کرنے والا بھی اپنی ہتھیلیوں کو الٹ کر ان کا رخ زمین کی طرف کرے اس طرح کہ ان کی پیٹھ آسمان کی طرف ہو۔ (3) ”دعائے تضرع“: الحاح اور زاری کی دعاء ہے۔ اس دعاء کے کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دعاء کرنے والا اپنے سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعاء کرے، اس طرح کہ خنصر اور بنصر یعنی سیدھے ہاتھ کی آخری چھوٹی انگلی اور اس کے بعد والی انگلی کو بند کرے، اور انگوٹھے اور تیسری انگلی سے حلقہ بنائے رکھے۔ (4) ”دعائے خفیہ“: یہ وہ پوشیدہ دعاء ہے جس کو بندہ اپنے رب سے دل ہی دل میں کر لیتا ہے۔

Hadith 2700

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3187
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: تمہارا پروردگار بڑا حیاء اور کریم ہے یعنی بغیر مانگے دینے والا ہے وہ اپنے بندہ سے شرماتا ہے جبکہ اس کو خالی ہاتھ واپس کرے جب کہ بندہ (دعاء میں) اپنے ہاتھوں کو اس کی طرف اٹھاتا ہے (اس سے معلوم ہوا کہ مومن کی دعاء خالی نہیں جاتی یا تو دنیا میں قبول ہو جاتی ہے یا آخرت میں اس کا بدلہ ملے گا)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی نے اس کی روایت ”دعوات کبیر“ میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3556 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1488 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2244 (unverified) 94% confidence

Mishkat (candidate) 2244

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2701

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3188
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) کے موقع پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اتنا اونچا کرتے تھے کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔ اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔

[Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]

Commentary and footnotes (2)

Note 2

The whiteness of his armpits.

(2) The statement: "The whiteness of his armpits." In another narration: "Level with his shoulders." In yet another narration: "The Messenger of Allah (ﷺ) did not raise them beyond this," meaning to the chest—indicating that sometimes he would supplicate with hands raised to the chest, and other times (as in intense situations like seeking rain) he would raise them higher until the whiteness of his armpits or shoulder level became visible. This is mentioned in Mirqat al-Mafatih.

Note 2

قوله

(۲) قوله : بياض إبطيه وفي رواية حذو منكبيه، وفي رواية ما زاد رسول الله له على هذا يعني إلى الصدر أي مرة يدعو ويرفع يديه إلى الصدر، وأخرى يرفعهما حتى يرى بياض إبطيه أو حذو منكبيه هذه الثانية في الاستسقاء ونحوه من شدة البلاء والأول في غيره «مرقاة» ملتقط منه.

Hadith 2702

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3189
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (استسقاء کے موقع پر) دعاء کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر اٹھا کر پھیلاتے تھے۔ اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔

[Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: صدر کی دو حدیثوں میں جو بیہقی سے مروی ہیں ان میں سے ایک میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کے وقت اپنے ہاتھوں کو اس قدر اونچا کرتے تھے کہ آپ کے بغل کی سفیدی نظر آتی تھی۔ اور دوسری حدیث میں اس طرح مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کے وقت اپنے ہاتھوں کو اپنے شانے کے برابر اٹھاتے تھے اور ایک روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کے وقت ہاتھوں کو سینہ تک اٹھاتے تھے۔ اور اس سے زائد بلند نہیں فرماتے تھے۔ واضح ہو کہ دعاء کے وقت ہاتھ اٹھانے کے بارے میں جو دو صورتیں حدیثوں میں وارد ہیں اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ عموماً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کے وقت ہاتھوں کو سینہ کے برابر اٹھاتے تھے دوسری صورت یعنی ہاتھوں کو شانے کے برابر اٹھانا یہ استسقاء اور مصائب کے وقت دعاء کے موقع پر ہوا کرتا تھا۔ اس طرح دونوں روایتوں میں کوئی اختلاف نہ رہا۔ یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔

Hadith 2703

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3190Noor 3191
عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ (استسقاء کے موقع پر) (جبکہ عالمگیریہ میں مذکور ہے۔12) دعاء کرنے کا ادب یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے شانوں کے برابر ان کے قریب قریب اٹھاؤ۔ اور استغفار کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم شہادت کی انگلی اوپر اٹھا کر اشارہ کرتے ہوئے استغفار کرو اور دعاء میں عاجزی (اور مبالغہ) کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تم دونوں ہاتھوں کو ایک ساتھ پھیلا کر دعاء مانگو۔ اور ایک روایت میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس طرح مروی ہے کہ آپ نے ”ابتہال“ یعنی تضرع اور زاری کی دعاء کرنے کا طریقہ یہ بتلایا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح پھیلایا کہ ہاتھوں کی پشت چہرے کی طرف تھی۔ (اور ہتھیلیاں نیچے کی طرف)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1489 (unverified) 96% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Point with one finger,

(1) The statement: "Point with one finger," etc. It is mentioned in al-'Alamgiriyyah under the chapter of Istisqa (rain-seeking prayer): "During supplication, if one raises his hands toward the sky, it is good. If he leaves that and points with his index finger, it is also good. Similarly, people often raise their hands because the Sunnah in supplication is to extend both hands." This is quoted from al-Mudmarat.

Note 1

قوله

(۱) قوله: بأصبع واحدة إلخ وقال في العالمكيرية» في باب الاستسقاء»: ثم عند الدعاء إن رفع يديه نحو السماء فحسن، وإن ترك ذلك، وأشار بإصبعه السبابة فحسن، وكذا الناس يرفعون أيديهم أيضا؛ لأن السنة في الدعاء بسط اليدين. كذا في المضمرات».

Note 1

ف: واضح ہو کہ عالمگیریہ کے باب الاستسقاء میں لکھا ہے کہ دعاء کے وقت آسمان کی طرف دونوں ہاتھوں کو اٹھانا بہتر ہے اور اگر ایسا نہ کیا بلکہ اپنی شہادت کی انگلی سے بھی اشارہ کردیا تو یہ بھی بہتر ہے اور لوگ بھی دعاء میں اپنے ہاتھوں کو اسی طرح اٹھاتے ہیں اس لئے کہ دعاء میں دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر پھیلانا سنت ہے۔ جیسا کہ مضمرات میں مذکور ہے۔12

Hadith 2704

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3192
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ تمہارا دعاؤں میں عام طور پر ہاتھوں کا بہت اونچا کرنا بدعت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعاء کرتے وقت ہاتھوں کو سینہ سے زیادہ اونچا نہیں کرتے تھے (یعنی ہاتھوں کو سینہ کے مقابل رکھ کر دعاء کرتے تھے)۔ اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2259 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2259

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 2

Meaning to the chest.

(2) The statement: "Meaning to the chest." It is recommended to raise the hands in supplication opposite the chest. This is mentioned in al-Qinyah as quoted in al-'Alamgiriyyah.

Note 2

قوله

(۲) قوله : يعني إلى الصدر والمستحب أن يرفع يديه عند الدعاء بحذاء صدره. كذا في القنية». قاله في «العالمكيرية».

Hadith 2705

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3193
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ دعاء کرنے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے ہاتھ اٹھاتے تو ان کو اپنے چہرے پر ملے بغیر نہیں چھوڑتے تھے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3386 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2243 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2243

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2706

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3194
سائب بن یزید رضی اللہ عنہما اپنے والد حضرت یزید سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعاء کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر دعاء کرتے (اور دعاء کے بعد) اپنے ہاتھوں کو چہرے پر پھیر لیا کرتے تھے۔ اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔

[Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2245 (unverified) 80% confidence

Mishkat (candidate) 2245

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 3

Wipe his face with them,

(3) The statement: "Wipe his face with them," etc. It is mentioned in al-'Alamgiriyyah: "Wiping the face with the hands after completing the supplication—some scholars consider it insignificant, but many of our teachers have practiced it. This is the correct view, as supported by narrations." This is quoted from al-Ghasiyah.

Note 3

قوله

(۳) قوله : ومسح وجهه إلخ وقال في العالمكيرية»: ومسح الوجه باليدين إذا فرغ من الدعاء، قيل: ليس بشيء وكثير من مشايخنا الله اعتبروا ذلك، وهو الصحيح، وبه ورد الخبر. كذا في «الغاشية».

Note 1

ف: صاحب مرقات رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعاء سے فارغ ہونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو چہرے پر اس لئے پھیرتے تھے کہ دعاء کرتے وقت ہتھیلیاں آسمان کی طرف رہتی ہیں اور آسمان دعاؤں کا قبلہ ہے اور دعاء مانگتے وقت برکات سماویہ اور انوار الٰہیہ ہاتھوں پر نازل ہوتے ہیں اور دعاء سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیرنے سے اس کی برکت حاصل ہوجاتی ہے۔ علامہ جزری رحمۃ اللہ نے ”حصن حصین“ میں آداب دعا میں یہ بھی لکھا ہے کہ دعاء کرتے وقت آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے اور یہ کہ دعاء سے فارغ ہونے کے بعد دونوں ہاتھوں کو چہرہ پر پھیر لینا چاہئے۔ علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ دعاء سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھوں کو چہرہ پر پھیرنے میں حکمت یہ ہے کہ دعاء کی قبولیت پر یقین کرتے ہوئے بطور نیک فالی اللہ تعالیٰ کے انعام و عطیہ کو قبول کرنے کا اظہار ہے۔ اور امام جزری نے اس حدیث کی سند ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بیان کی ہے۔ اور حاکم نے بھی مستدرک میں بیان کی ہے۔ یہ پورا مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔12

Hadith 2707

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3195
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی دعاؤں کو پسند فرماتے تھے جو جامع ہوں اور جو جامع نہ ہوں ان کو چھوڑ دیتے تھے (جامع دعائیں وہ ہیں جن کے الفاظ کم ہوں اور معنی زیادہ ہوں اور جو نیک مقاصد اور دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی پر مشتمل ہوں جیسے: ”ربنا آتنا“ الى آخر الآية)۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1482 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو دعائیں جامع نہ ہوتیں ان کو چھوڑ دیتے تھے۔ اس بارے میں مشکوٰۃ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض حالات میں خصوصی دعائیں مانگنا بھی ثابت ہے۔12

Hadith 2708

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3196
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: مسلمان کی دعا، اپنے مسلمان بھائی (کی بھلائی یا دفع شر کے لئے) اس کے غیاب میں دعا کرنے والے کے سر کے پاس ایک فرشتہ (اللہ تعالیٰ) کی جانب سے مقرر کیا جاتا ہے اور جب کبھی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بھلائی کے لئے (غیاب میں) (دعائے خیر کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہتا جاتا ہے اور دعا کرنے والے کے لئے کہتا ہے) کہ: تمہیں بھی یہی بھلائی نصیب ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 2733a (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے ارشاد ہوا کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کے لئے غیاب میں دعا کرنا اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو مقرر کر دیتے ہیں۔ جو دعا کرنے والے کے لئے دعا کرتا رہتا ہے۔12

Hadith 2709

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3197
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ بہت جلد قبول ہونے والی دعا، وہ ہے جو ایک غائب دوسرے غائب کے لئے کرے (اس لئے کہ اس میں خلوص ہوتا ہے)۔ اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1535 (unverified) 96% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 1980 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2710

Volume 2

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3198
ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: پانچ دعائیں ایسی ہیں جو یقیناً قبول کی جاتی ہیں: 1۔ مظلوم کی دعاء جب تک کہ وہ ظالم سے انصاف نہ پالے۔ 2۔ حاجی کی دعاء جب تک کہ وہ حج سے واپس نہ ہو جائے۔ 3۔ مجاہد کی دعاء جب تک کہ وہ جہاد سے فارغ نہ ہو جائے۔ 4۔ بیمار کی دعاء جب تک کہ وہ (بیماری سے) صحت یاب نہ ہو جائے (یا اس بیماری میں انتقال نہ کر جائے)۔ 5۔ ایک مسلمان بھائی کی غائبانہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لئے (یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا: ان (پانچوں) دعاؤں میں جلد قبول ہونے والی دعاء وہ ہے جو ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لئے غائبانہ کرے۔ اس کی روایت بیہقی نے دعوات کبیر میں کی ہے۔

[Narrated by al-Bayhaqi in al-Da'awat al-Kabir]